ترجمہ و تفسیر — سورۃ القصص (28) — آیت 4

اِنَّ فِرۡعَوۡنَ عَلَا فِی الۡاَرۡضِ وَ جَعَلَ اَہۡلَہَا شِیَعًا یَّسۡتَضۡعِفُ طَآئِفَۃً مِّنۡہُمۡ یُذَبِّحُ اَبۡنَآءَہُمۡ وَ یَسۡتَحۡیٖ نِسَآءَہُمۡ ؕ اِنَّہٗ کَانَ مِنَ الۡمُفۡسِدِیۡنَ ﴿۴﴾
بے شک فرعون نے زمین میں سرکشی کی اور اس کے رہنے والوں کو کئی گروہ بنا دیا، جن میں سے ایک گروہ کو وہ نہایت کمزور کر رہا تھا، ان کے بیٹوں کو بری طرح ذبح کرتا اور ان کی عورتوں کو زندہ رہنے دیتا تھا۔ بلاشبہ وہ فساد کرنے والوں سے تھا۔ En
کہ فرعون نے ملک میں سر اُٹھا رکھا تھا اور وہاں کے باشندوں کو گروہ گروہ بنا رکھا تھا اُن میں سے ایک گروہ کو (یہاں تک) کمزور کر دیا تھا کہ اُن کے بیٹوں کو ذبح کر ڈالتا اور اُن کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا۔ بیشک وہ مفسدوں میں تھا
En
یقیناً فرعون نے زمین میں سرکشی کر رکھی تھی اور وہاں کے لوگوں کو گروه گروه بنا رکھا تھا اور ان میں سے ایک فرقہ کو کمزور کر رکھا تھا اور ان کے لڑکوں کو تو ذبح کر ڈالتا تھا اور ان کی لڑکیوں کو زنده چھوڑ دیتا تھا۔ بیشک وشبہ وه تھا ہی مفسدوں میں سے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 4) ➊ { اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْاَرْضِ: الْاَرْضِ } سے مراد سرزمین مصر ہے، جس کا قرینہ فرعون کا ذکر ہے، کیونکہ اس کی حکومت صرف مصر میں تھی۔ جو لوگ اسے پوری زمین کا بادشاہ سمجھتے ہیں ان کی بات درست نہیں، کیونکہ ہجرت کے بعد مصر کے قریب ہی مدین پہنچنے پر موسیٰ علیہ السلام اس کی گرفت سے آزاد تھے۔ { عَلَا } کا لفظی معنی ہے اس نے سر اٹھایا، اونچا بن گیا یعنی اپنے اصل مقام بندگی سے اونچا ہو کر خدائی کا دعویٰ کر بیٹھا اور اپنی حقیقت کو بھول گیا۔ { عَلَا فِي الْاَرْضِ } کے لفظ میں یہ بھی اشارہ ہے کہ بلندی اور کبریائی تو اس ذات کا لباس ہے جو عرش پر بلند ہے، زمین پر رہنے والے کا حق تو عرش والے کے سامنے پستی اور عاجزی ہے، نہ کہ سرکشی کرتے ہوئے اللہ کے بندوں کو ذلیل و خوار کرنا اور ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنا۔
➋ {وَ جَعَلَ اَهْلَهَا شِيَعًا:} یعنی اس نے سر زمین مصر کے باشندوں کو مختلف طبقوں میں تقسیم کر دیا تھا۔ واضح رہے کہ فرعون کے زمانے کی تہذیب اور ان کے عقائد بہت حد تک ہندوؤں کی تہذیب اور عقائد سے ملتے جلتے ہیں۔ ہندو بھی چار طبقوں میں تقسیم ہیں، برہمن، کھتری، ویش اور شودر۔ جن میں برہمنوں کو سب پر بالادست رکھا گیا ہے اور شودر کو انسانیت کی حد سے بھی نیچے گرا دیا گیا ہے۔ مصری تہذیب بھی بادشاہ کی خدائی کے ساتھ گائے کی پجاری تھی، ہندوؤں کا بھی یہی حال ہے۔ فرعونِ مصر نے بھی مصر کے رہنے والوں کو مختلف گروہوں میں بانٹ دیا تھا اور ان سب کو آپس میں دست و گریبان کر رکھا تھا اور مختلف قسم کی مراعات دے کر یا ان پر ظلم و ستم کر کے انھیں اتنا بے وقعت اور بے بس بنا رکھا تھا کہ وہ کسی بات میں اس سے اختلاف کی جرأت نہیں کر سکتے تھے، حتیٰ کہ انھوں نے اس کے رب اعلیٰ ہونے کے دعوے کو بھی مان لیا۔ (دیکھیے زخرف: ۵۱ تا۵۴) آج کل بھی ملکوں اور قوموں کو محکوم رکھنے کے لیے بڑی طاقتوں کا یہی طریقہ ہے کہ تقسیم کرو اور حکومت کرو۔
➌ { يَسْتَضْعِفُ طَآىِٕفَةً مِّنْهُمْ: أَضْعَفَ يُضْعِفُ} (افعال) کا معنی کمزور کرنا ہے اور استفعال میں حروف کے اضافے کی وجہ سے معنی میں اضافہ ہو گیا، یعنی وہ ان میں سے ایک گروہ کو بہت زیادہ ہی کمزور کر رہا تھا۔ مراد اس سے بنی اسرائیل ہیں، جو یوسف علیہ السلام کے زمانے میں مصر آئے تھے اور مدت تک نہایت شان و شوکت اور عزت و احترام کے ساتھ زندگی بسر کرتے رہے، پھر اللہ کی نافرمانی اور اپنے اعمال بد کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے مصر کے اصل باشندوں کو جو قبطی تھے، ان پر مسلط کر دیا اور اس فرعون نے تو انھیں کمزور اور بے بس کرنے کی انتہا کر دی۔ اس نے ایسا بندوبست کیا کہ قبطی آقا بن کر رہیں اور بنی اسرائیل غلام اور خدمت گار بن کر۔ چنانچہ مشقت کا ہر کام زبردستی ان سے لیا جاتا، مثلاً کھیتی باڑی، عمارتیں بنانے اور نہریں وغیرہ کھودنے کا کام اور گھروں میں خدمت کا کام ان کی عورتوں سے لیا جاتا۔ اس کے علاوہ لڑکوں کو ذبح کرکے عورتوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کے لیے زندہ رکھا جاتا۔
➍ { يُذَبِّحُ اَبْنَآءَهُمْ وَ يَسْتَحْيