قُلۡ اَؤُنَبِّئُکُمۡ بِخَیۡرٍ مِّنۡ ذٰلِکُمۡ ؕ لِلَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا عِنۡدَ رَبِّہِمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا وَ اَزۡوَاجٌ مُّطَہَّرَۃٌ وَّ رِضۡوَانٌ مِّنَ اللّٰہِ ؕ وَ اللّٰہُ بَصِیۡرٌۢ بِالۡعِبَادِ ﴿ۚ۱۵﴾
کہہ دے کیا میں تمھیں اس سے بہتر چیز بتائوں، جو لوگ متقی بنے ان کے لیے ان کے رب کے پاس باغات ہیں، جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں اور نہایت پاک صاف بیویاں اور اللہ کی جانب سے عظیم خوشنودی ہے اور اللہ بندوں کو خوب دیکھنے والاہے۔
En
(اے پیغمبر ان سے) کہو کہ بھلا میں تم کو ایسی چیز بتاؤں جو ان چیزوں سے کہیں اچھی ہو (سنو) جو لوگ پرہیزگار ہیں ان کے لیے خدا کے ہاں باغات (بہشت) ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور پاکیزہ عورتیں ہیں اور (سب سے بڑھ کر) خدا کی خوشنودی اور خدا (اپنے نیک) بندوں کو دیکھ رہا ہے
En
آپ کہہ دیجئے! کیا میں تمہیں اس سے بہت ہی بہتر چیز بتاؤں؟ تقویٰ والوں کے لئے ان کے رب تعالیٰ کے پاس جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وه ہمیشہ رہیں گے اور پاکیزه بیویاں اور اللہ تعالیٰ کی رضامندی ہے، سب بندے اللہ تعالیٰ کی نگاه میں ہیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 15) دیکھیے سورۂ بقرہ کی آیت (۲۵) کی تفسیر۔ اس آیت میں مذکور لفظ { ”رِضْوَانٌ“ ” رَضِيَ يَرْضَي (س)“} ناقص واوی سے مصدر ہے، اس کا مصدر {”رِضًا “} بھی آتا ہے، مگر {”رِضْوَانٌ“} میں حروف زیادہ ہونے اور تنوین برائے تعظیم ہونے کی وجہ سے ترجمہ ”عظیم خوشنودی “ کیا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ نعمت جنت کی تمام نعمتوں سے اعلیٰ ہے، اللہ نے فرمایا: «وَ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُ» [التوبۃ: ۷۲] ”اور اللہ کی طرف سے تھوڑی سی خوشنودی سب سے بڑی ہے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
15۔ 1 اس آیت میں اہل ایمان کو بتلایا جا رہا ہے کہ دنیا کی مذکورہ چیزوں میں ہی مت کھو جانا بلکہ ان سے بہتر وہ زندگی اور نعمتیں ہیں جو رب کے پاس ہیں جن کے مستحق اہل تقویٰ ہی ہونگے اس لئے تم تقویٰ اختیار کرو اگر یہ تمہارے اندر پیدا ہوگیا تو یقینا تم دین دنیا کی بھلائیاں اپنے دامن میں سمیٹ لو گے۔ 15۔ 2 پاکیزہ یعنی وہ دنیاوی میل کچیل حیض و نفاس اور دیگر آلودگیوں سے پاک ہوں گی اور پاک دامن ہونگی۔ اس سے اگلی دو آیات میں اہل تقویٰ کی صفات کا تذکرہ ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
15۔ آپ لوگوں سے کہئے: کیا میں تمہیں ایسی چیزوں کی خبر دوں جو اس دنیوی سامان سے بہتر ہیں؟ جو لوگ تقویٰ اختیار کریں۔ [16] ان کے لیے ان کے پروردگار کے ہاں ایسے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ اور وہاں انہیں پاک صاف بیویاں [17] میسر ہوں گی اور اللہ کی رضامندی [18] (ان سب نعمتوں سے بڑھ کر ہو گی) اور اللہ تعالیٰ ہر وقت اپنے بندوں [19] کو دیکھ رہا ہے
[16] یعنی وہ لوگ جو مندرجہ بالا کے حصول میں شریعت کی حدود و قیود اور حلال و حرام کی تمیز رکھیں ان کے حصول میں اس قدر مستغرق نہ ہو جائیں کہ اللہ کی یاد اور فکر آخرت کو بھول ہی جائیں اور جب ان چیزوں میں سے کوئی چیز یا سب چیزیں انہیں حاصل ہو جائیں تو ان میں اللہ تعالیٰ کے حقوق کی ادائیگی کریں اور انہیں اسی طرح خرچ کریں جس طرح اللہ اور اس کے رسول نے حکم دیا ہے۔ [17] جنت میں پاکباز بیویوں کی زوجیت:۔
