اُردوEn
اِذۡ قَالَتِ الۡمَلٰٓئِکَۃُ یٰمَرۡیَمُ اِنَّ اللّٰہَ یُبَشِّرُکِ بِکَلِمَۃٍ مِّنۡہُ ٭ۖ اسۡمُہُ الۡمَسِیۡحُ عِیۡسَی ابۡنُ مَرۡیَمَ وَجِیۡہًا فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ وَ مِنَ الۡمُقَرَّبِیۡنَ ﴿ۙ۴۵﴾
جب فرشتوں نے کہا اے مریم! بے شک اللہ تجھے اپنی طرف سے ایک کلمے کی بشارت دیتا ہے، جس کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہے، دنیا اور آخرت میں بہت مرتبے والا اور مقرب لوگوں سے ہوگا۔
(وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے) جب فرشتوں نے (مریم سے کہا) کہ مریم خدا تم کو اپنی طرف سے ایک فیض کی بشارت دیتا ہے جس کا نام مسیح (اور مشہور) عیسیٰ ابن مریم ہوگا (اور) جو دنیا اور آخرت میں باآبرو اور (خدا کے) خاصوں میں سے ہوگا
جب فرشتوں نے کہا اے مریم اللہ تعالیٰ تجھے اپنے ایک کلمے کی خوشخبری دیتا ہے جس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہے جو دنیا اور آخرت میں ذیعزت ہے اور وه میرے مقربین میں سے ہے
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 46،45) ➊ {اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓىِٕكَةُ يٰمَرْيَمُ......:} اس آیت میں عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک کلمہ قرار دیا گیا ہے، اس کی وضاحت آیت(۳۸) کے فوائد میں گزر چکی ہے۔ فرشتوں نے مریم علیہا السلام سے بالمشافہہ یہ بات کی، جیسا کہ سورۂ مریم (۱۷) میں ہے کہ جبریل علیہ السلام انسانی شکل میں ان سے ہم کلام ہوئے۔ {” الْمَسِيْحُ “} لفظ{ ” مَسَحَ “} سے مشتق ہے، جس کے معنی ہاتھ پھیرنے یا زمین کی مساحت کے ہیں۔ لہٰذا عیسیٰ علیہ السلام کو مسیح یا تو اس لیے کہا گیا ہے کہ وہ بیماروں پر ہاتھ پھیرتے تھے اور وہ تندرست ہو جاتے تھے، یا اس بنا پر کہ آپ ہر وقت زمین میں سفر کرتے رہتے تھے۔ (ابن کثیر)
➋ یہاں مسیح علیہ السلام کے چار اوصاف بیان ہوئے ہیں: (1) { ” وَجِيْهًا “ } یعنی بہت وجاہت والا ہو گا۔ چہرہ آدمی کی ذات کا آئینہ ہوتا ہے، اس لیے اونچے مرتبے کو وجاہت کہتے ہیں۔ (2) مقرب لوگوں میں سے ہو گا۔ (3) گہوارے اور ادھیڑ عمر میں یکساں حکیمانہ کلام کرے گا۔ گہوارے میں ان کا کلام سورۂ مریم (۳۰ تا ۳۳) میں نقل ہوا ہے اور ادھیڑ عمر میں کلام کرنے میں ان کے دوبارہ اترنے کی طر ف بھی اشارہ ہے۔ (4) صالحین سے ہو گا۔ صالح وہ ہے جس کے سارے کام درست ہوں، اس لیے سلیمان علیہ السلام جیسے جلیل القدر پیغمبر نے صالح بندوں میں داخل کیے جانے کی دعا کی۔ دیکھیے سورۂ یوسف (۱۰۱) اور سورۂ نمل (۱۹)۔
