وَ اِذَا یُتۡلٰی عَلَیۡہِمۡ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِہٖۤ اِنَّہُ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّنَاۤ اِنَّا کُنَّا مِنۡ قَبۡلِہٖ مُسۡلِمِیۡنَ ﴿۵۳﴾
اور جب ان کے سامنے اس کی تلاوت کی جاتی ہے تو کہتے ہیں ہم اس پر ایمان لائے، یقینا یہی ہمارے رب کی طرف سے حق ہے، بے شک ہم اس سے پہلے فرماں بردار تھے۔
En
اور جب (قرآن) اُن کو پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لے آئے بیشک وہ ہمارے پروردگار کی طرف سے برحق ہے اور ہم تو اس سے پہلے کے حکمبردار ہیں
En
اور جب اس کی آیتیں ان کے پاس پڑھی جاتی ہیں تو وه کہہ دیتے ہیں کہ اس کے ہمارے رب کی طرف سے حق ہونے پر ہمارا ایمان ہے ہم تو اس سے پہلے ہی مسلمان ہیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 53) ➊ { وَ اِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖۤ:} یعنی جب ان کے سامنے قرآن کی تلاوت ہوتی ہے تو وہ کہتے ہیں، ہم اس پر ایمان لے آئے۔
➋ { اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَاۤ: ”إِنَّ“} علت بیان کرنے کے لیے ہوتا ہے، مطلب یہ کہ ہم اس پر ایمان لے آئے، کیونکہ یہ ہمارے رب کی طرف سے حق ہے۔
➌ { اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِيْنَ:} یہ بھی ایمان لانے کی ایک علت ہے، یعنی ہم سنتے ہی اس پر اس لیے ایمان لے آئے کہ ہم اس سے پہلے ہی مسلم تھے۔ تورات و انجیل کی بنیادی تعلیم وہی تھی جو قرآن کی ہے، جب ہم نے دیکھا کہ یہ تو وہی ہے تو ہم اس پر ایمان لے آئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ پہلی امتوں کا دین اسلام تھا اور وہ بھی مسلم تھے، جیسا کہ فرمایا: «{ مِلَّةَ اَبِيْكُمْ اِبْرٰهِيْمَ هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِمِيْنَ مِنْ قَبْلُ وَ فِيْ هٰذَا }» [الحج: ۷۸] ”اپنے باپ ابراہیم کی ملت کے مطابق، اسی نے تمھارا نام مسلمین رکھا، اس سے پہلے اور اس (کتاب) میں بھی۔“ یہ کہنا کہ ”مسلمین“ صرف امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نام ہے، درست نہیں۔ {” اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِيْنَ “} کا معنی یہ بھی ہے کہ تورات و انجیل میں اس نبی اور اس کتاب کی پیش گوئیاں پڑھ کر ہم تو اس سے پہلے ہی اس پر ایمان رکھتے تھے اور دل و جان سے مسلم یعنی اس کے تابع فرمان تھے۔
➋ { اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَاۤ: ”إِنَّ“} علت بیان کرنے کے لیے ہوتا ہے، مطلب یہ کہ ہم اس پر ایمان لے آئے، کیونکہ یہ ہمارے رب کی طرف سے حق ہے۔
➌ { اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِيْنَ:} یہ بھی ایمان لانے کی ایک علت ہے، یعنی ہم سنتے ہی اس پر اس لیے ایمان لے آئے کہ ہم اس سے پہلے ہی مسلم تھے۔ تورات و انجیل کی بنیادی تعلیم وہی تھی جو قرآن کی ہے، جب ہم نے دیکھا کہ یہ تو وہی ہے تو ہم اس پر ایمان لے آئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ پہلی امتوں کا دین اسلام تھا اور وہ بھی مسلم تھے، جیسا کہ فرمایا: «{ مِلَّةَ اَبِيْكُمْ اِبْرٰهِيْمَ هُوَ سَمّٰىكُمُ الْمُسْلِمِيْنَ مِنْ قَبْلُ وَ فِيْ هٰذَا }» [الحج: ۷۸] ”اپنے باپ ابراہیم کی ملت کے مطابق، اسی نے تمھارا نام مسلمین رکھا، اس سے پہلے اور اس (کتاب) میں بھی۔“ یہ کہنا کہ ”مسلمین“ صرف امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نام ہے، درست نہیں۔ {” اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِيْنَ “} کا معنی یہ بھی ہے کہ تورات و انجیل میں اس نبی اور اس کتاب کی پیش گوئیاں پڑھ کر ہم تو اس سے پہلے ہی اس پر ایمان رکھتے تھے اور دل و جان سے مسلم یعنی اس کے تابع فرمان تھے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
