(آیت 40) ➊ { فَاَخَذْنٰهُوَجُنُوْدَهٗفَنَبَذْنٰهُمْفِيالْيَمِّ: ”نَبَذَيَنْبِذُ“} پھینک مارنا۔ اس مقام پر درمیان کے بہت سے واقعات چھوڑ دیے گئے ہیں، جو دوسرے مقامات پر مذکور ہیں، یہاں صرف ان کے انجام کی خبر دی گئی ہے۔ ان الفاظ میں اللہ تعالیٰ نے ان کے جھوٹے تکبر کے مقابلے میں ان کے بے حقیقت ہونے کی تصویر کھینچ دی ہے کہ وہ جو اپنے آپ کو بہت بڑی چیز سمجھ بیٹھے تھے، جب وہ مہلت ختم ہو گئی جو اللہ تعالیٰ نے انھیں راہ راست پر آنے کے لیے دی تھی تو انھیں کوڑے کرکٹ کی طرح سمندر میں پھینک دیا گیا۔ ➋ { فَانْظُرْكَيْفَكَانَعَاقِبَةُالظّٰلِمِيْنَ:} اس میں ہر عبرت حاصل کرنے والے شخص کو ان کے انجام سے عبرت حاصل کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے کہ جو انجام ان کا ہوا وہی انجام ان لوگوں کا ہو گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلائیں گے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
40-1یعنی جب ان کا کفر و طغیان حد سے بڑھ گیا اور کسی طرح بھی وہ ایمان لانے پر آمادہ نہیں ہوئے تو بالآخر ایک صبح ہم نے انھیں دریا میں غرق کردیا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
40۔ چنانچہ ہم نے فرعون اور اس کے سب لشکروں کو پکڑا اور سمندر میں پھینک دیا۔ اب دیکھ لو کہ ان ظالموں کا [52] انجام کیسا ہوا؟
[52] فرعون کا انجام :۔
اس مقام پر درمیان سے بہت سے واقعات چھوڑ دیئے گئے ہیں۔ جو دیگر متعدد مقامات پر مذکور ہیں۔ یہاں صرف ان کے انجام کی خبر دی گئی ہے کہ ان ظالموں اور زمین میں بڑا بننے والوں کا انجام کیا ہوا۔ کس بے بسی کی حالت میں مرے۔ اور کیسی کیسی دل میں حسرتیں لے کر مرے۔ اور مرتے وقت کسی سے کوئی بات تک نہ کر سکے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