فَتَقَبَّلَہَا رَبُّہَا بِقَبُوۡلٍ حَسَنٍ وَّ اَنۡۢبَتَہَا نَبَاتًا حَسَنًا ۙ وَّ کَفَّلَہَا زَکَرِیَّا ۚؕ کُلَّمَا دَخَلَ عَلَیۡہَا زَکَرِیَّا الۡمِحۡرَابَ ۙ وَجَدَ عِنۡدَہَا رِزۡقًا ۚ قَالَ یٰمَرۡیَمُ اَنّٰی لَکِ ہٰذَا ؕ قَالَتۡ ہُوَ مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یَرۡزُقُ مَنۡ یَّشَآءُ بِغَیۡرِ حِسَابٍ ﴿۳۷﴾
پس اس کے رب نے اسے اچھی قبولیت کے ساتھ قبول کیا اور اچھی نشو و نما کے ساتھ اس کی پرورش کی اور اس کا کفیل زکریا کو بنا دیا۔ جب کبھی زکریا اس کے پاس عبادت خانے میں داخل ہوتا، اس کے پاس کوئی نہ کوئی کھانے کی چیز پاتا، کہا اے مریم! یہ تیرے لیے کہاں سے ہے؟ اس نے کہا یہ اللہ کے پاس سے ہے۔ بے شک اللہ جسے چاہتا ہے کسی حساب کے بغیر رزق دیتا ہے۔
En
تو پروردگار نے اس کو پسندیدگی کے ساتھ قبول فرمایا اور اسے اچھی طرح پرورش کیا اور زکریا کو اس کا متکفل بنایا زکریا جب کبھی عبادت گاہ میں اس کے پاس جاتے تو اس کے پاس کھانا پاتے (یہ کیفیت دیکھ کر ایک دن مریم سے) پوچھنے لگے کہ مریم یہ کھانا تمہارے پاس کہاں سے آتا ہے وہ بولیں خدا کے ہاں سے (آتا ہے) بیشک خدا جسے چاہتا ہے بے شمار رزق دیتا ہے
En
پس اسے اس کے پروردگار نے اچھی طرح قبول فرمایا اور اسے بہترین پرورش دی۔ اس کی خیر خبر لینے واﻻ زکریا (علیہ السلام) کو بنایا، جب کبھی زکریا (علیہ السلام) ان کے حجرے میں جاتے ان کے پاس روزی رکھی ہوئی پاتے، وه پوچھتے اے مریم! یہ روزی تمہارے پاس کہاں سے آئی؟ وه جواب دیتیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے پاس سے ہے، بے شک اللہ تعالیٰ جسے چاہے بے شمار روزی دے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 37) ➊ { وَ كَفَّلَهَا زَكَرِيَّا:} عام قول کے مطابق زکریا علیہ السلام ان کے خالو تھے، مگر صحیح بات یہ ہے کہ وہ مریم علیھا السلام کے بہنوئی تھے۔ اس کی دلیل حدیث معراج ہے جس میں دوسرے آسمان پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یحییٰ اور عیسیٰ علیہما السلام سے ملاقات کا ذکر ہے اور صراحت ہے کہ وہ دونوں خالہ زاد بھائی تھے۔ [بخاری، الأنبیاء، باب قول اللہ تعالیٰ: «ذکر رحمۃ ربک…» : ۳۴۳۰]
➋ { الْمِحْرَابَ:} اس سے مراد معروف محراب نہیں ہے جو مسجدوں میں امام کے لیے بنایا جاتا ہے، بلکہ اس کا معنی اس کمرہ کے ہیں جو تنہائی کے لیے بنایا جاتا ہے۔ (دیکھیے سبا: ۱۳) یہودو نصاریٰ عبادت خانے سے الگ کچھ بلندی پر یہ محراب بناتے تھے، جس میں مسجد کے عبادت گزار رہتے تھے۔
➌ { وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا:} اسلوب کلام سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ رزق بطور کرامت مریم علیہا السلام کے پاس پہنچ رہا تھا۔ اکثر تابعین سے منقول ہے کہ زکریا علیہ السلام جب بھی مریم علیہا السلام کے حجرے میں جاتے تو ان کے ہاں بے موسم کے تازہ پھل پاتے۔ (ابن جریر، ابن کثیر) تابعین کا یہ فرمان آیت کے الفاظ کی تشریح ہو جیسا کہ ظاہر ہے تو اس رزق کے بطور کرامت ملنے کی تائید ہے اور اگر اسرائیلی نقل ہو تو اسے سچایا جھوٹا کہنے کی اجازت نہیں مگر اللہ تعالیٰ کے بندوں کو اسباب کے بغیر رزق عطا ہونا کچھ بعید نہیں اور امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اولیاء و شہداء کو یہ کرامت اور عزت افزائی ملنا صحیح سند سے ثابت ہے۔
