ترجمہ و تفسیر — سورۃ القصص (28) — آیت 88

وَ لَا تَدۡعُ مَعَ اللّٰہِ اِلٰـہًا اٰخَرَ ۘ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۟ کُلُّ شَیۡءٍ ہَالِکٌ اِلَّا وَجۡہَہٗ ؕ لَہُ الۡحُکۡمُ وَ اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿٪۸۸﴾
اور اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو مت پکار، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے، مگر اس کا چہرہ، اسی کے لیے حکم ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔ En
اور خدا کے ساتھ کسی اور کو معبود (سمجھ کر) نہ پکارنا اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس کی ذات (پاک) کے سوا ہر چیز فنا ہونے والی ہے۔ اسی کا حکم ہے اور اسی کی طرف تم لوٹ کر جاؤ گے
En
اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہ پکارنا بجز اللہ تعالیٰ کے کوئی اور معبود نہیں، ہر چیز فنا ہونے والی ہے مگر اسی کا منھ (اور ذات) ۔ اسی کے لیے فرمانروائی ہے اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 88) ➊ { وَ لَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ:} یہ پانچواں حکم ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو مت پکار۔ یہ پانچوں حکم ہر انسان کے لیے ہیں، مگر آپ کو مخاطب کرنے سے ایک تو آپ کے لیے ان احکام کی تاکید مراد ہے اور ایک یہ کہ سنایا آپ کو جا رہا ہے مگر خبردار دوسرے تمام لوگوں کو کیا جا رہا ہے۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو ان احکام پر عمل کر ہی رہے تھے اور اللہ تعالیٰ کے آپ کو رسالت کے لیے چن لینے کے بعد آپ سے شرک کا امکان ہی نہیں تھا، جیسا کہ دوسری جگہ یہی بات بہت سخت لہجے میں کہی گئی ہے: «{ قُلْ اَفَغَيْرَ اللّٰهِ تَاْمُرُوْٓنِّيْۤ اَعْبُدُ اَيُّهَا الْجٰهِلُوْنَ (64) وَ لَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ وَ اِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ [الزمر: ۶۴، ۶۵] کہہ دے پھر کیا تم مجھے غیراللہ کے بارے میں حکم دیتے ہو کہ میں (ان کی) عبادت کروں اے جاہلو! اور بلاشبہ یقینا تیری طرف وحی کی گئی اور ان لوگوں کی طرف بھی جو تجھ سے پہلے تھے کہ بلاشبہ اگر تو نے شریک ٹھہرایا تو یقینا تیرا عمل ضرور ضائع ہو جائے گا اور تو ضرور بالضرور خسارہ اٹھانے والوں سے ہو جائے گا۔ مقصد یہ ہے کہ جب اس مسئلے میں کسی پیغمبر کے لیے کوئی رعایت نہیں تو کسی اور کے لیے کیا ہو گی۔
➋ { لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ:} یہ وہ جملہ ہے جو اسلام کی دعوت کا خلاصہ ہے۔ قرآن مجید کی اکثر سورتوں کا آغاز بھی شرک کی تردید اور توحید کی دعوت سے ہوتا ہے اور اختتام بھی۔ یہاں اس دعوے کی تین دلیلیں بیان فرمائی ہیں۔
➌ { كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ اِلَّا وَجْهَهٗ:} یہ اس بات کی پہلی دلیل ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، کیونکہ وہی ہے جو دائم، باقی اور حی قیوم ہے۔ اس کے سوا سب کو مرنا ہے، سب فانی ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے: [أَعُوْذُ بِعِزَّتِكَ الَّذِيْ لاَ إِلٰهَ إِلاَّ أَنْتَ الَّذِيْ لاَ يَمُوْتُ، وَالْجِنُّ وَالْإِنْسُ يَمُوْتُوْنَ] [بخاري، التوحید، باب قول اللہ تعالٰی: «و ھو العزیز الحکیم …» ‏‏‏‏: ۷۳۸۳]میں تیری عزت کی پناہ چاہتا ہوں، تُو وہ ہے کہ تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور تو کبھی نہیں مرتا، جبکہ جن اور انسان مر جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ فرمایا: «{ كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ (26) وَّ يَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلٰلِ وَ الْاِكْرَامِ [الرحمٰن: ۲۶، ۲۷] ہر ایک جو اس(زمین)پر ہے، فنا ہونے والا ہے اور تیرے رب کا چہرہ باقی رہے گا، جو بڑی شان اور عزت والا ہے۔ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [أَصْدَقُ كَلِمَةٍ قَالَهَا الشَّاعِرُ كَلِمَةُ لَبِيْدٍ: أَلاَ كُلُّ شَيْءٍ مَا خَلاَ اللّٰهَ بَاطِلٌ] [بخاري، مناقب الأنصار، باب أیام الجاہلیۃ: ۳۸۴۱] سب سے سچی بات جو کسی شاعر نے کہی لبید کی بات ہے کہ سن لو! اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے۔
➍ { لَهُ الْحُكْمُ:} یہ اللہ تعالیٰ کے معبودِ واحد ہونے کی دوسری دلیل ہے کہ کائنات میں اسی کا حکم جاری و ساری ہے، اس کے سوا { كُنْ} کا اختیار کسی کے پاس نہیں۔
➎ { وَ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ:} یہ توحید کی تیسری دلیل ہے کہ تمام لوگوں کو اسی کے پاس واپس جانا اور اسی کے سامنے پیش ہونا ہے۔ دوسرے سب توخود پیش ہونے والے ہیں، پھر وہ معبود کیسے بن گئے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

88-1یعنی کسی اور کی عبادت نہ کرنا، نہ دعا کے ذریعے سے، نہ نذر نیاز کے ذریعے، نہ ہی قربانی کے ذریعے سے کہ یہ سب عبادات ہیں جو صرف ایک اللہ کے لئے خاص ہیں۔ قرآن میں ہر جگہ غیر اللہ کی عبادت کو پکارنے سے تعبیر کیا گیا ہے، جس سے مقصود اسی نکتے کی وضاحت ہے کہ غیر اللہ کو ما فوق الا سباب طریقے سے پکارنا، ان سے استغاثہ کرنا، ان سے دعائیں اور التجائیں کرنا یہ ان کی عبادت ہی ہے جس سے انسان مشرک بن جاتا ہے۔ 88-2وجھہ (اس کا منہ) سے مراد اللہ کی ذات ہے جو وجہ (چہرہ) سے متصف ہے۔ یعنی اللہ کے سوا ہر چیز ہلاک اور فنا ہوجانے والی ہے۔ 88-3یعنی اسی کا فیصلہ، جو وہ چاہے، نافذ ہوتا ہے اور اسی کا حکم، جس کا وہ ارادہ کرے، چلتا ہے۔ 88-4تاکہ وہ نیکوں کو ان کی نیکیوں کی جزا اور بدوں کو انکی بدیوں کی سزا دے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

88۔ اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے الٰہ کو مت پکاریں (کیونکہ) اللہ کے سوا [121] کوئی الٰہ نہیں۔ اس کی ذات کے بغیر ہر چیز ہلاک کرنے ہونے والی [122] ہے۔ حکم اسی کا چلتا ہے اور تم سب [123] اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔
[121] یہ وہ جملہ ہے کہ دعوت اسلام کا خلاصہ ہے۔ قرآن کریم کی اکثر سورتوں کا آغاز بھی شرک کی تردید اور توحید کی دعوت سے ہوتا ہے اور اختتام بھی ایسی ہی آیات پر ہوتا ہے جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کا سب سے اہم موضوع یہی ہے۔
[122] ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے۔ جو چیز بھی مخلوق ہے وہ ضرور فنا ہونے والی ہے یہ فنا کب ہو گی۔ قیامت کو یا اس سے بھی مدتوں بعد؟ یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے جس طرح اللہ خود مخلوق نہیں بلکہ ہر چیز کا خالق ہے اسی طرح اللہ کی صفات بھی مخلوق نہیں جیسے لوح محفوظ اور قلم جو کہ اللہ کی صفت علم سے تعلق رکھتی ہیں۔ بعض علماء کہتے ہیں کہ اللہ کے سوا آٹھ چیزیں ایسی ہیں جو قیامت کو بھی فنا نہ ہوں گی۔ اللہ کا عرش اور کرسی، بہشت اور دوزخ، روح اور ریڑھ کی ہڈی کا نقطہ عجب الذنب لوح محفوظ اور قلم۔ ﴿والله اعلم بالصواب﴾
