ترجمہ و تفسیر — سورۃ آل عمران (3) — آیت 7

ہُوَ الَّذِیۡۤ اَنۡزَلَ عَلَیۡکَ الۡکِتٰبَ مِنۡہُ اٰیٰتٌ مُّحۡکَمٰتٌ ہُنَّ اُمُّ الۡکِتٰبِ وَ اُخَرُ مُتَشٰبِہٰتٌ ؕ فَاَمَّا الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ زَیۡغٌ فَیَتَّبِعُوۡنَ مَا تَشَابَہَ مِنۡہُ ابۡتِغَآءَ الۡفِتۡنَۃِ وَ ابۡتِغَآءَ تَاۡوِیۡلِہٖ ۚ؃ وَ مَا یَعۡلَمُ تَاۡوِیۡلَہٗۤ اِلَّا اللّٰہُ ۘؔ وَ الرّٰسِخُوۡنَ فِی الۡعِلۡمِ یَقُوۡلُوۡنَ اٰمَنَّا بِہٖ ۙ کُلٌّ مِّنۡ عِنۡدِ رَبِّنَا ۚ وَ مَا یَذَّکَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الۡاَلۡبَابِ ﴿۷﴾
وہی ہے جس نے تجھ پر یہ کتاب اتاری، جس میں سے کچھ آیات محکم ہیں، وہی کتاب کی اصل ہیں اور کچھ دوسری کئی معنوں میں ملتی جلتی ہیں، پھر جن لوگوں کے دلوں میں تو کجی ہے وہ اس میں سے ان کی پیروی کرتے ہیں جو کئی معنوں میں ملتی جلتی ہیں، فتنے کی تلاش کے لیے اور ان کی اصل مراد کی تلاش کے لیے، حالانکہ ان کی اصل مراد نہیں جانتا مگر اللہ اور جو علم میں پختہ ہیں وہ کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے، سب ہمارے رب کی طرف سے ہے اور نصیحت قبول نہیں کرتے مگر جو عقلوں والے ہیں۔ En
وہی تو ہے جس نے تم پر کتاب نازل کی جس کی بعض آیتیں محکم ہیں (اور) وہی اصل کتاب ہیں اور بعض متشابہ ہیں تو جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے وہ متشابہات کا اتباع کرتے ہیں تاکہ فتنہ برپا کریں اور مراد اصلی کا پتہ لگائیں حالانکہ مراد اصلی خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا اور جو لوگ علم میں دست گاہ کامل رکھتے ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم ان پر ایمان لائے یہ سب ہمارے پروردگار کی طرف سے ہیں اور نصیحت تو عقل مند ہی قبول کرتے ہیں
En
وہی اللہ تعالیٰ ہے جس نے تجھ پر کتاب اتاری جس میں واضح مضبوط آیتیں ہیں جو اصل کتاب ہیں اوربعض متشابہ آیتیں ہیں۔ پس جن کے دلوں میں کجی ہے وه تواس کی متشابہ آیتوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں، فتنے کی طلب اور ان کی مراد کی جستجو کے لئے، حاﻻنکہ ان کے حقیقی مراد کو سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا اور پختہ ومضبوط علم والے یہی کہتے ہیں کہ ہم تو ان پر ایمان ﻻچکے، یہ ہمارے رب کی طرف سے ہیں اور نصیحت تو صرف عقلمند حاصل کرتے ہیں۔ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 7) ➊ ایک جگہ قرآن مجید کی تمام آیات کو محکم کہا گیا ہے، چنانچہ فرمایا: «الٓرٰ كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰيٰتُهٗ» [ھود: ۱] { الٓرٰ}، ایک کتاب ہے جس کی آیات محکم کی گئیں۔ اور دوسری جگہ تمام آیات کو متشابہ، چنانچہ فرمایا: «اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِيْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا» ‏‏‏‏ [الزمر: ۲۳] اللہ نے سب سے اچھی بات نازل فرمائی، ایسی کتاب جو آپس میں ملتی جلتی ہے۔ اور یہاں بعض آیات کو متشابہ قرار دیا ہے، بعض کو محکم، مگر اس میں کوئی تعارض نہیں۔ تمام آیات کے محکم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ پورے قرآن میں کوئی کمی یا خرابی نہیں، نہایت مضبوط اور محکم ہے اور متشابہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی تمام آیات فصاحت و بلاغت اور مضامین و معانی میں ایک دوسری سے ملتی جلتی ہیں۔ اس جگہ جو فرمایا کہ بعض محکم ہیں اور بعض متشابہ، تو محکمات سے مراد وہ آیات ہیں جن کا مفہوم بالکل واضح اور صریح ہے، ان میں کسی قسم کی تاویل کی گنجائش نہیں ان کو { اُمُّ الْكِتٰبِ } قرار دیا ہے، یعنی اصل اور بنیاد۔ انھی آیات میں لوگوں کو دین کی طرف دعوت دی گئی ہے اور انھی میں دین کے بنیادی عقائد، عبادات اور احکام بیان کیے گئے ہیں۔ قرآن مجید میں مذکور نصیحتیں اور عبرتیں بھی ان میں شامل ہیں، انسانی گمراہیوں کی نشاندہی بھی ان آیات میں کی گئی ہے۔ جبکہ متشابہات سے مراد وہ آیات ہیں جو ملتے جلتے کئی معانی کا احتمال رکھتی ہیں، اس لیے ان کا اصل مرادی معنی سمجھنے میں لوگوں کو اشتباہ ہو جاتا ہے، یا ان میں تاویل کی گنجائش نکل سکتی ہے، یا جن میں ایسے حقائق کا بیان ہے جن پر مجمل طور پر ایمان لانا تو ضروری ہے لیکن ان کی تفصیلات کو جاننا نہ انسان کے لیے ضروری ہے اور نہ عقلی استعداد کے ساتھ ممکن ہے۔ تفسیر وحیدی میں لکھا ہے: صفاتِ الٰہیہ کے منکرین تو اللہ تعالیٰ کے استواء (عرش پر ہونے کو) اور اس کے ید (ہاتھ) اور اس کے نزول (ہر رات آسمان دنیا پر اور قیامت کے دن زمین پر اترنے) کو متشابہات قرار دے کر ان کے معنی سمجھنے ہی کو ناممکن قرار دیتے ہیں، مگر اہل حدیث انھیں محکم مانتے ہیں، ان کے معانی کو واضح سمجھتے ہیں، البتہ کیفیت کو اللہ کے سپرد کرتے ہیں۔
