ترجمہ و تفسیر — سورۃ آل عمران (3) — آیت 55

اِذۡ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیۡسٰۤی اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ وَ رَافِعُکَ اِلَیَّ وَ مُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ جَاعِلُ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡکَ فَوۡقَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرۡجِعُکُمۡ فَاَحۡکُمُ بَیۡنَکُمۡ فِیۡمَا کُنۡتُمۡ فِیۡہِ تَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۵۵﴾
جب اللہ نے فرمایا اے عیسیٰ! بے شک میں تجھے قبض کرنے والا ہوں اور تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اورتجھے ان لوگوں سے پاک کرنے والا ہوں جنھوں نے کفر کیا اور ان لوگوں کو جنھوں نے تیری پیروی کی، قیامت کے دن تک ان لوگوں کے اوپر کرنے والا ہوں جنھوں نے کفر کیا، پھر میری ہی طرف تمھارا لوٹ کر آنا ہے تو میں تمھارے درمیان اس چیز کے بارے میں فیصلہ کروں گا جس میں تم اختلاف کیا کرتے تھے۔ En
اس وقت خدا نے فرمایا کہ عیسیٰ! میں تمہاری دنیا میں رہنے کی مدت پوری کرکے تم کو اپنی طرف اٹھا لوں گا اور تمہیں کافروں (کی صحبت) سے پاک کر دوں گا اور جو لوگ تمہاری پیروی کریں گے ان کو کافروں پر قیامت تک فائق (وغالب) رکھوں گا پھر تم سب میرے پاس لوٹ کر آؤ گے تو جن باتوں میں تم اختلاف کرتے تھے اس دن تم میں ان کا فیصلہ کردوں گا
En
جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے عیسیٰ! میں تجھے پورا لینے واﻻ ہوں اور تجھے اپنی جانب اٹھانے واﻻ ہوں اور تجھے کافروں سے پاک کرنے واﻻ ہوں اور تیرے تابعداروں کو کافروں کے اوپر غالب کرنے واﻻ ہوں قیامت کے دن تک، پھر تم سب کا لوٹنا میری ہی طرف ہے میں ہی تمہارے آپس کے تمام تر اختلافات کا فیصلہ کروں گا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت55) ➊ {مُتَوَفِّيْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَيَّ:} { وَفَي يَفِيْ } کا معنی پورا ہونا یا پورا کرنا ہے۔ {اِسْتَوْفَي} اور { تَوَفّٰي } کا معنی پورا لے لینا ہے۔ { اِسْتَوْفَيْتُ مِنْهُ وَ تَوَفَّيْتُ} کا معنی ہے میں نے اس سے پورا حق لے لیا۔ اس بنا پر {مُتَوَفِّيْكَ} کا معنی ہے میں تمھیں پورا لینے والا ہوں اور یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو روح و بدن دونوں کے ساتھ اٹھا لیا جاتا۔ بعض نے اس کا معنی (وقت پر) فوت کرنے والا ہوں کیا ہے اور میں نے ترجمہ کیا ہے قبض کرنے والا ہوں۔ اس میں دونوں معنی آ جاتے ہیں۔ یوں تو قرآن میں { تَوَفِّيْ } کا معنی سلا دینا بھی آیا ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ هُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بِالَّيْلِ» ‏‏‏‏ [الأنعام: ۶۰]اور وہی ہے جو تمھیں رات کو قبض کر لیتا (سلا دیتا) ہے اور فرمایا: «اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَ الَّتِيْ لَمْ تَمُتْ فِيْ مَنَامِهَا» ‏‏‏‏ [الزمر: ۴۲] اللہ جانوں کو ان کی موت کے وقت قبض کرتا ہے اور ان کو بھی جو نہیں مریں ان کی نیند میں۔