ازواج زوج کی جمع ہے اور زوج ذو معنی لفظ ہے۔ خاوند کے لیے اس کی بیوی اس کا زوج ہے اور بیوی کے لیے اس کا خاوند اس کا زوج ہے۔ یعنی اگر دنیا میں کسی نیک آدمی کی بیوی نہیں تھی تو اسے کوئی نیک بیوی ہی ملے گی اور بد سرشت بیوی جہنم میں ہو گی۔ اسی طرح اگر کسی نیک بیوی کا خاوند بد سرشت تھا تو اسے جنت میں نیک شوہر نصیب ہو گا، اور بد کار شوہر جہنم میں ہو گا اور اگر دونوں نیک بخت اور نیکو کار تھے تو انہیں جنت میں بھی رفاقت نصیب ہو گی۔ اس سلسلہ کے علاوہ بھی نیک لوگوں کو پاک باز بیویاں نصیب ہوں گی جیسا کہ قرآن اور حدیث کے بے شمار ارشادات سے یہ بات ثابت ہے۔
[18] اللہ کی دائمی رضا مندی:۔
حضرت ابو سعید خدریؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جنتی لوگوں سے پوچھے گا۔ ”کیا تم اب خوش ہو؟“ وہ کہیں گے: پروردگار! بھلا اب بھی ہم خوش نہ ہوں گے جبکہ تو نے ہمیں وہ کچھ عطا فرما دیا جو اور کسی مخلوق کو نہیں دیا؟ اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: ”اب میں تمہیں وہ نعمت دیتا ہوں جو ان سب نعمتوں سے افضل ہے۔“ وہ پوچھیں گے۔ ”بھلا ان نعمتوں سے افضل اور کون سی نعمت ہو سکتی ہے؟“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”وہ نعمت میری رضا مندی ہے۔ اب میں اپنی رضا مندی تمہارے نصیب کرتا ہوں۔ اس کے بعد میں کبھی تم سے ناراض نہ ہوں گا۔“
[بخاری، کتاب التوحید، باب کلام الرب مع اہل الجنۃ]
[19] یعنی وہ بندے جو عذاب دوزخ سے نجات کی خاطر اللہ تعالیٰ کے احکام پابندی کے ساتھ بجا لاتے ہیں، زندگی کے ہر لمحہ حلال و حرام کی تمیز رکھتے ہیں اور پھر ساتھ ہی ساتھ اللہ سے دعا بھی کرتے رہتے ہیں کہ ہمارے گناہ معاف فرما دے اور دوزخ کے عذاب سے بچا لے۔
[بخاری، کتاب التوحید، باب کلام الرب مع اہل الجنۃ]
[19] یعنی وہ بندے جو عذاب دوزخ سے نجات کی خاطر اللہ تعالیٰ کے احکام پابندی کے ساتھ بجا لاتے ہیں، زندگی کے ہر لمحہ حلال و حرام کی تمیز رکھتے ہیں اور پھر ساتھ ہی ساتھ اللہ سے دعا بھی کرتے رہتے ہیں کہ ہمارے گناہ معاف فرما دے اور دوزخ کے عذاب سے بچا لے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
دنیا کے حسن اور آخرت کے جمال کا تقابل ٭٭
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ دنیا کی زندگی کو طرح طرح کی لذتوں سے سجایا گیا ہے ان سب چیزوں میں سب سے پہلے عورتوں کو بیان فرمایا، اس لیے کہ ان کا فتنہ بڑا زبردست ہے۔ صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں میں نے اپنے بعد مردوں کیلئے عورتوں سے زیادہ نقصان دہ اور کوئی فتنہ نہیں چھوڑا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5096]
ہاں جب کسی شخص کی نیت نکاح کر کے زنا سے بچنے کی اور اولاد کی کثرت سے ہو تو بیشک یہ نیک کام ہے اس کی رغبت شریعت نے دلائی ہے اور اس کا حکم دیا ہے اور بہت سی حدیثیں نکاح کرنے بلکہ کثرت نکاح کرنے کی فضیلت میں آئی ہیں اور اس امت میں سب سے بہتر وہ ہے جو سب سے زیادہ بیویوں والا ہو۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5069]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: دنیا کا ایک فائدہ ہے اور اس کا بہترین فائدہ نیک بیوی ہے کہ خاوند اگر اس کی طرف دیکھے تو یہ اسے خوش کر دے اور اگر حکم دے تو بجا لائے اور اگر کہیں چلا جائے تو اپنے نفس کی اور خاوند کے مال کی حفاظت کرے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1469]
