اہل کتاب کی ایک جماعت نے چاہا کاش! وہ تمھیں گمراہ کر دیں۔ حالانکہ وہ اپنے سوا کسی کو گمراہ نہیں کر رہے اور وہ شعور نہیں رکھتے۔
En
(اے اہل اسلام) بعضے اہلِ کتاب اس بات کی خواہش رکھتے ہیں کہ تم کو گمراہ کر دیں مگر یہ (تم کو کیا گمراہ کریں گے) اپنے آپ کو ہی گمراہ کر رہے ہیں اور نہیں جانتے
(آیت 69) {وَدَّتْطَّآىِٕفَةٌ …:} اس گروہ کی سازشوں کا ذکر اسی سورت (۷۲، ۷۳) میں آ رہا ہے۔ فرمایا یہ لوگ مسلمانوں کو یہودی بنانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں، مسلمان ان کے بہکاوے میں کیا آئیں گے، وہ تو ایمان میں پختہ ہیں، یہ خود ہی مارے جائیں گے، مگر انھیں اس کا شعور ہی نہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
69۔ 1 یہ یہودیوں کے اس حسد و بغض کی وضاحت ہے جو اہل ایمان سے رکھتے تھے اور اسی عناد کی وجہ سے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی خواہش رکھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس طرح یہ خود ہی بےشعوری میں اپنے آپ کو گمراہ کر رہے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
69۔ اہل کتاب میں سے کچھ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ وہ آپ لوگوں کو گمراہ [62] کر دیں حالانکہ وہ اپنے آپ ہی کو گمراہ کر رہے ہیں اور انہیں اس بات کی سمجھ بھی نہیں آرہی
[62] یہود کی معاندانہ سرگرمیاں:۔
ان آیات میں یہود کے مسلمانوں سے حسد و عناد اور اسی سلسلہ میں ان کے چند کرتوتوں کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ پہلی کوشش ان کی یہ تھی کہ جیسے بھی ممکن ہو اگر کچھ مسلمانوں کو یہودی بنا لیا جائے تو وہ اپنے مقصد میں بہت حد تک کامیاب ہو سکتے ہیں۔ اس سلسلہ میں انہوں نے چند مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش بھی کی۔ مگر الٹا بدنام ہوئے اور رسوائی بھی ہوئی۔ بھلا آپ کے پیرو کار اور جانثاران یہودیوں کے دام میں کیسے پھنس سکتے تھے؟ دوسری کوشش ان کی یہ تھی کہ تورات کی جن آیات میں نبی آخر الزماں کی بشارت دی گئی ہیں۔ انہیں عوام میں شائع و ذائع ہونے سے روکا جائے اور اس سلسلہ میں مکرو فریب اور کتمان حق کسی بات سے بھی دریغ نہ کیا جائے۔ ان کوششوں سے وہ کامیاب نہ ہوئے بلکہ الٹا ان جرائم سے اپنے آپ کو مزید گمراہی میں مبتلا کر لیا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
یہودیوں کا حسد ٭٭
یہاں بیان ہو رہا ہے کہ ان یہودیوں کے حسد کو دیکھو کہ مسلمانوں کیسے جل بھن رہے ہیں۔ انہیں بہکانے کی کیا کیا پوشیدہ ترکیبیں کر رہے ہیں کیسے کیسے مکر و فریب کے جال بچھاتے ہیں، حالانکہ دراصل ان تمام چیزوں کا وبال خود ان کی جانوں پر ہے لیکن انہیں اس کا بھی شعور نہیں۔ پھر انہیں ان کی یہ ذلیل حرکت یاد دلائی جا رہی ہے کہ تم سچائی جانتے ہوئے بھی حق کو پہچانتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی آیات سے یہ منکر ہو رہے ہو۔ علم کے باوجود یہ بدخصلت بھی ان میں ہے۔ کہ حق و باطل کو ملا دیتے ہیں، اور ان کی کتابوں میں جو صفتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہیں ان کو چھپا لیتے ہیں۔ بہکانے کی جو صورتیں بناتے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آپس میں مشورے کرتے ہیں کہ صبح جا کر ایمان لے آؤ مسلمانوں کے ساتھ نمازیں پڑھو اور شام کو پھر مرتد بن جاؤ تاکہ جاہل لوگوں کے دل میں بھی خیال گزرے کہ آخر یہ لوگ جو پلٹ گئے تو ظاہر ہے کہ انہوں نے اس دین میں کوئی خرابی یا برائی ہی دیکھی ہو گی تو کیا عجب کہ ان میں سے کوئی ہماری طرف ٹوٹ آئے، غرض یہ ایک حیلہ جوئی تھی کہ شاید اس سے کوئی کمزور ایمان والا لوٹ جائے اور کچھ سمجھ لے کہ یہ جاننے بوجھنے والے لوگ جب اس دین میں آئے نمازیں پڑھیں اس کے بعد اسے چھوڑ دیا تو ضرور یہاں کوئی خرابی اور نقصان دیکھا ہو گا۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ بھروسہ اپنے والوں پر کرو مسلمانوں پر نہ کرو نہ اپنے بھید ان پر ظاہر ہونے دو نہ اپنی کتابیں انہیں بتاؤ جس سے یہ ان پر ایمان لائیں اور اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی ان کے لیے ہم پر حجت بن جائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