صحیح بخاری میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے خبیب رضی اللہ عنہ کی سولی کا واقعہ تفصیل سے مذکور ہے، مکہ کے جس گھر میں انھیں قید رکھا گیا اس گھر والی بنت الحارث کا بیان ہے کہ اللہ کی قسم! میں نے خبیب سے بہتر قیدی کبھی نہیں دیکھا، اللہ کی قسم! میں نے ایک دن انھیں انگور کا گچھا کھاتے ہوئے دیکھا، جو ان کے ہاتھ میں تھا، جب کہ وہ لوہے کی زنجیروں میں بندھے ہوئے تھے، حالانکہ مکہ میں کوئی پھل نہیں تھا۔ (بنت الحارث) کہتی تھیں کہ یقینا وہ اللہ کی طرف سے رزق تھا جو اس نے خبیب کو دیا تھا۔ [بخاری، الجہاد والسیر، باب ھل یستأسر الرجل …: ۳۰۴۵]مگر کرامت ولی کے اختیار میں نہیں ہوتی کہ وہ جو چاہے کرے، ورنہ خبیب رضی اللہ عنہ زنجیریں توڑ کر آزاد ہو جاتے، حتیٰ کہ نبی بھی اپنی مرضی سے کوئی معجزہ نہیں دکھا سکتے، فرمایا: «وَ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نَّاْتِيَكُمْ بِسُلْطٰنٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ» [إِبراہیم: ۱۱]
➋ { الْمِحْرَابَ:} اس سے مراد معروف محراب نہیں ہے جو مسجدوں میں امام کے لیے بنایا جاتا ہے، بلکہ اس کا معنی اس کمرہ کے ہیں جو تنہائی کے لیے بنایا جاتا ہے۔ (دیکھیے سبا: ۱۳) یہودو نصاریٰ عبادت خانے سے الگ کچھ بلندی پر یہ محراب بناتے تھے، جس میں مسجد کے عبادت گزار رہتے تھے۔
➌ { وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا:} اسلوب کلام سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ رزق بطور کرامت مریم علیہا السلام کے پاس پہنچ رہا تھا۔ اکثر تابعین سے منقول ہے کہ زکریا علیہ السلام جب بھی مریم علیہا السلام کے حجرے میں جاتے تو ان کے ہاں بے موسم کے تازہ پھل پاتے۔ (ابن جریر، ابن کثیر) تابعین کا یہ فرمان آیت کے الفاظ کی تشریح ہو جیسا کہ ظاہر ہے تو اس رزق کے بطور کرامت ملنے کی تائید ہے اور اگر اسرائیلی نقل ہو تو اسے سچایا جھوٹا کہنے کی اجازت نہیں مگر اللہ تعالیٰ کے بندوں کو اسباب کے بغیر رزق عطا ہونا کچھ بعید نہیں اور امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اولیاء و شہداء کو یہ کرامت اور عزت افزائی ملنا صحیح سند سے ثابت ہے۔
صحیح بخاری میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے خبیب رضی اللہ عنہ کی سولی کا واقعہ تفصیل سے مذکور ہے، مکہ کے جس گھر میں انھیں قید رکھا گیا اس گھر والی بنت الحارث کا بیان ہے کہ اللہ کی قسم! میں نے خبیب سے بہتر قیدی کبھی نہیں دیکھا، اللہ کی قسم! میں نے ایک دن انھیں انگور کا گچھا کھاتے ہوئے دیکھا، جو ان کے ہاتھ میں تھا، جب کہ وہ لوہے کی زنجیروں میں بندھے ہوئے تھے، حالانکہ مکہ میں کوئی پھل نہیں تھا۔ (بنت الحارث) کہتی تھیں کہ یقینا وہ اللہ کی طرف سے رزق تھا جو اس نے خبیب کو دیا تھا۔ [بخاری، الجہاد والسیر، باب ھل یستأسر الرجل …: ۳۰۴۵]مگر کرامت ولی کے اختیار میں نہیں ہوتی کہ وہ جو چاہے کرے، ورنہ خبیب رضی اللہ عنہ زنجیریں توڑ کر آزاد ہو جاتے، حتیٰ کہ نبی بھی اپنی مرضی سے کوئی معجزہ نہیں دکھا سکتے، فرمایا: «وَ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نَّاْتِيَكُمْ بِسُلْطٰنٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ» [إِبراہیم: ۱۱]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
37۔ 1 حضرت زکریا ؑ حضرت مریم (علیہا السلام) کے خالو بھی تھے علاوہ ازیں اپنے وقت کے پیغمبر ہونے کے لحاظ سے بھی وہی سب سے بہتر کفیل بن سکتے تھے جو حضرت مریم (علیہا السلام) کی مادی ضروریات اور علمی و اخلاقی تربیت کے تقاضوں کا صحیح اہتمام کرسکتے تھے۔ 37۔ 2 محرابُ سے مراد حجرہ ہے جس میں حضرت مریم (علیہا السلام) رہائش پذیر تھیں رزق سے مراد پھل یہ پھل ایک تو غیر موسمی ہوتے گرمی کے پھل سردی کے موسم میں اور سردی کے گرمی کے موسم میں ان کے کمرے میں موجود ہوتے، دوسرے حضرت زکریا ؑ یا اور کوئی شخص لا کردینے والا نہیں تھا اس لئے حضرت زکریا ؑ نے ازراہ تعجب و حیرت سے پوچھا یہ کہاں سے آئے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ اللہ کی طرف سے۔ گویا یہ حضرت مریم (علیہا السلام) کی کرامت تھی۔ معجزہ اور کرامت خرق عادت امور کو کہا جاتا ہے یعنی جو ظاہر اسباب کے خلاف ہو۔ یہ کسی نبی کے ہاتھ پر ظاہر ہو تو اسے معجزہ اور کسی ولی کے ہاتھ پر ظاہر ہو تو اسے کرامت کہا جاتا ہے یہ دونوں برحق ہیں۔ تاہم ان کا صدور اللہ کے حکم اور اس کی مشیت سے ہوتا ہے نبی یا ولی کے اختیار میں یہ بات نہیں کہ وہ معجزہ اور کرامت جب چاہے صادر کر دے۔ اس لیے معجزہ اور کرامت اس بات کی تو دلیل ہوتی ہے کہ یہ حضرات اللہ کی بارگاہ میں خاص مقام رکھتے ہیں لیکن اس سے یہ امر ثابت نہیں ہوتا کہ ان مقبولین بارگاہ کے پاس کائنات میں تصرف کرنے کا اختیار ہے جیسا کہ اہل بدعت اولیاء کی کرامتوں سے عوام کو یہی کچھ باور کرا کے انہیں شرکیہ عقیدوں میں مبتلا کردیتے ہیں اس کی مزید وضاحت بعض معجزات کے ضمن میں آئے گی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
37۔ چنانچہ اس کے پروردگار نے اس کی منت کو بخوشی قبول فرما لیا اور نہایت اچھی طرح اس کی نشو و نما کی اور زکریا کو اس کا [40] سرپرست بنا دیا۔ جب بھی زکریا مریم کے کمرہ میں داخل [41] ہوتے تو اس کے ہاں کوئی کھانے پینے کی چیز موجود پاتے اور پوچھتے ”مریم! یہ تجھے کہاں سے ملا؟ وہ کہہ دیتیں ”اللہ کے ہاں سے“ بلا شبہ اللہ جسے چاہے بے حساب رزق دیتا ہے
