ترجمہ و تفسیر — سورۃ القصص (28) — آیت 64

وَ قِیۡلَ ادۡعُوۡا شُرَکَآءَکُمۡ فَدَعَوۡہُمۡ فَلَمۡ یَسۡتَجِیۡبُوۡا لَہُمۡ وَ رَاَوُا الۡعَذَابَ ۚ لَوۡ اَنَّہُمۡ کَانُوۡا یَہۡتَدُوۡنَ ﴿۶۴﴾
اور کہا جائے گا اپنے شریکوں کو پکارو۔ سو وہ انھیں پکاریں گے تو وہ انھیں جواب نہ دیں گے اور وہ عذاب کو دیکھ لیں گے۔ کاش کہ واقعی وہ ہدایت قبول کرتے ہوتے۔ En
اور کہا جائے گا کہ اپنے شریکوں کو بلاؤ۔ تو وہ اُن کو پکاریں گے اور وہ اُن کو جواب نہ دے سکیں گے اور (جب) عذاب کو دیکھ لیں گے (تو تمنا کریں گے کہ) کاش وہ ہدایت یاب ہوتے
En
کہا جائے گا کہ اپنے شریکوں کو بلاؤ، وه بلائیں گے لیکن انہیں وه جواب تک نہ دیں گے اور سب عذاب دیکھ لیں گے، کاش یہ لوگ ہدایت پا لیتے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 64) {وَ قِيْلَ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ …:} یعنی پہلے ان سے کہا جائے گا کہ میرے وہ شریک کہاں ہیں جو تم گمان کرتے تھے؟ ابھی وہ اس کا کوئی جواب نہیں دے پائے ہوں گے کہ ان سے کہا جائے گا کہ اپنے شریکوں کو مدد کے لیے بلاؤ۔ وہ انھیں پکاریں گے تو وہ انھیں جواب نہیں دیں گے۔ اس وقت مایوس ہو کر تمنا کریں گے، کاش! وہ دنیا میں ہدایت قبول کرتے ہوتے۔ بعض مفسرین نے اس کا مطلب یہ بیان فرمایا کہ شیاطین اور مشرکین جب اپنے شریکوں کے طور پر اللہ کے نیک بندوں کا نام لیں گے تو ان سے کہا جائے گا کہ اپنے شریکوں کو پکارو، وہ کچھ جواب نہ دیں گے، کیونکہ وہ ان کی مشرکانہ حرکتوں سے واقف تھے نہ ہی ان پر خوش تھے۔ عین اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے جہنم سامنے لا کر کھڑی کر دی جائے گی، تو انھیں یقین ہو جائے گا کہ ہم اس میں گرائے جانے والے ہیں۔ دیکھیے سورۂ کہف (۵۲، ۵۳)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

64-1یعنی ان سے مدد طلب کرو، جس طرح دنیا میں کرتے تھے کیا وہ تمہاری مدد کرتے ہیں؟ پس وہ پکاریں گے، لیکن وہاں کس کو یہ جرت ہوگی کہ جو یہ کہے کہ ہاں ہم تمہاری مدد کرتے ہیں؟ -64-2یعنی یقین کرلیں گے کہ ہم سب جہنم کا ایندھن بننے والے ہیں۔ -64-3یعنی عذاب دیکھ لینے کے بعد آرزو کریں گے کہ کاش دنیا میں ہدایت کا راستہ اپنا لیتے تو آج وہ اس حشر سے بچ جاتے۔ (وَيَوْمَ يَقُوْلُ نَادُوْا شُرَكَاۗءِيَ الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَهُمْ وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمْ مَّوْبِقًا 52؀ وَرَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْٓا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَلَمْ يَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا 53؀) 18۔ الکہف:53-52) میں بھی یہ مضمون بیان کیا گیا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