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے { اَلْجَوَابُ الصَّحِيْحُ } میں لکھا ہے کہ لغتِ عرب میں{ تَوَفِّيْ} کے معنی {اِسْتِيْفَاءٌ } اور قبض کے آئے ہیں اور یہ نیند کی صورت میں بھی ہو سکتا ہے اور موت کی صورت میں بھی اور یہ { تَوَفِّي الرُّوْحِ مَعَ الْبَدَنِ جَمِيْعًا } (روح اور بدن دونوں کو لے لینے) کے معنی میں بھی آتا ہے اور اس آیت میں یہی معنی مراد ہیں۔ خلاصہ یہ کہ اس آیت میں «مُتَوَفِّيْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَيَّ» ‏‏‏‏ سے عیسیٰ علیہ السلام کا مع جسم آسمان کی طرف اٹھایا جانا مراد ہے، جیسا کہ فرمایا: «وَ رَافِعُكَ اِلَيَّ» ‏‏‏‏ اور تجھے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کے قتل اور سولی کی نفی فرمائی اور {تَوَفِّيْ} کا لفظ استعمال کیے بغیر فرمایا: «بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ» ‏‏‏‏ [النساء: ۱۵۸] بلکہ اللہ نے اسے اپنی طرف اٹھا لیا۔
➋ {وَ جَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا:} عیسیٰ علیہ السلام کے اول تابع نصاریٰ تھے، ان کے بعد مسلمان ہیں، سو یہ ہمیشہ غالب رہے۔ (موضح) حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ ان سے مراد صرف نصاریٰ بھی ہو سکتے ہیں اور مطلب یہ ہے کہ یہود جو مسیح علیہ السلام کے منکر ہیں ان پر نصاریٰ ہمیشہ غالب رہیں گے۔ (ابن کثیر)
اس سے مراد یہ بھی ہے کہ قیامت کے قریب جب مسیح علیہ السلام تشریف لائیں گے تو ان کے پیروکار مسلمان سب کفار پر غالب ہوں گے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

55۔ 1 انسان کی موت پر جو وفات کا لفظ بولا جاتا ہے تو اس لئے کہ اس کے جسمانی اختیارات مکمل طور پر سلب کر لئے جاتے ہیں اس اعتبار سے موت اس کے معنی کی مختلف صورتوں میں سے محض ایک صورت ہے۔ نیند میں بھی چونکہ انسانی اختیارات عارضی طور پر معطل کردیئے جاتے ہیں اس لئے نیند پر بھی قرآن نے وفات کے لفظ کا اطلاق کیا ہے جس سے معلوم ہوا کہ اس کے حقیقی اور اصل معنی پورا پورا لینے کے ہی ہیں۔ یعنی اے عیسیٰ تجھے میں یہودیوں کی سازش سے بچا کر پورا پورا اپنی طرف آسمانوں پر اٹھا لونگا۔ چناچہ ایسا ہی ہوا اور پھر جب دوبارہ دنیا میں نزول ہوگا تو اس وقت موت سے ہمکنار کروں گا۔ یعنی یہودیوں کے ہاتھوں تیرا قتل نہیں ہوگا بلکہ تجھے طبعی موت ہی آئے گی۔ (فتح القدیر) 55۔ 2 اس سے مراد ان الزامات سے پاکیزگی ہے جن سے یہودی آپ کو متہم کرتے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے آپ کی صفائی دنیا میں پیش کردی جائے گی۔ 55۔ 3 اس سے مراد یا تو نصاریٰ کا دنیاوی غلبہ ہے جو یہودیوں پر قیامت تک رہے گا گو وہ اپنے غلط عقائد کی وجہ سے نجات اخروی سے محروم ہی رہیں گے یا امت محمدیہ کے افراد کا غلبہ ہے جو درحقیقت حضرت عیسیٰ ؑ اور دیگر تمام انبیاء کی تصدیق کرتے اور ان کے صحیح دین کی پیروی کرتے ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

