کہہ دے اگر تم اسے چھپائو جو تمھارے سینوں میں ہے، یا اسے ظاہر کرو اللہ اسے جان لے گا اور وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور اللہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔
En
(اے پیغمبر لوگوں سے) کہہ دو کہ کوئی بات تم اپنے دلوں میں مخفی رکھو یا اسے ظاہر کرو خدا اس کو جانتا ہے اور جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے اس کو سب کی خبر ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے
کہہ دیجئے! کہ خواه تم اپنے سینوں کی باتیں چھپاؤ خواه ﻇاہر کرو اللہ تعالیٰ (بہرحال) جانتا ہے، آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسے معلوم ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے
En
اس آیت کی تفسیر آیت 28 میں تا آیت 30 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
29۔ آپ کہہ دیجئے: کہ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اسے تم چھپاؤ یا ظاہر کرو، اللہ اسے خوب جانتا [31] ہے۔ نیز جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے، اسے بھی جانتا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے
[31] یہ آیت در اصل پچھلی آیت ہی کی تفسیر ہے۔ یعنی اے مسلمانو! اگر تم کفر کی محبت کو دل میں جگہ دو گے یا کافروں سے محبت کا برتاؤ رکھو گے تو تمہارے یہ باطنی اور ظاہری اعمال اللہ کی نظروں سے پوشیدہ نہیں رہ سکتے۔ لہٰذا تم اللہ کی دی ہوئی رعایت سے اسی قدر فائدہ اٹھاؤ جس کے بغیر کوئی چارہ کار نظر نہ آ رہا ہو۔ ورنہ یاد رکھو کہ اللہ بڑی قدرت والا ہے۔ وہ تمہیں دنیا میں بھی سزا دے سکتا ہے اور ذلیل و رسوا کر سکتا ہے اور آخرت کے عذاب سے بھی بچ نہ سکو گے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اللہ تعالٰی سے ڈر ہمارے لئے بہتر ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ پوشیدہ کو اور چھپی ہوئی باتوں کو اور ظاہر باتوں کو بخوبی جانتا ہے کوئی چھوٹی سے چھوٹی بات بھی اس پر پوشیدہ نہیں اس کا علم سب چیزوں کو ہر وقت اور ہر لحظہ گھیرے ہوئے ہے۔ زمین کے گوشوں میں، پہاڑوں میں، سمندروں میں، آسمانوں میں، ہواؤں میں، سوراخوں میں، غرض جو کچھ جہاں کہیں ہے سب اس کے علم میں ہے پھر ان سب پر اس کی قدرت ہے جس طرح چاہے رکھے جو چاہے جزا سزا دے، پس اتنے بڑے وسیع علم والے اتنی بڑی زبردست قدرت والے سے ہر شخص کو ڈرتے ہوئے رہنا چاہیئے۔ اس کی فرمانبرداری میں مشغول رہنا چاہیئے اور اس کی نافرمانیوں سے علیحدہ رہنا چاہیئے، وہ عالم بھی ہے اور قادر بھی ہے ممکن ہے کسی کو ڈھیل دیدے لیکن جب پکڑے گا تب دبوچ لے گا پھر نہ مہلت ملے گی نہ رخصت، ایک دن آنے والا ہے جس دن تمام عمر کے برے بھلے سب کام سامنے رکھ دئیے جائیں گے، نیکیوں کو دیکھ کر خوشی ہو گی اور برائیوں پر نظریں ڈال کر دانت پیسے گا اور حسرت و افسوس کرے گا اور چاہے گا کہ میں ان سے کوسوں دور رہتا اور پرے ہی پرے رہتا۔
قرآن نے اور جگہ فرمایا «يُنَبَّأُالْإِنسَانُيَوْمَئِذٍبِمَاقَدَّمَوَأَخَّرَ»[75-القيامة:13] سب گزری ہوئی باتیں اس دن پیش کر دی جائیں گی، شیطان جو اس کے ساتھ دنیا میں رہتا تھا اور اسے برائیوں پر اکساتا تھا اس سے بھی اس دن بیزاری کرے گا اور کہے گا «يَالَيْتَبَيْنِيوَبَيْنَكَبُعْدَالْمَشْرِقَيْنِفَبِئْسَالْقَرِينُ»[43-الزخرف:38] کیا اچھا ہوتا کہ اے شیطان میرے اور تیرے درمیان مشرق و مغرب کا فاصلہ ہوتا وہ تو بڑا برا ساتھی ہے۔ پھر فرمایا اللہ تمہیں اپنے یعنی اپنے عذاب سے ڈرا دھمکا رہا ہے، پھر اللہ تعالیٰ جل جلالہ اپنے نیک بندوں کو خوشخبری دیتا ہے کہ وہ اس کے لطف و کرم سے کبھی ناامید نہ ہوں وہ نہایت ہی مہربان بہت رحم اور پیار رکھنے والا ہے۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ بھی اس کی سراسر مہربانی و لطف و محبت ہے کہ اس نے اپنے سے نہیں بلکہ اپنے عذاب سے اپنے بندوں کو ڈرایا، ۱؎[تفسیر ابن جریر الطبری:6/202] یہ بھی مطلب ہے کہ اللہ اپنے بندوں پر رحیم بندوں کو بھی چاہے کہ صراط مستقیم سے قدم نہ ہٹائیں دین پاک کو نہ چھوڑیں رسول اللہ کی فرمانبرداری سے منہ نہ موڑیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