ترجمہ و تفسیر — سورۃ القصص (28) — آیت 74

وَ یَوۡمَ یُنَادِیۡہِمۡ فَیَقُوۡلُ اَیۡنَ شُرَکَآءِیَ الَّذِیۡنَ کُنۡتُمۡ تَزۡعُمُوۡنَ ﴿۷۴﴾
اور جس دن وہ انھیں آواز دے گا، پس کہے گا کہاں ہیں میرے وہ شریک جو تم گمان کرتے تھے؟ En
اور جس دن وہ اُن کو پکارے گا اور کہے گا کہ میرے وہ شریک جن کا تمہیں دعویٰ تھا کہاں گئے؟
En
اور جس دن انہیں پکار کر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جنہیں تم میرے شریک خیال کرتے تھے وه کہاں ہیں؟ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 74) {وَ يَوْمَ يُنَادِيْهِمْ فَيَقُوْلُ …:} توحید کے مزید دلائل ذکر کرنے کے بعد وہی مضمون دہرایا جو اوپر گزرا ہے کہ اللہ تعالیٰ مشرکین کو آواز دے کر کہے گا کہ کہاں ہیں میرے وہ شریک جنھیں تم گمان کرتے تھے!؟ بار بار یہ کہنے کا مقصد انھیں ڈانٹنا، ذلیل و رسوا کرنا اور ان کی اور ان کے شرکاء کی بے بسی کا اور شرک کے باطل ہونے کا اظہار ہو گا۔ پھر کبھی وہ اس بات سے انکار کریں گے کہ وہ کسی شریک کی عبادت کرتے تھے (دیکھیے انعام: ۲۲ تا ۲۴)، کبھی اپنے جھوٹے معبودوں کو پکاریں گے اور کوئی جواب نہ پائیں گے اور کبھی مایوس ہو کر خاموش ہو رہیں گے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

74۔ اور جس دن اللہ انھیں پکارے گا اور پوچھے گا: ”کہاں ہیں وہ جنہیں تم میرا شریک خیال کرتے تھے؟“

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

افترا بندی چھوڑ دو ٭٭
مشرکوں کو دوسری دفعہ ڈانٹ دی جائے گی اور فرمایا جائے گا کہ ’ دنیا میں جنہیں میرا شریک ٹھہرا رہے تھے وہ آج کہاں ہیں؟‘
ہر امت میں سے ایک گواہ یعنی اس امت کا پیغمبر ممتاز کر لیا جائے گا۔ مشرکوں سے کہا جائے گا اپنے شرک کی کوئی دلیل پیش کرو۔ اس وقت یہ یقین کر لیں گے کہ فی الواقع عبادتوں کے لائق اللہ کے سوا اور کوئی نہیں۔ کوئی جواب نہ دے سکیں گے حیران رہ جائیں گے اور تمام افترا بھول جائیں گے۔