55۔ (اور وہ اللہ کی تدبیر ہی تھی) جب اس نے عیسیٰ سے فرمایا: ”عیسیٰ اب میں تجھے واپس لے لوں گا اور تجھے اپنی طرف اٹھا لوں گا اور ان کافروں سے تجھے پاک کر دوں گا اور جو لوگ تیری پیروی کریں گے انہیں تا قیامت ان کافروں [53] پر غالب رکھوں گا اور تم سب کو بالآخر میرے ہی پاس آنا ہے تو میں تمہارے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کر دوں گا جن میں تم [54] اختلاف کر رہے ہو
[53] یہود و نصاریٰ دونوں کے سیدنا عیسیٰ پر الزام:۔
اس جملہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰؑ سے دو باتوں کا وعدہ فرمایا اور انہیں یقین دلایا۔ پہلی بات یہ کہ اللہ تعالیٰ عیسیٰؑ کو ان کافروں کے الزامات سے پاک کرے گا اور کافروں سے مراد اہل کتاب یعنی یہود اور نصاریٰ دونوں ہیں۔ یہود کا الزام یہ تھا کہ حضرت عیسیٰ معاذ اللہ ولد الحرام ہیں، اور عیسائیوں کا الزام یہ تھا کہ آپ فی الواقعہ مصلوب ہوئے تھے اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر ان دونوں الزاموں کی مدلل اور بھرپور تردید فرما کر عیسیٰؑ کو ان الزامات سے پاک و بری قرار دیا۔ اور دوسرا وعدہ یہ تھا کہ میں (اے عیسیٰ) تیرے تابعداروں کو تجھے نہ ماننے والے یعنی یہودیوں پر غالب رکھوں گا۔ پھر حضرت عیسیٰؑ کو ماننے والوں میں مسلمان بھی شامل ہو جاتے ہیں اور یہ پیشین گوئی یوں پوری ہوئی کہ حضرت عیسیٰؑ کے قریباً چالیس سال بعد رومی قیصر طیطوس یہودیوں پر حملہ آور ہوا اور شہر یروشلم کو ڈھا کر تباہ کر دیا۔ حتیٰ کہ بیت المقدس کو بھی مسمار کر دیا۔ لاکھوں یہودیوں کو قتل کیا اور بہت سے پکڑ کر ساتھ لے گیا اور انہیں غلام بنایا۔ اس دن سے یہود کی رہی سہی عزت و شوکت بھی خاک میں مل گئی جو بعد کے ادوار میں بھی بحال نہ ہو سکی۔
[54] یہ اختلاف صرف یہود اور نصاریٰ میں ہی نہیں مسلمانوں میں بھی ہے۔ قرآن و حدیث کے ان واضح ارشادات کے باوجود مسلمانوں کا ہی ایک فرقہ معجزات کا منکر ہے۔ یہ لوگ احادیث کو درخور اعتنا سمجھتے ہی نہیں اور قرآنی آیات کی ایسی دورازکار تاویلیں کرنے لگتے ہیں کہ ان سے عقل شرمانے لگتی ہے۔ عیسیٰؑ کی پیدائش اور وفات کو بھی ان لوگوں نے تختہ مشق بنایا ہے ان حواشی میں تمام معجزات پر بحث نا ممکن ہے۔ البتہ جو حضرات یہ تفصیلات دیکھنا چاہیں وہ میری تصانیف ’عقل پرستی اور انکار معجزات‘ اور ’آئینہ پرویزیت‘ ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔ موقعہ کی مناسبت سے میں حضرت عیسیٰؑ کی پیدائش اور وفات کے متعلق کچھ عرض کروں گا۔ پیدائش کے متعلق قرآن پاک میں دو مقامات پر سورۃ آل عمران اور سورۃ مریمؑ میں تفصیلی ذکر موجود ہے۔ جن سے صاف طور پر معلوم ہو جاتا ہے کہ عیسیٰؑ کی پیدائش بن باپ معجزانہ طور پر ہوئی تھی۔ اب اگر بفرض محال منکرین معجزات کی بات تسلیم کر لیں اور سمجھیں کہ حضرت عیسیٰ کی پیدائش بھی اللہ کے عام قانون کے مطابق ہوئی اور حضرت مریمؑ کا (نعوذ باللہ) کوئی شوہر بھی تھا تو اس پر درج ذیل اعتراضات وارد ہوتے ہیں۔
