اُردوEn
ذٰلِکَ مِنۡ اَنۡۢبَآءِ الۡغَیۡبِ نُوۡحِیۡہِ اِلَیۡکَ ؕ وَ مَا کُنۡتَ لَدَیۡہِمۡ اِذۡ یُلۡقُوۡنَ اَقۡلَامَہُمۡ اَیُّہُمۡ یَکۡفُلُ مَرۡیَمَ ۪ وَ مَا کُنۡتَ لَدَیۡہِمۡ اِذۡ یَخۡتَصِمُوۡنَ ﴿۴۴﴾
یہ غیب کی کچھ خبریں ہیں، ہم اسے تیری طرف وحی کرتے ہیں اور تو اس وقت ان کے پاس نہ تھا جب وہ اپنے قلم پھینک رہے تھے کہ ان میں سے کون مریم کی کفالت کرے اور نہ تو اس وقت ان کے پاس تھا جب وہ جھگڑ رہے تھے۔
(اے محمدﷺ) یہ باتیں اخبار غیب میں سے ہیں جو ہم تمہارے پاس بھیجتے ہیں اور جب وہ لوگ اپنے قلم (بطور قرعہ) ڈال رہے تھے کہ مریم کا متکفل کون بنے تو تم ان کے پاس نہیں تھے اور نہ اس وقت ہی ان کے پاس تھے جب وہ آپس میں جھگڑ رہے تھے
یہ غیب کی خبروں میں سے ہے جسے ہم تیری طرف وحی سے پہنچاتے ہیں، تو ان کے پاس نہ تھا جب کہ وه اپنے قلم ڈال رہے تھے کہ مریم کو ان میں سے کون پالے گا؟ اور نہ تو ان کے جھگڑنے کے وقت ان کے پاس تھا
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 44) ➊ {ذٰلِكَ مِنْ اَنْبَآءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهِ اِلَيْكَ …: } اس آیت سے پانچ مسئلے واضح طور پر ثابت ہوئے، پہلا یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غیب نہیں جانتے تھے، ورنہ انھیں غیب کی یہ خبریں وحی کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ دوسرا یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جگہ حاضر و ناظر نہیں ہیں، ورنہ اللہ تعالیٰ یہ نہ فرماتا کہ تو اس وقت ان کے پاس موجود نہ تھا۔ تیسرا یہ کہ اولیاء اور دوسرے انبیاء بھی غیب دان نہیں، ورنہ بیت المقدس کے خدام اور وقت کے پیغمبر زکریا علیہ السلام کو قرعہ ڈالنے کی ضرورت نہ تھی۔ چوتھا یہ کہ جب چیز ایک ہو اور اس کے حق دار کئی ہوں تو اس وقت قرعہ کے ذریعے سے فیصلہ شریعت کا فیصلہ ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے {”كِتَابُ الشَّهَادَاتِ“} میں باب باندھا ہے: {” بَابُ الْقُرْعَةِ فِي الْمُشْكِلاَتِ “} ”مشکل معاملات میں قرعہ اندازی کا بیان “ اور اس میں کئی احادیث لائے ہیں۔ بعض لوگوں نے قرعہ کو جوا قرار دیا ہے، یہ ان کی غلطی ہے۔ ہاں، اگر اس مقصد کے لیے قرعہ ڈالا جائے کہ یہ کام کروں یا نہ کروں تو یہ قرعہ نہیں بلکہ فال نکالنا ہے جو حرام ہے۔ [ديكهيے سورهٔ مائده:۹۰]
پانچواں یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو اس واقعہ کے وقت نہ موجود تھے، نہ اسے جانتے تھے، آپ کا وحی الٰہی سے اس واقعہ کو بیان کرنا آپ کے رسول برحق ہونے کی دلیل ہے۔
➋ { اِذْ يُلْقُوْنَ اَقْلَامَهُمْ:} اس قرعہ اندازی کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ مریم علیہا السلام یہودیوں کے بہت بڑے عالم عمران کی بیٹی تھیں، جب ان کی والدہ نے انھیں اپنی عبادت گاہ کی نذر کیا تو عبادت گاہ کے خدام میں جھگڑا ہوا کہ ان کی سرپرستی اور نگرانی کا شرف کون حاصل کرے، تو انھوں نے قرعہ اندازی کی اور قرعہ زکریا علیہ السلام کے نام نکلا۔ (ابن کثیر، قرطبی)
پانچواں یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو اس واقعہ کے وقت نہ موجود تھے، نہ اسے جانتے تھے، آپ کا وحی الٰہی سے اس واقعہ کو بیان کرنا آپ کے رسول برحق ہونے کی دلیل ہے۔
➋ { اِذْ يُلْقُوْنَ اَقْلَامَهُمْ:} اس قرعہ اندازی کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ مریم علیہا السلام یہودیوں کے بہت بڑے عالم عمران کی بیٹی تھیں، جب ان کی والدہ نے انھیں اپنی عبادت گاہ کی نذر کیا تو عبادت گاہ کے خدام میں جھگڑا ہوا کہ ان کی سرپرستی اور نگرانی کا شرف کون حاصل کرے، تو انھوں نے قرعہ اندازی کی اور قرعہ زکریا علیہ السلام کے نام نکلا۔ (ابن کثیر، قرطبی)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