53-1یہ اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے جسے قرآن کریم میں کئی جگہ بیان کیا گیا ہے کہ ہر دور میں اللہ کے پیغمبروں نے جس دین کی دعوت دی، وہ اسلام ہی تھا اور ان نبیوں کی دعوت پر ایمان لانے والے مسلمان ہی کہلاتے تھے۔ یہود یا نصاری وغیرہ کی اصطلاحیں لوگوں کی اپنی خود ساختہ ہیں جو بعد میں ایجاد ہوئیں۔ اسی اعتبار سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والے اہل کتاب (یہود یا عیسائیوں) نے کہا کہ ہم تو پہلے سے ہی مسلمان چلے آ رہے ہیں۔ یعنی سابقہ انبیاء کے پیروکار اور ان پر ایمان رکھنے والے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
53۔ اور جب انھیں پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو کہتے ہیں: ہم اس بات پر ایمان لاتے ہیں کہ یہ (قرآن) ہمارے پروردگار کی طرف سے [71] سچی کتاب ہے، ہم تو اس سے پہلے (بھی اللہ کے سچے) فرمانبردار تھے۔
[71] اس لئے کہ تورات اور قرآن کی بنیادی تعلیمات آپس میں ملتی جلتی ہیں۔ اور جن لوگوں کے دلوں میں تعصب نہ ہو نہ ہی ان کے ذاتی مفادات قبولِ حق کی راہ میں ان کے آڑے آئیں وہ فوراً سمجھ جاتے ہیں کہ یہ قرآن بھی اللہ کی طرف ہی نازل شدہ کتاب ہے۔ پھر اس پر ایمان لے آتے ہیں۔ اور حقیقت تو یہ ہے کہ وہ پہلے ہی مسلمان تھے۔ اور اب بھی مسلمان ہی رہے۔ کیونکہ اسلام تو دل و جان سے اللہ کی فرمانبرداری کا نام ہے اور وہ ان میں پہلے ہی موجود تھی قرآن میں اس حقیقت کی متعدد مقامات پر صراحت کر دی گئی ہے کہ اللہ کے نزدیک قابل قبول دین اسلام یعنی دل و جان سے اللہ کی فرمانبرداری ہی ہے۔ رہا مسئلہ کسی دین کو اس کے پیغمبر کے نام سے منسوب کرنے کا۔ جیسے یہودیت، نصرانیت اور محمدیت وغیرہ تو یہ زمانہ مابعد کی ایجادات ہیں۔ جو لوگوں نے خود ہی رکھ لئے۔ اللہ نے نہیں رکھے تھے۔ ہر نبی پر ایمان لانے والوں کا نام اللہ نے مسلمان ہی رکھا ہے۔ تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اہل کتاب علماء ٭٭
اہل کتاب کے علماء درحقیقت اللہ کے دوست تھے ان کے پاکیزہ اوصاف بیان ہو رہے ہیں کہ وہ قرآن کو مانتے ہیں جیسے فرمان ہے «الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَتْلُونَهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ أُولَـٰئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ» ۱؎ [2-البقرة:121] ’ جنہیں ہم نے کتاب دی ہے اور وہ سمجھ بوجھ کر پڑھتے ہیں ان کا تو اس قرآن پر ایمان ہے ‘۔
اور آیت میں ہے «وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَن يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْهِمْ خَاشِعِينَ لِلَّـهِ» ۱؎ [3-آل عمران:199] کہ ’ بعض اہل کتاب ایسے بھی ہیں جو اللہ کو مان کر تمہاری طرف نازل شدہ کتاب اور اپنی طرف اتری ہوئی کتاب کو بھی مانتے ہیں اور اللہ سے ڈرتے رہتے ہیں ‘۔
اور جگہ ہے «قُلْ آمِنُوا بِهِ أَوْ لَا تُؤْمِنُوا إِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مِن قَبْلِهِ إِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ يَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ سُجَّدًا وَّيَـقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَآ اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:107-108] ’ پہلے کے اہل کتاب ایسے بھی ہیں کہ ہمارے اس قرآن کی آیتیں سن کر سجدوں میں گر پڑتے ہیں اور زبان سے کہتے ہیں کہ «سُبْحٰنَ رَبِّنَآ اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا» ‘۔
اور آیت میں ہے «وَلَتَجِدَنَّ اَقْرَبَهُمْ مَّوَدَّةً لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوا الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّا نَصٰرٰى ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيْسِيْنَ وَرُهْبَانًا وَّاَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ» ۱؎ [5-المائدة:82]، یعنی ’ مسلمانوں کے ساتھ دوستی کے اعتبار سے سب لوگوں سے قریب تر انہیں پاؤ گے جو اپنے تئیں نصاریٰ کہتے ہیں ‘، اس لیے کہ ان میں علماء اور مشائخ تھے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نجاشی حبشہ کے بھیجے ہوئے آئے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سورۃ یاسین سنائی جسے سن کر یہ رونے لگے اور مسلمان ہو گئے۔
