اِنَّ الَّذِیۡنَ یَشۡتَرُوۡنَ بِعَہۡدِ اللّٰہِ وَ اَیۡمَانِہِمۡ ثَمَنًا قَلِیۡلًا اُولٰٓئِکَ لَا خَلَاقَ لَہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ وَ لَا یُکَلِّمُہُمُ اللّٰہُ وَ لَا یَنۡظُرُ اِلَیۡہِمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ وَ لَا یُزَکِّیۡہِمۡ ۪ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۷۷﴾
بے شک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے عوض تھوڑی قیمت لیتے ہیں، یہی لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں اور اللہ قیامت کے دن نہ ان سے بات کرے گا اور نہ ان کی طرف دیکھے گا اور نہ انھیں پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
En
جو لوگ خدا کے اقراروں اور اپنی قسموں (کو بیچ ڈالتے ہیں اور ان) کے عوض تھوڑی سی قیمت حاصل کرتے ہیں ان کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں ان سے خدا نہ تو کلام کرے گا اور نہ قیامت کے روز ان کی طرف دیکھے گا اور نہ ان کو پاک کرے گا اور ان کو دکھ دینے والا عذاب ہوگا
En
بے شک جو لوگ اللہ تعالیٰ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں، ان کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں، اللہ تعالیٰ نہ تو ان سے بات چیت کرے گا نہ ان کی طرف قیامت کے دن دیکھے گا، نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 77){ اِنَّ الَّذِيْنَ يَشْتَرُوْنَ …: } عبد اللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے بازار میں کچھ سامانِ تجارت لا کر رکھا، پھر اس پر قسم کھا کر کہا کہ میں نے اس سامان کے اتنے روپے دیے، حالانکہ اس نے اتنے روپے نہیں دیے تھے (یا کہا کہ مجھے اس سامان کے اتنے روپے مل رہے تھے، حالانکہ اسے اتنے روپے نہیں مل رہے تھے) قسم کا مقصد یہ تھا کہ کسی مسلمان کو اس میں پھنسا لے تو اس پر یہ آیت اتری: «اِنَّ الَّذِيْنَ يَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ اَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيْلًا» [بخاری، البیوع، باب ما یکرہ من الحلف فی البیع: ۲۰۸۸، ۴۵۵۱] یعنی جو لوگ بدعہدی، خیانت اور جھوٹی قسمیں کھا کر لوگوں کا مال کھاتے ہیں اللہ تعالیٰ ان پر ایسا ناراض ہو گا کہ نہ آخرت میں ان کا کچھ حصہ ہو گا، نہ اللہ ان سے کلام کرے گا، نہ انھیں (نظر رحمت سے) دیکھے گا، نہ انھیں پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہو گا۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے جھوٹی قسم کھائی، تاکہ اس کے ساتھ کسی مسلمان کا مال ہڑپ کر لے تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر سخت غصے ہو گا۔“ تو اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق میں (زیر تفسیر) یہ آیت اتاری۔ [بخاری، التفسیر، باب { إن الذين يشترون بعهد الله …:} ۴۵۴۹]
ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین شخص ایسے ہیں جن سے نہ تو اللہ تعالیٰ کلام کرے گا، نہ قیامت کے دن ان کی طرف دیکھے گا اور نہ ان کو پاک کرے گا۔ (وہ یہ ہیں) اپنے کپڑے کو لٹکانے والا، احسان کر کے جتلانے والا اور اپنے سودے کو جھوٹی قسم کے ساتھ بیچنے والا۔“ [مسلم، الإیمان، باب بیان غلظ تحریم الإسبال …: ۱۰۶، عن أبی ذر رضی اللہ عنہ]
ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین شخص ایسے ہیں جن سے نہ تو اللہ تعالیٰ کلام کرے گا، نہ قیامت کے دن ان کی طرف دیکھے گا اور نہ ان کو پاک کرے گا۔ (وہ یہ ہیں) اپنے کپڑے کو لٹکانے والا، احسان کر کے جتلانے والا اور اپنے سودے کو جھوٹی قسم کے ساتھ بیچنے والا۔“ [مسلم، الإیمان، باب بیان غلظ تحریم الإسبال …: ۱۰۶، عن أبی ذر رضی اللہ عنہ]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
77۔ 1 مذکورہ افراد کے برعکس دوسرے لوگوں کا حال بیان کیا گیا ہے اور یہ دو طرح کے لوگ شامل ہیں ایک تو وہ جو عہد الٰہی اور اپنی قسموں کو پس پشت ڈال کر تھوڑے سے دینی مفادات کے لئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لائے دوسرے وہ لوگ ہیں جو جھوٹی قسمیں کھا کر اپنا سودا بیچتے ہیں یا کسی کا مال ہڑپ کر جاتے ہیں جیسا کہ احادیث میں وارد ہے۔ مثلاً نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص کسی کا مال ہتھیانے کے لئے جھوٹی قسم کھائے وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ اس پر غضب ناک ہوگا نیز فرمایا تین آدمیوں سے اللہ تعالیٰ نہ کلام کرے گا اور نہ ہی ان کی طرف دیکھے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہوگا ان میں ایک وہ شخص ہے جو جھوٹی قسم کے ذریعے سے اپنا سودا بیچتا ہے۔ متعدد احادیث میں یہ باتیں بیان کی گئی ہیں۔ (ابن کثیرو فتح القدیر)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
77۔ لیکن جو لوگ اللہ کے عہد کو اور اپنی قسموں کو تھوڑی سی قیمت کے عوض بیچ ڈالیں تو ایسے لوگوں کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں سے نہ تو کلام کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا اور نہ ہی انہیں گناہوں سے پاک کرے گا اور انہیں دکھ دینے والا عذاب [67] ہو گا
[67] اللہ کے عہد اور قسموں کے بدلے تھوڑا سا فائدہ اٹھا لینے کی بہت سی صورتیں ممکن ہیں ان میں دو صورتوں کا ذکر تو بخاری میں آیا ہے۔ یہ دونوں صورتیں بعینہ ہم احادیث کے الفاظ میں درج کرتے ہیں۔ جھوٹی قسم سے مال بٹورنا:۔
1۔ اشعث بن قیس کہتے ہیں کہ یہ آیت میرے حق میں اتری۔ میرے چچا زاد بھائی کی زمین میں میرا کنواں تھا۔ آپ نے مجھ سے فرمایا کہ ’گواہ لاؤ‘ ورنہ اس سے قسم لے لو۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ تو قسم کھا جائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی مسلمان کا مال مار لینے کی نیت سے خواہ مخواہ جھوٹی قسم کھائے تو جب وہ اللہ سے ملے گا تو اس وقت اللہ اس پر غضب ناک ہو گا۔“ [بخاري، كتاب التفسير]
2۔ عبد اللہ بن ابی اوفیٰ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے بازار میں اپنا مال رکھا اور ایک مسلمان کو پھانسنے کے لیے جھوٹی قسم کھا کر کہنے لگا کہ مجھے اس مال کی اتنی قیمت ملتی تھی۔ (حالانکہ یہ بات غلط تھی) تب اللہ نے یہ آیت نازل کی۔ [بخاري، كتاب التفسير] باقی صورتیں مثلاً فقہی موشگافیاں یا کتاب اللہ میں تحریف یا غلط تاویل کر کے غلط فتویٰ دینا اور ان کے عوض مال وصول کرنا، کسی سے کوئی چیز عاریتاً لے کر مکر جانا اور قسم اٹھا لینا، غرض کہ بد دیانتی کی جتنی بھی اقسام ہو سکتی ہیں ان سب پر اس آیت کا اطلاق ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ جب قرآن کریم یا احادیث میں کسی جرم کے متعلق ایسے الفاظ استعمال ہوں کہ قیامت کے دن اللہ اس سے کلام نہیں کرے گا یا دیکھے گا بھی نہیں یا اس پر اللہ کا غضب ہو گا یا انہیں پاک نہیں کرے گا، تو ایسے گناہ یقیناً کبیرہ گناہ ہوا کرتے ہیں۔ مگر ایسے جرائم کرنے کے باوجود یہ لوگ سمجھ رہے ہیں کہ قیامت کے دن یہی اللہ کے مقرب بندے ہوں گے۔ انہی کی طرف نظر عنایت ہو گی اور جو تھوڑا بہت گناہوں کا میل انہیں لگ گیا ہے وہ بھی ان کے بزرگوں کے صدقے ان پر سے دھو ڈالا جائے گا۔ حالانکہ ان کے ساتھ معاملہ بالکل اس کے برعکس ہو گا۔