➋ اس آیت میں نصاریٰ کو بھی تنبیہ ہے کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام سے متعلق { كَلِمَتُهٗ } اور { رُوْحٌ مِّنْهُ } وغیرہ آیات سے عیسیٰ علیہ السلام کے الٰہ ہونے اور اللہ کا بیٹا ہونے پر تو استدلال کرتے ہیں مگر دوسری آیات: «‏‏‏‏اِنْ هُوَ اِلَّا عَبْدٌ اَنْعَمْنَا عَلَيْهِ» ‏‏‏‏ [الزخرف: ۵۹] نہیں ہے وہ مگر ایک بندہ جس پر ہم نے انعام کیا۔ اور «اِنَّ مَثَلَ عِيْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ» [آل عمران: ۵۹] بے شک عیسیٰ کی مثال اللہ کے نزدیک آدم کی مثال کی طرح ہے ان پر اور ان جیسی دیگر آیات پر دھیان نہیں دیتے۔ (ابن کثیر)
➌ { فَاَمَّا الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ زَيْغٌ:} یعنی وہ لوگ جن کے دلوں میں کجی ہے اور جن کا مشغلہ ہی محض فتنہ جوئی ہوتا ہے وہ محکمات کو چھوڑ کر متشابہات کے پیچھے پڑتے ہیں اور چونکہ وہ کئی معانی کا احتمال رکھتی ہیں اس لیے وہ ان سے وہ معنی نکالتے ہیں جو قرآن کی صیح اور محکم آیات کے خلاف ہوتے ہیں، فتنے کی تلاش کے لیے اور اپنے خیال میں اس کی اصل مراد تلاش کرنے کے لیے۔ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کو { اُولُوا الْاَلْبَابِ } تک پڑھا اور پھر فرمایا: جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو متشابہات کے پیچھے پڑتے ہیں تو سمجھ لو کہ یہ وہی لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے نام لیا ہے، سو تم ان سے بچو۔ [بخاری، التفسیر، باب: «منہ آیات محکمات» ‏‏‏‏: ۴۵۴۷]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن میں جھگڑنا کفر ہے۔ [أبو داوٗد، السنۃ، باب النہی عن الجدال: ۴۶۰۳، عن أبی ہریرۃ رضی اللہ عنہ، صحیح] پس ضروری ہے کہ قرآن کا جو حصہ محکم ہے اس پر عمل کیا جائے اور جو متشابہ ہے اس پر جوں کا توں ایمان رکھا جائے اور تفصیلات سے بحث نہ کی جائے۔ (فتح البیان، ابن کثیر)
➍ {وَ مَا يَعْلَمُ تَاْوِيْلَهٗۤ اِلَّا اللّٰهُ:} اکثر ائمہ لفظ { اللّٰهُ } پر وقف کر کے { وَ الرّٰسِخُوْنَ فِي الْعِلْمِ } سے نیا کلام شروع سمجھتے ہیں، یعنی متشابہات کی اصل مراد اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور راسخ فی العلم لوگ کہتے ہیں کہ محکم و متشابہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہیں، ہم متشابہات کی اصل مراد نہ جانتے ہوئے بھی ان کے من عند اللہ ہونے پر ایمان رکھتے ہیں جبکہ کچھ ائمہ کا کہنا ہے: { وَ الرّٰسِخُوْنَ فِي الْعِلْمِ } کا لفظ { اللّٰهُ } پر عطف ہے، یعنی اہل زیغ متشابہ آیات کا پیچھا فتنے کی تلاش کے لیے اور ان سے فاسد معنی مراد لینے کے لیے کرتے ہیں اور ایسے معنی نکالتے ہیں جو قرآن وحدیث کی نصوص کے خلاف ہوتے ہیں، حالانکہ ان کا اصل معنی اللہ تعالیٰ جانتا ہے یا پختہ علم والے جو کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے، یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہے، اس لیے ان کا ایسا معنی مراد ہو ہی نہیں سکتا جو دوسری آیات و احادیث کے خلاف ہو۔
➎ {وَ مَا يَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ: الْاَلْبَابِ لُبٌّ } کی جمع ہے، جس کا معنی خالص عقل ہے۔ (راغب) جس عقل میں خواہش پرستی، بدعت یا شرک کی آمیزش ہو وہ { لُبٌّ } نہیں کہلاتی۔ مقصد یہ ہے کہ متشابہ کے اصل معنی تک رسائی کی توفیق اہل علم کو بھی ہوتی ہے مگر صرف ان اہل علم کو جن کی عقل ہر قسم کی خواہش پرستی، بدعت اور شرک سے پاک ہوتی ہے۔ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے لیے دعا فرمائی: [اَللَّهُمَّ فَقِّهْهُ فِي الدِّيْنِ وَ عَلِّمْهُ التَّأْوِيْلَ] اے اللہ! اسے دین میں سمجھ عطا فرما اور اسے تاویل کا علم عطا فرما۔ [مستدرک حاکم: 534/3، ح: ۶۲۸۰ مسند أحمد: 266/1، ح ۲۴۰۱، صحیح] معلوم ہوا تاویل کا علم راسخ فی العلم لوگوں کو بھی ہوتا ہے۔
➏ احسن البیان میں ہے، تاویل کے ایک معنی تو ہیں کسی چیز کی اصل حقیقت، اس معنی کے لحاظ سے {اِلَّا اللّٰهُ} پر وقف ضروری ہے، کیونکہ ہر چیز کی اصل حقیقت واضح طور پر اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ تاویل کے دوسرے معنی ہیں، کسی چیز کی تفسیر اور بیان و توضیح، اس اعتبار سے{ اِلَّا اللّٰهُ } پر وقف کے بجائے { وَ الرّٰسِخُوْنَ فِي الْعِلْمِ } پر بھی وقف کیا جا سکتا ہے، کیونکہ مضبوط علم والے بھی صحیح تفسیر و توضیح کا علم رکھتے ہیں۔ تاویل کے یہ دونوں معنی قرآن کریم کے استعمال سے ثابت ہیں۔ (ملخص از ابن کثیر)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

