ترجمہ و تفسیر — سورۃ آل عمران (3) — آیت 54

وَ مَکَرُوۡا وَ مَکَرَ اللّٰہُ ؕ وَ اللّٰہُ خَیۡرُ الۡمٰکِرِیۡنَ ﴿٪۵۴﴾
اور انھوں نے خفیہ تدبیر کی اور اللہ نے بھی خفیہ تدبیر کی اور اللہ سب خفیہ تدبیر کرنے والوں سے بہتر ہے۔ En
اور وہ (یعنی یہود قتل عیسیٰ کے بارے میں ایک) چال چلے اور خدا بھی (عیسیٰ کو بچانے کے لیے) چال چلا اور خدا خوب چال چلنے والا ہے
En
اور کافروں نے مکر کیا اور اللہ تعالیٰ نے بھی (مکر) خفیہ تدبیر کی اور اللہ تعالیٰ سب خفیہ تدبیر کرنے والوں سے بہتر ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 54) {وَ مَكَرُوْا وَ مَكَرَ اللّٰهُ…:} شیخ شنقیطی نے فرمایا: یہاں نہ یہود کی خفیہ تدبیر کا ذکر ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر کا، مگر دوسری جگہ ان کی تدبیر کا ذکر کیا ہے کہ انھوں نے آپ کو قتل کرنے کا ارادہ کر لیا تھا، جیسا کہ فرمایا: «وَ قَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيْحَ عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ» [النساء: ۱۵۷] اور ان کے یہ کہنے کی وجہ سے کہ بلاشبہ ہم نے ہی مسیح عیسیٰ ابن مریم کو قتل کیا، جو اللہ کا رسول تھا۔ اور اللہ کی خفیہ تدبیر کا ذکر فرمایا ہے: «وَ لٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ» [النساء: ۱۵۷] اور لیکن ان کے لیے (کسی کو اس مسیح کا)شبیہ بنا دیا گیا۔ وہ عیسیٰ علیہ السلام کی شبیہ کو سولی دے کر سمجھ بیٹھے کہ ہم نے مسیح کو قتل کر دیا۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ نساء (۱۵۷)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

54۔ 1 حضرت عیسیٰ ؑ کے زمانے میں شام کا علاقہ رومیوں کے زیرنگین تھا یہاں ان کا جو حکمران مقرر تھا وہ کافر تھا یہودیوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کے خلاف اس حکمران کے کان بھرے کہ یہ نعوذ باللہ بےباپ کے اور فسادی ہے وغیرہ وغیرہ حکمران نے ان کے مطالبے پر حضرت عیسیٰ ؑ کو سولی دینے کا فیصلہ کرلیا لیکن اللہ نے حضرت عیسیٰ ؑ کو بحفاظت آسمان پر اٹھا لیا اور ان کی جگہ ان کے ہمشکل ایک آدمی کو سولی دے دی (مکر) عربی زبان میں لطیف اور خفیہ تدبیر کو کہتے ہیں اور اس معنی میں یہاں اللہ تعالیٰ (خیرُ الْماکِرِیْنَ) کہا گیا گویا یہ مکر (برا) بھی ہوسکتا ہے اگر غلط مقصد کے لئے ہو اور خیر (اچھا) بھی ہوسکتا ہے اگر اچھے مقصد کے لئے ہو۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

54۔ اور اب بنی اسرائیل (حضرت عیسیٰ کے خلاف) خفیہ تدبیر [53] کرنے لگے اور جواب میں اللہ تعالیٰ نے ان کی تدبیر انہی پر لوٹا دی اور اللہ سب سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے
[53] یہود اور ان کے علماء و فقہاء سب کے سب حضرت عیسیٰؑ کے دشمن بن گئے تھے مگر آپ کے دلائل کے سامنے انہیں مجبوراً خاموش ہونا پڑتا تھا۔ پھر جب آپ نے سبت کے احکام میں تخفیف کا اعلان کیا تو یہود کو پروپیگنڈا کے لیے ایک نیا میدان ہاتھ آ گیا کہ یہ شخص ملحد ہے اور تورات میں تبدیلی کرنا چاہتا ہے۔ حضرت عیسیٰؑ نے ملک شام کو اپنی دعوت کا مرکز بنایا ہوا تھا اور یہاں یہود کی حکومت نہ تھی بلکہ رومیوں کی حکومت تھی۔ آپ اپنے حواریوں کو ساتھ لے کر شام کے مختلف شہروں میں تبلیغ فرماتے اور معجزہ دکھلاتے جس سے لا تعداد شفایاب بھی ہو جاتے تھے اور آپ پر ایمان بھی لے آتے تھے۔ ہر شہر میں سینکڑوں مرد اور عورتیں آپ پر ایمان لے آئے تو یہودیوں کے بغض اور حسد میں اور بھی اضافہ ہو گیا اور وہ آپ کی جان لینے کے درپے ہو گئے۔
