اُولٰٓئِکَ یُؤۡتَوۡنَ اَجۡرَہُمۡ مَّرَّتَیۡنِ بِمَا صَبَرُوۡا وَ یَدۡرَءُوۡنَ بِالۡحَسَنَۃِ السَّیِّئَۃَ وَ مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ یُنۡفِقُوۡنَ ﴿۵۴﴾
یہ لوگ ہیں جنھیں ان کا اجر دوہرا دیا جائے گا، اس کے بدلے کہ انھوں نے صبر کیا اور وہ بھلائی کے ساتھ برائی کو ہٹاتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انھیں دیا اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔
En
ان لوگوں کو دگنا بدلہ دیا جائے گا کیونکہ صبر کرتے رہے ہیں اور بھلائی کے ساتھ برائی کو دور کرتے ہیں اور جو (مال) ہم نے اُن کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں
En
یہ اپنے کیے ہوئے صبر کے بدلے دوہرا دوہرا اجر دیئے جائیں گے۔ یہ نیکی سے بدی کو ٹال دیتے ہیں اور ہم نے جو انہیں دے رکھا ہے اس میں سے دیتے رہتے ہیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 54) ➊ { اُولٰٓىِٕكَ يُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَيْنِ:} یعنی اہل کتاب میں سے جو لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے انھیں دوہرا اجر ملے گا، کیونکہ یہ لوگ پہلے رسول پر ایمان لائے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ایمان لائے۔ ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ثَلَاثَةٌ لَهُمْ أَجْرَانِ: رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ آمَنَ بِنَبِيِّهِ وَ آمَنَ بِمُحَمَّدٍ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْعَبْدُ الْمَمْلُوْكُ إِذَا أَدّٰی حَقَّ اللّٰهِ وَ حَقَّ مَوَالِيْهِ وَ رَجُلٌ كَانَتْ عِنْدَهُ أَمَةٌ يَطَؤُهَا فَأَدَّبَهَا فَأَحْسَنَ تَأْدِيْبَهَا وَ عَلَّمَهَا فَأَحْسَنَ تَعْلِيْمَهَا ثُمَّ أَعْتَقَهَا فَتَزَوَّجَهَا فَلَهُ أَجْرَانِ] [بخاري، العلم، باب تعلیم الرجل أمتہ و أھلہ: ۹۷]”تین آدمیوں کے لیے دو اجر ہیں، ایک اہل کتاب میں سے کوئی آدمی جو اپنے نبی پر ایمان لایا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا اور ایک وہ غلام جو کسی کی ملکیت میں ہے، جب اللہ کا حق ادا کرے اور اپنے مالکوں کا حق ادا کرے اور ایک وہ آدمی جس کے پاس کوئی لونڈی تھی، جس سے وہ جماع کرتا تھا، اسے اس نے ادب سکھایا اور اچھا ادب سکھایا اور تعلیم دی اور اچھی تعلیم دی، پھر آزاد کر کے اس سے نکاح کر لیا، تو اس کے لیے دو اجر ہیں۔“
➋ { بِمَا صَبَرُوْا:} صبر تین طرح کا ہے، طاعت پر صبر، معصیت سے صبر اور مصیبت پر صبر۔ یعنی پہلے ایک رسول علیہ السلام پر ایمان لا کر صابر اور ثابت قدم رہے، پھر دوسرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا کر اس پر ثابت قدم رہے۔ اسی طرح خواہشاتِ نفس کے مقابلے میں ثابت قدم رہے اور ان آزمائشوں اور مصیبتوں پر صبر کرتے رہے جو قبول اسلام کے بعد ان پر آئیں۔
➌ { وَ يَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ: ”دَرَأَ يَدْرَأُ“} کا معنی دفع کرنا، دور کرنا، یا پرے ہٹانا ہے۔ اس آیت کے دو مطلب ہیں، ایک یہ کہ اگر کوئی شخص ان سے برا سلوک کرے تو اس کا جواب برائی سے نہیں بلکہ اچھے سے اچھے طریقے سے دیتے ہیں، جیساکہ فرمایا: «{ وَ لَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّيِّئَةُ اِدْفَعْ بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِيْ بَيْنَكَ وَ بَيْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِيٌّ حَمِيْمٌ }» [حٰم السجدۃ: ۳۴] ” اور نہ نیکی برابر ہوتی ہے اور نہ برائی۔ (برائی کو) اس (طریقے) کے ساتھ ہٹا جو سب سے اچھا ہے، تو اچانک وہ شخص کہ تیرے درمیان اور اس کے درمیان دشمنی ہے، ایسا ہوگا جیسے وہ دلی دوست ہے۔“ اور دیکھیے سورۂ رعد (۲۲) اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اگر ان سے کوئی برائی ہو جائے تو بعد میں نیک اعمال کر کے اس کا اثر ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّيْلِ اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاٰتِ }» [ھود: ۱۱۴]”اور دن کے دونوں کناروں میں نماز قائم کر اور رات کی کچھ گھڑیوں میں بھی، بے شک نیکیاں برائیوں کو لے جاتی ہیں۔“