7۔ 1 محکمات سے مراد وہ آیات ہیں جن میں اوامر ونواہی، احکام و مسائل اور قصص و حکایات ہیں جن کا مفہوم واضح اور اٹل ہے اور ان کے سمجھنے میں کسی کو اشکال پیش نہیں آتا اس کے برعکس آیات متشابھات ہیں مثلا اللہ کی ہستی قضا و قدر کے مسائل، جنت و دوزخ، ملائکہ وغیرہ یعنی ماوراء عقل حقائق جن کی حقیقت سمجھنے سے عقل انسانی قاصر ہو یا ان میں ایسی تاویل کی گنجائش ہو یا کم از کم ایسا ابہام ہو جس سے عوام کو گمراہی میں ڈالنا ممکن ہو۔ اس لئے آگے کہا جا رہا ہے کہ جن کے دلوں میں کجی ہوتی ہے وہ آیات متشابہ کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور ان کے ذریعے سے فتنے برپا کرتے ہیں جیسے عیسائی ہیں۔ قرآن نے حضرت عیسیٰ ؑ کو عبد اللہ اور نبی کہا یہ واضح اور محکم بات ہے لیکن عیسائی اسے چھوڑ کر قرآن کریم میں حضرت عیسیٰ کو روح اللہ اور کلمۃ اللہ جو کہا گیا اس سے اپنے گمراہ کن عقائد پر غلط استدال کرتے ہیں یہی حال اہل بدعت کا ہے قرآن کے واضح عقائد کے برعکس اہل بدعت نے جو غلط عقائد گھڑ رکھے ہیں وہ انہیں متشابہات کو بنیاد بناتے ہیں۔ اور بسا اوقات محکمات کو بھی اپنے فلسفیانہ استدلال کے گورکھ دھندے سے متشابھات بنا دیتے ہیں اعاذنا اللہ منہ۔ ان کے برعکس صحیح العقیدہ مسلمان محکمات پر عمل کرتا ہے اور متشابھات کے مفہوم کو بھی اگر اس میں اشتباہ ہو محکمت کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرتا ہے کیونکہ قرآن نے انہی اصل کتاب قرار دیا ہے۔ جس سے وہ فتنے سے بھی محفوظ رہتا ہے اور عقائد گمراہی سے بھی جعلنا اللہ منہم 7۔ 2 تاویل کے ایک معنی تو ہیں کسی چیز کی اصل حقیقت اس معنی کے اعتبار سے الْا اللّٰہُ پر وقف ضروری ہے۔ کیونکہ ہر چیز کی اصل حقیقت واضح طور پر صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے تاویل کے دوسرے معنی ہیں کسی چیز کی تفسیر و تعبیر اور بیان، اس اعتبار سے الْا اللّہ پر وقف کے بجائے (وَالرّٰسِخُوْنَ فِي الْعِلْمِ) 3۔ آل عمران:7) پر بھی وقف کیا جاسکتا ہے کیونکہ مضبوط علم والے بھی صحیح تفسیر کا علم رکھتے ہیں تاویل کے یہ دونوں معنی قرآن کریم کے استعمال سے ثابت ہیں (ملخص از ابن کثیر)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

7۔ وہی تو ہے جس نے آپ پر کتاب نازل کی۔ جس کی کچھ آیات تو محکم ہیں اور یہی (محکمات) [6] کتاب کی اصل بنیاد ہیں اور دوسری متشابہات [7] ہیں۔ اب جن لوگوں کے دل میں کجی [8] ہے (پہلے ہی کسی غلط نظریہ پر یقین رکھتے ہیں) وہ فتنہ انگیزی کی خاطر متشابہات ہی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں۔ اور انہیں اپنے حسب منشا معنی پہنانا چاہتے ہیں حالانکہ ان کا صحیح مفہوم اللہ کے سوا کوئی بھی نہیں جانتا۔ اور جو علم [9] میں پختہ کار ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہم ان (متشابہات) پر ایمان لاتے ہیں۔ ساری ہی آیات ہمارے پروردگار کی طرف سے ہیں۔ اور کسی چیز سے سبق تو صرف عقلمند لوگ ہی حاصل کرتے ہیں
[6] محکمات کیا ہیں اور متشابہات کیا؟
محکم آیات وہ ہیں جن کا مطلب واضح ہو، ان میں کسی قسم کا اشتباہ نہ ہو اور نہ ہی کوئی دوسرا مطلب لیا جا سکتا ہو اور ان سے مراد حلال و حرام سے متعلق احکام اور اوامر و نواہی ہیں، اور یہی چیزیں انسان کی ہدایت کے لیے کافی ہیں۔ چونکہ قرآن کا اصل موضوع انسان کی ہدایت ہے اور محکمات سے انسان کو پوری رہنمائی مل جاتی ہے۔ لہٰذا محکمات کو ہی ام الکتاب کا نام دیا گیا اور یہی وہ آیات ہیں جن کے متعلق قرآن کا دعویٰ ہے کہ ہم نے قرآن کو آسان بنا دیا ہے۔
[7] متشابہات ایسی آیات ہیں جن کا مفہوم ذہن انسانی کی دسترس سے بالا ہوتا ہے۔ انسان کی عقل چونکہ محدود ہے اور کائنات اور اس کے حقائق لامحدود ہیں۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ جب ایسے حقائق کو بیان فرماتے ہیں تو ایسے الفاظ استعمال فرماتے ہیں جو حقیقت سے قریب تر ہوں اور انسانی فہم سے بھی۔ ان آیات کا ٹھیک ٹھیک مفہوم چونکہ انسانی ذہن میں نہیں آسکتا اس لیے ان میں اشتباہ کی گنجائش ہوتی ہے اور ہر شخص اپنی اپنی سمجھ کے مطابق اس کی تاویل کرنے لگتا ہے۔ یہ واضح رہے کہ ایسی آیات عموماً ذات و صفات الٰہی سے متعلق ہی ہوتی ہیں جیسے
﴿ ثُمَّ اسْتَويٰ عَلَي الْعَرْشِ
اور
﴿ اَلرَّحْمَنُ عَلَي الْعَرْشِ اسْتَويٰ
اب اس بات کے پیچھے پڑنا کہ اللہ کا عرش کیسا ہے، وہ خود کیسا ہے اور کس طرح عرش پر بیٹھا ہے۔ اس قسم کی سوچ سراسر گمراہی ہے۔ کیونکہ اللہ نے خود ہی فرما دیا ہے کہ:
﴿ لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ
[8] متشابہات کے پیچھے پڑنے والے:۔
واضح رہے کہ گمراہ فرقوں کی اکثریت کا ہدف یا محل استدلال ایسی ہی متشابہ آیات ہوا کرتی ہیں مثلاً مذکورہ بالا آیات کی جب جہمیہ اور معتزلہ کو سمجھ نہ آئی اور ازروئے عقل انہوں نے اس کی تاویل کی تو استویٰ کے معنی ہی بدل کر استولیٰ (غالب آنا) کر لیے۔ ان کا نظریہ ہے کہ چونکہ اللہ ہر جگہ موجود ہے لہٰذا ایسی آیات کی تاویل لازم ہے۔ اس آیت میں وہ لوگ عرش (اور ایسے ہی بعض مقامات پر کرسی) کا معنی اقتدار اور استویٰ کے معنی استولیٰ (غالب آنا) کر کے ان آیات کو اپنے عقیدہ کے موافق بنا لیتے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر بتلا دیا کہ ایسی آیات کی تاویل کا صحیح مفہوم اللہ کے سوا کوئی نہیں جان سکتا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو متشابہات کے پیچھے پڑتے ہیں تو سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ نے (قرآن کریم میں) انہی لوگوں کا ذکر کیا ہے، لہٰذا ان سے بچو۔“ [بخاري، كتاب التفسير، تفسير آيت مذكور]
