ترجمہ و تفسیر — سورۃ آل عمران (3) — آیت 38

ہُنَالِکَ دَعَا زَکَرِیَّا رَبَّہٗ ۚ قَالَ رَبِّ ہَبۡ لِیۡ مِنۡ لَّدُنۡکَ ذُرِّیَّۃً طَیِّبَۃً ۚ اِنَّکَ سَمِیۡعُ الدُّعَآءِ ﴿۳۸﴾
وہیں زکریا نے اپنے رب سے دعا کی، کہا اے میرے رب! مجھے اپنے پاس سے ایک پاکیزہ اولاد عطا فرما، بے شک تو ہی دعا کو بہت سننے والا ہے۔ En
اس وقت زکریا نے اپنے پروردگار سے دعا کی (اور) کہا کہ پروردگار مجھے اپنی جناب سے اولاد صالح عطا فرما تو بے شک دعا سننے (اور قبول کرنے) والا ہے
En
اسی جگہ زکریا (علیہ السلام) نے اپنے رب سے دعا کی، کہا کہ اے میرے پروردگار! مجھے اپنے پاس سے پاکیزه اوﻻد عطا فرما، بے شک تو دعا کا سننے واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 38){هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهٗ:} زکریا علیہ السلام بوڑھے ہو چکے تھے اور ابھی تک بے اولاد تھے، بیوی بانجھ تھی، بظاہر انھیں اولاد کی کوئی امید نہ تھی، لیکن یہ دیکھ کر کہ کس طرح مریم علیھا السلام کو خرق عادت کے طور پر بے موسم کا رزق پہنچ رہا ہے، ان کے دل میں بھی خواہش پیدا ہوئی کہ بے موسم کا رزق پہنچانے والا مایوسی کے عالم میں اولاد بھی عطا فرما سکتا ہے، چنانچہ اسی جگہ اور اسی وقت اللہ تعالیٰ کے حضور نیک اولاد کی دعا کی۔ بعض علماء نے مریم علیہا السلام کو خرق عادت میوے پہنچنے کا انکار کیا اور کہا ہے کہ یہ محاورہ ہے کہ خدا رسیدہ لوگ ہر نعمت کو (من عند اللہ) اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر دیتے ہیں، مگر زکریا علیہ السلام کا اس حالت کو دیکھ کر اظہار تعجب اور دعا کرنا بتا رہا ہے کہ رزق خرق عادت (بطور کرامت) ہی مل رہا تھا۔ پچھلی آیت کے حاشیہ میں خبیب رضی اللہ عنہ کا واقعہ ملاحظہ فرمائیں اور زکریا علیہ السلام کا واقعہ سورۂ مریم کے شروع میں ملاحظہ کریں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

38۔ جب زکریا نے مریم کا یہ جواب سنا تو اپنے پروردگار سے دعا کی: میرے پروردگار! مجھے اپنی جناب سے نیک اور پاکیزہ سیرت اولاد عطا فرما تو ہی [42] دعا سننے والا ہے
[42] حضرت زکریاؑ بے اولاد تھے، خود بوڑھے ضعیف اور بیوی بانجھ تھی۔ اولاد کی کوئی توقع نہ تھی۔ کیونکہ ظاہری اسباب منقطع تھے۔ مگر اولاد کی خواہش ضرور تھی۔ حضرت مریمؑ کا یہ جواب سن کر فوراً خیال آیا کہ اللہ تو خرق عادت امور پر بھی قادر ہے کیوں نہ اپنے لیے دعا کر دیکھوں۔ ممکن ہے شرف قبولیت حاصل ہو جائے۔ چنانچہ اس خیال کے آتے ہی اللہ تعالیٰ سے اپنے لیے نیک سیرت اولاد کی دعا فرمائی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

