ترجمہ و تفسیر — سورۃ آل عمران (3) — آیت 51

اُردوEn
اِنَّ اللّٰہَ رَبِّیۡ وَ رَبُّکُمۡ فَاعۡبُدُوۡہُ ؕ ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِیۡمٌ ﴿۵۱﴾
بے شک اللہ ہی میرا رب اور تمھارا رب ہے، پس اس کی عبادت کرو، یہ سیدھا راستہ ہے۔
کچھ شک نہیں کہ خدا ہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے تو اسی کی عبادت کرو یہی سیدھا رستہ ہے
یقین مانو! میرا اور تمہارا رب اللہ ہی ہے، تم سب اسی کی عبادت کرو، یہی سیدھی راه ہے

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 51){اِنَّ اللّٰهَ رَبِّيْ …: } عیسیٰ علیہ السلام نے معجزات پیش کرنے کے ساتھ ضروری سمجھا کہ اصل دین کی تاکید فرما دیں کہ میرا اور تمھارا داتا (رب) اللہ ہے، سو اسی کی عبادت کرو۔ مگر افسوس کہ نصرانیوں نے مسیح علیہ السلام کو اللہ یا اللہ کا بیٹا قرار دے کر رب اور نفع و نقصان کا مالک سمجھ لیا اور ان سے فریادیں کرنے لگے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

51۔ 1 یعنی اللہ کی عبادت کرنے میں اور اس کے سامنے ذلت و عاجزی کے اظہار میں میں اور تم دونوں برابر ہیں۔ اس لئے سیدھا راستہ صرف یہ ہے کہ ایک اللہ کی عبادت کی جائے اور اس کی واحدانیت میں کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

51۔ لہذا اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو اللہ ہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے، لہٰذا [50] اسی کی عبادت کرو۔ یہی سیدھا رستہ ہے۔“
[50] ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کی دعوت بھی بعینہ وہی کچھ تھی جو دوسرے تمام انبیاء کی رہی ہے۔ مثلاً:
1۔ پروردگار یعنی مقتدر اعلیٰ صرف اللہ کی ذات ہے۔ لہٰذا وہی اکیلا عبادت کے لائق ہے۔ اس لحاظ سے عیسائیوں کا عقیدہ الوہیت مسیح غلط قرار پاتا ہے۔
2۔ اللہ تعالیٰ کے نمائندہ کی حیثیت سے نبی کی اطاعت کی جائے اور ہر نبی کی دعوت یہی رہی ہے۔
3۔ حلت و حرمت اور جواز و عدم جواز کے اختیارات کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ لہٰذا جو باتیں تم نے خود اپنے اوپر حرام قرار دے رکھی ہیں۔ میں اللہ کے حکم سے انہیں حلال قرار دے کر تمہیں ایسی نا جائز پابندیوں سے آزاد کرتا ہوں۔ نیز آپ نے اللہ کے حکم سے یہود پر ہفتہ کے دن کی پابندیوں میں بہت حد تک تخفیف کر دی۔ مگر یہود کی اصلاح نہ ہو سکی اور وہ حضرت عیسیٰؑ کی دشمنی میں آگے بڑھتے ہی چلے گئے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

باب
پھر مسیح علیہ السلام کا اور معجزہ بیان ہو رہا ہے کہ آپ نے فرمایا بھی اور کر کے بھی دکھایا بھی، کہ جو کوئی تم میں سے آج اپنے گھر سے جو کچھ کھا کر آیا ہو میں اسے بھی اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی اطلاع سے بتا دوں گا یہی نہیں بلکہ کل کے لیے بھی اس نے جو تیاری کی ہو گی مجھے اللہ تعالیٰ کے معلوم کرانے پر معلوم ہو جاتا ہے، یہ سب میری سچائی کی دلیل ہے کہ میں جو تعلیم تمہیں دے رہا ہوں وہ برحق ہے ہاں اگر تم میں ایمان ہی نہیں تو پھر کیا؟ میں اپنے سے پہلی کتاب توراۃ کو بھی ماننے والا اس کی سچائی کا دنیا میں اعلان کرنے والا ہوں، میں تم پر بعض وہ چیزیں حلال کرنے آیا ہوں جو مجھ سے پہلے تم پر حرام کی گئی ہیں، اس سے ثابت ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام نے توراۃ کے بعض احکام منسوخ کئے ہیں، گو اس کے خلاف بھی مفسرین کا خیال ہے، لیکن درست بات یہی ہے۔
بعض حضرات فرماتے ہیں کہ تورات کا کوئی حکم آپ نے منسوخ نہیں کیا البتہ بعض حلال چیزوں میں جو اختلاف تھا اور بڑھتے بڑھتے گویا ان کی حرمت پر اجماع ہو چکا تھا۔ عیسیٰ علیہ السلام نے ان کی حقیقت بیان فرما دی اور ان کے حلال ہونے پر مہر کر دی، جیسے قرآن حکیم نے اور جگہ فرمایا: «وَلأُبَيِّنَ لَكُم بَعْضَ الَّذِى تَخْتَلِفُونَ فِيهِ» [43-الزخرف: 63]‏‏‏‏ میں تمہارے بعض آپس کے اختلاف میں صاف فیصلہ کر دونگا۔ پھر فرمایا کہ میرے پاس اپنی سچائی کی اللہ جل شانہ کی دلیلیں موجود ہیں تم اللہ سے ڈرو اور میرا کہا مانو، جس کا خلاصہ صرف اسی قدر ہے کہ اسے پوجو جو میرا اور تمہارا پالنہار ہے سیدھی اور سچی راہ تو صرف یہی ہے۔