64۔ اور ان (پیروکاروں) سے کہا جائے گا کہ: اب اپنے شریکوں کو (مدد کے لئے) پکارو۔ چنانچہ وہ پکاریں گے مگر یہ (شریک) انھیں کوئی جواب [88] نہیں دیں گے اور سب کے سب عذاب دیکھ لیں گے۔ کاش! وہ ہدایت پانے والے ہوتے
[88] مشرکوں سے پہلا سوال شرک سے متعلق اور دوسرا رسالت کے متعلق ہو گا:۔
ان معبود حضرات کی اس معذرت کے بعد اللہ تعالیٰ پھر مشرکوں سے کہیں گے کہ آج بھی اپنے معبودوں کو اپنی مدد کے لئے پکارو تو سہی۔ لیکن وہ معبود جو پہلے ہی ان سے بیزاری کا اعلان کر چکے تھے۔ وہ انھیں کچھ جواب نہ دے سکیں گے اور اس کی اصل وجہ یہ ہو گی کہ کیا عابد اور کیا معبود سب کو ہی اپنا انجام نظر آرہا ہو گا۔ اس وقت یہ سب حضرات نہایت حسرت کے ساتھ بول اٹھیں گے۔ کاش! ہم نے دنیا میں ہدایت کا راستہ اختیار کیا ہوتا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

باب
جیسے ارشاد ہے کہ «وَيَوْمَ يَقُوْلُ نَادُوْا شُرَكَاءِيَ الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَهُمْ وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمْ مَّوْبِقًا» الخ ۱؎ [18-الكهف:53-52]‏‏‏‏، ’ جس دن فرمائے گا کہ میرے ان شریکوں کو آواز دو جنہیں تم بہت کچھ سمجھ رہے تھے یہ پکاریں گے لیکن وہ جواب نہ دیں گے اور ہم ان کے اور ان کے درمیان آڑ کریں گے مجرم لوگ دوزخ کو دیکھیں گے پھر باور کرائیں گے کہ وہ اس میں گرنے والے ہیں لیکن اس سے بچنے کی کوئی راہ نہ پائیں گے ‘۔
اسی قیامت والے دن ان سب کو سنا کر ایک سوال یہ بھی ہو گا کہ ’ تم نے میرے انبیاء علیہم السلام کو کیا جواب دیا؟ اور کہاں تک ان کا ساتھ دیا؟ ‘ پہلے توحید کے متعلق بازپرس تھی اب رسالت کے متعلق سوال جواب ہو رہے ہیں۔
اسی طرح قبر میں بھی سوال ہوتا ہے کہ تیرا رب کون ہے؟ تیرا نبی کون ہے؟ اور تیرا دین کیا ہے؟ مومن جواب دیتا ہے کہ میرا معبود صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور میرے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو اللہ کے بندے اور اس کے رسول تھے (‏‏‏‏سلام علیہ) ہاں کافر سے کوئی جواب نہیں بن پڑتا وہ گھبراہٹ اور پریشانی سے کہتا ہے مجھے اس کی کوئی خبر نہیں۔ اندھا بہرا ہو جاتا ہے۔
جیسے فرمایا آیت «وَمَنْ كَانَ فِيْ هٰذِهٖٓ اَعْمٰى فَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى وَاَضَلُّ سَبِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:72]‏‏‏‏ ’ جو شخص یہاں اندھا ہے وہ وہاں بھی اندھا اور راہ بھولا رہے گا ‘۔
تمام دلیلیں ان کی نگاہوں سے ہٹ جائیں گی رشتے ناتے حسب نسب کی کوئی قدر نہ ہو گی نسب ناموں کا کوئی سوال نہ ہو گا۔ ہاں دنیا میں توبہ کرنے والے ایمان اور نیکی کے ساتھ زندگی گزارنے والے تو بیشک فلاح اور نجات حاصل کر لیں گے یہاں «عَسیٰ» یقین کے معنی میں ہے یعنی مومن ضرور کامیاب ہونگے۔