سیدنا عیسیٰؑ کی گرفتاری:۔
آپ کے حواریوں میں سے ہی ایک شخص نے یہود سے بہت سی رقم بطور رشوت وصول کر کے یہ مخبری کر دی کہ اس وقت عیسیٰؑ فلاں پہاڑی پر مقیم ہیں۔ چنانچہ یہود کی ایک مسلح جماعت اس پہاڑی پر پہنچ گئی اور آپ کو گرفتار کر لیا۔ یہ صورت حال دیکھ کر آپ کے حواری سب تتر بتر ہو گئے۔ ان کے پاس صرف دو تلواریں تھیں اور حضرت عیسیٰؑ کو بھی معلوم ہو گیا تھا کہ یہ حواری ایک مسلح جماعت کا مقابلہ نہ کر سکیں گے۔ اس وقت حضرت عیسیٰؑ نے اللہ سے دعا مانگی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ لوگ تمہارا بال بھی بیکا نہ کر سکیں گے اور میں تمہیں اپنی طرف زندہ اٹھا لوں گا۔
سیدنا عیسیٰ کوسولی کی سزا دلوانے میں یہودی علماء کا کردار:۔
قیصر روم کی طرف سے جو حاکم شام پر مقرر تھا۔ اس کا نام ہیروڈیس تھا۔ یہودیوں نے جب حضرت عیسیٰؑ کو گرفتار کر لیا تو آپ کے منہ پر طمانچے مارے اور مذاق اڑاتے ہوئے شہر میں لے گئے۔ پھر آپ کو ہیرو ڈیس کے نائب حاکم پلاطوس کے پاس لے گئے اور آپ پر دو الزام لگا کر پلاطوس سے آپ کے قتل کا مطالبہ کیا۔ ایک الزام یہ تھا کہ یہ شخص قیصر روم کو محصول دینے سے منع کرتا ہے اور دوسرا یہ کہ یہ خود اپنے آپ کو مسیح بادشاہ کہتا ہے لیکن آپ نے ان دو الزاموں سے انکار کر دیا تو پلاطوس کہنے لگا کہ میرے نزدیک اس کا کوئی ایسا جرم نہیں جو مستوجب قتل ہو۔ مگر جب اس نے یہودیوں کا اپنے مطالبہ پر اصرار دیکھا تو اس نے یہ مقدمہ ہیروڈویس کے پاس بھیج دیا۔ لیکن اسے بھی حضرت عیسیٰؑ کا کوئی ایسا جرم نظر نہ آیا جو مستوجب قتل ہو۔ لہٰذا اس نے یہ مقدمہ واپس پلاطوس کے پاس بھیج دیا۔ لیکن یہود کے علماء و فقہاء سب اسی بات پر بضد تھے کہ اس شخص کو ملحد ہونے اور دوسروں کو ملحد بنانے کی بنا پر قتل کرنا ضروری ہے۔ پلاطوس نے ان لوگوں کی ہٹ دھرمی اور ضد سے مجبور ہو کر کہا کہ میں تمہارے کہنے پر اسے سولی تو دے دیتا ہوں مگر اس کا گناہ تم پر اور تمہاری اولاد پر ہو گا۔ یہود نے ضد میں آ کر اس بات کو بھی تسلیم کر لیا۔ مصلوب کون تھا؟ پھر جب آپ کو سولی پر چڑھانے کا وقت آیا تو اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ حرکت میں آئی۔ اللہ تعالیٰ کے فرشتے حضرت عیسیٰؑ کو آسمانوں کی طرف اٹھا لے گئے اور کسی دوسرے شخص کی شکل و صورت اللہ تعالیٰ نے عیسیٰؑ سے ملتی جلتی بنا دی اور سب کو یہی معلوم ہونے لگا کہ یہی شخص عیسیٰ ہے۔ قرآن کریم نے اس مقام پر
﴿ وَلٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ
کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔ رہی یہ بات کہ یہ دوسرا شخص کون تھا؟ تو اس کے متعلق ایک قول تو یہ ہے کہ یہ وہی شخص تھا جو آپ کو سولی کی سزا دلوانے میں سب سے پیش پیش تھا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰؑ کے سب سے بڑے دشمن کو اس کی کرتوت کی سزا سولی کی شکل میں دے دی۔ اور دوسرا قول یہ ہے کہ یہ شخص وہی حواری تھا جس نے بھاری رشوت لے کر آپ کی مخبری کر کے آپ کو گرفتار کروایا تھا۔ واللہ اعلم بالصواب۔ بعض لوگوں نے اس شبہ کی اور بھی کچھ صورتیں ذکر کی ہیں۔ تاہم ان سب کا ماحصل یہی ہے کہ آپ کو تو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف اٹھا لیا اور آپ کی جگہ مصلوب کوئی دوسرا مشتبہ شخص ہوا تھا۔
