(آیت 76) {”بَلٰى“} (کیوں نہیں) یعنی اس بدعہدی اور خیانت پر ضرور مؤاخذہ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ اور محبوب شخص تو وہی ہے جو اللہ تعالیٰ اور بندوں سے کیا ہوا عہد پورا کرتا ہے (اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کا عہد بھی داخل ہے) اور پھر ہر معاملہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اور اس شریعت کا اتباع کرتا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم لے کر مبعوث ہوئے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
76۔ 1 قرار پورا کرے کا مطلب وہ عہد پورا کرے جو اہل کتاب سے یا ہر نبی کے واسطے سے ان کی امتوں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی بابت لیا گیا ہے اور پرہیزگاری کرے یعنی اللہ تعالیٰ کے محارم سے بچے اور ان باتوں پر عمل کرے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائیں۔ ایسے لوگ یقینا مواخذہ الٰہی سے نہ صرف محفوظ رہیں گے بلکہ محبوب باری تعالیٰ ہونگے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
76۔ بات یہ ہے کہ جس شخص نے بھی اللہ کے کئے ہوئے عہد کو پورا کیا اور اس سے [66۔ 1] ڈر گیا تو اللہ ایسے ہی پرہیزگاروں کو پسند کرتا ہے
[66۔ 1] یہود کی باطنی خباثتوں کے ذکر کے درمیان ان کی بد دیانتی کا ذکر اس نسبت سے آیا ہے کہ ان دونوں کا منبع ایک ہے اور وہ ہے تقویٰ کا فقدان۔ یعنی یہ لوگ اللہ تعالیٰ سے ایسے بے باک اور نڈر ہو گئے تھے کہ نہ وہ اللہ کے احکام بیان کرنے میں دیانت سے کام لیتے ہیں اور نہ ہی دوسرے لوگوں سے معاملات میں وہ دیانت کو ملحوظ رکھتے تھے۔ ان کے ذہن میں بس ایک ہی سودا سمایا ہوا تھا کہ وہ چونکہ انبیاء کی اولاد ہیں لہٰذا جو کچھ بھی وہ کر لیں۔ دوزخ کی آگ ان پر حرام کر دی گئی ہے۔ اسی زعم باطل کی بنا پر وہ غیر اسرائیلیوں کے اموال کو ہر جائز و نا جائز طریقے سے ہڑپ کر جانے کو کچھ جرم نہیں سمجھتے تھے۔
یہود میں اہل تقویٰ لوگ:۔
ان میں چند ایک جو فی الواقع اللہ سے ڈرنے والے تھے۔ وہ نہ اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں کسی قسم کی بد دیانتی اور خیانت کے روادار تھے اور نہ لوگوں کے معاملہ میں۔ ایسے ہی متقی لوگوں میں سے ایک عبد اللہ بن سلامؓ اور ان کے حلقہ اثر کے لوگ تھے۔ جو لوگوں سے بھی کسی طرح کی بد دیانتی یا ہیرا پھیری نہیں کرتے تھے۔ اور نہ ہی وعدہ خلافی کرتے تھے اور جب انہیں یہ تسلی ہو گئی کہ یہ نبی واقعی وہی نبی ہیں جن کی تورات میں بشارت دی گئی ہے ہے تو وہ بلا خوف لومۃ لائم فوراً اسلام لے آئے تھے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
متقی کون؟ ٭٭
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ لیکن جو شخص اپنے عہد کو پورا کرے اور اہل کتاب ہو کر ڈرتا رہے پھر اپنی کتاب کی ہدایت کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اس عہد کے مطابق جو تمام انبیاء علیہم السلہم سے بھی ہو چکا ہے اور جس عہد کی پابندی ان کی امتوں پر بھی لازم ہے اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے اجتناب کرے اس کی شریعت کی اطاعت کرے رسولوں کے خاتم اور انبیاء کے سردار محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری تابعداری کرے وہ متقی ہے اور متقی اللہ تعالیٰ کے دوست ہیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