ترجمہ و تفسیر — سورۃ آل عمران (3) — آیت 104

وَلۡتَکُنۡ مِّنۡکُمۡ اُمَّۃٌ یَّدۡعُوۡنَ اِلَی الۡخَیۡرِ وَ یَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ یَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ ؕ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴿۱۰۴﴾
اور لازم ہے کہ تمھاری صورت میں ایک ایسی جماعت ہو جو نیکی کی طرف دعوت دیں اور اچھے کام کا حکم دیں اور برائی سے منع کریں اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ En
اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہیئے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائے اور اچھے کام کرنے کا حکم دے اور برے کاموں سے منع کرے یہی لوگ ہیں جو نجات پانے والے ہیں
En
تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہئے جو بھلائی کی طرف بلائے اور نیک کاموں کا حکم کرے اور برے کاموں سے روکے، اور یہی لوگ فلاح ونجات پانے والے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 104) {وَ لْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ …:} یعنی اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوط پکڑنے اور اختلاف و ضلالت سے بچنے کی صورت یہ ہے کہ تم میں سے ایک جماعت نیکی کا حکم دینے اور برائی سے منع کرنے کا فریضہ سر انجام دیتی رہے۔ جب تک اس قسم کی جماعت قائم رہے گی، لوگ ہدایت پر رہیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو شخص کوئی برائی دیکھے وہ اسے اپنے ہاتھ سے بدل دے، پھر اگر طاقت نہ رکھے تو اپنی زبان سے، پھر اگر طاقت نہ رکھے تو اپنے دل سے اور یہ سب سے کمزور ایمان ہے۔ [مسلم، الإیمان، باب بیان کون النھی عن المنکر…: ۴۹، عن أبی سعید الخدری رضی اللہ عنہ] شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: اس آیت سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں پر فرض ہے کہ ایک جماعت قائم رہے جہاد کرنے کے لیے اور دین کا تقید کرنے (پابندی کرنے اور کروانے) کے لیے، تاکہ کوئی دین کے خلاف نہ کرے اور جو اس کام پر قائم ہوں وہی کامیاب ہیں اور یہ کہ کوئی کسی سے واسطہ نہ رکھے موسیٰ بدین خود، عیسیٰ بدین خود (موسیٰ اپنے دین پر اور عیسیٰ اپنے دین پر) یہ راہ مسلمان کی نہیں ہے۔ (موضح)
یہ تفسیر {مِنْكُمْ } کے {مِنْ} کو بعض کے معنی میں لینے کی صورت میں ہے، جیسا کہ عام طور پر «وَ لْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ» ‏‏‏‏ میں {مِنْ} کو تبعیض کے لیے سمجھا جاتا ہے۔ اس کی تفسیر کی رو سے مسلمانوں کی ایک جماعت امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لیے کافی ہے، مگر اللہ تعالیٰ کے فرمان «وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ» سے معلوم ہوتا ہے کہ امت کے ہر فرد پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر فرض ہے، کیونکہ آخر میں فرمایا کہ کامیاب صرف وہ ہیں جو یہ فریضہ سرانجام دیں اور ظاہر ہے کہ کامیابی کی ضرورت ہر مسلمان کو ہے۔ اس لیے یہاں { مِنْكُمْ } کے {مِنْ} کو بیانیہ ماننا پڑے گا اور معنی یہ ہو گا کہ اے مسلمانو! تمھاری صورت میں ایک ایسی جماعت ہونا لازم ہے جو نیکی کا حکم دیں۔ ابن جزی نے فرمایا: { وَ قَوْلُهُ مِنْكُمْ دَلِيْلٌ عَلٰي اَنَّهُ فَرْضُ كَفَايَةٍ لِاَنَّ مِنْ لِلتَّبْعِيْضِ وَ قِيْلَ اِنَّهَا لِبِيَانِ الْجِنْسِ وَالْمَعْنَي كُوْنُوْا أُمَّةً } یعنی ایک قول یہ ہے کہ { مِنْ } جنس کے بیان کے لیے ہے اور معنی یہ ہے کہ تم سب ایسی امت بن جا ؤ جو …۔ جیسا کہ فرمایا: «فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ» ‏‏‏‏ [الحج: ۳۰] پس گندگی سے بچ جاؤ جو بت ہیں۔ ابن جزی کہتے ہیں:{ مِنْ لِبِيَانِ الْجِنْسِ كَأَنَّهُ قَالَ الرِّجْسُ هُوَ الْأَوْثَانُ} یعنی { مِنْ} جنس کے لیے ہے اور رجس سے مراد بت ہیں۔ [التسہیل لابن جُزی]

