ترجمہ و تفسیر — سورۃ آل عمران (3) — آیت 175

اِنَّمَا ذٰلِکُمُ الشَّیۡطٰنُ یُخَوِّفُ اَوۡلِیَآءَہٗ ۪ فَلَا تَخَافُوۡہُمۡ وَ خَافُوۡنِ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۷۵﴾
یہ تو شیطان ہی ہے جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے، تو تم ان سے مت ڈرو اور مجھ سے ڈرو، اگر تم مومن ہو۔ En
یہ (خوف دلانے والا) تو شیطان ہے جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے تو اگر تم مومن ہو تو ان سے مت ڈرنا اور مجھ ہی سے ڈرتے رہنا
En
یہ خبر دینے واﻻ صرف شیطان ہی ہے جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے تم ان کافروں سے نہ ڈرو اور میرا خوف رکھو، اگر تم مومن ہو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 175)وہ شخص جو یہ افواہیں پھیلا رہا تھا اسے شیطان فرمایا اور بتایا کہ یہ اپنے کافر اور منافق دوستوں سے ڈرا رہا ہے، مسلمانوں کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا ڈر دل میں نہ لائیں۔ حقیقی شیطان بھی اپنے انسانی دوست شیطانوں کے دلوں میں مسلمانوں کو خوف زدہ کرنے کے نئے سے نئے طریقے ڈالتا رہتا ہے۔ دیکھیے سورۂ انعام (۱۱۲) آج کل اخبار، ریڈیو، ٹی وی اور انٹرنیٹ جھوٹ پھیلانے اور خوف زدہ کرنے کے لیے شیطان کے آلات ہیں۔ مومن کو ان کی خبروں سے ڈرنے کے بجائے اللہ پر بھروسا کرنا چاہیے اور { اَلْحَرْبُ خُدْعَةٌ} کے تحت ان کا علاج بھی کرنا چاہیے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

175۔ 1 یعنی تمہیں اس وسوسے اور وہم میں ڈالتا ہے کہ وہ بڑے مضبوط اور طاقتور ہیں۔ 175۔ 2 یعنی جب وہ تمہیں اس وہم میں مبتلا کرے تو تم صرف مجھ پر ہی بھروسہ رکھو اور میری ہی طرف رجوع کرو میں تمہیں کافی ہوجاؤں گا اور تمہارا ناصر ہوں گا، جیسے دوسرے مقام پر فرمایا (اَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٗ ۭ) 39:36 کیا اللہ اپنے بندے کو کافی نہیں ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

175۔ یہ شیطان ہی تو ہے جو تمہیں اپنے دوستوں (لشکر کفار) سے ڈراتا ہے۔ لہذا اگر تم مومن ہو تو اس سے [173] نہ ڈرو بلکہ صرف مجھی سے ڈرو
[173] پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ ابو سفیان نے خود ہی غزوہ احد سے اگلے سال بدر کے میدان میں مقابلہ کے لیے چیلنج کیا۔ مگر بعد میں خود ہی ہمت ہار بیٹھا اور الزام مسلمانوں کے سر تھوپنے اور انہیں ڈرانے اور دہشت زدہ کرنے کے لیے ایک شخص نعیم بن مسعود کو کچھ دے دلا کر اس بات پر آمادہ کیا کہ مدینہ جا کر مسلمانوں کو بتلائے کہ ابو سفیان نے اتنا لشکر جرار تیار کرنے کی ٹھانی ہے جو عرب بھر کے مقابلہ کو کافی ہو گا۔ اس طرح مسلمان خود خوف زدہ ہو کر بدر میں مقابلہ پر آنے کا ارادہ ترک کر دیں گے۔ اس سارے ڈرامہ کو اللہ تعالیٰ نے شیطانی کھیل سے تعبیر فرمایا ہے۔ یہاں شیطان سے مراد ابو سفیان بھی ہو سکتا ہے اور نعیم بن مسعود بھی، اور مسلمانوں کو تاکید کی جا رہی ہے کہ میرے سوا کسی طاغوتی طاقت سے مت ڈریں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