متشابہات کی دوسری قسم ذو معنی الفاظ ہیں۔ جیسے عربی زبان اور اسی طرح کئی دوسری زبانوں میں بھی، ابن یا بیٹا صرف اپنے حقیقی بیٹے کو ہی نہیں کہتے بلکہ اپنے چھوٹے بھائی، غلام اور نوکر کو بھی از راہ شفقت و پیار بیٹا کہہ دیتے ہیں۔ اسی لفظ سے یہود کو یہ غلط فہمی ہو گئی کہ وہ واقعی اللہ کے بیٹے اور اس کے پیارے ہیں اور نصاریٰ کو یہ غلط فہمی ہوئی کہ عیسیٰؑ واقعی اللہ کے بیٹے تھے ان لوگوں کے اس باطل خیال کی قرآن کریم میں کئی مقامات پر تردید کی گئی ہے۔ اسی طرح آغاز کائنات اور زمین و آسمان کی تخلیق کے متعلق سوال کرنے والوں کا جواب دینے کے بعد اللہ تعالیٰ نے سورۃ حم السجدہ کی آیت نمبر 10 میں فرمایا:
﴿ سَوَاءً لِّلسَّايِٕلِيْنَ
(یعنی سوال کرنے والوں کا جواب پورا ہوا) اب چونکہ سواء اور سائل دونوں الفاظ ذو معنی ہیں لہٰذا اشتراکی ذہن رکھنے والوں نے ان الفاظ سے اپنا نظریہ کشید کرتے ہوئے کہا کہ یہ زمین سب رزق مانگنے والوں کے لیے یکساں ہے۔ لہٰذا یہ انفرادی ملکیت میں رہنے کی بجائے حکومت کی تحویل میں ہونی چاہیئے۔ اب یہ تو واضح ہے کہ اس آیت کا سیاق و سباق قطعاً ایسے نظریہ کی حمایت نہیں کرتا جس کی بنیاد ہی اللہ تعالیٰ کی ہستی کے انکار پر اٹھتی ہے۔ تاہم ایسے کج ذہن لوگوں نے مسلمانوں کو اشتراکیت کی طرف مائل کرنے کے لیے ان الفاظ سے اپنے نظریہ کی تائید کی ہے یہ بحث ذرا تفصیل سے اپنے مقام پر ملے گی۔
[9] متشابہات کا تعلق چونکہ ایسے حقائق سے ہوتا ہے جو انسانی عقل کی دسترس سے باہر ہوتے ہیں اور انسان کی ہدایت سے بھی ان کا تعلق نہیں ہوتا۔ لہٰذا عقل صحیح اور قلب سلیم رکھنے والے لوگ ان کے درپے نہیں ہوا کرتے۔ ان کا انداز فکر یہ ہوتا ہے کہ چونکہ دونوں قسم کی آیات کا منبع ایک ہی ہے اس لیے دونوں منزل من اللہ، درست اور صحیح ہیں۔ وہ متشابہات پر ایمان اس لحاظ سے رکھتے ہیں کہ وہ بھی اللہ تعالیٰ ہی کے ارشادات ہیں اور اس کی کنہ تک پہنچنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔ جس کی وجوہ دو ہیں۔ ایک تو ایسی آیات کا انسانی ہدایت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ دوسرے اس کی کنہ کے پیچھے پڑنے میں گمراہی کا احتمال بہت زیادہ ہوتا ہے۔ مندرجہ بالا تفسیر ان لوگوں کے مطابق ہے جو الا اللہ پر وقف کو لازم قرار دیتے ہیں اور یہی تفسیر راجح اور انسب ہے۔ کہ علامت وقف سے بھی ظاہر ہے۔ تاہم بعض حضرات یہاں وقف کو ضروری نہیں سمجھتے اور اس کے بعد کی واو کو عاطفہ قرار دیتے ہیں۔ اس لحاظ سے معنی یوں بنتا ہے کہ متشابہات کی حقیقت کو اللہ ہی جانتا ہے۔ نیز علم میں رسوخ رکھنے والے لوگ بھی جانتے ہیں لیکن یہ تفسیر اس لحاظ سے درست معلوم نہیں ہوتی کہ بے شمار متشابہات ایسے ہیں جن کی حقیقت اللہ کے علاوہ کسی راسخ فی العلم کو بھی معلوم نہیں ہو سکتی۔ جن میں سر فہرست تو حروف مقطعات ہیں۔ علاوہ ازیں اور بھی مثالیں اوپر گزر چکی ہیں جو بالخصوص اللہ کی ذات و صفات سے تعلق رکھتی ہیں۔ البتہ ذو معنی الفاظ والی آیات کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ:
﴿رَاسِخُوْنَ فِيْ الْعِلْمِ
اس کی حقیقت کو پا سکیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

ہماری سمجھ سے بلند آیات ٭٭
یہاں یہ بیان ہو رہا ہے کہ قرآن میں ایسی آیتیں بھی ہیں جن کا بیان بہت واضح بالکل صاف اور سیدھا ہے۔ ہر شخص اس کے مطلب کو سمجھ سکتا ہے، اور بعض آیتیں ایسی بھی ہیں جن کے مطلب تک عام ذہنوں کی رسائی نہیں ہو سکتی، اب جو لوگ نہ سمجھ میں آنے والی آیتوں کے مفہوم کو پہلی قسم کی آیتوں کی روشنی میں سمجھ لیں یعنی جس مسئلہ کی صراحت جس آیت میں پائیں لے لیں، وہ تو راستی پر ہیں اور جو صاف اور صریح آیتوں کو چھوڑ کر ایسی آیتوں کو دلیل بنائیں جو ان کے فہم سے بالاتر ہیں، ان میں الجھ جائیں تو منہ کے بل گر پڑیں، ام الکتاب یعنی کتاب اللہ اصل اصولوں کی وہ صاف اور واضح آیتیں ہیں، شک و شبہ میں نہ پڑو اور کھلے احکام پر عمل کرو انہی کو فیصلہ کرنے والی مانو اور جو نہ سمجھ میں آئے اسے بھی ان سے ہی سمجھو، بعض اور آیتیں ایسی بھی ہیں کہ ایک معنی تو ان کا ایسا نکلتا ہے جو ظاہر آیتوں کے مطابق ہو اور اس کے سوا اور معانی بھی نکلتے ہیں، گو وہ حرف لفظ اور ترکیب کے اعتبار سے واقعی طور پر نہ ہو تو ان غیر ظاہر معنوں میں نہ پھنسو، محکم اور متشابہ کے بہت سے معنی اسلاف سے منقول ہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہا تو فرماتے ہیں کہ محکمات وہ ہیں جو ناسخ ہوں جن میں حلال حرام احکام لحکم ممنوعات حدیں اور اعمال کا بیان ہو، اسی طرح آپ سے یہ بھی مروی ہے «قُلْ تَعَالَوْا أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ أَلَّا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا» [6-الأنعام:151]‏‏‏‏اور اس کے بعد کے احکامات والی اور «وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ» ‏‏‏‏ [17-الإسراء:23]‏‏‏‏ اور اس کے بعد کی تین آیتیں محکمات سے ہیں۔