2۔ عبد اللہ بن ابی اوفیٰ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے بازار میں اپنا مال رکھا اور ایک مسلمان کو پھانسنے کے لیے جھوٹی قسم کھا کر کہنے لگا کہ مجھے اس مال کی اتنی قیمت ملتی تھی۔ (حالانکہ یہ بات غلط تھی) تب اللہ نے یہ آیت نازل کی۔ [بخاري، كتاب التفسير] باقی صورتیں مثلاً فقہی موشگافیاں یا کتاب اللہ میں تحریف یا غلط تاویل کر کے غلط فتویٰ دینا اور ان کے عوض مال وصول کرنا، کسی سے کوئی چیز عاریتاً لے کر مکر جانا اور قسم اٹھا لینا، غرض کہ بد دیانتی کی جتنی بھی اقسام ہو سکتی ہیں ان سب پر اس آیت کا اطلاق ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ جب قرآن کریم یا احادیث میں کسی جرم کے متعلق ایسے الفاظ استعمال ہوں کہ قیامت کے دن اللہ اس سے کلام نہیں کرے گا یا دیکھے گا بھی نہیں یا اس پر اللہ کا غضب ہو گا یا انہیں پاک نہیں کرے گا، تو ایسے گناہ یقیناً کبیرہ گناہ ہوا کرتے ہیں۔ مگر ایسے جرائم کرنے کے باوجود یہ لوگ سمجھ رہے ہیں کہ قیامت کے دن یہی اللہ کے مقرب بندے ہوں گے۔ انہی کی طرف نظر عنایت ہو گی اور جو تھوڑا بہت گناہوں کا میل انہیں لگ گیا ہے وہ بھی ان کے بزرگوں کے صدقے ان پر سے دھو ڈالا جائے گا۔ حالانکہ ان کے ساتھ معاملہ بالکل اس کے برعکس ہو گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
جھوٹی قسم کھانے والے ٭٭
یعنی جو اہل کتاب اللہ کے عہد کا پاس نہیں کرتے نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے ہیں نہ آپ کی صفتوں کا ذکر لوگوں سے کرتے ہیں نہ آپ کے متعلق بیان کرتے ہیں اور اسی طرح جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں اور ان بدکاریوں سے وہ اس ذلیل اور فانی دنیا کا فائدہ حاصل کرتے ہیں ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں نہ ان سے اللہ تعالیٰ کوئی پیار محبت کی بات کرے گا نہ ان پر رحمت کی نظر ڈالے گا نہ انہیں ان کے گناہوں سے پاک صاف کرے گا بلکہ انہیں جہنم میں داخل کرنے کا حکم دے گا اور وہاں وہ درد ناک سزائیں بھگتتے رہیں گے، اس آیت کے متعلق بہت سی حدیثیں بھی ہیں جن میں سے کچھ یہاں بھی ہم بیان کرتے ہیں۔
(١) مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تین قسم کے لوگ ہیں جن سے تو نہ اللہ جل شانہ کلام کرے گا اور نہ ان کی طرف قیامت کے دن نظر رحمت سے دیکھے گا، اور نہ انہیں پاک کرے گا، سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر کہا یہ کون لوگ ہیں یا رسول اللہ یہ تو بڑے گھاٹے اور نقصان میں پڑے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ یہی فرمایا پھر جواب دیا کہ ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکانے والا، جھوٹی قسم سے اپنا سودا بیچنے والا، دے کر احسان جتانے والا، مسلم وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے [صحیح مسلم:106] ۱؎