[123] چونکہ اللہ ہی ہر چیز کا خالق اور مالک ہے لہٰذا کائنات کی ہر چیز پر حکم بھی اس کا چلتا ہے۔ اور جنوں اور انسانوں میں بھی طبیعی امور میں اسی کا حکم چلتا ہے البتہ اختیاری امور میں بھی انھیں اللہ کے حکم کا پابند رہنے کا حکم دیا گیا ہے اور اسی میں ان کا بھلا ہے۔ رہا آخرت کو اللہ کی طرف لوٹنے کا حکم تو یہ اختیاری امر نہیں بلکہ اللہ کا ایسا حکم ہے جو ہو کر رہے گا۔ پھر اس دن حکم بھی صرف اسی کا چلے گا۔ اسی کی عدالت ہو گی اور اسی کے فیصلے نافذ ہوں گے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

باب
پھر فرمایا کہ ’ اللہ کی اتری ہوئی آیتوں سے یہ لوگ کہیں تجھے روک نہ دیں یعنی جو تیرے دین کی مخالفت کرتے ہیں اور لوگوں کو تیری تابعداری سے روکتے ہیں۔ تو اس سے اثر پذیر نہ ہونا اپنے کام پر لگے رہنا اللہ تیرے کلمے کو بلند کرنے والا ہے تیرے دین کی تائید کرنے والا ہے تیری رسالت کو غالب کرنے والا ہے۔ تمام دینوں پر تیرے دین کو اونچا کرنے والا ہے۔ تو اپنے رب کی عبادت کی طرف لوگوں کو بلاتا رہ جو اکیلا اور لاشریک ہے تجھے نہیں چاہیئے کہ مشرکوں کا ساتھ دے۔ اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکار۔ عبادت کے لائق وہی ہے الوہیت کے قابل اسی کی عظیم الشان ذات ہے وہی دائم اور باقی ہے حی وقیوم ہے تمام مخلوق مر جائے گی اور وہ موت سے دور ہے ‘۔
جیسے فرمایا آیت «كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ وَّيَبْقٰى وَجْهُ رَبِّكَ ذو الْجَلٰلِ وَالْاِكْرَامِ» ۱؎ [55-الرحمن:27-26]‏‏‏‏ ’ جو بھی یہاں پر ہے فانی ہے۔ تیرے رب کا چہرہ ہی باقی رہ جائے گا جو جلالت وکرامت والا ہے ‘۔ «وَجْهُ» سے مراد ذات ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { سب سے زیادہ سچا کلمہ لبید شاعر کا ہے جو اس نے کہا ہے شعر «أَلَا كُلّ شَيْء مَا خَلَا اللَّه بَاطِل» یاد رکھو کہ اللہ کے سوا سب کچھ باطل ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6147]‏‏‏‏
مجاہد وثور رحمہ اللہ علیہم سے مروی ہے کہ ہرچیز باطل ہے مگر وہ کام جو اللہ کی رضا جوئی کے لیے کئے جائیں ان کا ثواب رہ جاتا ہے۔ شاعروں کے شعروں میں بھی وجہ کا لفظ اس مطلب کے لیے استعمال کیا گیا ہے ملاحظہ ہو شعر «أَسْتَغْفِر اللَّه ذَنْبًا لَسْت مُحْصِيه» «رَبّ الْعِبَاد إِلَيْهِ الْوَجْه وَالْعَمَل» میں اللہ سے جو تمام بندوں کا رب ہے جس کی طرف توجہ اور قصد ہے اور جس کے لیے عمل ہیں اپنے ان تمام گناہوں کی بخشش چاہتا ہوں جنہیں میں شمار بھی نہیں کر سکتا۔‏‏‏‏ یہ قول پہلے قول کے خلاف نہیں۔ یہ بھی اپنی جگہ صحیح ہے کہ انسان کے تمام اعمال اکارت ہیں صرف ان ہی نیکیوں کے بدلے کا مستحق ہے جو محض اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے کی ہوں۔
اور پہلے قول کا مطلب بھی بالکل صحیح ہے کہ سب جاندار فانی اور زائل ہیں صرف اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات پاک ہے جو فنا اور زوال سے بالاتر ہے۔ وہی اول وآخر ہے ہر چیز سے پہلے تھا اور ہر چیز کے بعد رہے گا۔
مروی ہے کہ جب سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ اپنے دل کو مضبوط کرنا چاہتے تھے تو جنگل میں کسی کھنڈر کے دروازے پر کھڑے ہو جاتے اور درد ناک آواز سے کہتے کہ اس کے بانی کہاں ہے؟ پھر خود جواب میں یہی پڑھتے۔ حکم و ملک اور ملکیت صرف اسی کی ہے مالک ومتصرف وہی ہے۔ اس کے حکم احکام کو کوئی رد نہیں کر سکتا۔ روز جزا سب اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ وہ سب کو ان نیکیوں اور بدیوں کا بدلہ دے گا۔ نیک کو نیک بدلہ اور برے کو بری سزا۔‏‏‏‏ «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ قصص کی تفسیر ختم ہوئی۔