دوسری حدیث میں ہے مجھے عورتیں اور خوشبو بہت پسند ہے اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔ ۱؎ [سنن نسائی:3392،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب عورتیں تھیں، ہاں گھوڑے ان سے بھی زیادہ پسند تھے۔ ۱؎ [سنن نسائی:3393،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
ایک اور روایت میں ہے گھوڑوں سے زیادہ آپ کی چاہت کی چیز کوئی اور نہ تھی ہاں صرف عورتیں۔ ثابت ہوا عورتوں کی محبت بھلی بھی ہے اور بری بھی۔ اسی طرح اولاد کی اگر ان کی کثرت اس لیے چاہتا ہے کہ وہ فخر و غرور کرے تو بری چیز ہے اور اگر اس لیے ان کی زیادتی چاہتا ہے کہ نسل بڑھے اور موحد مسلمانوں کی گنتی امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں زیادہ ہو تو بیشک یہ بھلائی کی چیز ہے۔
ہاں جب کسی شخص کی نیت نکاح کر کے زنا سے بچنے کی اور اولاد کی کثرت سے ہو تو بیشک یہ نیک کام ہے اس کی رغبت شریعت نے دلائی ہے اور اس کا حکم دیا ہے اور بہت سی حدیثیں نکاح کرنے بلکہ کثرت نکاح کرنے کی فضیلت میں آئی ہیں اور اس امت میں سب سے بہتر وہ ہے جو سب سے زیادہ بیویوں والا ہو۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5069]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: دنیا کا ایک فائدہ ہے اور اس کا بہترین فائدہ نیک بیوی ہے کہ خاوند اگر اس کی طرف دیکھے تو یہ اسے خوش کر دے اور اگر حکم دے تو بجا لائے اور اگر کہیں چلا جائے تو اپنے نفس کی اور خاوند کے مال کی حفاظت کرے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1469]
دوسری حدیث میں ہے مجھے عورتیں اور خوشبو بہت پسند ہے اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔ ۱؎ [سنن نسائی:3392،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب عورتیں تھیں، ہاں گھوڑے ان سے بھی زیادہ پسند تھے۔ ۱؎ [سنن نسائی:3393،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
ایک اور روایت میں ہے گھوڑوں سے زیادہ آپ کی چاہت کی چیز کوئی اور نہ تھی ہاں صرف عورتیں۔ ثابت ہوا عورتوں کی محبت بھلی بھی ہے اور بری بھی۔ اسی طرح اولاد کی اگر ان کی کثرت اس لیے چاہتا ہے کہ وہ فخر و غرور کرے تو بری چیز ہے اور اگر اس لیے ان کی زیادتی چاہتا ہے کہ نسل بڑھے اور موحد مسلمانوں کی گنتی امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں زیادہ ہو تو بیشک یہ بھلائی کی چیز ہے۔
حدیث شریف میں ہے محبت کرنے والیوں اور زیادہ اولاد پیدا کرنے والی عورتوں سے نکاح کرو۔ قیامت کے دن میں تمہاری زیادتی سے اور امتوں پر فخر کرنے والا ہوں۔ ۱؎ [مسند احمد:3/158:صحیح]
ٹھیک اسی طرح مال بھی ہے کہ اگر اس کی محبت گرے پڑے لوگوں کو حقیر سمجھنے اور مسکینوں غریبوں پر فخر کرنے کے لیے ہے تو بے حد بری چیز ہے۔ اور اگر مال کی چاہت اپنوں اور غیروں سے سلوک کرنے نیکیاں کرنے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لیے ہے تو ہر طرح وہ شرعاً اچھی اور بہت اچھی چیز ہے۔
«قِنْطَار» کی مقدار میں مفسرین کا اختلاف ہے، ماحصل یہ ہے کہ بہت زیادہ مال کو قنطار کہتے ہیں، جیسے ضحاک رحمہ اللہ کا قول ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:6/250]