➍ { وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ:} برائی کا جواب اچھائی سے دینا، یا نیکی کے ساتھ برائی کو مٹانا بعض اوقات ممکن ہی نہیں ہوتا جب تک خرچ نہ کیا جائے، اس لیے ان کی یہ صفت بیان فرمائی کہ ہم نے انھیں جو کچھ دیا اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ اس میں حقوقِ واجبہ و مستحبہ، فرض زکاۃ اور نفلی صدقات سبھی آ گئے۔ {” رَزَقْنٰهُمْ “} میں اپنے احسان کا احساس بھی دلایا ہے اور یہ بھی کہ اگر وہ خرچ کرتے ہیں تو اپنا کچھ خرچ نہیں کرتے، بلکہ اللہ کا دیا ہوا ہی خرچ کرتے ہیں، لہٰذا انھیں خرچ کرنے میں دریغ نہیں ہونا چاہیے۔
➋ { بِمَا صَبَرُوْا:} صبر تین طرح کا ہے، طاعت پر صبر، معصیت سے صبر اور مصیبت پر صبر۔ یعنی پہلے ایک رسول علیہ السلام پر ایمان لا کر صابر اور ثابت قدم رہے، پھر دوسرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا کر اس پر ثابت قدم رہے۔ اسی طرح خواہشاتِ نفس کے مقابلے میں ثابت قدم رہے اور ان آزمائشوں اور مصیبتوں پر صبر کرتے رہے جو قبول اسلام کے بعد ان پر آئیں۔
➌ { وَ يَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ: ”دَرَأَ يَدْرَأُ“} کا معنی دفع کرنا، دور کرنا، یا پرے ہٹانا ہے۔ اس آیت کے دو مطلب ہیں، ایک یہ کہ اگر کوئی شخص ان سے برا سلوک کرے تو اس کا جواب برائی سے نہیں بلکہ اچھے سے اچھے طریقے سے دیتے ہیں، جیساکہ فرمایا: «{ وَ لَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَ لَا السَّيِّئَةُ اِدْفَعْ بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِيْ بَيْنَكَ وَ بَيْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِيٌّ حَمِيْمٌ }» [حٰم السجدۃ: ۳۴] ” اور نہ نیکی برابر ہوتی ہے اور نہ برائی۔ (برائی کو) اس (طریقے) کے ساتھ ہٹا جو سب سے اچھا ہے، تو اچانک وہ شخص کہ تیرے درمیان اور اس کے درمیان دشمنی ہے، ایسا ہوگا جیسے وہ دلی دوست ہے۔“ اور دیکھیے سورۂ رعد (۲۲) اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اگر ان سے کوئی برائی ہو جائے تو بعد میں نیک اعمال کر کے اس کا اثر ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّيْلِ اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاٰتِ }» [ھود: ۱۱۴]”اور دن کے دونوں کناروں میں نماز قائم کر اور رات کی کچھ گھڑیوں میں بھی، بے شک نیکیاں برائیوں کو لے جاتی ہیں۔“
➍ { وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ:} برائی کا جواب اچھائی سے دینا، یا نیکی کے ساتھ برائی کو مٹانا بعض اوقات ممکن ہی نہیں ہوتا جب تک خرچ نہ کیا جائے، اس لیے ان کی یہ صفت بیان فرمائی کہ ہم نے انھیں جو کچھ دیا اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ اس میں حقوقِ واجبہ و مستحبہ، فرض زکاۃ اور نفلی صدقات سبھی آ گئے۔ {” رَزَقْنٰهُمْ “} میں اپنے احسان کا احساس بھی دلایا ہے اور یہ بھی کہ اگر وہ خرچ کرتے ہیں تو اپنا کچھ خرچ نہیں کرتے، بلکہ اللہ کا دیا ہوا ہی خرچ کرتے ہیں، لہٰذا انھیں خرچ کرنے میں دریغ نہیں ہونا چاہیے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