44۔ 1 آجکل کے اہل بدعت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں غلو عقیدت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کو اللہ تعالیٰ کی طرح عالم الغیب اور ہر جگہ حاضر اور ناظر ہونے کا عقیدہ گھڑ رکھا ہے۔ اس آیت سے ان دونوں عقیدوں کی واضح تردید ہوتی ہے۔ اگر آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عالم الغیب ہوتے تو اللہ تعالیٰ یہ نہ فرماتا کہ ہم غیب کی خبریں آپ کو بیان کر رہے ہیں کیونکہ جس کو پہلے ہی علم ہو اس کو اس طرح نہیں کہا جاتا اور اس طرح اور ناظر کو یہ نہیں کہا جاتا کہ آپ اس وقت وہاں موجود نہیں تھے جب لوگ قرعہ اندازی کے لئے قلم ڈال رہے تھے۔ قرعہ اندازی کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ حضرت مریم (علیہا السلام) کی کفالت کے اور بھی کئی خواہش مند تھے۔ (ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَاۗءِ الْغَيْبِ نُوْحِيْهِ اِلَيْكَ) 3:44 سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور آپ کی صداقت کا اثبات بھی ہے جس میں یہودی اور عیسائی شک کرتے تھے کیونکہ وحی شریعت پیغمبر پر ہی آتی ہے غیر پیغمبر پر نہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
44۔ یہ غیب کی خبریں ہیں جو اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہم آپ کی طرف وحی [44] کر رہے ہیں۔ آپ اس وقت ان لوگوں کے پاس موجود تو نہ تھے جب وہ اپنے اپنے قلم (اس فیصلے کی خاطر) پھینک رہے تھے کہ ان میں مریم کا سرپرست کون بنے۔ نہ ہی آپ اس وقت ان کے پاس موجود تھے جب وہ [45] باہم جھگڑا کر رہے تھے
[44] گزشتہ حالات بتانے سے آپ کی نبوت کی دلیل:۔
یعنی ایسے واقعات صدیوں پہلے گزر چکے ہیں۔ انہیں بالکل ٹھیک طور پر اپنے مخالفوں کو بتلا دینا آپ کا معجزہ اور آپ کی نبوت پر واضح دلیل ہے۔ کیونکہ آپ نے نہ تو تورات پڑھی تھی نہ انجیل اور نہ ہی کوئی تاریخی کتاب۔ عمر کا اکثر حصہ مکہ مکرمہ میں گزرا جہاں کوئی ذی علم تھا ہی نہیں کہ آپ اس سے سن کر دوسروں کو بتلا سکتے، نہ آپ کا کوئی استاد تھا، نہ کسی کے سامنے آپ نے زانوئے تلمذ تہ کئے تھے۔ پھر ایسے واقعات کو علمائے اہل کتاب کے سامنے صحیح صحیح بیان کر دینا آپ کے منجانب اللہ سچا رسول ہونے پر بڑی قوی دلیل ہے۔ پھر بھی جو لوگ آپ کی رسالت کا انکار کرتے ہیں تو اس کی وجہ محض بغض و عناد اور دوسرے مفادات ہیں اور کچھ نہیں۔
[45] سیدنا زکریا کیسے کفیل مریم بنے؟
حضرت مریمؑ پر اللہ تعالیٰ کی جو عنایات ہو رہی تھیں ان سے ہیکل کے تمام خادم واقف تھے اور ان میں ہر شخص یہ چاہتا تھا کہ حضرت مریمؑ کی سرپرستی کا اعزاز اسے حاصل ہو اور اس سلسلہ میں ایک دوسرے سے جھگڑتے اور اپنے استحقاق کے دلائل بھی دیتے ہیں۔ اسی سلسلہ میں حضرت زکریاؑ نے دوسروں کو اپنا یہ استحقاق بتلایا کہ چونکہ وہ حضرت مریمؑ کے حقیقی خالو بھی ہیں لہٰذا وہی حضرت مریمؑ کے کفیل بننے کے سب سے زیادہ حقدار ہیں۔ لیکن دوسروں نے حضرت زکریاؑ کے اس استحقاق کو چنداں اہمیت نہ دی، اور بالآخر طے یہ ہوا کہ ایسے سب حضرات اپنی اپنی قلمیں جن سے وہ تورات لکھا کرتے تھے کسی بہتی ندی میں پھینک دیں۔ اگر کسی شخص کا قلم ندی کے بہاؤ کی طرف بہنے سے رک جائے اور اپنی جگہ پر قائم رہے تو وہی شخص مریمؑ کی سرپرستی کا حقدار ہو گا۔ اب ظاہر ہے یہ امتحان بھی ایک خرق عادت امر سے تھے اور کسی خرق عادت امر سے ہی اس قضیہ کا فیصلہ ہو سکتا تھا۔ چنانچہ قلمیں پھینکی گئیں تو ماسوائے حضرت زکریاؑ کے قلم کے، باقی سب قلمیں پانی کے بہاؤ کے رخ بہہ نکلیں لیکن حضرت زکریاؑ کا قلم اپنی جگہ پر قائم رہا۔ ایک تو وہ پہلے ہی حضرت مریمؑ کے حقیقی خالو ہوتے تھے۔ اس امتحان میں بھی قرعہ فال انہی کے نام نکلا تو اب اس میں کسی کو اختلاف اور جھگڑے کی گنجائش نہ رہی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