ترجمہ و تفسیر — سورۃ القصص (28) — آیت 65

وَ یَوۡمَ یُنَادِیۡہِمۡ فَیَقُوۡلُ مَاذَاۤ اَجَبۡتُمُ الۡمُرۡسَلِیۡنَ ﴿۶۵﴾
اور جس دن وہ انھیں آواز دے گا، پس کہے گا تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا؟ En
اور جس روز خدا اُن کو پکارے گا اور کہے گا کہ تم نے پیغمبروں کو کیا جواب دیا
En
اس دن انہیں بلا کر پوچھے گا کہ تم نے نبیوں کو کیا جواب دیا؟ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 65) {وَ يَوْمَ يُنَادِيْهِمْ فَيَقُوْلُ مَا ذَاۤ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِيْنَ:} یہ دوسرا سوال ہے جو نبوت کے متعلق ہے کہ جب میرے رسولوں نے تمھیں میرا پیغام پہنچایا اور اس پر چلنے کی ہدایت کی تو تم نے انھیں کیا جواب دیا۔ پہلا سوال توحید کے متعلق تھا، یہی دو سوال قبر میں ہوں گے، یعنی {مَنْ رَبُّكَ تیرا رب کون ہے؟ اور {مَنْ نَبِيُّكَ تیرا نبی کون ہے؟ اور تیسرا سوال یہ کہ{مَا دِيْنُكَ تیرا دین کیا ہے؟ مومن کا جواب ہو گا: { رَبِّيَ اللّٰهُ وَ نَبِيِّيْ مُحَمَّدٌ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ دِيْنِيَ الْإِسْلَامُ} میرا رب اللہ ہے، میر انبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور میرا دین اسلام ہے۔ [دیکھیے مسند البزار: ۱۷ /۱۵۴، ح: ۹۷۶۰۔ سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ: 127/6، ح: ۲۶۲۸]

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

65-1اس سے پہلے کی آیات میں توحید سے متعلق سوال تھا، یہ ندائے ثانی رسالت کے بارے میں ہے، یعنی تمہاری طرف ہم نے رسول بھیجے تھے، تم نے ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا، ان کی دعوت قبول کی تھی؟ جس طرح قبر میں سوال ہوتا ہے، تیرا پیغمبر کون ہے؟ تیرا دین کونسا ہے؟ مومن تو صحیح جواب دے دیتا ہے لیکن کافر کہتا ہے مجھے تو کچھ معلوم نہیں، اسی طرح قیامت والے دن انھیں اس سوال کا جواب نہیں سوجھے گا۔ اسی لئے آگے فرمایا‏‏، ان پر تمام حبریں اندھی ہوجائیں گی، یعنی کوئی دلیل ان کی سمجھ میں نہیں آئے گی جسے وہ پیش کرسکیں۔ یہاں دلائل کو احبار سے تعبیر کر کے اس طرف اشارہ فرما دیا کہ ان کے باطل عقائد کے لئے حقیقت میں ان کے پاس کوئی دلیل ہے ہی نہیں، صرف قصص و حکایات ہیں، جیسے آج بھی قبر پرستوں کے پاس من گھڑت کراماتی قصوں کے سوا کچھ نہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

65۔ اور جس دن اللہ تعالیٰ انھیں پکارے گا اور پوچھے گا کہ: ”تم نے رسولوں کو کیا جواب دیا تھا؟“ [89]
[89] مشرکوں سے پہلا سوال تو توحید سے متعلق تھا۔ اب یہ سوال پیغام رسالت سے متعلق ہو گا۔ یعنی بات اتنی ہی نہیں تھی کہ عابد و معبود دونوں اپنی خواہشات کے پیچھے لگ کر گمراہ ہو رہے تھے۔ بلکہ رسولوں نے بروقت انھیں ہدایت اور ضلالت کا فرق واضح طور پر بتلا دیا تھا۔ تو پھر تم لوگوں نے ان رسولوں کی بات مان لی تھی؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

باب
جیسے ارشاد ہے کہ «وَيَوْمَ يَقُوْلُ نَادُوْا شُرَكَاءِيَ الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَهُمْ وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمْ مَّوْبِقًا» الخ ۱؎ [18-الكهف:53-52]‏‏‏‏، ’ جس دن فرمائے گا کہ میرے ان شریکوں کو آواز دو جنہیں تم بہت کچھ سمجھ رہے تھے یہ پکاریں گے لیکن وہ جواب نہ دیں گے اور ہم ان کے اور ان کے درمیان آڑ کریں گے مجرم لوگ دوزخ کو دیکھیں گے پھر باور کرائیں گے کہ وہ اس میں گرنے والے ہیں لیکن اس سے بچنے کی کوئی راہ نہ پائیں گے ‘۔
اسی قیامت والے دن ان سب کو سنا کر ایک سوال یہ بھی ہو گا کہ ’ تم نے میرے انبیاء علیہم السلام کو کیا جواب دیا؟ اور کہاں تک ان کا ساتھ دیا؟ ‘ پہلے توحید کے متعلق بازپرس تھی اب رسالت کے متعلق سوال جواب ہو رہے ہیں۔
اسی طرح قبر میں بھی سوال ہوتا ہے کہ تیرا رب کون ہے؟ تیرا نبی کون ہے؟ اور تیرا دین کیا ہے؟ مومن جواب دیتا ہے کہ میرا معبود صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور میرے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو اللہ کے بندے اور اس کے رسول تھے (‏‏‏‏سلام علیہ) ہاں کافر سے کوئی جواب نہیں بن پڑتا وہ گھبراہٹ اور پریشانی سے کہتا ہے مجھے اس کی کوئی خبر نہیں۔ اندھا بہرا ہو جاتا ہے۔
جیسے فرمایا آیت «وَمَنْ كَانَ فِيْ هٰذِهٖٓ اَعْمٰى فَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى وَاَضَلُّ سَبِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:72]‏‏‏‏ ’ جو شخص یہاں اندھا ہے وہ وہاں بھی اندھا اور راہ بھولا رہے گا ‘۔
تمام دلیلیں ان کی نگاہوں سے ہٹ جائیں گی رشتے ناتے حسب نسب کی کوئی قدر نہ ہو گی نسب ناموں کا کوئی سوال نہ ہو گا۔ ہاں دنیا میں توبہ کرنے والے ایمان اور نیکی کے ساتھ زندگی گزارنے والے تو بیشک فلاح اور نجات حاصل کر لیں گے یہاں «عَسیٰ» یقین کے معنی میں ہے یعنی مومن ضرور کامیاب ہونگے۔