اور اقوال بھی ملاحظہ ہوں، ایک ہزار دینار، بارہ ہزار چالیس ہزار ساٹھ ہزار، ستر ہزار، اسی ہزار وغیرہ وغیرہ۔ مسند احمد کی ایک مرفوع حدیث میں ہے، ایک قنطار ہزار اوقیہ کا ہے اور ہر اوقیہ بہتر ہے زمین و آسمان سے۔ ۱؎ [مسند احمد:2/263:حسن]
غالباً یہاں مقدار ثواب کی بیان ہوئی ہے جو ایک قنطار ملے گا [واللہ اعلم] سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی ایسی ہی ایک موقوف روایت بھی مروی ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔
اسی طرح ابن جریر میں معاذ بن جبل اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی مروی ہے، اور ابن ابی حاتم میں سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ قنطار بارہ سو اوقیہ ہیں، ابن جریر رحمہ اللہ کی ایک مرفوع حدیث میں بارہ سو اوقیہ آئے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:6698:ضعیف]
لیکن وہ حدیث بھی منکر ہے، ممکن ہے کہ وہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا قول ہو جیسے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کا بھی یہی فرمان ہے۔ ابن مردویہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو شخص سو آیتیں پڑھ لے غافلوں میں نہیں لکھا جائے گا اور جس نے سو سے ہزار تک پڑھ لیں اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک قنطار اجر ملے گا، اور قنطار بڑے پہاڑ کے برابر ہے۔ ۱؎ [طبرانی:1/268:ضعیف]
مستدرک حاکم میں ہی اس آیت کے اس لفظ کا مطلب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو ہزار اوقیہ، ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:6725:ضعیف] امام حاکم رحمہ اللہ اسے صحیح اور شرط شیخین پر بتلاتے ہیں۔
ٹھیک اسی طرح مال بھی ہے کہ اگر اس کی محبت گرے پڑے لوگوں کو حقیر سمجھنے اور مسکینوں غریبوں پر فخر کرنے کے لیے ہے تو بے حد بری چیز ہے۔ اور اگر مال کی چاہت اپنوں اور غیروں سے سلوک کرنے نیکیاں کرنے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لیے ہے تو ہر طرح وہ شرعاً اچھی اور بہت اچھی چیز ہے۔
«قِنْطَار» کی مقدار میں مفسرین کا اختلاف ہے، ماحصل یہ ہے کہ بہت زیادہ مال کو قنطار کہتے ہیں، جیسے ضحاک رحمہ اللہ کا قول ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:6/250]
اور اقوال بھی ملاحظہ ہوں، ایک ہزار دینار، بارہ ہزار چالیس ہزار ساٹھ ہزار، ستر ہزار، اسی ہزار وغیرہ وغیرہ۔ مسند احمد کی ایک مرفوع حدیث میں ہے، ایک قنطار ہزار اوقیہ کا ہے اور ہر اوقیہ بہتر ہے زمین و آسمان سے۔ ۱؎ [مسند احمد:2/263:حسن]
غالباً یہاں مقدار ثواب کی بیان ہوئی ہے جو ایک قنطار ملے گا [واللہ اعلم] سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی ایسی ہی ایک موقوف روایت بھی مروی ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔
اسی طرح ابن جریر میں معاذ بن جبل اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے بھی مروی ہے، اور ابن ابی حاتم میں سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ قنطار بارہ سو اوقیہ ہیں، ابن جریر رحمہ اللہ کی ایک مرفوع حدیث میں بارہ سو اوقیہ آئے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:6698:ضعیف]
