ترجمہ و تفسیر — سورۃ آل عمران (3) — آیت 174

فَانۡقَلَبُوۡا بِنِعۡمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ وَ فَضۡلٍ لَّمۡ یَمۡسَسۡہُمۡ سُوۡٓءٌ ۙ وَّ اتَّبَعُوۡا رِضۡوَانَ اللّٰہِ ؕ وَ اللّٰہُ ذُوۡ فَضۡلٍ عَظِیۡمٍ ﴿۱۷۴﴾
تو وہ اللہ کی طرف سے عظیم نعمت اور فضل کے ساتھ لوٹے، انھیں کوئی برائی نہیں پہنچی اور انھوں نے اللہ کی رضا کی پیروی کی اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے۔ En
پھر وہ خدا کی نعمتوں اور اس کے فضل کے ساتھ (خوش وخرم) واپس آئے ان کو کسی طرح کا ضرر نہ پہنچا۔ اور وہ خدا کی خوشنودی کے تابع رہے۔ اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے
En
(نتیجہ یہ ہوا کہ) اللہ کی نعمت وفضل کے ساتھ یہ لوٹے، انہیں کوئی برائی نہ پہنچی، انہوں نے اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی پیروی کی، اللہ بہت بڑے فضل واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 174)اس آیت سے اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث سے کلمہ «حَسْبُنَا اللّٰهُ وَ نِعْمَ الْوَكِيْلُ» کی فضیلت ثابت ہوتی ہے کہ کس طرح ابراہیم علیہ السلام، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہر قسم کی برائی سے محفوظ رہ کر اللہ کی نعمت اور فضل کے ساتھ واپس پلٹے اور انھوں نے اللہ کی رضا کی پیروی کی۔ اس لیے ہر مصیبت کے وقت اس وظیفہ کے معنی کا خیال کرتے ہوئے دل اور زبان کو ایک کر کے اسے کثرت سے پڑھنا چاہیے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

174۔ 1 نِعْمَۃ، سے مراد سلامتی ہے اور فضل سے مراد نفع ہے جو بدر صغریٰ تجارت کے ذریعے حاصل ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر صغریٰ میں ایک گزرنے والے قافلے سے سامان تجارت خرید کر فروخت کیا جس سے نفع حاصل ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں میں تقسیم کردیا (ابن کثیر)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

174۔ یہ لوگ اللہ کا فضل اور اس کی نعمت حاصل کر کے واپس آئے، انہیں کوئی تکلیف بھی [172] نہ پہنچی، وہ اللہ کی رضا کے پیچھے لگے رہے اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے
[172] یعنی صحابہ کرامؓ ہر لحاظ سے فائدہ میں رہے۔ اللہ کی رضا بھی حاصل ہو گئی۔ جنگ کی سختی سے بھی بچ رہے۔ دشمن بھی مرعوب ہو کر واپس چلا گیا اور مالی فائدہ بھی حاصل ہو گیا اور ہر طرح سے کامیاب کامران واپس لوٹے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