انہی کے بارے میں یہ آیتیں اتریں کہ ’ یہ انہیں سنتے ہی اپنے موحد مخلص ہونے کا اقرار کرتے ہیں اور قبول کر کے مومن مسلم بن جاتے ہیں ‘۔ ان کی ان صفتوں پر اللہ بھی انہیں دوہرا اجر دیتا ہے ایک پہلی کتاب کو ماننے کا دوسرا قرآن کو تسلیم کرنے وتعمیل کا۔ یہ اتباع حق پر ثابت قدمی کرتے ہیں جو دراصل ایک مشکل اور اہم کام ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ { تین قسم کے لوگوں کو دوہرا اجر ملتا ہے اہل کتاب جو اپنے نبی علیہ السلام کو مان کر پھر مجھ پر بھی ایمان لائے۔ غلام مملوک جو اپنے مجازی آقا کی فرماں برداری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حق کی ادائیگی بھی کرتا رہے اور وہ شخص جس کے پاس کوئی لونڈی ہو جسے وہ ادب وعلم سکھائے پھر آزاد کرے اور اس سے نکاح کر لے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:98]
اور آیت میں ہے «وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَن يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْهِمْ خَاشِعِينَ لِلَّـهِ» ۱؎ [3-آل عمران:199] کہ ’ بعض اہل کتاب ایسے بھی ہیں جو اللہ کو مان کر تمہاری طرف نازل شدہ کتاب اور اپنی طرف اتری ہوئی کتاب کو بھی مانتے ہیں اور اللہ سے ڈرتے رہتے ہیں ‘۔
اور جگہ ہے «قُلْ آمِنُوا بِهِ أَوْ لَا تُؤْمِنُوا إِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ مِن قَبْلِهِ إِذَا يُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ يَخِرُّونَ لِلْأَذْقَانِ سُجَّدًا وَّيَـقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَآ اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:107-108] ’ پہلے کے اہل کتاب ایسے بھی ہیں کہ ہمارے اس قرآن کی آیتیں سن کر سجدوں میں گر پڑتے ہیں اور زبان سے کہتے ہیں کہ «سُبْحٰنَ رَبِّنَآ اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا» ‘۔
اور آیت میں ہے «وَلَتَجِدَنَّ اَقْرَبَهُمْ مَّوَدَّةً لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوا الَّذِيْنَ قَالُوْٓا اِنَّا نَصٰرٰى ذٰلِكَ بِاَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيْسِيْنَ وَرُهْبَانًا وَّاَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُوْنَ» ۱؎ [5-المائدة:82]، یعنی ’ مسلمانوں کے ساتھ دوستی کے اعتبار سے سب لوگوں سے قریب تر انہیں پاؤ گے جو اپنے تئیں نصاریٰ کہتے ہیں ‘، اس لیے کہ ان میں علماء اور مشائخ تھے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نجاشی حبشہ کے بھیجے ہوئے آئے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سورۃ یاسین سنائی جسے سن کر یہ رونے لگے اور مسلمان ہو گئے۔
انہی کے بارے میں یہ آیتیں اتریں کہ ’ یہ انہیں سنتے ہی اپنے موحد مخلص ہونے کا اقرار کرتے ہیں اور قبول کر کے مومن مسلم بن جاتے ہیں ‘۔ ان کی ان صفتوں پر اللہ بھی انہیں دوہرا اجر دیتا ہے ایک پہلی کتاب کو ماننے کا دوسرا قرآن کو تسلیم کرنے وتعمیل کا۔ یہ اتباع حق پر ثابت قدمی کرتے ہیں جو دراصل ایک مشکل اور اہم کام ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ { تین قسم کے لوگوں کو دوہرا اجر ملتا ہے اہل کتاب جو اپنے نبی علیہ السلام کو مان کر پھر مجھ پر بھی ایمان لائے۔ غلام مملوک جو اپنے مجازی آقا کی فرماں برداری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حق کی ادائیگی بھی کرتا رہے اور وہ شخص جس کے پاس کوئی لونڈی ہو جسے وہ ادب وعلم سکھائے پھر آزاد کرے اور اس سے نکاح کر لے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:98]
ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں { فتح مکہ والے دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے ساتھ ہی اور بالکل پاس ہی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت بہترین باتیں ارشاد فرمائیں جن میں یہ بھی فرمایا کہ { یہود ونصاریٰ میں جو مسلمان ہو جائے اسے دوہرا دوہرا اجر ہے اور اس کے عام مسلمانوں کے برابر حقوق ہیں } }۔ ۱؎ [مسند احمد:259/5:صحیح]
پھر ان کے نیک اوصاف بیان ہو رہے ہیں کہ یہ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں لیتے بلکہ معاف کر دیتے ہیں، درگزر کر دیتے ہیں، اور نیک سلوک ہی کرتے ہیں اور اپنی حلال روزیاں اللہ کے نام خرچ کرتے ہیں اپنے بال بچوں کا پیٹ بھی پالتے ہیں زکوٰۃ صدقات وخیرات میں بھی بخیلی نہیں کرتے۔ لغویات سے بچے ہوئے رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے دوستیاں نہیں کرتے ایسی مجلسوں سے دور رہتے ہیں بلکہ اگر اچانک گزر ہو بھی جائے تو بزرگانہ طور پر ہٹ جاتے ہیں ایسوں سے میل جول الفت محبت نہیں کرتے صاف کہہ دیتے ہیں کہ تمہاری کرنی تمہارے ساتھ ہمارے اعمال ہمارے ساتھ۔
یعنی جاہلوں کی سخت کلامی برداشت کر لیتے ہیں انہیں ایسا جواب نہیں دیتے کہ وہ اور بھڑکیں بلکہ چشم پوشی کر لیتے ہیں اور کترا کر نکل جاتے ہیں۔ چونکہ خود پاک نفس ہیں اس لیے پاکیزہ کلام ہی منہ سے نکالتے ہیں۔ کہہ دیتے ہیں کہ تم پر سلام ہو، ہم نہ جاہلانہ روش پر چلیں نہ جہالت کی چال کو پسند کریں۔
پھر ان کے نیک اوصاف بیان ہو رہے ہیں کہ یہ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں لیتے بلکہ معاف کر دیتے ہیں، درگزر کر دیتے ہیں، اور نیک سلوک ہی کرتے ہیں اور اپنی حلال روزیاں اللہ کے نام خرچ کرتے ہیں اپنے بال بچوں کا پیٹ بھی پالتے ہیں زکوٰۃ صدقات وخیرات میں بھی بخیلی نہیں کرتے۔ لغویات سے بچے ہوئے رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے دوستیاں نہیں کرتے ایسی مجلسوں سے دور رہتے ہیں بلکہ اگر اچانک گزر ہو بھی جائے تو بزرگانہ طور پر ہٹ جاتے ہیں ایسوں سے میل جول الفت محبت نہیں کرتے صاف کہہ دیتے ہیں کہ تمہاری کرنی تمہارے ساتھ ہمارے اعمال ہمارے ساتھ۔
یعنی جاہلوں کی سخت کلامی برداشت کر لیتے ہیں انہیں ایسا جواب نہیں دیتے کہ وہ اور بھڑکیں بلکہ چشم پوشی کر لیتے ہیں اور کترا کر نکل جاتے ہیں۔ چونکہ خود پاک نفس ہیں اس لیے پاکیزہ کلام ہی منہ سے نکالتے ہیں۔ کہہ دیتے ہیں کہ تم پر سلام ہو، ہم نہ جاہلانہ روش پر چلیں نہ جہالت کی چال کو پسند کریں۔
امام محمد بن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حبشہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تقریباً بیس نصرانی آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسجد میں تشریف فرما تھے یہیں یہ بھی بیٹھ گئے اور بات چیت شروع کی اس وقت قریشی اپنی اپنی بیٹھکوں میں کعبہ کے اردگرد بیٹھے ہوئے تھے۔ ان عیسائی علماء نے جب سوالات کرلئے اور جوابات سے ان کی تشفی ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دین اسلام ان کے سامنے پیش کیا اور قرآن کریم کی تلاوت کر کے انہیں سنائی۔
چونکہ یہ لوگ پڑھے لکھے سنجیدہ اور روشن دماغ تھے قرآن نے ان کے دلوں پر اثر کیا اور ان کے آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ انہوں نے فوراً دین اسلام قبول کر لیا اور اللہ پر اور اللہ کے رسول پر ایمان لائے۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جو صفتیں انہوں نے اپنی آسمانی کتابوں میں پڑھی تھیں سب آپ میں موجود پائیں۔