(٢) مسند احمد میں ہے ابو احمس فرماتے ہیں میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان سے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث بیان فرماتے ہیں تو فرمایا سنو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ تو بول نہیں سکتا جبکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سن لیا ہو تم کہو وہ حدیث کیا ہے؟ جواب دیا یہ کہ تین قسم کے لوگوں کو اللہ ذوالکرم دوست رکھتا ہے اور تین قسم کے لوگوں کو دشمن، تو فرمانے لگے ہاں یہ حدیث میں نے بیان کی ہے اور میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی بھی ہے میں نے پوچھا کس کس کو دوست رکھتا ہے فرمایا ایک تو وہ جو مردانگی سے دشمنان اللہ سبحانہ کے مقابلے میں میدان جہاد میں کھڑا ہو جائے یا تو اپنا سینہ چھلنی کروا لے یا فتح کر کے لوٹے، دوسرا وہ شخص جو کسی قافلے کے ساتھ سفر میں ہے بہت رات گئے تک قافلہ چلتا رہا جب تھک کر چور ہو گئے پڑاؤ ڈالا تو سب سو گئے اور یہ جاگتا رہا اور نماز میں مشغول رہا یہاں تک کہ کوچ کے وقت سب کو جگا دیا۔ تیسرا وہ شخص جس کا پڑوسی اسے ایذاء پہنچاتا ہو اور وہ اس پر صبر و ضبط کرے یہاں تک کہ موت یا سفر ان دونوں میں جدائی کرے، میں نے کہا اور وہ تین کون ہیں جن سے اللہ تعالیٰ ناخوش ہے فرمایا بہت قسمیں کھانے والا تاجر، اور تکبر کرنے والا فقیر اور وہ بخیل جس سے کبھی احسان ہو گیا ہو تو جتانے بیٹھے،[مسند احمد:151/5:ضعیف] ۱؎ یہ حدیث اس سند سے غریب ہے
(٣) مسند احمد میں ہے کندہ قبیلے کے ایک شخص امروءالقیس بن عامر کا جھگڑا ایک حضرمی شخص سے زمین کے بارے میں تھا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوا تو آپ نے فرمایا کہ حضرمی اپنا ثبوت پیش کرے اس کے پاس کوئی ثبوت نہ تھا تو آپ نے فرمایا اب کندی قسم کھا لے تو حضرمی کہنے لگایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اس کی قسم پر ہی فیصلہ ٹھہرا تو رب کعبہ کی قسم یہ میری زمین لے جائے گا آپ نے فرمایا جو شخص جھوٹی قسم سے کسی کا مال اپنا کر لے گا تو جب وہ اللہ تعالیٰ سے ملے گا اللہ اس سے ناخوش ہو گا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت فرمائی تو امروالقیس رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ السلام اگر تو کوئی چھوڑ دے تو اسے اجر کیا ملے گا؟ آپ نے فرمایا جنت تو کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گواہ رہیے کہ میں نے وہ ساری زمین اس کے نام چھوڑی، یہ حدیث نسائی میں بھی ہے [نسائی فی السنن الکبری:5996:صحیح] ۱؎
(٤) مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو شخص جھوٹی قسم کھائے تاکہ اس سے کسی مسلمان کا مال چھین لے تو اللہ جل جلالہ سے جب ملے گا تو اللہ عزوجل اس پر سخت غضبناک ہو گا، سیدنا اشعث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ کی قسم میرے ہی بارے میں یہ ہے ایک یہودی اور میری شرکت میں ایک زمین تھی اس نے میرے حصہ کی زمین کا انکار کر دیا میں اسے خدمت نبوی میں لایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تیرے پاس کچھ ثبوت ہے میں نے کہا نہیں آپ نے یہودی سے فرمایا تو قسم کھا لے میں نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو قسم کھا لے گا اور میرا مال لے جائے گا پس اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی، یہ حدیث بخاری مسلم میں بھی ہے۔ [صحیح بخاری:2356] ۱؎