حاصل دعا یحییٰ علیہ السلام ٭٭
سیدنا زکریا علیہ السلام نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ سیدہ مریم علیہما السلام کو بے موسم میوہ دیتا ہے جاڑوں میں گرمیوں کے پھل اور گرمی میں جاڑوں کے میوے ان کے پاس رکھے رہتے ہیں تو باوجود اپنے پورے بڑھاپے کے اور باوجود اپنی بیوی کے بانجھ ہونے کے علم کے آپ بھی بے موسم میوہ یعنی نیک اولاد طلب کرنے لگے، اور چونکہ یہ طلب بظاہر ایک ناممکن چیز کی طلب تھی اس لیے نہایت پوشیدگی سے یہ دعا مانگی جیسے اور جگہ ہے «نِدَآءً خَفِیًّا» [19-مريم:3]‏‏‏‏ یہ اپنے عبادت خانے میں ہی تھے جو فرشتوں نے انہیں آواز دی اور انہیں سنا کر کہا کہ آپ کے ہاں ایک لڑکا ہو گا جس کا نام یحییٰ علیہ السلام رکھنا، ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ یہ بشارت ہماری طرف سے نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے ہے۔ یحییٰ نام کی وجہ یہ ہے کہ ان کی حیاۃ ایمان کے ساتھ ہو گی،[تفسیر ابن ابی حاتم:235/2]‏‏‏‏ ۱؎
وہ اللہ کے کلمہ کے یعنی سیدنا عیسیٰ بن مریم کی تصدیق کریں گے، سیدنا ربیع بن انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سب سے پہلے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کو تسلیم کرنے والے بھی سیدنا یحییٰ علیہ السلام ہیں، جو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی روش اور آپ کے طریق پر تھے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ دونوں خالہ زاد بھائی تھے۔ سیدنا یحییٰ علیہ السلام کی والدہ مریم علیہ السلام سے اکثر ذکر کیا کرتی تھیں کہ میں اپنے پیٹ کی چیز کو تیرے پیٹ کی چیز کو سجدہ کرتی ہوئی پاتی ہوں، یہ تھی یحییٰ علیہ السلام کی تصدیق دنیا میں آنے سے پیشتر سب سے پہلے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی سچائی کو انہوں نے ہی پہچانا یہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام سے عمر میں بڑے تھے۔
سید کے معنی حلیم، بردبار، علم و عبادت میں بڑھا ہوا، متقی، پرہیزگار، فقیہ، عالم، خلق و دین میں سب سے افضل جسے غصہ اور غضب مغلوب نہ کر سکے، شریف اور کریم کے ہیں، «حصور» کے معنی ہیں جو عورتوں کے پاس نہ آ سکے جس کے ہاں نہ اولاد ہو نہ جس میں شہوت کا پانی ہو، اس معنی کی ایک مرفوع حدیث بھی ابن ابی حاتم میں ہے، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ لفظ تلاوت کر کے زمین سے کچھ اٹھا کر فرمایا اس کا عضو اس جیسا تھا [تفسیر ابن ابی حاتم:246/2:ضعیف]‏‏‏‏ ۱؎، سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہا فرماتے ہیں کہ ساری مخلوق میں صرف سیدنا یحییٰ علیہ السلام ہی اللہ سے بےگناہ ملیں گے پھر آپ نے یہ الفاظ پڑھے اور زمین سے کچھ اٹھایا اور فرمایا حصور اسے کہتے ہیں جس کا عضو اس جیسا ہو، اور سیدنا یحییٰ بن سعید قطان نے اپنی کلمہ کی انگلی سے اشارہ کیا، یہ روایت جو مرفوع بیان ہوئی ہے اس کی حوالے سے اس موقوف کی سند زیادہ صحیح ہے، اور مرفوع روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑے کے پھندے کی طرف اشارہ کر کے فرمایا ایسا تھا، اور روایت میں یہ بھی ہے کہ آپ نے زمین سے ایک مرجھایا ہوا تنکا اٹھا کر اس کی طرف اشارہ کر کے یہی فرمایا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:6977: ضعیف]‏‏‏‏ ۱؎
اس کے بعد سیدنا زکریا علیہ السلام کو دوسری بشارت دی جاتی ہے کہ تمہارا لڑکا نبی ہو گا یہ بشارت پہلی خوشخبری سے بھی بڑھ گئی، جب بشارت آ چکی تب زکریا کو خیال پیدا ہوا کہ بظاہر اسباب سے تو اس کا ہونا محال ہے تو کہنے لگے اللہ میری ہاں بچہ کیسے ہو سکتا ہے؟ میں بوڑھا ہوں میری بیوی بالکل بانجھ، فرشتے نے اسی وقت جواب دیا کہ اللہ کا امر سب سے بڑا ہے اس کے پاس کوئی چیز ان ہونی نہیں، نہ اسے کوئی کام کرنا مشکل نہ، وہ کسی کام سے عاجز، اس کا ارادہ ہو چکا وہ اسی طرح کرے گا، اب سیدنا زکریا علیہ السلام اللہ سے اس کی علامت طلب کرنے لگے تو ذات باری سبحانہ و تعالیٰ کی طرف سے اشارہ کیا گیا کہ نشان یہ ہے کہ تو تین دن تک لوگوں سے بات نہ کر سکے گا، رہے گا تندرست صحیح سالم لیکن زبان سے لوگوں سے بات چیت نہ کی جائے گی صرف اشاروں سے کام لینا پڑے گا، جیسے اور جگہ ہے «ثَلٰثَ لَيَالٍ سَوِيًّا» ‏‏‏‏ [19-مريم:10]‏‏‏‏ یعنی تین راتیں تندرستی کی حالت پھر حکم دیا کہ اس حال میں تمہیں چاہیئے کہ ذکر اور تکبیر اور تسبیح میں زیادہ مشغول رہو، صبح شام اسی میں لگے رہو، اس کا دوسرا حصہ اور پورا بیان تفصیل کے ساتھ سورۃ مریم کے شروع میں آئے گا، ان شاءاللہ تعالیٰ۔