مسیح کی پیدائش فطری سمجھنے والوں سے چند سوالات:۔
1۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں جہاں بھی کسی پیغمبر یا کسی دوسرے شخص کا ذکر کیا ہے تو اس کی ابنیت کا کبھی ذکر نہیں کیا۔ آخر عیسیٰؑ میں کیا اختصاص ہے کہ جہاں بھی ان کا نام آیا توابنیت کا ذکر یعنی ابن مریمؑ کا لاحقہ ضروری سمجھا گیا۔
2۔ اللہ تعالیٰ نسب کے بارے میں فرماتے ہیں
﴿ اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَايِٕهِمْ
یعنی ہر شخص کو اس کے باپ کے نام سے منسوب کیا کرو۔ اگر عیسیٰؑ کا واقعی کوئی باپ تھا تو اللہ تعالیٰ کو اپنے مقرر کردہ ضابطہ کے مطابق اس کا نام لینا چاہئے تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ہر ہر مقام پر عیسیٰؑ کی ماں ہی کا کیوں نام لے کر انہیں ماں سے منسوب کیا ہے۔؟
3۔ اس دور کے یہود نے حضرت مریمؑ پر زنا کی تہمت لگائی۔ اگر انہیں حضرت مریمؑ کا کوئی شوہر معلوم تھا تو تہمت لگانے کی کیا تک تھی۔ پھر اگر انہیں شوہر کا علم نہ ہو سکا تو آج کل کے لوگوں کو کیسے علم ہو گیا؟
4۔ اگر عیسیٰؑ کی پیدائش بھی عام لوگوں کی طرح فطری طور پر ہوئی تھی تو اللہ تعالیٰ کو متعدد مقامات پر آپ کی پیدائش کے متعلق تفصیلات دینے کی کیا ضرورت تھی؟ اللہ تعالیٰ یہود کو یہ جواب نہ دے سکتے تھے کہ عیسیٰؑ کا باپ تو فلاں ہے۔ پھر تم کیسے تہمت لگا رہے ہو اور یہ مضمون صرف ایک جملہ یا آیت میں ادا ہو سکتا تھا۔
5۔ حضرت عیسیٰؑ کی پیدائش کے متعلق سورۃ مریم کی آیت 21 میں
﴿ ايَٰةً لِّلنَّاسِ
فرمایا اور سورۃ مومنون کی آیت نمبر 50 میں حضرت مریمؑ اور حضرت عیسیٰ دونوں کو
﴿ ايَٰةً لِّلنَّاسِ
فرمایا۔ اگر حضرت عیسیٰ عام دستور کے مطابق ہی پیدا ہوئے تھے تو وہ خود اور ان کی ماں لوگوں کے لیے نشانی کیسے بن گئے؟۔
6۔ اگر حضرت عیسیٰ کی پیدائش عام دستور کے مطابق ہوئی تھی تو حضرت مریمؑ اکیلی دور دراز مقام میں کیوں چلی گئی تھیں اور بچہ کی پیدائش کے وقت اپنے مرنے کی آرزو کیوں کی تھی؟
رفع عیسیٰؑ پر دلائل:۔
اب آپ رفع عیسیٰ کے متعلق غور فرمائیے۔ منکرین کا سارا زور لفظ ﴿توفي﴾
پر ہوتا ہے جس کے لغوی معنی پورے کا پورا وصول کر لینا۔ اس لفظ کو قرآن ہی نے نیند اور موت کے موقع پر قبض روح کے لیے استعمال کیا۔ حالانکہ نیند کی حالت میں پوری روح قبض نہیں ہوتی بلکہ جسم میں بھی ہوتی ہے۔ پھر اگر اس لفظ کو روح اور بدن دونوں کو وصول کرنے کے لیے استعمال کیا جائے تو لغوی لحاظ سے یہ معنی اور بھی زیادہ درست ہے ﴿رَافِعُكَ اِلَيَّ کے الفاظ اس معنی کی تائید مزید کرتے ہیں اور دوسرے مقام پر تو اس سے بھی زیادہ واضح الفاظ میں فرمایا
﴿ وَمَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوْهُ وَلٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ [4: 157]
اس آیت میں آپ کی زندگی اور رفع پر تین دلائل دیئے گئے ہیں۔
1۔ یہ یقینی بات ہے کہ یہود عیسیٰؑ کو مار نہ سکے۔ 2۔ پھر مزید صراحت یہ فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی طرف اٹھا لیا۔ 3۔ بعد میں