سیدنا ابو فاختہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں سورتوں کے شروع میں فرائض اور احکام اور روک ٹوک اور حلال و حرام کی آیتیں ہیں، سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں انہیں اصل کتاب اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ تمام کتابوں میں ہیں، مقاتل رحمہ اللہ کہتے ہیں اس لیے کہ تمام مذہب والے انہیں مانتے ہیں، متشابہات ان آیتوں کو کہتے ہیں جو منسوخ ہیں اور جو پہلے اور بعد کی ہیں اور جن میں مثالیں دی گئیں ہیں اور قسمیں کھائی گئی ہیں اور جن پر صرف ایمان لایا جاتا ہے اور عمل کیلئے وہ احکام نہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بھی یہی فرمان ہے مقاتل رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد سورتوں کے شروع کے حروف مقطعات ہیں۔ مجاہد رحمہ اللہ کا قول یہ ہے کہ ایک دوسرے کی تصدیق کرنے والی ہیں۔
جیسے اور جگہ ہے «كِتَابًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِيَ» [39-الزمر:23]‏‏‏‏ اور مثانی وہ ہے جہاں دو مقابل کی چیزوں کا ذِکر ہو جیسے جنت دوزخ کی صفت، نیکوں اور بدوں کا حال وغیرہ وغیرہ۔ اس آیت میں متشابہ محکم کے مقابلہ میں اس لیے ٹھیک مطلب وہی ہے جو ہم نے پہلے بیان کیا اور محمد بن اسحاق بن یسار رحمہ اللہ کا یہی فرمان ہے، فرماتے ہیں یہ رب کی حجت ہے ان میں بندوں کا بچاؤ ہے، جھگڑوں کا فیصلہ ہے، باطل کا خاتمہ ہے، انہیں ان کے صحیح اور اصل مطلب سے کوئی گھما نہیں سکتا نہ ان کے معنی میں ہیرپھیر کر سکتا ہے۔ متشابہات کی سچائی میں کلام نہیں ان میں تصرف و تاویل نہیں کرنی چاہیئے۔ ان سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ایمان کو آزماتا ہے جیسے حلال حرام سے آزماتا ہے، انہیں باطل کی طرف لے جانا اور حق سے پھیرنا نہیں چاہیئے۔
پھر فرماتا ہے کہ جن کے دِلوں میں کجی، ٹیڑھ پن، گمراہی اور حق سے باطل کی طرف پھرنا ہی ہے وہ تو متشابہ آیتوں کو لے کر اپنے بدترین مقاصد کو پورا کرنا چاہتے ہیں اور لفظی اختلاف سے ناجائز فائدہ اٹھا کر اپنے مذموم مقاصد کی طرف موڑ لیتے ہیں اور جو محکم آیتیں ان میں ان کا وہ مقصد پورا نہیں ہوتا۔ کیونکہ ان کے الفاظ بالکل صاف اور کھلے ہوئے ہوتے ہیں نہ وہ انہیں ہٹا سکتے ہیں نہ ان سے اپنے لیے کوئی دلیل حاصل کر سکتے ہیں۔ اسی لیے فرمان ہے کہ اس سے ان کا مقصد فتنہ کی تلاش ہوتی ہے تاکہ اپنے ماننے والوں کو بہکائیں، اپنی بدعتوں کی مدافعت کریں جیسا کہ عیسائیوں نے قرآن کے الفاظ روح اللہ اور کلمۃ اللہ سے عیسیٰ علیہ السلام کے اللہ کا لڑکا ہونے کی دلیل لی ہے۔ پس اس متشابہ آیت کو لے کر صاف آیت جس میں یہ لفظ ہیں کہ «إِنْ هُوَ إِلَّا عَبْدٌ أَنْعَمْنَا عَلَيْهِ وَجَعَلْنَاهُ مَثَلًا لِّبَنِي إِسْرَائِيلَ» [43-الزخرف:59]‏‏‏‏، یعنی عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے غلام ہیں، جن پر اللہ کا انعام ہے، اور جگہ ہے «إِنَّ مَثَلَ عِيسَىٰ عِندَ اللَّـهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِن تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُن فَيَكُونُ،» ‏‏‏‏ [3-آل عمران:59]‏‏‏‏ یعنی عیسیٰ کی مثال اللہ تعالیٰ کے نزدیک آدم کی طرح ہے کہ انہیں اللہ نے مٹی سے پیدا کیا پھر اسے کہا کہ ہو جا، وہ ہو گیا، چنانچہ اسی طرح کی اور بھی بہت سی صریح آیتیں ہیں ان سب کو چھوڑ دیا اور متشابہ آیتوں سے عیسیٰ علیہ السلام کے اللہ کا بیٹا ہونے پر دلیل لے لی حالانکہ آپ اللہ کی مخلوق ہیں، اللہ کے بندے ہیں، اس کے رسول ہیں۔
پھر فرماتا ہے کہ ان کی دوسری غرض آیت کی تحریف ہوتی ہے تاکہ اسے اپنی جگہ سے ہٹا کر مفہوم بدل لیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھ کر فرمایا کہ جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو متشابہ آیتوں میں جھگڑتے ہیں تو انہیں چھوڑ دو، ایسے ہی لوگ اس آیت میں مراد لیے گئے ہیں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4547]‏‏‏‏ یہ حدیث مختلف طرق سے بہت سی کتابوں میں مروی ہے، صحیح بخاری شریف میں بھی یہ حدیث اس آیت کی تفسیر میں مروی ہے، ملاحظہ ہو کتاب القدر، ایک اور حدیث میں ہے یہ لوگ خوارج ہیں ۱؎ [مسند احمد:5/262:حسن]‏‏‏‏ پس اس حدیث کو زیادہ سے زیادہ موقوف سمجھ لیا جائے تاہم اس کا مضمون صحیح ہے اس لیے کہ پہلے بدعت خوارج نے ہی پھیلائی ہے، فرقہ محض دنیاوی رنج کی وجہ سے مسلمانوں سے الگ ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت حنین کی غنیمت کا مال تقسیم کیا اس وقت ان لوگوں نے اسے خلاف عدل سمجھا اور ان میں سے ایک نے جسے ذوالخویصرہ کہا جاتا ہے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کر صاف کہا کہ عدل کیجئے، آپ نے اس تقسیم میں انصاف نہیں کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اللہ نے امین بنا کر بھیجا تھا، اگر میں بھی عدل نہیں کروں تو پھر برباد ہو اور نقصان اٹھائے، جب وہ پلٹا تو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے درخواست کی کہ مجھے اجازت دی جائے کہ میں اسے مار ڈالوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چھوڑ دو، اس کی جنس سے ایک ایسی قوم پیدا ہو گی کہ تم لوگ اپنی نمازوں کو ان کی نمازوں کے مقابلہ اور اپنی قرآن خوانی کو ان کی قرآن خوانی کے مقابلہ میں حقیر سمجھو گے لیکن دراصل وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے، تم جہاں انہیں پاؤ گے قتل کرو گے، انہیں قتل کرنے والے کو بڑا ثواب ملے گا،۱؎ [صحیح مسلم:1064-1066]‏‏‏‏ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کے زمانہ میں ان کا ظہور ہوا اور آپ نے انہیں نہروان میں قتل کیا پھر ان میں پھوٹ پڑی تو ان کے مختلف الخیال فرقے پیدا ہو گئے، نئی نئی بدعتیں دین میں جاری ہو گئیں اور اللہ کی راہ سے بہت دور چلے گئے۔
ان کے بعد قدریہ فرقے کا ظہور ہوا، پھر معتزلہ پھر جہمیہ وغیرہ پیدا ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشنگوئی پوری ہوئی کہ میری امت میں عنقریب تہتر فرقے ہوں گے سب جہنمی ہوں گے سوائے ایک جماعت کے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا: وہ کون لوگ ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جو اس چیز پر ہوں جس پر میں ہوں اور میرے اصحاب رضی اللہ عنہم ۱؎ [مستدرک حاکم:1/129: ضعیف]‏‏‏‏ ایویعلیٰ کی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت میں سے ایک قوم پیدا ہو گی جو قرآن تو پڑھے گی لیکن اسے اس طرح پھینکے گی جیسے کوئی کھجور کی گٹھلیاں پھینکتا ہو، اس کے غلط مطالب بیان کرے گی، ۱؎ [الدرالمنشور:2/9:ضعیف]‏‏‏‏ پھر فرمایا اس کی حقیقی تاویل اور واقعی مطلب اللہ ہی جانتا ہے، لفظ اللہ پر وقف ہے یا نہیں؟ اس میں اختلاف ہے۔
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما تو فرماتے ہیں تفسیر چار قسم کی ہے، ایک وہ جس کے سمجھنے میں کسی کو مشکل نہیں، ایک وہ جسے عرب اپنے لغت سے سمجھتے ہیں، ایک وہ جسے جید علماء اور پورے علم والے ہی جانتے ہیں اور ایک وہ جسے بجزذاتِ الٰہی کے اور کوئی نہیں جانتا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:1/57]‏‏‏‏ یہ روایت پہلے بھی گزر چکی ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بھی یہی قول ہے، معجم کبیر میں حدیث ہے کہ مجھے اپنی امت پر صرف تین باتوں کا ڈر ہے۔ مال کی کثرت کا جس سے حسد و بغض پیدا ہو گا اور آپس کی لڑائی شروع ہو گی، دوسرا یہ کہ کتاب اللہ کی تاویل کا سلسلہ شروع ہو گا حالانکہ اصلی مطلب ان کا اللہ ہی جانتا ہے اور اہل علم والے کہیں گے کہ ہمارا اس پر ایمان ہے۔ تیسرے یہ کہ علم حاصل کرنے کے بعد اسے بےپرواہی سے ضائع کر دیں گے، ۱؎ [طبرانی کبیر:3442،قال امام ہیثمی:ضعیف]‏‏‏‏ یہ حدیث بالکل غریب ہے۔
اور حدیث میں ہے کہ قرآن اس لیے نہیں اترا کہ ایک آیت دوسری آیت کی مخالف ہو، جس کا تمہیں علم ہو اور اس پر عمل کرو اور جو متشابہ ہوں ان پر ایمان لاؤ [ابن مردویہ]‏‏‏‏ ۱؎[مجمع الزوائد:1/171،قال الشيخ زبیرعلی زئی:حسن]‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سیدنا عمر بن عبدالعزیز اور سیدنا مالک بن انس سے بھی یہی مروی ہے کہ بڑے سے بڑے عالم بھی اس کی حقیقت سے آگاہ نہیں ہوتے، ہاں اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ پختہ علم والے یہی کہتے ہیں اس کی تاویل کا علم اللہ ہی کو ہے کہ اس پر ہمارا ایمان ہے۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بھی یہی فرماتے ہیں، امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی سے اتفاق کرتے ہیں، یہ تو تھی وہ جماعت جو «الا اللہ» پر وقف کرتی تھی اور بعد کے جملہ کو اس سے الگ کرتی تھی، کچھ لوگ یہاں نہیں ٹھہرتے اور «فی العلم» پر وقف کرتے ہیں، اکثر مفسرین اور اہل اصول بھی یہی کہتے ہیں، ان کی بڑی دلیل یہ ہے کہ جو سمجھ میں نہ آئے ایسی بات کہنی ٹھیک نہیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے میں ان راسخ علماء میں ہوں جو تاویل جانتے ہیں، ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:2/203]‏‏‏‏ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں راسخ علم والے تفسیر جانتے ہیں، محمد بن جعفر بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اصل تفسیر اور مراد اللہ ہی جانتا ہے اور مضبوط علم والے کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے پھر متشابہات آیتوں کی تفسیر محکمات کی روشنی کرتے ہیں جن میں کسی کو بات کرنے کی گنجائش نہیں رہتی، قرآن کے مضامین ٹھیک ٹھاک سمجھ میں آتے ہیں دلیل واضح ہوتی ہے، عذر ظاہر ہو جاتا ہے، باطل چھٹ جاتا ہے اور کفر دفع ہو جاتا ہے۔
حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کیلئے دعا کی کہ اے اللہ! انہیں دین کی سمجھ دے اور تفسیر کا علم دے}۔ ۱؎ [مسند احمد:1/266-314:صحیح]‏‏‏‏
بعض علماء نے تفصیل سے بات کرتے ہوئے کہا ہے، قرآن کریم میں تاویل دو معنی میں آئی ہے، ایک معنی جن سے مفہوم کی اصلی حقیقت اور اصلیت کی نشاندہی ہوتی ہے، جیسے قرآن میں ہے «‏‏‏‏يٰٓاَبَتِ هٰذَا تَاْوِيْلُ رُءْيَايَ مِنْ قَبْلُ ۡ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّيْ حَقًّا» [12۔یوسف:100]‏‏‏‏ میرے باپ میرے خواب کی یہی تعبیر ہے۔
اور جگہ ہے «هَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّا تَاْوِيْلَهٗ يَوْمَ يَاْتِيْ تَاْوِيْلُهٗ يَقُوْلُ الَّذِيْنَ نَسُوْهُ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَاءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ» [7۔الاعراف:53]‏‏‏‏ کافروں کے انتظار کی حد حقیقت کے ظاہر ہونے تک ہے اور یہ دن وہ ہو گا جب حقیقت سچائی کی گواہ بن کر نمودار ہو گی، پس ان دونوں جگہ پر تاویل سے مراد حقیقت ہے، اگر اس آیت مبارکہ میں تاویل سے مراد یہی تاویل لی جائے تو «إِلَّا اللَّـهُ» پر وقف ضروری ہے اس لیے کہ تمام کاموں کی حقیقت اور اصلیت بجز ذات پاک کے اور کوئی نہیں جانتا تو «‏‏‏‏وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ» مبتدا ہو گا اور «يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ» خبر ہو گی اور یہ جملہ بالکل الگ ہو گا اور تاویل کے دوسرے معنی تفسیر اور بیان اور ہے اور ایک شئے کی تعبیر دوسری شئے سے ہوتی ہے۔
جیسے قرآن میں ہے «نَبِّئْنَا بِتَاْوِيْـلِهٖ» [12۔یوسف:36]‏‏‏‏ ہمیں اس کی تاویل بتاؤ یعنی تفسیر اور بیان، اگر آیت مذکورہ میں تاویل سے یہ مراد لی جائے تو «فِي الْعِلْمِ» پر وقف کرنا چاہیئے، اس لیے کہ پختہ علم والے علماء جانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کیونکہ خطاب انہی سے ہے، گو حقائق کا علم انہیں بھی نہیں، تو اس بنا پر «‏‏‏‏آمَنَّا بِهِ» حال ہو گا اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بغیر معطوف علیہ کے معطوف ہو۔
جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏لِلْفُقَرَاءِ الْمُهٰجِرِيْنَ الَّذِيْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ» [59۔الحشر:8]‏‏‏‏، سے «‏‏‏‏يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِيْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِيْمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِيْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَآ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِيْمٌ» [59۔ الحشر:10]‏‏‏‏ تک دوسری جگہ ہے «‏‏‏‏وَّجَاءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا» [89۔الفجر:22]‏‏‏‏ یعنی «وجاء الملائکۃ صفوفاً صفوفاً» اور ان کی طرف سے یہ خبر کہ ہم اس پر ایمان لائے اس کے یہ معنی ہوں گے کہ متشابہ پر ایمان لائے۔
پھر اقرار کرتے ہیں کہ یہ سب یعنی محکم اور متشابہ حق اور سچ ہے اور یعنی ہر ایک دوسرے کی تصدیق کرتا ہے اور گواہی دیتا ہے کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اس میں کوئی اختلاف اور تضاد نہیں۔
جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِيْهِ اخْتِلَافًا كَثِيْرًا» [4۔النسآء:82]‏‏‏‏ یعنی کیا یہ لوگ قرآن میں غوروفکر نہیں کرتے، اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت سا اختلاف ہوتا، اسی لیے یہاں بھی فرمایا کہ اسے صرف عقلمند ہی سمجھتے ہیں جو اس پر غور و تدبر کریں، جو صحیح سالم عقل والے ہوں جن کے دماغ درست ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوتا ہے کہ پختہ علم والے کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کی قسم سچی ہو، جس کی زبان راست گو ہو، جس کا دِل سلامت ہو، جس کا پیٹ حرام سے بچا ہو اور جس کی شرمگاہ زناکاری سے محفوظ ہو، وہ مضبوط علم والے ہیں ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:6635:ضعیف جداً]‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے کہ آپ نے چند لوگوں کو دیکھا کہ وہ قرآن شریف کے بارے میں لڑ جھگڑ رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سنو تم سے پہلے لوگ بھی اسی سے ہلاک ہوئے کہ انہوں نے کتاب اللہ کی آیتوں کو ایک دوسرے کیخلاف بتا کر اختلاف کیا حالانکہ کتاب اللہ کی ہر آیت ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہے، تم ان میں اختلاف پیدا کر کے ایک کو دوسری کے متضاد نہ کہو، جو جانو وہی کہو اور جو نہیں جانو اسے جاننے والوں کو سونپ دو [مسند احمد]‏‏‏‏ ۱؎[مسند احمد:2/185:حسن صحیح]‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے کہ قرآن سات حرفوں پر اترا، قرآن میں جھگڑنا کفر ہے، قرآن میں اختلاف اور تضاد پیدا کرنا کفر ہے، جو جانو اس پر عمل کرو، جو نہ جانو اسے جاننے والے کی طرف سونپو۔ جل جلالہ۔ [ایویعلیٰ]‏‏‏‏ ۱؎[مسند احمد:2/300: صحیح]‏‏‏‏