(٥) مسند احمد میں ہے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے جو شخص کسی مرد مسلم کا مال بغیر حق کے لے لے وہ اللہ ذوالجلال سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہو گا، وہیں سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ آگے آئے اور فرمانے لگے ابوعبدالرحمٰن آپ کون سی حدیث بیان کرتے ہیں؟ ہم نے دوہرا دی تو فرمایا یہ حدیث میرے ہی بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی ہے،
میرا اپنے چچا کے لڑکے سے ایک کنوئیں کے بارے میں جھگڑا تھا جو اس کے قبضے میں تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب ہم اپنا مقدمہ لے گئے تو آپ نے فرمایا تو اپنی دلیل اور ثبوت لا کہ یہ کنواں تیرا ہے ورنہ اس کی قسم پر فیصلہ ہو گا میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تو کوئی دلیل نہیں اور اگر اس قسم پر معاملہ رہا تو یہ تو میرا کنواں لے جائے گا میرا مقابل تو فاجر شخص ہے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حدیث بھی بیان فرمائی اور اس آیت کی بھی تلاوت کی۔ [مسند احمد:212/5:حسن] ۱؎
میرا اپنے چچا کے لڑکے سے ایک کنوئیں کے بارے میں جھگڑا تھا جو اس کے قبضے میں تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب ہم اپنا مقدمہ لے گئے تو آپ نے فرمایا تو اپنی دلیل اور ثبوت لا کہ یہ کنواں تیرا ہے ورنہ اس کی قسم پر فیصلہ ہو گا میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تو کوئی دلیل نہیں اور اگر اس قسم پر معاملہ رہا تو یہ تو میرا کنواں لے جائے گا میرا مقابل تو فاجر شخص ہے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حدیث بھی بیان فرمائی اور اس آیت کی بھی تلاوت کی۔ [مسند احمد:212/5:حسن] ۱؎
(٦) مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ایسے بھی ہیں جن سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بات نہ کرے گا نہ ان کی طرف دیکھے گا، پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کون ہیں؟ فرمایا اپنے ماں باپ سے بیزار ہونے والے اور ان سے بے رغبتی کرنے والی لڑکی اور اپنی اولاد سے بیزار اور الگ ہونے والا باپ اور وہ شخص کہ جس پر کسی قوم کا احسان ہے وہ اس سے انکار کر جائے اور آنکھیں پھیر لے اور ان سے یکسوئی کرے [مسند احمد:440/3:ضعیف]
(٧) ابن ابی حاتم میں ہے سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنا سودا بازار میں رکھا اور قسم کھائی کہ وہ اتنا بھاؤ دیا جاتا تھا تاکہ کوئی مسلمان اس میں پھنس جائے، پس یہ آیت نازل ہوئی، صحیح بخاری میں بھی یہ روایت مروی ہے۔ [صحیح بخاری:4551:صحیح]
(٨) مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تین شخصوں سے جناب باری تقدس و تعالیٰ قیامت والے دن بات نہ کرے گا نہ ان کی طرف دیکھے گا نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لیے دکھ درد کے عذاب ہیں ایک وہ جس کے پاس بچا ہوا پانی ہے پھر وہ کسی مسافر کو نہیں دیتا دوسرا وہ جو عصر کے بعد جھوٹی قسم کھا کر اپنا مال فروخت کرتا ہے تیسرا وہ جو مسلمان بادشاہ سے بیعت کرتا ہے اس کے بعد اگر وہ اسے مال دے تو پوری کرتا ہے اگر نہیں دیتا تو نہیں کرتا ہے۔ [سنن ابوداود:3474،قال الشيخ الألباني:صحیح] ۱؎ یہ حدیث ابوداؤد اور ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح کہتے ہیں۔