ترجمہ و تفسیر — سورۃ آل عمران (3) — آیت 71

یٰۤاَہۡلَ الۡکِتٰبِ لِمَ تَلۡبِسُوۡنَ الۡحَقَّ بِالۡبَاطِلِ وَ تَکۡتُمُوۡنَ الۡحَقَّ وَ اَنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿٪۷۱﴾
اے اہل کتاب! تم کیوں حق کو باطل سے خلط ملط کرتے ہو اور حق کو چھپاتے ہو، حالانکہ تم جانتے ہو۔ En
اے اہلِ کتاب تم سچ کو جھوٹ کے ساتھ خلط ملط کیوں کرتے ہو اور حق کو کیوں چھپاتے ہو اور تم جانتے بھی ہو
En
اے اہل کتاب! باوجود جاننے کے حق وباطل کو کیوں خلط ملط کر رہے ہو اور کیوں حق کو چھپا رہے ہو؟ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 71){لِمَ تَلْبِسُوْنَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ …:} اہل کتاب کی مذہبی بدبختیوں کی طرف اشارہ ہے، اس سے پہلی آیت میں علمائے یہود کی یہ بدبختی بیان کی گئی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سچا پیغمبر ہونے کے دلائل جان لینے کے باوجود کفر کر رہے ہیں، اب یہاں بتایا جا رہا ہے کہ حق کو باطل کے ساتھ ملانا اور حق کو چھپانا ان کا عام شیوہ بن چکا ہے۔ پہلی آیت میں ان کی اپنی گمراہی کا بیان تھا، اس آیت میں دوسروں کو گمراہ کرنے کا ذکر ہے۔(رازی) مزید دیکھیے سورۂ بقرہ (۴۲)۔ یہ مقام عبرت ہے کہ ہمارے دور کے فرقہ پرست علماء اور تجدد زدہ حضرات بھی دنیوی اور مادی اغراض و مصالح کے پیش نظر قرآن مجید سے وہی سلوک کر رہے ہیں جو ان کے پیش رو تورات و انجیل کے ساتھ کرتے رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بالکل صحیح فرمایا: [لَتَتَّبِعُنَّ سُنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ] [بخاری، أحادیث الأنبیاء، باب ما ذکر عن بنی إسرائیل: ۳۴۵۶] تم لازماً پہلی امتوں کے نقش قدم پر چلو گے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

71۔ 1 اس میں یہودیوں کے دو بڑے جرائم کی نشان دہی کر کے انہیں ان سے باز رہنے کی تلقین کی جا رہی ہے پہلا جرم حق وباطل اور سچ اور جھوٹ کو خلط ملط کرنا تاکہ لوگوں پر حق اور باطل واضح نہ ہو سکے دوسرا حق چھپانا۔ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جو اوصاف تورات میں لکھے ہوئے تھے انہیں لوگوں سے چھپانا تاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کم از کم اس اعتبار سے نمایاں نہ ہو سکے اور یہ دونوں جرم جان بوجھ کر کرتے تھے۔ جس سے ان کی بدبختی دو چند ہوگئی تھی۔ ان کے جرائم کی نشان دہی سورة بقرہ میں بھی کی گئی ہے۔ اہل کتاب کے لفظ کو بعض مفسرین نے عام رکھا ہے جس میں یہود و نصاری دونوں شامل ہیں۔ یعنی دونوں کو ان جرائم مذکورہ سے باز رہنے کی تلقین کی گئی ہے اور بعض کے نزدیک اس سے مراد صرف وہ قبائل یہود ہیں جو مدینے میں رہائش پذیر تھے۔ بنو قریظہ، بنونضیر اور بنو قینقاع۔ زیادہ صحیح بات یہی معلوم ہوتی ہے کیونکہ مسلمانوں کا براہ راست انہی سے معاملہ تھا اور یہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مکالفت میں پیش پیش تھے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

71۔ اے اہل کتاب! تم حق و باطل کی آمیزش کیوں کرتے ہو اور جانتے بوجھتے سچی بات کو کیوں چھپا جاتے ہو؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