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

104۔ اور تم میں سے کچھ لوگ ایسے ہونا چاہئیں جو نیکی کی طرف بلاتے رہیں۔ [95] وہ اچھے کاموں کا حکم دیں اور برے کاموں سے روکتے رہیں اور ایسے ہی لوگ مراد پانے والے ہیں
[95] امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ:۔
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ امت مسلمہ کی اجتماعی زندگی کا ایک نہایت اہم ستون ہے اسی لیے کتاب و سنت میں بہت سے مقامات پر اس کی سخت تاکید کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے روئے زمین پر خلافت کے مستحقین کا ذکر فرمایا تو ان کی صفات میں اقامت صلوٰۃ اور ایتائے زکوٰۃ کے بعد تیسرے نمبر پر اسی صفت امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ذکر فرمایا [22: 41] اس لیے بعض علماء نے اس فریضہ کو فرض عین قرار دیا ہے۔ ان کا خیال یہ ہے کہ ہر مسلمان اپنی اپنی علمی سطح اور صلاحیت کے مطابق یہ فریضہ بجا لا سکتا ہے اور یہ بات بھی بالکل درست اور بہت سی احادیث صحیحہ سے اس کی تائید ہوتی ہے۔ تاہم اس آیت میں جس فرقہ کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ اس سے مراد ایسے لوگ ہیں۔ جو علوم شریعت کے ماہر اور دعوت کے آداب سے واقف ہوں اور ان کی زندگی کا وظیفہ ہی یہ ہونا چاہئے کہ وہ لوگوں کو اچھے کاموں کا حکم دیا کریں اور برے کاموں سے روکتے رہیں۔ نیز ﴿وَلْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر خواہ کتنا ہی اہم فریضہ ہے تاہم فرض عین نہیں ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

یوم آخرت منافق اور مومن کی پہچان ٭٭
سیدنا ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس جماعت سے مراد خاص صحابہ رضی اللہ عنہم اور خاص راویان حدیث ہیں یعنی مجاہدین اور علماء [تفسیر ابن جریر الطبری:92/7]‏‏‏‏ ۱؎
امام ابو جعفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا صبر سے مراد قرآن و حدیث کی اتباع ہے، یاد رہے کہ ہر متنفس پر تبلیغ حق فرض ہے لیکن تاہم ایک جماعت تو خاص اسی کام میں مشغول رہنی چاہیئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں تم میں سے جو کوئی کسی برائی کو دیکھے اسے ہاتھ سے دفع کر دے اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے روکے اگر یہ بھی نہ کر سکتا ہو تو اپنے دل سے نفرت کرے یہ ضعیف ایمان ہے،[صحیح مسلم:49]‏‏‏‏ ۱؎ ایک اور روایت میں اس کے بعد یہ بھی ہے کہ اس کے بعد رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہیں، [صحیح مسلم:49]‏‏‏‏ ۱؎
[صحیح مسلم]‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم اچھائی کا حکم اور برائیوں سے مخالفت کرتے رہو ورنہ عنقریب اللہ تعالیٰ تم پر اپنا عذاب نازل فرما دے گا پھر تم دعائیں کرو گے لیکن قبول نہ ہوں گی۔[سنن ترمذي:2169،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏ ۱؎ اس مضمون کی اور بھی بہت سی حدیثیں ہیں جو کسی اور مقام پر ذکر کی جائیں گی ان شاءاللہ تعالیٰ۔
پھر فرماتا ہے کہ تم سابقہ لوگوں کی طرح افتراق و اختلاف نہ کرنا تم نیک باتوں کا حکم اور خلاف شرع باتوں سے روکنا نہ چھوڑنا، مسند احمد میں ہے سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ حج کیلئے جب مکہ شریف میں آئے تو ظہر کی نماز کے بعد کھڑے ہو کر فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے اہل کتاب اپنے دین میں اختلاف کر کے بہتر [72]‏‏‏‏ گروہ بن گئے اور اس میری امت کے تہتر فرقے ہو جائیں گے خواہشات نفسانی اور خوش فہمی میں ہوں گے بلکہ میری امت میں ایسے لوگ بھی ہوں گے جن کی رگ رگ میں نفسانی خواہشیں اس طرح گھس جائیں گی جس طرح کتے کے کاٹے ہوئے انسان کی ایک ایک رگ اور ایک ایک جوڑ میں اس کا اثر پہنچ جاتا ہے اے عرب کے لوگو اگر تم ہی اپنے نبی کی لائی ہوئی چیز پر قائم نہ رہو گے تو اور لوگ تو بہت دور ہو جائیں گے۔[سنن ابوداود:4597،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏ ۱؎ اس حدیث کی بہت سی سندیں ہیں