سیدنا عیسیٰ کے مصلوب ہونے سے متعلق عیسائیوں کا عقیدہ:۔
یہ تو تھی قرآن کی وضاحت لیکن اناجیل کا بیان اس سے مختلف ہے۔ عیسائی یہ کہتے ہیں کہ سولی آپ ہی کو دی گئی تھی اور آپ نے چیخ چیخ کر جان دی۔ پھر یوسف نامی ایک شخص نے پلاطوس سے درخواست کی کہ لاش اس کے حوالے کر دی جائے۔ چنانچہ اس نے آپ کو قبر میں دفنا دیا اور اوپر چٹان دھر دی، یہ جمعہ کی شام کا واقعہ تھا۔ پھر تین دن بعد اتوار کو حضرت عیسیٰ زندہ ہو کر لوگوں کو دکھائی دیئے۔ پھر آسمان پر چڑھ گئے اور دوبارہ آنے کا وعدہ کر گئے۔ اس وقت آپ کی عمر 33 سال کی تھی۔ اناجیل کے اسی بیان پر عیسائیوں کے مشہور و معروف عقیدہ کفارہ مسیح کی عمارت کھڑی کی گئی۔
انجیل برنباس کا تعارف:۔
اناجیل کا حضرت عیسیٰؑ کے مصلوب ہونے سے متعلق بیان کئی لحاظ سے محل نظر ہے۔ مثلاً:
(1) اناجیل اربعہ کے مؤلفین میں سے کوئی بھی موقعہ کا عینی شاہد نہیں۔ حتیٰ کہ یہ اناجیل دوسری صدی عیسوی میں مرتب ہوئیں۔ یہ مؤلفین حضرت عیسیٰؑ کے حواریوں کے شاگرد در شاگرد ہیں اور صلیب کے موقعہ پر ایک بھی حواری موجود نہ تھا۔ سب تتر بتر ہو گئے تھے۔
(2) انجیل برنباس کا مؤلف برنباس حواری ہے اور یہ انجیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے صدہا سال پیشتر عیسائیوں میں مشہور و معروف تھی۔ اس میں یہ عبارت موجود ہے ”تب فرشتوں نے باکرہ سے کہا کیونکہ یہودا عیسیٰ کی شکل میں مبدل ہو گیا“ اور یہ یہودا وہی حواری ہے۔ جس نے حضرت عیسیٰؑ کی مخبری کی تھی۔ یہ انجیل برنباس چونکہ عیسائیوں کے تمام مشہور و معروف عقائد یعنی الوہیت مسیح، عقیدہ تثلیث اور کفارہ مسیح کی تردید کرتی ہے۔ لہٰذا اہل کلیسا نے اس انجیل کو الہامی کتابوں کے زمرہ سے خارج کر دیا ہے اور اسے ضبط کر لیا گیا۔ تاہم یہ کتاب آج بھی دنیا سے ناپید نہیں ہوئی۔
(3) اسلام سے پیشتر عیسائیوں کے کئی فرقے ایسے موجود تھے جو حضرت عیسیٰؑ کے مصلوب ہونے کے منکر تھے۔ مثلاً فرقہ باسلیدی، سربنتی، کاریو کراتی، ناصری، پوئی وغیرہ۔ لہٰذا عیسائیوں کا یہ دعویٰ کہ حضرت مسیح کے مصلوب ہونے کا عقیدہ متفق علیہ ہے۔ غلط ثابت ہوتا ہے۔
نزول مسیح:۔
بہت سی صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ عیسیٰؑ قیامت کے قریب دمشق کی مسجد کے سفید منارہ پر نزول فرمائیں گے۔ ان کے ایک طرف جبرائیل ہوں گے اور دوسری طرف میکائیل، اس وقت مسلمان کئی طرح کے فتنوں میں مبتلا ہوں گے جن میں سب سے بڑا فتنہ دجال کا ہو گا۔ آپ دجال کو قتل کریں گے اور مسلمانوں کی امداد فرمائیں گے۔ آپ کوئی نئی شریعت نہیں لائیں گے، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی بن کے رہیں گے اسی زمانہ میں آپ شادی کریں گے اولاد ہو گی آپ کے دور میں اسلام کا بول بالا ہو گا، اور بعدہ آپ اپنی طبعی موت مریں گے۔ اس دوران آپ یہود کو چن چن کر ماریں گے۔ حتیٰ کہ اگر کوئی یہودی کسی پتھر کے پیچھے چھپا ہو گا تو وہ پتھر بھی بول اٹھے گا کہ یہاں ایک یہودی موجود ہے۔ یہی وہ صورت حال ہے جس کا مابعد والی آیت میں ذکر ہے۔ حضرت ابو ہریرہؓ نزول عیسیٰ کے متعلق حدیث بیان کرنے کے بعد فرمایا کرتے تھے کہ اگر تم چاہو تو (دلیل کے طور پر) یہ آیت پڑھ لو
﴿ وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ
اہل کتاب میں سے کوئی نہ رہے گا مگر عیسیٰؑ کی وفات سے پہلے ان پر ضرور ایمان لائے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