﴿ وَكَان اللّٰهُ عَزِيْزًا حَكِيْمًا
کہہ کر یہ وضاحت فرما دی کہ یہ رفع روح مع الجسد تھا ورنہ یہاں لفظ ﴿عَزِيْزا لانے کی کوئی تک نہیں کیونکہ رفع روح تو ہر نیک و بد کا ہوتا ہے اور رفع درجات ہر صالح آدمی کا۔ لہٰذا لازماً روح مع الجسد کا رفع ہی ہو سکتا ہے۔
معجزات سے انکار کی وجہ:۔
واضح رہے کہ شریعت کے مسلمہ امور کو تسلیم کرنے میں دو چیزیں رکاوٹ کا سبب بنتی ہیں۔
(1) فلسفیانہ یا سائنٹیفک نظریات سے مرعوبیت اور (2) اتباع ہوائے نفس۔ منکرین معجزات خارق عادت امور کا انکار اور پھر ان کی تاویل اس لیے کرتے ہیں کہ یہ موجودہ زمانہ کے مادی معیاروں پر پوری نہیں اترتیں۔ لہٰذا سب عقل پرستوں نے حضرت عیسیٰ کے بن باپ پیدائش۔ ان کے دیگر سب معجزات اور آسمانوں پر اٹھائے جانے کی تاویل کر ڈالی۔ البتہ ان میں مرزا غلام احمد قادیانی متنبیٰ منفرد ہیں جو باقی سب معجزات کے تو قائل ہیں۔ البتہ حضرت عیسیٰؑ کے آسمانوں پر اٹھائے جانے اور پھر قیامت سے پہلے اس دنیا میں آنے کے منکر ہیں وہ اس لیے کہ اس نے خود مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا، اور اگر یہ رفع عیسیٰ کو تسلیم کر لیتے تو ان کی اپنی بات نہیں بنتی تھی۔ گویا یہ کام اس نے دوسری وجہ یعنی اتباع ہوائے نفس کے تحت سرانجام دیا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اظہار خودمختاری ٭٭
قتادہ رحمہ اللہ وغیرہ بعض مفسرین تو فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ میں تجھے اپنی طرف اٹھا لوں گا پھر اس کے بعد تجھے فوت کروں گا، ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی میں تجھے مارنے والا ہوں، وہب بن منبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اٹھاتے وقت دن کے شروع میں تین ساعت تک فوت کر دیا تھا، ابن اسحاق رحمہ اللہ کہتے ہیں نصاریٰ کا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو سات ساعت تک فوت رکھا پھر زندہ کر دیا، وہب رحمہ اللہ فرماتے ہیں تین دن تک موت کے بعد پھر زندہ کر کے اٹھا لیا، مطر وراق رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی میں تجھے دنیا میں پورا پورا دینے والا ہوں یہاں وفات موت مراد نہیں، اسی طرح ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں «تَوَّفّٰی» سے یہاں مراد ان کا رفع ہے
اور اکثر مفسرین کا قول ہے کہ وفات سے مراد یہاں نیند ہے، جیسے اور جگہ قرآن حکیم میں ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بِالَّيْلِ» [6-الأنعام:60]‏‏‏‏ وہ اللہ جو تمہیں رات کو فوت کر دیتا ہے یعنی سلا دیتا ہے اور جگہ ہے «اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِيْ لَمْ تَمُتْ فِيْ مَنَامِهَا» [39-الزمر:42]‏‏‏‏ یعنی اللہ تعالیٰ ان کی موت کے وقت جانوں کو فوت کرتا ہے اور جو نہیں مرتیں انہیں ان کی نیند کے وقت، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نیند سے بیدار ہوتے تو فرماتے [حدیث]‏‏‏‏ «الْحَمْدُ للهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا» یعنی اللہ عزوجل کا شکر ہے جس نے ہمیں مار ڈالنے کے بعد پھر زندہ کر دیا،۱؎ [صحیح بخاری:6312]‏‏‏‏