لیکن وہ حدیث بھی منکر ہے، ممکن ہے کہ وہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا قول ہو جیسے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کا بھی یہی فرمان ہے۔ ابن مردویہ میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو شخص سو آیتیں پڑھ لے غافلوں میں نہیں لکھا جائے گا اور جس نے سو سے ہزار تک پڑھ لیں اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک قنطار اجر ملے گا، اور قنطار بڑے پہاڑ کے برابر ہے۔ ۱؎ [طبرانی:1/268:ضعیف]
مستدرک حاکم میں ہی اس آیت کے اس لفظ کا مطلب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دو ہزار اوقیہ، ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:6725:ضعیف] امام حاکم رحمہ اللہ اسے صحیح اور شرط شیخین پر بتلاتے ہیں۔
بخاری مسلم نے اسے نقل نہیں کیا، طبرانی وغیرہ میں ہے ایک ہزار دینار۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:2/111:ضعیف]
حسن بصری رحمہ اللہ سے موقوفاً یا مرسلاً مروی ہے کہ بارہ سو دینار، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے، ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں بعض عرب قنطار کو بارہ سو کا بتاتے ہیں۔
بعض بارہ ہزار کا، سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں بیل کی کھال کے بھر جانے کے برابر سونے کو قنطار کہتے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:2/115] یہ مرفوعاً بھی مروی ہے لیکن زیادہ صحیح موقوفاً ہے۔
گھوڑوں کی محبت تین قسم کی ہے، ایک تو وہ لوگ جو گھوڑوں کو پالتے ہیں اور اللہ کی راہ میں ان پر سوار ہو کر جہاد کرنے کیلئے نکلتے ہیں، ان کیلئے تو یہ بہت ہی اجر و ثواب کا سبب ہیں۔ دوسرے وہ جو فخر و غرور کے طور پر پالتے ہیں، ان کیلئے وبال ہے، تیسرے وہ جو سوال سے بچنے اور ان کی نسل کی حفاظت کیلئے پالتے ہیں اور اللہ کا حق نہیں بھولتے، یہ نہ اجر نہ عذاب کے مستحق ہیں۔ اسی مضمون کی حدیث آیت «وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَيْلِ» [8-الأنفال:60] کی تفسیر میں آئے گی ان شاءاللہ۔
حسن بصری رحمہ اللہ سے موقوفاً یا مرسلاً مروی ہے کہ بارہ سو دینار، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے، ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں بعض عرب قنطار کو بارہ سو کا بتاتے ہیں۔
بعض بارہ ہزار کا، سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں بیل کی کھال کے بھر جانے کے برابر سونے کو قنطار کہتے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:2/115] یہ مرفوعاً بھی مروی ہے لیکن زیادہ صحیح موقوفاً ہے۔
گھوڑوں کی محبت تین قسم کی ہے، ایک تو وہ لوگ جو گھوڑوں کو پالتے ہیں اور اللہ کی راہ میں ان پر سوار ہو کر جہاد کرنے کیلئے نکلتے ہیں، ان کیلئے تو یہ بہت ہی اجر و ثواب کا سبب ہیں۔ دوسرے وہ جو فخر و غرور کے طور پر پالتے ہیں، ان کیلئے وبال ہے، تیسرے وہ جو سوال سے بچنے اور ان کی نسل کی حفاظت کیلئے پالتے ہیں اور اللہ کا حق نہیں بھولتے، یہ نہ اجر نہ عذاب کے مستحق ہیں۔ اسی مضمون کی حدیث آیت «وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَيْلِ» [8-الأنفال:60] کی تفسیر میں آئے گی ان شاءاللہ۔
«مُسَوَّمَۃ» کے معنی چرنے والا ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:6/252] اور پنج کلیان [یعنی پیشانی اور چار قدموں پر نشان] وغیرہ کے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ہر عربی گھوڑا فجر کے وقت اللہ کی اجازت سے دو دعائیں کرتا ہے، کہتا ہے اے اللہ جس کے قبضہ میں تو نے مجھے دیا ہے تو اس کے دِل میں اس کے اہل و مال سے زیادہ میری محبت دے، ۱؎ [مسند احمد:5/170:صحیح]