➋ یہاں مسیح علیہ السلام کے چار اوصاف بیان ہوئے ہیں: (1) { ” وَجِيْهًا “ } یعنی بہت وجاہت والا ہو گا۔ چہرہ آدمی کی ذات کا آئینہ ہوتا ہے، اس لیے اونچے مرتبے کو وجاہت کہتے ہیں۔ (2) مقرب لوگوں میں سے ہو گا۔ (3) گہوارے اور ادھیڑ عمر میں یکساں حکیمانہ کلام کرے گا۔ گہوارے میں ان کا کلام سورۂ مریم (۳۰ تا ۳۳) میں نقل ہوا ہے اور ادھیڑ عمر میں کلام کرنے میں ان کے دوبارہ اترنے کی طر ف بھی اشارہ ہے۔ (4) صالحین سے ہو گا۔ صالح وہ ہے جس کے سارے کام درست ہوں، اس لیے سلیمان علیہ السلام جیسے جلیل القدر پیغمبر نے صالح بندوں میں داخل کیے جانے کی دعا کی۔ دیکھیے سورۂ یوسف (۱۰۱) اور سورۂ نمل (۱۹)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
45۔ 1 حضرت عیسیٰ ؑ کو کلمہ یعنی کلمۃ اللہ اس اعتبار سے کہا گیا ہے کہ ان کی ولادت اعجازی شان کی مظہر اور عام انسانی اصول کے برعکس باپ کے بغیر ہوئی اور اللہ کی خاص قدرت اس کے کلمہ کن کی تخلیق ہے۔ 45۔ 2 مسیح مسح سے ہے یعنی کثرت سے زمین کی سیاحت کرنے والا یا اس کے معنی ہاتھ پھیرنے والا ہے کیونکہ آپ ہاتھ پھیر کر مریضوں کو باذن اللہ شفایاب فرماتے تھے ان دونوں معنوں کے اعتبار سے فعیلْ بمعنی فاعل ہے اور قیامت کے قریب ظاہر ہونے والے دجال کو جو مسیح کہا جاتا ہے یا تو بمعنی مفعول (یعنی اس کی ایک آنکھ کانی ہوگی) کے اعتبار سے ہے یا وہ بھی چونکہ کثرت سے دنیا میں پھرے گا اور مکہ اور مدینہ کے سوا ہر جگہ پہنچے گا (بخاری مسلم) اور بعض روایات میں بیت المقدس کا بھی ذکر ہے اس لیے اسے بھی المسیح الدجال کہا جاتا ہے۔ عام اہل تفسیر نے عموماً یہی بات درج کی ہے۔ کچھ اور محققین کہتے ہیں کہ مسیح یہود و نصاری کی اصطلاح میں بڑے مامور من اللہ پیغمبر کو کہتے ہیں یعنی ان کی یہ اصطلاح تقریبا اولوالعزم پیغمبر کے ہم معنی ہے دجال کو مسیح اس لیے کہا گیا ہے کہ یہود کو جس انقلاب آفریں مسیح کی بشارت دی گئی ہے اور جس کے وہ غلط طور پر اب بھی منتظر ہیں دجال اسی مسیح کے نام پر آئے گا یعنی اپنے آپ کو وہی مسیح قرار دے گا مگر وہ اپنے اس دعوی سمیت تمام دعو وں میں دجل و فریب کا اتنا بڑا پیکر ہوگا کہ اولین و آخرین میں اس کی کوئی مثال نہ ہوگی اس لیے وہ الدجال کہلائے گا۔ اور عیسیٰ عجمی زبان کا لفظ ہے۔ بعض کے نزدیک یہ عربی ہے اور عاس یعوس سے مشتق ہے جس کے معنی سیاست و قیادت کے ہیں۔ (قرطبی و فتح القدیر)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
45۔ اور جب فرشتوں نے مریم سے کہا: ”مریم! اللہ تجھے اپنے ایک کلمہ کی بشارت دیتا ہے۔ اس کا نام مسیح عیسیٰ [46] بن مریم ہو گا۔ وہ دنیا اور آخرت میں معزز ہو گا اور اللہ کے مقرب بندوں میں شمار ہو گا