اور جگہ فرمان باری تعالٰی «وَبِكُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلَىٰ مَرْيَمَ بُهْتَانًا عَظِيمًا وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّـهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَـٰكِن شُبِّهَ لَهُمْ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ مَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا بَل رَّفَعَهُ اللَّـهُ إِلَيْهِ وَكَانَ اللَّـهُ عَزِيزًا حَكِيمًا وَإِن مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا» [4-النساء:159-156]‏‏‏‏ تک پڑھو جہاں فرمایا گیا ہے ان کے کفر کی وجہ سے اور سیدہ مریم علیہ السلام پر بہتان عظیم باندھ لینے کی بنا پر اور اس باعث کہ وہ کہتے ہیں ہم نے مسیح عیسیٰ بن مریم رسول اللہ علیہ السلام کو قتل کر دیا حالانکہ نہ قتل کیا ہے اور نہ صلیب دی لیکن ان کو شبہ میں ڈال دیا گیا «مَوْتِه» کی ضمیر کا مرجع سیدنا عیسیٰ علیہ السلام ہیں یعنی تمام اہل کتاب عیسیٰ پر ایمان لائیں گے جبکہ وہ قیامت سے پہلے زمین پر اتریں گے اس کا تفصیلی بیان عنقریب آ رہا ہے۔ ان شاء اللہ
پس اس وقت تمام اہل کتاب ان پر ایمان لائیں گے کیونکہ نہ وہ جزیہ لیں گے نہ سوائے اسلام کے اور کوئی بات قبول کریں گے، ابن ابی حاتم میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے «إِنِّي مُتَوَفِّيكَ» کی تفسیر یہ مروی ہے کہ ان پر نیند ڈالی گئی اور نیند کی حالت میں ہی اللہ تعالیٰ نے انہیں اٹھا لیا، ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:296/2]‏‏‏‏
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں سے فرمایا کہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام مرے نہیں وہ تمہاری طرف قیامت سے پہلے لوٹنے والے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:7129:مرسل ضعیف]‏‏‏‏
پھر فرماتا ہے میں تجھے اپنی طرف اٹھا کر کافروں کی گرفت سے آزاد کرنے والا ہوں، اور تیرے تابعداروں کو کافروں پر غالب رکھنے والا ہوں قیامت تک، چنانچہ ایسا ہی ہوا، جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر چڑھا لیا تو ان کے بعد ان کے ساتھیوں کے کئی فریق ہو گئے ایک فرقہ تو آپ کی بعثت پر ایمان رکھنے والا تھا کہ آپ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور اس کی ایک بندی کے لڑکے ہیں بعض وہ تھے جنہوں نے غلو سے کام لیا اور بڑھ گئے اور آپ کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا کہنے لگے، اوروں نے آپ کو اللہ کہا، دوسروں نے تین میں کا ایک آپ کو بتایا، اللہ تعالیٰ ان کے ان عقائد کا ذکر قرآن مجید میں فرماتا ہے پھر ان کی تردید بھی کر دی ہے تین سو سال تک تو یہ اسی طرح رہے۔