«انعام» سے مراد اونٹ گائیں بکریاں ہیں۔ حرث سے مراد وہ زمین ہے جو کھیتی بونے یا باغ لگانے کیلئے تیار کی جائے، مسند احمد کی حدیث میں ہی انسان کا بہترین مال زیادہ نسل والا گھوڑا ہے اور زیادہ پھلدار درخت کھجور ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:3/468:ضعیف]
پھر فرمایا کہ یہ سب دنیاوی فائدہ کی چیزیں ہیں، یہاں کی زینت اور یہاں ہی کی دلکشی کے سامان ہیں جو فانی اور زوال پالنے والے ہیں، اچھی لوٹنے کی جگہ اور بہترین ثواب کا مرکز اللہ کے پاس ہے، مسند احمد میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے اللہ جبکہ تو نے اسے زینت دے دی تو اس کے بعد کیا؟ اس پر اس کے بعد والی آیت اتری کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ ان سے کہہ دیجئیے کہ میں تمہیں اس سے بہترین چیزیں بتاتا ہوں، یہ تو ایک نہ ایک روز زائل ہونے والی ہیں اور میں جن کی طرف تمہیں بلا رہا ہوں وہ صرف دیرپا ہی نہیں بلکہ ہمیشہ رہنے والی ہیں۔
«انعام» سے مراد اونٹ گائیں بکریاں ہیں۔ حرث سے مراد وہ زمین ہے جو کھیتی بونے یا باغ لگانے کیلئے تیار کی جائے، مسند احمد کی حدیث میں ہی انسان کا بہترین مال زیادہ نسل والا گھوڑا ہے اور زیادہ پھلدار درخت کھجور ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:3/468:ضعیف]
پھر فرمایا کہ یہ سب دنیاوی فائدہ کی چیزیں ہیں، یہاں کی زینت اور یہاں ہی کی دلکشی کے سامان ہیں جو فانی اور زوال پالنے والے ہیں، اچھی لوٹنے کی جگہ اور بہترین ثواب کا مرکز اللہ کے پاس ہے، مسند احمد میں ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے اللہ جبکہ تو نے اسے زینت دے دی تو اس کے بعد کیا؟ اس پر اس کے بعد والی آیت اتری کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ ان سے کہہ دیجئیے کہ میں تمہیں اس سے بہترین چیزیں بتاتا ہوں، یہ تو ایک نہ ایک روز زائل ہونے والی ہیں اور میں جن کی طرف تمہیں بلا رہا ہوں وہ صرف دیرپا ہی نہیں بلکہ ہمیشہ رہنے والی ہیں۔
سنو اللہ سے ڈرنے والوں کیلئے جنت ہے جس کے کنارے کنارے اور جس کے درختوں کے درمیان قسم قسم کی نہریں بہہ رہی ہیں، کہیں شہد کی، کہیں دودھ کی، کہیں پاک شراب کی، کہیں نفیس پانی کی، اور وہ نعمتیں ہیں جو نہ کسی کان نے سنی ہوں نہ کسی آنکھ نے دیکھی ہوں نہ کسی دِل میں خیال بھی گزرا ہو، ان جنتوں میں یہ متقی لوگ ابدالآباد رہیں گے نہ یہ نکالے جائیں نہ انہیں دی ہوئی نعمتیں گم ہوں گی نہ فنا ہوں گی، پھر وہاں بیویاں ملیں گی جو میل کچیل سے خباثت اور برائی سے حیض اور نفاس سے گندگی اور پلیدی سے پاک ہیں، ہر طرح ستھری اور پاکیزہ، ان سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ کی رضا مندی انہیں حاصل ہو جائے گی اور ایسی کہ اس کے بعد ناراضگی کا کھٹکا ہی نہیں، اسی لیے سورۃ برات کی آیت میں فرمایا «وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللَّـهِ أَكْبَرُ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ» [9-التوبة:72] کی تھوڑی سی رضا مندی کا حاصل ہو جانا بھی سب سے بڑی چیز ہے، یعنی تمام نعمتوں سے اعلیٰ نعمت رضائے رب اور مرضی مولا ہے۔ تمام بندے اللہ کی نگاہ میں ہیں وہ بخوبی جانتا ہے کہ کون مہربانی کا مستحق ہے۔