[46] فرشتوں کا سیدہ مریم سے دوسرا مکالمہ یہ فرشتوں کا حضرت مریمؑ سے دوسرا مکالمہ ہے اور یہیں سے حضرت عیسیٰؑ کے بن باپ پیدا ہونے کے بیان کا آغاز ہوتا ہے۔ اس سے پیشتر جو حضرت یحییٰؑ کی خرق عادت پیدائش کا ذکر ہوا تو وہ بطور تمہید تھا۔ اس واقعہ میں اسباب موجود تھے اور وہ واقعہ خرق عادت صرف اس لحاظ سے تھا کہ ان اسباب کی قوت کار مفقود ہو چکی تھی اور اللہ تعالیٰ نے از سر نو قوت کار پیدا کر دی۔ مگر حضرت عیسیٰؑ کی پیدائش اس سے بڑھ کر خرق عادت امر ہے۔ کیونکہ یہاں باپ کا وجود ہی نہیں۔ اس مکالمہ میں جب فرشتوں نے حضرت مریمؑ کو ان کے بیٹے مسیح عیسیٰ ابن مریم کی پیدائش کی خوشخبری دی اور اس کے اوصاف بتلائے تو وہ یکدم چونک اٹھیں کہ یہ کیسے ممکن ہے۔ جب کہ کسی مرد نے مجھے چھوا تک نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب یہ دیا کہ اللہ تعالیٰ جو کچھ چاہے اور جیسے چاہے پیدا کر سکتا ہے۔ اسے سبب کے بغیر بھی کوئی چیز پیدا کرنے پر پوری پوری قدرت حاصل ہے اور فرشتوں نے جو اوصاف حضرت مریمؑ کو بتلائے وہ یہ تھے۔ (1)
سیدنا عیسیٰؑ کے اوصاف و خصائل:۔
وہ لڑکا اللہ تعالیٰ کے کلمہ ’کن‘ سے بن باپ پیدا ہو گا
(2) اس کا پورا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہو گا۔ مسیح آپ کا لقب ہے اور اس کی دو توجیہات بیان کی گئیں۔ ایک یہ کہ ہیکل سلیمان میں یہ دستور تھا کہ جس شخص کو وہ بزرگ اور پاکباز سمجھتے تھے تو اسے کاہن زیتون کے تیل سے مسح کر دیتے اور اس کے جسم پر مل دیتے تھے۔ اس لحاظ سے بھی آپ مسیح مشہور ہوئے اور دوسری وجہ یہ تھی کہ آپ نے عمر بھر سفر و سیاحت میں گزار کر رسالت کا فریضہ سرانجام دیا۔ اس لحاظ سے بھی آپ مسیح کہلائے اور عیسیٰ آپ کا اصل نام ہے اور ابن مریم آپ کی کنیت ہی نہیں بلکہ آپ کا یہی نسب ہے۔ چونکہ آپ بن باپ کے پیدا ہوئے تھے۔ لہٰذا آپ کو ماں کی طرف منسوب کیا گیا اور یہ آپ کے بن باپ پیدا ہونے پر سب سے بڑی دلیل ہے۔ کیونکہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اس انداز سے کسی مرد یا عورت کا نسب بیان نہیں فرمایا جبکہ عیسیٰؑ کے ساتھ بیسیوں مقامات پر ابن مریم کا بھی ذکر آیا ہے۔
(3) تیسری صفت یہ ہے کہ وہ دنیا و آخرت دونوں جگہ (وجیہ) یا بارعب شخصیت ہو گی۔ وجیہ وہ شخص ہوتا ہے جس کے رعب اور وقار کی وجہ سے کوئی شخص رو در رو اسے کوئی طعنہ نہ دے سکے۔ چنانچہ یہود آپ کو آگے پیچھے معاذ اللہ ولدالحرام کہتے تھے۔ مگر منہ پر ایسا کہنے کی ہرگز جرأت یا جسارت نہیں کرتے تھے۔
(4) چوتھی صفت یہ ہے کہ وہ دنیا میں بھی اللہ کے مقرب بندوں سے ہو گا اور آخرت میں بھی۔ اور پانچویں صفت شیر خوارگی کے ایام میں پختہ کلام کرنا اور چھٹی صفت اس کا صالح ہونا ہے جس کا ذکر اگلی آیت میں مذکور ہے۔ یہ تھیں وہ صفات جن کا ذکر حضرت عیسیٰ کی پیدائش سے پیشتر ہی فرشتوں نے حضرت مریمؑ سے کر دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یحییٰ کی پیدائش کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا
﴿ كَذٰلِكَ اللّٰهُ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ﴾
اور حضرت عیسیٰؑ کی پیدائش کا ذکر کرنے کے بعد
﴿ كَذٰلِكِ اللّٰهُ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ﴾