54-1صبر سے مراد ہر قسم کے حالات میں انبیاء اور کتاب الہی پر ایمان اور اس پر ثابت قدمی سے قائم رہنا ہے۔ پہلی کتاب آئی تو اس پر، اس کے بعد دوسری پر ایمان رکھا۔ پہلے نبی پر ایمان لائے، اس کے بعد دوسرا نبی آگیا تو اس پر ایمان لائے۔ ان کے لئے دوہرا اجر ہے، حدیث میں بھی ان کی یہ فضیلت بیان کی گئی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تین آدمیوں کے لئے دوہرا اجر ہے، ان میں ایک وہ اہل کتاب ہے جو اپنے نبی پر ایمان رکھتا تھا اور پھر مجھ پر ایمان لے آیا۔ 54-2یعنی برائی کا جواب برائی سے نہیں دیتے، بلکہ معاف کردیتے ہیں اور درگزر سے کام لیتے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
54۔ یہی لوگ ہیں جنہیں ان کا اجر دوبارہ دیا جائے گا اس ثابت قدمی کے بدلے جو انہوں نے دکھلائی ہے [72] اور برائی کا جواب بھلائی سے [73] دیتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انھیں دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ [74]
[72] اہل کتاب میں سے ایمان لانے والوں کو دوہرا اجر:۔
ثابت قدمی سے مراد ایک تو وہ استقلال ہے جو قبولِ حق کے راستے میں رکاوٹ نہیں بنتا۔ ان کے دلوں میں اللہ کی فرمانبرداری کا جو مستقل جذبہ موجود تھا۔ اسی نے اسے اس نبی پر ایمان لانے کی ترغیب دی اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ مذہب تبدیل کرنے میں اور پھر کسی دین کو ابتداًء قبول کرتے وقت ان مسلمانوں کو طرح طرح کی مشکلات اور مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے مصائب کو بھی انہوں نے صبر و استقلال کے ساتھ برداشت کیا۔ ایسے لوگوں کے لئے دوہرا اجر ہے ایک پہلے نبی کی کتاب پر ایمان لانے کا اور ایک دوسرے نبی اور اس کی کتاب پر ایمان لانے کا۔ چنانچہ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین طرح کے آدمیوں کا ذکر کیا ہے جن کو دوہرا اجر ملے گا ان میں سے ایک وہ یہودی یا نصرانی ہے۔ جو پہلے اپنے پیغمبروں پر ایمان رکھتا تھا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا کر مسلمان ہو گیا۔ [بخاري۔ كتاب الجهاد والسير۔ باب فضل من اسلم من اهل الكتابين]
[73] یہاں ﴿يَدْرَءُوْنَ﴾ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اور ﴿وَرَءَ﴾ کے معنی دفع کرنا، دور کرنا یا پرے ہٹانا ہے۔ اس لحاظ سے اس آیت کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ اگر کوئی شخص ان سے برا سلوک کرے یا نقصان پہنچائے تو اس کا جواب برائی یا نقصان سے نہیں دیتے۔ بلکہ اس سے بھی اچھا سلوک کرتے ہیں اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اگر ان سے کوئی برائی ہو جائے تو بعد میں نیک اعمال کر کے اس برائی کے اثر کو دور کر دیتے ہیں۔
[74] جب رزق کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس سے مراد ہمیشہ طیب اور پاکیزہ رزق ہوتا ہے کیونکہ حرام کی کمائی سے تو صدقہ بھی قبول نہیں ہوتا۔ اور خرچ کرنے سے مراد اللہ کی راہ میں بھی خرچ کرنا ہے اور جائز کاموں میں بھی یعنی اپنی ذات پر اپنے اہل و عیال کی ضروریات زندگی وغیرہ پر اور اس معاملہ سے بخل سے کام نہیں لیتے۔
[73] یہاں ﴿يَدْرَءُوْنَ﴾ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ اور ﴿وَرَءَ﴾ کے معنی دفع کرنا، دور کرنا یا پرے ہٹانا ہے۔ اس لحاظ سے اس آیت کے دو مطلب ہیں ایک یہ کہ اگر کوئی شخص ان سے برا سلوک کرے یا نقصان پہنچائے تو اس کا جواب برائی یا نقصان سے نہیں دیتے۔ بلکہ اس سے بھی اچھا سلوک کرتے ہیں اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ اگر ان سے کوئی برائی ہو جائے تو بعد میں نیک اعمال کر کے اس برائی کے اثر کو دور کر دیتے ہیں۔
[74] جب رزق کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس سے مراد ہمیشہ طیب اور پاکیزہ رزق ہوتا ہے کیونکہ حرام کی کمائی سے تو صدقہ بھی قبول نہیں ہوتا۔ اور خرچ کرنے سے مراد اللہ کی راہ میں بھی خرچ کرنا ہے اور جائز کاموں میں بھی یعنی اپنی ذات پر اپنے اہل و عیال کی ضروریات زندگی وغیرہ پر اور اس معاملہ سے بخل سے کام نہیں لیتے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