پھر یونان کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ جو بڑا فلیسوف تھا جس کا نام قسطنطین تھا کہا جاتا ہے کہ صرف اس دین کو بگڑانے کے لیے منافقانہ انداز سے اس دین میں داخل ہوا یا جہالت سے داخل ہوا ہو، بہر صورت اس نے دین مسیح کو بالکل بدل ڈالا اور بڑی تحریف اور تفسیر کی اس دین میں اور کمی زیادہ بھی کر ڈالی، بہت سے قانون ایجاد کئے اور امانت کبریٰ بھی اسی کی ایجاد ہے جو دراصل کمینہ پن کی خیانت ہے، اسی نے اپنے زمانہ میں سود کو حلال کیا اسی کے حکم سے عیسائی مشرق کی طرف نمازیں پڑھنے لگے اسی نے گرجاؤں اور کلیساؤں میں عبادت خانوں اور خانقاہوں میں تصویریں بنوائیں٠ اور اپنے ایک گناہ کے باعث دس روزے روزوں میں بڑھوا دئیے،
غرض اس کے زمانہ سے دین مسیح مسیحی دین نہ رہا بلکہ دین قسطنطین ہو گیا، اس نے ظاہری رونق تو خوب دی بارہ ہزار سے زائد تو عبادت گاہیں بنوا دیں اور ایک شہر اپنے نام سے بسایا، ملکیہ گروہ نے اس کی تمام باتیں مان لیں لیکن باوجود ان سب سیاہ کاریوں کے یہودی اس بات پر تلے رہے اور دراصل نسبتاً حق سے زیادہ قریب یہی تھے گو فی الواقع سارے کے سارے کفار تھے اللہ خالق کل کی ان پر پھٹکار ہو،
اب جبکہ ہمارے نبی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے اپنا برگزیدہ بنا کر دنیا میں بھیجا تو آپ پر جو لوگ ایمان لائے ان کا ایمان اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھی تھا اس کے فرشتوں پر بھی تھا اس کی کتابوں پر بھی تھا اور اس کے تمام رسولوں پر بھی تھا پس حقیقت میں نبیوں کے سچے تابع فرمان یہی لوگ تھے یعنی امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، اس لیے کہ یہ نبی امی عربی خاتم الرسول سید اولاد آدم کے ماننے والے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم برحق تعلیم کو سچا ماننے والے تھے، لہٰذا دراصل ہر نبی کے سچے تابعدار اور صحیح معنی میں امتی کہلانے کے مستحق یہی لوگ تھے کیونکہ ان لوگوں نے جو اپنے تئیں عیسیٰ کی امت کہتے تھے تو دین عیسوی کو بالکل مسخ اور فسخ کر دیا تھا
علاوہ ازیں پیغمبر آخرالزمان کا دین بھی اور تمام اگلی شریعتوں کا ناسخ تھا پھر محفوظ رہنے والا تھا جس کا ایک شوشہ بھی قیامت تک بدلنے والا نہیں اس لیے اس آیت «وَعَدَ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّن بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا» [24-النور:55]‏‏‏‏ کے وعدے کے مطابق اللہ تعالیٰ نے کافروں پر اس امت کو غالب کر دیا اور یہ مشرق سے لے کر مغرب تک چھا گئے ملکوں کو اپنے پاؤں تلے روند دیا اور بڑے بڑے جابر اور کٹر کافروں کی گردنیں مروڑ دیں دولتیں ان کے پیروں میں آ گئیں فتح و غنیمت ان کی رکابیں٠ چومنے لگی مدتوں کی پرانی سلطنتوں کے تخت انہوں نے الٹ دئیے،