جب یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانے لگے تو ابوجہل بن ہشام ملعون اپنے آدمیوں کو لیے ہوئے انہیں راستے میں ملا اور تمام قریشیوں نے مل کر انہیں طعنے دینے شروع کئے اور برا کہنے لگے کہ تم سے بدترین وفد کسی قوم کا ہم نے نہیں دیکھا تمہاری قوم نے تمہیں اس شخص کے حالات معلوم کرنے کے لیے بھیجا یہاں تم نے آبائی مذہب کو چھوڑ دیا اور اس کا ایسا رنگ تم پر چڑھا کہ ذراسی دیر میں اپنے دین کو ترک کر کے دین بدلدیا اور اسی کا کلمہ پڑھنے لگے تم سے زیادہ احمق ہم نے کسی کو نہیں دیکھا۔ انہوں نے ٹھنڈے دل سے یہ سب سن لیا اور جواب دیا کہ ہم تمہارے ساتھ جاہلانہ باتیں کرنا پسند نہیں کرتے ہمارا دین ہمارے ساتھ تمہارا مذہب تمہارے ساتھ۔ ہم نے جس بات میں اپنی بھلائی دیکھی اسے قبول کر لیا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ وفد نجران کے نصرانیوں کا تھا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آیتیں انہی کے بارے میں اتری ہیں۔ زہری رحمہ اللہ سے ان آیتوں کا شان نزول پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا میں تو اپنے علماء سے یہی سنتا چلا آیا ہوں کہ یہ آیتیں نجاشی اور ان کے اصحاب رضی اللہ عنہم کے بارے میں اتری ہیں۔ اور سورۃ المائدہ کی آیتیں «لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَهُم مَّوَدَّةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ قَالُوا إِنَّا نَصَارَىٰ ذَٰلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ وَرُهْبَانًا وَأَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَىٰ أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ» ۱؎ [5-المائدة:82،83] تک کی آیتیں بھی انہی کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔
چونکہ یہ لوگ پڑھے لکھے سنجیدہ اور روشن دماغ تھے قرآن نے ان کے دلوں پر اثر کیا اور ان کے آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ انہوں نے فوراً دین اسلام قبول کر لیا اور اللہ پر اور اللہ کے رسول پر ایمان لائے۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جو صفتیں انہوں نے اپنی آسمانی کتابوں میں پڑھی تھیں سب آپ میں موجود پائیں۔
جب یہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانے لگے تو ابوجہل بن ہشام ملعون اپنے آدمیوں کو لیے ہوئے انہیں راستے میں ملا اور تمام قریشیوں نے مل کر انہیں طعنے دینے شروع کئے اور برا کہنے لگے کہ تم سے بدترین وفد کسی قوم کا ہم نے نہیں دیکھا تمہاری قوم نے تمہیں اس شخص کے حالات معلوم کرنے کے لیے بھیجا یہاں تم نے آبائی مذہب کو چھوڑ دیا اور اس کا ایسا رنگ تم پر چڑھا کہ ذراسی دیر میں اپنے دین کو ترک کر کے دین بدلدیا اور اسی کا کلمہ پڑھنے لگے تم سے زیادہ احمق ہم نے کسی کو نہیں دیکھا۔ انہوں نے ٹھنڈے دل سے یہ سب سن لیا اور جواب دیا کہ ہم تمہارے ساتھ جاہلانہ باتیں کرنا پسند نہیں کرتے ہمارا دین ہمارے ساتھ تمہارا مذہب تمہارے ساتھ۔ ہم نے جس بات میں اپنی بھلائی دیکھی اسے قبول کر لیا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ وفد نجران کے نصرانیوں کا تھا «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آیتیں انہی کے بارے میں اتری ہیں۔ زہری رحمہ اللہ سے ان آیتوں کا شان نزول پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا میں تو اپنے علماء سے یہی سنتا چلا آیا ہوں کہ یہ آیتیں نجاشی اور ان کے اصحاب رضی اللہ عنہم کے بارے میں اتری ہیں۔ اور سورۃ المائدہ کی آیتیں «لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الْيَهُودَ وَالَّذِينَ أَشْرَكُوا وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَهُم مَّوَدَّةً لِّلَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ قَالُوا إِنَّا نَصَارَىٰ ذَٰلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ وَرُهْبَانًا وَأَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ وَإِذَا سَمِعُوا مَا أُنزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَىٰ أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُوا مِنَ الْحَقِّ يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ» ۱؎ [5-المائدة:82،83] تک کی آیتیں بھی انہی کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