جو اس بات پر واضح دلیل ہے کہ عیسیٰ علیہ اسلام کی پیدائش بن باپ ہوئی تھی اور یہ معجزہ حضرت یحییٰ کی پیدائش کے معجزہ سے بہت بڑا تھا اور اس کا تفصیلی ذکر آگے سورۃ مریم میں آرہا ہے۔
(2) اس کا پورا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہو گا۔ مسیح آپ کا لقب ہے اور اس کی دو توجیہات بیان کی گئیں۔ ایک یہ کہ ہیکل سلیمان میں یہ دستور تھا کہ جس شخص کو وہ بزرگ اور پاکباز سمجھتے تھے تو اسے کاہن زیتون کے تیل سے مسح کر دیتے اور اس کے جسم پر مل دیتے تھے۔ اس لحاظ سے بھی آپ مسیح مشہور ہوئے اور دوسری وجہ یہ تھی کہ آپ نے عمر بھر سفر و سیاحت میں گزار کر رسالت کا فریضہ سرانجام دیا۔ اس لحاظ سے بھی آپ مسیح کہلائے اور عیسیٰ آپ کا اصل نام ہے اور ابن مریم آپ کی کنیت ہی نہیں بلکہ آپ کا یہی نسب ہے۔ چونکہ آپ بن باپ کے پیدا ہوئے تھے۔ لہٰذا آپ کو ماں کی طرف منسوب کیا گیا اور یہ آپ کے بن باپ پیدا ہونے پر سب سے بڑی دلیل ہے۔ کیونکہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اس انداز سے کسی مرد یا عورت کا نسب بیان نہیں فرمایا جبکہ عیسیٰؑ کے ساتھ بیسیوں مقامات پر ابن مریم کا بھی ذکر آیا ہے۔
(3) تیسری صفت یہ ہے کہ وہ دنیا و آخرت دونوں جگہ (وجیہ) یا بارعب شخصیت ہو گی۔ وجیہ وہ شخص ہوتا ہے جس کے رعب اور وقار کی وجہ سے کوئی شخص رو در رو اسے کوئی طعنہ نہ دے سکے۔ چنانچہ یہود آپ کو آگے پیچھے معاذ اللہ ولدالحرام کہتے تھے۔ مگر منہ پر ایسا کہنے کی ہرگز جرأت یا جسارت نہیں کرتے تھے۔
(4) چوتھی صفت یہ ہے کہ وہ دنیا میں بھی اللہ کے مقرب بندوں سے ہو گا اور آخرت میں بھی۔ اور پانچویں صفت شیر خوارگی کے ایام میں پختہ کلام کرنا اور چھٹی صفت اس کا صالح ہونا ہے جس کا ذکر اگلی آیت میں مذکور ہے۔ یہ تھیں وہ صفات جن کا ذکر حضرت عیسیٰ کی پیدائش سے پیشتر ہی فرشتوں نے حضرت مریمؑ سے کر دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت یحییٰ کی پیدائش کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا
﴿ كَذٰلِكَ اللّٰهُ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ﴾
اور حضرت عیسیٰؑ کی پیدائش کا ذکر کرنے کے بعد
﴿ كَذٰلِكِ اللّٰهُ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ﴾
جو اس بات پر واضح دلیل ہے کہ عیسیٰ علیہ اسلام کی پیدائش بن باپ ہوئی تھی اور یہ معجزہ حضرت یحییٰ کی پیدائش کے معجزہ سے بہت بڑا تھا اور اس کا تفصیلی ذکر آگے سورۃ مریم میں آرہا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
مسیح ابن مریم علیہ السلام ٭٭