کسریٰ کی عظیم الشان پر شان سلطنت اور ان کے بھڑکتے ہوئے آتش کدے ان کے ہاتھوں ویران اور سرد ہو گئے، قیصر کا تاج و تخت ان اللہ والوں نے تاخت و تاراج کیا اور انہیں مسیح پرستی کا خوب مزا چکھایا اور ان کے خزانوں کو اللہ واحد کی رضا مندی میں اور اس کے سچے نبی کے دین کی اشاعت میں دل کھول کر خرچ کئے اور اللہ کے لکھے اور نبی کے وعدے چڑھے ہوئے سورج اور چودھویں کے روشن چاند کی طرح سچے ہوئے لوگوں نے دیکھ لیے، مسیح علیہ السلام کے نام کو بدنام کرنے والے مسیح کے نام شیطانوں کو پوجنے والے ان پاکباز اللہ پرستوں کے ہاتھوں مجبور ہو کر شام کے لہلہاتے ہوئے باغات اور آباد شہروں کو ان کے حوالے کر کے بدحواس بھاگتے ہوئے روم میں جا بسے پھر وہاں سے بھی یہ بےعزت کر کے نکالے گئے اور اپنے بادشاہ کے خاص شہر قسطنطنیہ میں پہنچے لیکن پھر وہاں سے بھی ذلیل خوار کر کے نکال دئیے گئے اور ان شاءاللہ العزیز اسلام اور اہل اسلام قیامت تک ان پر غالب ہی رہیں گے۔
سب سچوں کے سردار جن کی سچائی پر مہر الٰہی لگ چکی ہے یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خبر دے چکے ہیں جو اٹل ہے نہ کاٹے کٹے نہ توڑے ٹوٹے، نہ ٹالے ٹلے، فرماتے ہیں کہ آپ کی امت کا آخری گروہ قسطنطنیہ کو فتح کرے گا اور وہاں کے تمام خزانے اپنے قبضے میں لے گا اور رومیوں سے ان کی گھمسان کی لڑائی ہو گی کہ اس کی نظیر سے دنیا خالی ہو۔
(‏‏‏‏ہماری دعا ہے کہ ہر زمانے میں اللہ قادر کل اس امت کا حامی و ناصر رہے اور روئے زمین کے کفار پر انہیں غالب رکھے اور انہیں سمجھ دے تاکہ یہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت کریں نہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی اور کی اطاعت کریں، یہی اسلام کی اصل ہے اور یہی عروج دینوی کا گر ہے) میں نے سب کو علیحدہ کتاب میں جمع کر دیا ہے، آگے اللہ تعالیٰ کے قول پر نظر ڈالیے کہ «وَمَا لَهُم مِّنَ اللَّـهِ مِن وَاقٍ» [13-الرعد:34]‏‏‏‏ مسیح علیہ السلام کے ساتھ کفر کرنے والے یہود اور آپ کی شان میں بڑھ چڑھ کر باتیں بنا کر بہکنے والے نصرانیوں کو قتل و قید کی مار اور سلطنت کے تباہ ہو جانے کی یہاں بھی سزا دی اور آخرت کا عذاب وہاں دیکھ لیں گے جہاں نہ کوئی بچا سکے نہ مدد کر سکے گا لیکن برخلاف ان کے ایمانداروں کو پورا اجر اللہ تعالیٰ عطا فرمائے گا دنیا میں بھی فتح اور نصرت عزت و حرمت عطا ہو گی اور آخرت میں بھی خاص رحمتیں اور نعمتیں ملیں گی، اللہ تعالیٰ ظالموں کو ناپسند رکھتا ہے۔
پھر فرمایا اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ تھی حقیقت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی ابتداء پیدائش کی اور ان کے امر کی جو اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ سے آپ کی طرف بذریعہ اپنی خاص وحی کے اتار دی جس میں کوئی شک و شبہ نہیں جیسے سورۃ مریم میں فرمایا «ذَٰلِكَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِي فِيهِ يَمْتَرُونَ» ‏‏‏‏ [19-مريم:34]‏‏‏‏ «‏‏‏‏مَا كَانَ لِلَّـهِ أَن يَتَّخِذَ مِن وَلَدٍ سُبْحَانَهُ إِذَا قَضَىٰ أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُ» [19-مريم:35]‏‏‏‏، عیسیٰ بن مریم یہی ہیں یہی سچی حقیقت ہے جس میں تم شک و شبہ میں پڑے ہو، اللہ تعالیٰ کو تو لائق ہی نہیں کہ اس کی اولاد ہو وہ اس سے بالکل پاک ہے وہ جو کرنا چاہے کہ دیتا ہے ہو جا، بس وہ ہو جاتا ہے، اب یہاں بھی اس کے بعد بیان ہو رہا ہے۔