راسخ فی العلم کون؟ ٭٭
نافع بن یزید رحمہ اللہ کہتے ہیں راسخ فی العلم وہ لوگ ہیں جو متواضح ہوں جو عاجزی کرنے والے ہوں، رب کی رضا کے طالب ہوں، اپنے سے بڑوں سے مرعوب نہ ہوں، اپنے سے چھوٹے کو حقیر سمجھنے والے نہ ہوں۔ پھر فرمایا کہ یہ سب دعا کرتے ہیں کہ ہمارے دِلوں کو ہدایت پر جمانے کے بعد انہیں ان لوگوں کے دِلوں کی طرح نہ کر جو متشابہ کے پیچھے پڑ کر برباد ہو جاتے ہیں بلکہ ہمیں اپنی صراطِ مستقیم پر قائم رکھ اور اپنے مضبوط دین پر دائم رکھ، ہم پر اپنی رحمت نازل فرما، ہمارے دِلوں کو قرار دے، ہم سے گندگی کو دور کر، ہمارے ایمان و یقین کو بڑھا تو بہت بڑا دینے والا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا مانگا کرتے تھے [حدیث]‏‏‏‏ «‏‏‏‏يَا مُقَلِّبَ القُلُوبِ ثَبِّت قَلْبِي عَلَى دِينِكَ» اے دِلوں کے پھیرنے والے میرے دِل کو اپنے دین پر جما ہوا رکھ، پھر یہ دعا «رَبَّنَا لاَ تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ» پڑھتے ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:6647:صحیح]‏‏‏‏ اور حدیث میں ہے کہ آپ بکثرت یہ دعا پڑتھے تھے «‏‏‏‏اَللّٰھُمَّ مُقَلِّبَ القُلُوبِ ثَبِّت قَلْبِي عَلَى دِينِكَ» اسماء نے ایک دن پوچھا کیا دِل الٹ پلٹ ہو جاتا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں ہر انسان کا دِل اللہ تعالیٰ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہے، اگر چاہے قائم رکھے اگر چاہے پھیر دے،۱؎[مسند احمد:6/302:صحیح]‏‏‏‏ ہماری دعا ہے ہمارا رب دِلوں کو ہدایت کے بعد ٹیڑھا نہ کر دے اور ہمیں اپنے پاس سے رحمتیں عنایت فرمائے، وہ بہت زیادہ دینے والا ہے۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کوئی ایسی دعا سکھائیے کہ میں اپنے لیے مانگا کروں، آپ نے فرمایا یہ دعا مانگ [حدیث]‏‏‏‏ «‏‏‏‏اللَّهُمَّ ربَّ محمد النبی اغْفِرْ لِي ذَنْبِي، وَأَذْهِبْ غَيْظَ قَلْبِي، وَ اَجِرْنَیْ مِنْ مُضِلاتِ الْفِتَنِ» ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:6649:ضعیف]‏‏‏‏ اے اللہ اے محمد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رب میرے گناہ معاف فرما، میرے دِل کا غصہ اور رنج اور سختی دور کر اور مجھے گمراہ کرنے والے فتنوں سے بچا لے، عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بھی آپ کی دعا «يَا مُقَلِّبَ القُلُوبِ ثَبِّت قَلْبِي عَلَى دِينِكَ» سن کر اسماء رضی اللہ عنہا کی طرح میں نے بھی یہی سوال کیا اور آپ نے وہی جواب دیا اور پھر قرآن کی یہ دعا سنائی،۱؎ [طبرانی اوسط:1553: قال الشيخ زبیرعلی زئی:ضعیف]‏‏‏‏ یہ حدیث غریب ہے لیکن قرآنی آیت کی تلاوت کے بغیر یہی بخاری مسلم میں بھی مروی ہے۔۱؎[صحیح مسلم:2654]‏‏‏‏
اور نسائی میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو جاگتے تو یہ دعا پڑھتے [حدیث]‏‏‏‏ «‏‏‏‏لا اِلـهَ إلاّ اَنْتَ سُبْحانَكَ أَسْتَغْفِرُكَ لِذَنبِی و أَسْأَلُكَ رَحمَۃً اللَّهُمَّ زِدْنِي عِلْمًا وَلاَ تُزِغْ قَلبِی بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ» ۱؎ [سنن ابوداود:5061،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏اے اللہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں تجھ سے اپنے گناہوں کی بخشش مانگتا ہوں اور تجھ سے تیری رحمت کا سوال کرتا ہوں، اللہ میرے علم میں زیادتی فرما اور میرے دِل کو تو نے ہدایت دے دی ہے اسے گمراہ نہ کرنا اور مجھے اپنے پاس کی رحمت بخش تو بہت زیادہ دینے والا۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مغرب کی نماز پڑھائی، پہلی دو رکعتوں میں الحمد شریف کے بعد مفصل کی چھوٹی سی دو سورتیں پڑھیں اور تیسری رکعت میں سورۃ الحمد شریف کے بعد یہی آیت پڑھی۔ ابوعبداللہ ضابحی رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں اس وقت ان کے قریب چلا گیا تھا، یہاں تک کہ میرے کپڑے ان کے کپڑوں سے مل گئے تھے اور میں نے خود اپنے کان سے ابوبکر صدیق کو یہ پڑھتے ہوئے سنا [عبدالرزاق]‏‏‏‏عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے جب تک یہ حدیث نہیں سنی تھی آپ اس رکعت میں «‏‏‏‏قل ھو اللہ» ‏‏‏‏ پڑھا کرتے تھے لیکن یہ حدیث سننے کے بعد امیر المؤمنین نے بھی اسی کو پڑھنا شروع کیا اور کبھی ترک نہیں کیا۔ پھر فرمایا وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اے اللہ تو قیامت کے دن اپنی تمام مخلوق کو جمع کرنے والا ہے اور ان میں فیصلے اور حکم کرنے والا ہے، ان کے اختلافات کو سمیٹنے والا ہے اور ہر ایک کو بھلے برے عمل کا بدلہ دینے والا ہے اس دن کے آنے میں اور تیرے وعدوں کے سچے ہونے میں کوئی شک نہیں۔