یہ خوشخبری سیدہ مریم علیھا السلام کو فرشتے سنا رہے ہیں کہ ان سے ایک لڑکا ہو گا جو بڑی شان والا اور صرف اللہ کے کلمہ «کن» کے کہنے سے ہو گا یہی تفسیر اللہ تعالیٰ کے فرمان «مُصَدِّقًـا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَسَيِّدًا وَّحَصُوْرًا وَّنَبِيًّا مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ» [3-آل عمران:39] کی بھی ہے، جیسے کہ جمہور نے ذکر کیا اور جس کا بیان اس سے پہلے گزر چکا، اس کا نام مسیح ہو گا، عیسیٰ بیٹا مریم علیھا السلام کا، ہر مومن اسے اسی نام سے پہچانے گا، مسیح نام ہونے کی وجہ یہ ہے کہ زمین میں وہ بکثرت سیاحت کریں گے، ماں کی طرف منسوب کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کا باپ کوئی نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ دونوں جہان میں برگزیدہ ہیں اور مقربان خاص میں سے ہیں، ان پر اللہ عزوجل کی شریعت اور کتاب اترے گی اور بڑی بڑی مہربانیاں ان پر دنیا میں نازل ہوں گی اور آخرت میں بھی اور اولوالعزم پیغمبروں کی طرح اللہ کے حکم سے جس کے لیے اللہ چاہے گا وہ شفاعت کریں گے جو قبول ہو جاے گی۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلیہم اجمعین وہ اپنے جھولے میں اور ادھیڑ عمر میں باتیں کریں گے یعنی اللہ وحدہ لا شریک لہ کی عبادت کی لوگوں کو بچنے ہی میں دعوت دیں گے جو ان کا معجزہ ہو گا اور بڑی عمر میں بھی جب اللہ ان کی طرف وحی کرے گا، وہ اپنے قول و فعل میں علم صحیح رکھنے والے اور عمل صالح کرنے والے ہوں گے، ایک حدیث میں ہے کہ بچپن میں کلام صرف سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور جریج کے ساتھی نے کیا [تفسیر ابن ابی حاتم:272/2] ۱؎ اور ان کے علاوہ حدیث میں ایک اور بچے کا کلام کرنا بھی مروی ہے تو یہ تین ہوئے۔ [صحیح بخاری:3436] ۱؎
سیدہ مریم علیھا السلام اس بشارت کو سن کر اپنی مناجات میں کہنے لگیں اللہ مجھے بچہ کیسے ہو گا؟ میں نے تو نکاح نہیں کیا اور نہ میرا ارادہ نکاح کرنے کا ہے اور نہ میں ایسی بدکار عورت ہوں حا شاء اللہ، اللہ عزوجل کی طرف سے فرشتے نے جواب میں کہا کہ اللہ کا امر بہت بڑا ہے اسے کوئی چیز عاجز نہیں کر سکتی وہ جو چاہے پیدا کر دے، اس نکتے کو خیال میں رکھنا چاہیئے کہ سیدنا زکریا کے اس سوال کے جواب میں اس جگہ لفظ «یفعل» تھا یہاں لفظ «یخلق» ہے یعنی پیدا کرتا ہے۔ اس لیے کہ کسی باطل پرست کو کسی شبہ کا موقع باقی نہ رہے اور صاف لفظوں میں سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا اللہ جل شانہ کی مخلوق ہونا معلوم ہو جائے۔ پھر اس کی مزید تاکید کی اور فرمایا وہ جس کسی کام کو جب کبھی کرنا چاہتا ہے تو صرف اتنا فرما دیتا ہے کہ ہو جا، بس وہ وہیں ہو جاتا ہے اس کے حکم کے بعد ڈھیل اور دیر نہیں لگتی، جیسے اور جگہ ہے «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ» [54-القمر:50] یعنی ہمارے صرف ایک مرتبہ کے حکم سے ہی بلاتاخیر فی الفور آنکھ جھپکتے ہی وہ کام ہو جاتا ہے ہمیں دوبارہ اسے کہنا نہیں پڑتا۔