اِنَّ الَّذِیۡنَ یَکۡفُرُوۡنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَ یَقۡتُلُوۡنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیۡرِ حَقٍّ ۙ وَّ یَقۡتُلُوۡنَ الَّذِیۡنَ یَاۡمُرُوۡنَ بِالۡقِسۡطِ مِنَ النَّاسِ ۙ فَبَشِّرۡہُمۡ بِعَذَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿۲۱﴾
بے شک جو لوگ اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں اور نبیوں کو کسی حق کے بغیر قتل کرتے ہیں اور لوگوں میں سے جو انصاف کرنے کا حکم دیتے ہیں انھیں قتل کرتے ہیں، سو انھیں ایک دردناک عذاب کی خوش خبری سنا دے۔
En
جو لوگ خدا کی آیتوں کو نہیں مانتے اور انبیاء کو ناحق قتل کرتے رہے ہیں اور جو انصاف (کرنے) کا حکم دیتے ہیں انہیں بھی مار ڈالتے ہیں ان کو دکھ دینے والے عذاب کی خوشخبری سنا دو
En
جو لوگ اللہ تعالیٰ کی آیتوں سے کفر کرتے ہیں اورناحق نبیوں کو قتل کر ڈالتے ہیں اور جو لوگ عدل وانصاف کی بات کہیں انہیں بھی قتل کر ڈالتے ہیں، تو اے نبی! انہیں دردناک عذاب کی خبردے دیجئے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 22،21){اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْفُرُوْنَ …:} اس میں اہل کتاب کی مذمت ہے، جن کی پوری تاریخ شاہد ہے کہ انھوں نے نہ صرف احکام الٰہی پر عمل کرنے سے انکار کیا بلکہ انبیاء اور ان لوگوں کو قتل کرتے رہے جنھوں نے کبھی ان کے سامنے دعوت حق پیش کی اور یہ تکبر کی آخری حد ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کے دل میں ذرہ برابر کبر ہو گا وہ جنت میں داخل نہیں ہو گا۔“ ایک آدمی نے عرض کیا: ”ایک آدمی پسند کرتا ہے کہ اس کا کپڑا خوبصورت ہو اور اس کا جوتا اچھا ہو۔ “ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے، تکبر تو حق کے انکار اور لوگوں کو حقیر سمجھنے کا نام ہے۔“ [مسلم، الإیمان، باب تحریم الکبر و بیانہ: ۹۱، عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ]
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن سب سے سخت عذاب اس شخص کو ہو گا جسے کسی نبی نے قتل کیا، یا جس نے کسی نبی کو قتل کیا ہو۔“ [مسند أحمد: 407/1، ح: ۳۸۶۷، عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ۔ الصحیحۃ: ۲۸۱]
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن سب سے سخت عذاب اس شخص کو ہو گا جسے کسی نبی نے قتل کیا، یا جس نے کسی نبی کو قتل کیا ہو۔“ [مسند أحمد: 407/1، ح: ۳۸۶۷، عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ۔ الصحیحۃ: ۲۸۱]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
21۔ 1 یعنی ان کی سرکشی و بغاوت اس حد تک پہنچ چکی تھی کہ صرف نبیوں کو ہی انہوں نے ناحق قتل نہیں کیا بلکہ ان تک کو بھی قتل کر ڈالا جو عدل و انصاف کی بات کرتے تھے۔ یعنی وہ مومنین مخلصین اور داعیان حق جو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیتے تھے۔ نبیوں کے ساتھ ان کا تذکرہ فرما کر اللہ تعالیٰ نے ان کی عظمت و فضیلت بھی واضح کردی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
21۔ جو لوگ اللہ کی آیات کا انکار کرتے رہے اور انبیاء کو ناحق قتل [25] کرتے رہے اور ان لوگوں کو بھی جو انصاف کرنے کا حکم دیا کرتے تھے۔ تو ایسے لوگوں کو دکھ دینے والے عذاب [26] کی خوشخبری سنا دیجئے
[25] یہود اور قتل انبیاء:۔
انبیاء اور صالحین کے قتل ناحق کا کام دور نبوی کے یہود نے نہیں کیا تھا بلکہ ان کے اسلاف نے کیا تھا اور یہ واقعات اتنے مشہور و معروف تھے کہ کسی کو مجال انکار نہ تھی۔ پھر چونکہ دور نبوی کے یہودی اپنے اسلاف کے ایسے کارناموں پر راضی اور خوش تھے۔ لہٰذا قرآن نے بجا طور پر انہیں مخاطب کیا ہے۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل نے تینتالیس (43) پیغمبروں کو ایک ہی دن صبح کے وقت قتل کیا یہ کام بنی اسرائیل کے علماء اپنی حکومت کے ساتھ ملی بھگت کے ذریعہ سرانجام دیا کرتے تھے۔ جیسا کہ انہوں نے حضرت عیسیٰؑ کو حکومت کے ذریعہ سولی پر چڑھانے کی مذموم کوشش کی تھی۔ جب یہ لوگ اتنے انبیاء کو قتل کر چکے تو ان کے متبعین اور اللہ سے ڈرنے والوں نے ان کے ایسے مذموم کارنامہ پر زبردست احتجاج کیا تو انہوں نے ان صالحین میں سے ایک سو ستر سر کردہ آدمیوں کو اسی شام قتل کر دیا، اور یہ وہ لوگ تھے جو ان کو ایسی بری حرکتوں سے روکتے اور انصاف کرنے کا حکم دیا کرتے تھے اور ان انبیاء کے قتل کرنے کا اصل سبب وہی تھا جو قرآن نے واضح الفاظ میں بتلا دیا ہے کہ انبیاء کی اطاعت کرنے سے ان کا اپنا جاہ و اقتدار خطرہ میں پڑ جاتا تھا۔ لہٰذا انہوں نے اپنی سرداریاں اور چودھراہٹیں بحال رکھنے کی خاطر انبیاء اور صالحین کو قتل کر دینے میں ہی اپنی عافیت سمجھی۔ انبیاء کا قتل بہت بڑے کبیرہ گناہوں سے ہے۔ حضرت ابو عبیدہؓ نے ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب کس کو ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی پیغمبر کو قتل کیا یا اچھی بات کہنے والے اور بری بات سے منع کرنے والے کو۔“ نیز حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ آپ نے ہمیں بہت سی احادیث سنائیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ اس قوم پر اللہ کا غضب بھڑک اٹھتا ہے جو اللہ کے رسول کو قتل کریں۔
[مسلم، کتاب الجہاد والسیر، باب اشتداد غضب اللہ من قتلہ رسول اللہ]
[26] یہود کے لیے خوشخبری کے لفظ کا استعمال تو بطور طنز ہے اور جو دردناک عذاب انہیں اس دنیا میں ملا اس کا اجمالاً ذکر ہم پہلے کر چکے ہیں۔ یہی قوم مغضوب علیہم قرار دی گئی اور ذلت و مسکنت ان کے مقدر کر دی گئی۔ الا یہ کہ وہ دوسرے لوگوں کی پناہ میں آ جائیں۔ رہا عذاب اخروی تو اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے بتلا دیا کہ ایسے ہی لوگ سب سے زیادہ سخت عذاب کے مستحق ہوں گے۔
[مسلم، کتاب الجہاد والسیر، باب اشتداد غضب اللہ من قتلہ رسول اللہ]
[26] یہود کے لیے خوشخبری کے لفظ کا استعمال تو بطور طنز ہے اور جو دردناک عذاب انہیں اس دنیا میں ملا اس کا اجمالاً ذکر ہم پہلے کر چکے ہیں۔ یہی قوم مغضوب علیہم قرار دی گئی اور ذلت و مسکنت ان کے مقدر کر دی گئی۔ الا یہ کہ وہ دوسرے لوگوں کی پناہ میں آ جائیں۔ رہا عذاب اخروی تو اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے بتلا دیا کہ ایسے ہی لوگ سب سے زیادہ سخت عذاب کے مستحق ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
انبیاء کے قاتل بنو اسرائیل ٭٭
یہاں ان اہل کتاب کی مذمت بیان ہو رہی ہے جو گناہ اور حرام کام کرتے رہتے تھے اور اللہ کی پہلی اور بعد کی باتوں کو جو اس نے اپنے رسولوں کے ذریعہ پہنچائیں جھٹلاتے رہتے تھے، اتنا ہی نہیں بلکہ پیغمبروں کو مار ڈالتے بلکہ اس قدر سرکش تھے کہ جو لوگ انہیں عدل و انصاف کی بات کہیں انہیں بیدریغ تہ تیغ کر دیا کرتے تھے، حدیث میں ہے حق کو نہ ماننا اور حق والوں کو ذلیل جاننا یہی کبر و غرور ہے ۱؎ [صحیح مسلم:91]
مسند ابوحاتم میں ہے سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ سب سے زیادہ سخت عذاب کسے ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ”جو کسی نبی کو مار ڈالے یا کسی ایسے شخص کو جو بھلائی کا بتانے والا اور برائی سے بچانے والا“، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت فرمائی اور فرمایا ”اے ابوعبیدہ! بنو اسرائیل نے تینتالیس نبیوں کو دن کے اول حصہ میں ایک ہی ساعت میں قتل کیا پھر ایک سو ستر بنو اسرائیل کے وہ ایماندار جو انہیں روکنے کے لیے کھڑے ہوئے تھے انہیں بھلائی کا حکم دے رہے تھے اور برائی سے روک رہے تھے ان سب کو بھی اسی دن کے آخری حصہ میں مار ڈالا اس آیت میں اللہ تعالیٰ انہی کا ذکر کر رہا ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:2/162:ضعیف]
مسند ابوحاتم میں ہے سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ سب سے زیادہ سخت عذاب کسے ہو گا؟ آپ نے فرمایا: ”جو کسی نبی کو مار ڈالے یا کسی ایسے شخص کو جو بھلائی کا بتانے والا اور برائی سے بچانے والا“، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت فرمائی اور فرمایا ”اے ابوعبیدہ! بنو اسرائیل نے تینتالیس نبیوں کو دن کے اول حصہ میں ایک ہی ساعت میں قتل کیا پھر ایک سو ستر بنو اسرائیل کے وہ ایماندار جو انہیں روکنے کے لیے کھڑے ہوئے تھے انہیں بھلائی کا حکم دے رہے تھے اور برائی سے روک رہے تھے ان سب کو بھی اسی دن کے آخری حصہ میں مار ڈالا اس آیت میں اللہ تعالیٰ انہی کا ذکر کر رہا ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:2/162:ضعیف]
ابن جریر میں ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ بنو اسرائیل نے تین سو نبیوں کو دن کے شروع میں قتل کیا اور شام کو سبزی پالک بیچنے بیٹھ گئے، پس ان لوگوں کی اس سرکشی تکبر اور خود پسندی نے ذلیل کر دیا اور آخرت میں بھی رسوا کن بدترین عذاب ان کے لیے تیار ہیں، اسی لیے فرمایا کہ انہیں درد ناک ذلت والے عذاب کی خبر پہنچا دو، ان کے اعمال دنیا میں بھی غارت اور آخرت میں بھی برباد اور ان کا کوئی مددگار اور سفارشی بھی نہ ہو گا۔