ترجمہ و تفسیر — سورۃ آل عمران (3) — آیت 63

فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌۢ بِالۡمُفۡسِدِیۡنَ ﴿٪۶۳﴾
پھر اگر وہ پھر جائیں تو بے شک اللہ فساد کرنے والوں کو خوب جاننے والا ہے۔ En
تو اگر یہ لوگ پھر جائیں تو خدا مفسدوں کو خوب جانتا ہے
En
پھر بھی اگر قبول نہ کریں تو اللہ تعالیٰ بھی صحیح طور پر فسادیوں کو جاننے واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 62 میں تا آیت 64 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

63۔ پھر اگر یہ نصاریٰ مقابلہ میں نہ آئیں تو اللہ تعالیٰ ایسے مفسدوں [56۔ 1] کو خوب جانتا ہے
[56۔1] اہل نجران نے حق بات کو قبول نہ کیا اور مباہلہ کے بجائے صلح اور جزیہ کو یعنی اہل الذمہ بن کر رہنے کی ترجیح دی۔ تو ان کی حکومت انہی کے پاس رہی۔ اگر وہ مباہلہ کو قبول بھی کرتے اور اپنے اہل و عیال لے کر واپس نہ آتے یا صلح کی پیش کش کے بغیر واپس چلے آتے تو ان کا شمار مفسدوں میں ہوتا اور ان کا بھی وہی حشر ہوتا جو یہودیوں کا ہوا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