[40] حضرت مریمؑ کی والدہ کی منت کو اللہ تعالیٰ نے شرف قبولیت بخشا اور حضرت مریم کی جسمانی اور روحانی تربیت خوب اچھی طرح فرمائی۔ جب وہ سن شعور کو پہنچ گئیں اور مسجد (عبادت خانہ) میں جانے کے قابل ہو گئیں تو سوال یہ پیدا ہوا کہ ان کا کفیل اور نگران کون ہو؟ کیونکہ ہیکل سلیمانی میں بہت سے کاہن تھے جن میں ایک حضرت زکریاؑ بھی تھے۔ بالآخر یہ سعادت حضرت زکریاؑ کے حصہ میں آئی۔ کیونکہ ان کی بیوی حضرت مریمؑ کی حقیقی خالہ تھیں اور یہ قصہ تفصیل سے آگے بیان ہو رہا ہے۔ [41] سیدہ مریم اور اللہ کا رزق:۔
محراب سے مراد وہ جگہ نہیں جو مساجد میں امام کے کھڑے ہونے کے لیے بنائی جاتی ہے، بلکہ محراب ان بالا خانوں کو کہا جاتا تھا جو مسجد کے خادم، مجاورین اور ایسے ہی اللہ کی عبادت کے لیے وقف شدہ لوگوں کے لیے مسجد کے متصل بنائے جاتے تھے۔ انہیں کمروں میں ایک کمرہ حضرت مریمؑ کو دیا گیا تھا۔ جس میں وہ مصروف عبادت رہا کرتیں۔ اس کمرہ میں حضرت زکریاؑ کے علاوہ سب کا داخلہ ممنوع تھا۔ حضرت مریمؑ کے لیے سامان خورد و نوش بھی حضرت زکریاؑ ہی وہاں پہنچایا کرتے تھے۔ پھر بارہا ایسا بھی ہوا کہ حضرت زکریاؑ خوراک دینے کے لیے اس کمرہ میں داخل ہوئے تو حضرت مریمؑ کے پاس پہلے ہی سے سامان خورد و نوش پڑا دیکھا۔ وہ اس بات پر حیران تھے کہ جب میرے بغیر یہاں کوئی داخل نہیں ہو سکتا تو یہ کھانا اسے کون دے جاتا ہے؟ حضرت مریمؑ سے پوچھا تو انہوں نے بلا تکلف کہہ دیا۔ اللہ کے ہاں سے ہی مجھے یہ رزق مل جاتا ہے۔ اس سے زیادہ میں کچھ نہیں جانتی۔ واضح رہے کہ یہ آیت خرق عادت امور پر واضح دلیل ہے۔ انبیاء کے ہاں معجزات اور اولیاء اللہ کے ہاں کرامات کا صدور ہوتا ہی رہتا ہے اور یہ سب کچھ اللہ ہی کی مشیت و قدرت سے ہوتا ہے۔ اور حضرت زکریاؑ کے لیے حیرت و استعجاب کی باتیں دو تھیں۔ ایک یہ کہ آپ جو سامان خورد و نوش حضرت مریمؑ کے پاس پڑا دیکھتے وہ عموماً بے موسم پھلوں پر مشتمل ہوتا تھا اور دوسرے یہ کہ جب میرے سوا اس کمرہ میں کوئی داخل ہو ہی نہیں سکتا تو یہ پھل اور دوسرا سامان خورد و نوش حضرت مریمؑ کو دے کون جاتا ہے؟
سر سید احمد خاں کا نظریہ معجزات:۔
اب جو لوگ خرق عادت امور یا معجزات کے منکر ہیں، انہیں یہاں بھی مشکل پیش آ گئی اور ہمارے زمانے کے ایک مفسر قرآن سر سید تو بڑی آسانی سے ایسی مشکل سے چھٹکارا حاصل کر لیتے ہیں اور اس طرح کے واقعات کو بلا تکلف خواب کا واقعہ کہہ دیتے ہیں۔ حضرت عزیرؑ کے واقعہ میں بھی انہوں نے یہی کچھ کیا تھا اور یہاں بھی یہی کچھ کیا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر یہ خواب ہی واقعہ تھا تو حضرت زکریاؑ کو حیرانی کس بات پر ہوئی تھی جو اس سوال کا موجب بنی کہ:
﴿ يٰمَرْيَمُ اَنّيٰ لَكِ هٰذَا﴾
مریم! یہ تجھے کہاں سے یا کیسے مل گیا؟ اور یہ بھی ملاحظہ فرمائیے کہ ایسے مفسر، مفسر قرآن ہوتے ہیں یا محرف قرآن؟
﴿ يٰمَرْيَمُ اَنّيٰ لَكِ هٰذَا﴾
مریم! یہ تجھے کہاں سے یا کیسے مل گیا؟ اور یہ بھی ملاحظہ فرمائیے کہ ایسے مفسر، مفسر قرآن ہوتے ہیں یا محرف قرآن؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
زکریا علیہ السلام کا تعارف ٭٭
اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ حنہ کی نذر کو اللہ تعالیٰ نے بخوشی قبول فرما لیا اور اسے بہترین طور سے نشوونما بخشی، ظاہری خوبی بھی عطا فرمائی اور باطنی خوبی سے بھرپور کر دیا اور اپنے نیک بندوں میں ان کی پرورش کرائی تاکہ علم اور خیر اور دین سیکھ لیں، زکریا علیہ السلام کو ان کا کفیل بنا دیا۔
ابن اسحاق رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں یہ اس لیے کہ مریم علیہما السلام یتیم ہو گئی تھیں، لیکن دوسرے بزرگ فرماتے ہیں کہ قحط سالی کی وجہ سے ان کی کفالت کا بوجھ زکریا علیہ السلام نے اپنے ذمہ لے لیا تھا، ہو سکتا ہے کہ دونوں وجوہات اتفاقاً آپس میں مل گئی ہوں۔ «واللہ اعلم»
ابن اسحاق وغیرہ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ زکریا علیہ السلام ان کے خالو تھے، اور بعض لوگ کہتے ہیں ان کے بہنوئی تھے، جیسے معراج والی صحیح حدیث میں ہے کہ آپ نے یحییٰ اور عیسیٰ علیہم السلام سے ملاقات کی جو دونوں خالہ زاد بھائی ہیں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3887]۔
ابن اسحاق کے قول پر یہ حدیث ٹھیک ہے کیونکہ اصطلاح عرب میں ماں کی خالہ کے لڑکے کو بھی خالہ زاد بھائی کہہ دیتے ہیں پس ثابت ہوا کہ مریم اپنی خالہ کی پرورش میں تھیں۔
صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حمزہ رضی اللہ عنہ کی یتیم صاحبزادی عمرہ کو ان کی خالہ جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہا کی بیوی صاحبہ کے سپرد کیا تھا اور فرمایا تھا کہ خالہ قائم مقام ماں کے ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2699]۔
اب اللہ تعالیٰ مریم رضی اللہ عنہما کی بزرگی اور ان کی کرامت بیان فرماتا ہے کہ زکریا علیہ السلام جب کبھی ان کے پاس ان کے حجرے میں جاتے تو بے موسمی میوے ان کے پاس پاتے مثلاً جاڑوں میں گرمیوں کے میوے اور گرمیوں میں جاڑے کے میوے۔
مجاہد، عکرمہ، سعید بن جبیر، ابوالشعشاء، ابراہیم نخعی، ضحاک، قتادہ، ربیع بن انس، عطیہ عوفی، سدی رحمہ اللہ علیہم اس آیت کی تفسیر میں یہی فرماتے ہیں ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:2/227]
ابن اسحاق رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں یہ اس لیے کہ مریم علیہما السلام یتیم ہو گئی تھیں، لیکن دوسرے بزرگ فرماتے ہیں کہ قحط سالی کی وجہ سے ان کی کفالت کا بوجھ زکریا علیہ السلام نے اپنے ذمہ لے لیا تھا، ہو سکتا ہے کہ دونوں وجوہات اتفاقاً آپس میں مل گئی ہوں۔ «واللہ اعلم»
ابن اسحاق وغیرہ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ زکریا علیہ السلام ان کے خالو تھے، اور بعض لوگ کہتے ہیں ان کے بہنوئی تھے، جیسے معراج والی صحیح حدیث میں ہے کہ آپ نے یحییٰ اور عیسیٰ علیہم السلام سے ملاقات کی جو دونوں خالہ زاد بھائی ہیں۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3887]۔
ابن اسحاق کے قول پر یہ حدیث ٹھیک ہے کیونکہ اصطلاح عرب میں ماں کی خالہ کے لڑکے کو بھی خالہ زاد بھائی کہہ دیتے ہیں پس ثابت ہوا کہ مریم اپنی خالہ کی پرورش میں تھیں۔
صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حمزہ رضی اللہ عنہ کی یتیم صاحبزادی عمرہ کو ان کی خالہ جعفر بن ابوطالب رضی اللہ عنہا کی بیوی صاحبہ کے سپرد کیا تھا اور فرمایا تھا کہ خالہ قائم مقام ماں کے ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2699]۔
اب اللہ تعالیٰ مریم رضی اللہ عنہما کی بزرگی اور ان کی کرامت بیان فرماتا ہے کہ زکریا علیہ السلام جب کبھی ان کے پاس ان کے حجرے میں جاتے تو بے موسمی میوے ان کے پاس پاتے مثلاً جاڑوں میں گرمیوں کے میوے اور گرمیوں میں جاڑے کے میوے۔
مجاہد، عکرمہ، سعید بن جبیر، ابوالشعشاء، ابراہیم نخعی، ضحاک، قتادہ، ربیع بن انس، عطیہ عوفی، سدی رحمہ اللہ علیہم اس آیت کی تفسیر میں یہی فرماتے ہیں ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:2/227]
مجاہد رحمہ اللہ سے یہ بھی مروی ہے کہ یہاں رزق سے مراد علم اور وہ صحیفے ہیں جن میں علمی باتیں ہوتی تھیں لیکن اول قول ہی زیادہ صحیح ہے۔
اس آیت میں اولیاء اللہ کی کرامات کی دلیل ہے اور اس کے ثبوت میں بہت سی حدیثیں بھی آتی ہیں۔ زکریا علیہ السلام ایک دن پوچھ بیٹھے کہ مریم تمہارے پاس یہ رزق کہاں سے آتا ہے؟ صدیقہ نے جواب دیا کہ اللہ کے پاس سے، وہ جسے چاہے بےحساب روزی دیتا ہے۔
مسند حافظ ابویعلیٰ میں حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کئی دن بغیر کچھ کھائے گزر گئے بھوک سے آپ کو تکلیف ہونے لگی اپنی سب بیویوں کے گھر ہو آئے لیکن کہیں بھی کچھ نہ پایا۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور دریافت فرمایا کہ بچی تمہارے پاس کچھ ہے؟ کہ میں کھا لوں مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے، وہاں سے بھی یہی جواب ملا کہ اے اللہ کے رسول کچھ بھی نہیں، اللہ کے نبی «اللھم صلی وسلم علیہ» وہاں سے نکلے ہی تھے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی لونڈی نے دو روٹیاں اور ٹکڑا گوشت فاطمہ کے پاس بھیجا آپ نے اسے لے کر برتن میں رکھ لیا اور فرمانے لگیں گو مجھے، میرے خاوند اور بچوں کو بھوک ہے لیکن ہم سب فاقے ہی سے گزار دیں گے اور اللہ کی قسم آج تو یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو دوں گی، پھر حسن یا حسین کو آپ کی خدمت میں بھیجا کہ آپ کو بلا لائیں۔
اس آیت میں اولیاء اللہ کی کرامات کی دلیل ہے اور اس کے ثبوت میں بہت سی حدیثیں بھی آتی ہیں۔ زکریا علیہ السلام ایک دن پوچھ بیٹھے کہ مریم تمہارے پاس یہ رزق کہاں سے آتا ہے؟ صدیقہ نے جواب دیا کہ اللہ کے پاس سے، وہ جسے چاہے بےحساب روزی دیتا ہے۔
مسند حافظ ابویعلیٰ میں حدیث ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کئی دن بغیر کچھ کھائے گزر گئے بھوک سے آپ کو تکلیف ہونے لگی اپنی سب بیویوں کے گھر ہو آئے لیکن کہیں بھی کچھ نہ پایا۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور دریافت فرمایا کہ بچی تمہارے پاس کچھ ہے؟ کہ میں کھا لوں مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے، وہاں سے بھی یہی جواب ملا کہ اے اللہ کے رسول کچھ بھی نہیں، اللہ کے نبی «اللھم صلی وسلم علیہ» وہاں سے نکلے ہی تھے کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی لونڈی نے دو روٹیاں اور ٹکڑا گوشت فاطمہ کے پاس بھیجا آپ نے اسے لے کر برتن میں رکھ لیا اور فرمانے لگیں گو مجھے، میرے خاوند اور بچوں کو بھوک ہے لیکن ہم سب فاقے ہی سے گزار دیں گے اور اللہ کی قسم آج تو یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو دوں گی، پھر حسن یا حسین کو آپ کی خدمت میں بھیجا کہ آپ کو بلا لائیں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم راستے ہی میں ملے اور ساتھ ہو لیے، آپ آئے تو کہنے لگیں میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں اللہ نے کچھ بھجوا دیا ہے جسے میں نے آپ کے لیے چھپا کر رکھ دیا ہے، آپ نے فرمایا میری پیاری بچی لے آؤ، اب جو طشت کھولا تو دیکھتی ہے کہ روٹی سالن سے ابل رہا ہے دیکھ کر حیران ہو گئیں لیکن فوراً سمجھ گئیں کہ اللہ کی طرف سے اس میں برکت نازل ہو گئی ہے، اللہ کا شکر کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ پر درود پڑھا اور آپ کے پاس لا کر پیش کر دیا آپ نے بھی اسے دیکھ کر اللہ کی تعریف کی اور دریافت فرمایا کہ بیٹی یہ کہاں سے آیا؟ جواب دیا کہ ابا جان اللہ کے پاس سے وہ جسے چاہے بیحساب روزی دے، آپ نے فرمایا اللہ کا شکر ہے کہ اے پیاری بچی تجھے بھی اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی تمام عورتوں کی سردار جیسا کر دیا۔
انہیں جب کبھی اللہ تعالیٰ کوئی چیز عطا فرماتا اور ان سے پوچھا جاتا تو یہی جواب دیا کرتی تھیں کہ اللہ کے پاس سے ہے اللہ جسے چاہے بےحساب رزق دیتا ہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور آپ نے علی رضی اللہ عنہ نے اور فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اور حسین رضی اللہ عنہ نے اور آپ کی سب ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن اور اہل بیت نے خوب شکم سیر ہو کر کھایا پھر بھی اتنا ہی باقی رہا جتنا پہلے تھا جو آس پاس کے پڑوسیوں کے ہاں بھیجا گیا یہ خیر کثیر اور برکت اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھی۔ ۱؎ [الدار االمسشور اللسیوطی:2/36:ضعیف جداً]
انہیں جب کبھی اللہ تعالیٰ کوئی چیز عطا فرماتا اور ان سے پوچھا جاتا تو یہی جواب دیا کرتی تھیں کہ اللہ کے پاس سے ہے اللہ جسے چاہے بےحساب رزق دیتا ہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور آپ نے علی رضی اللہ عنہ نے اور فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اور حسین رضی اللہ عنہ نے اور آپ کی سب ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن اور اہل بیت نے خوب شکم سیر ہو کر کھایا پھر بھی اتنا ہی باقی رہا جتنا پہلے تھا جو آس پاس کے پڑوسیوں کے ہاں بھیجا گیا یہ خیر کثیر اور برکت اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھی۔ ۱؎ [الدار االمسشور اللسیوطی:2/36:ضعیف جداً]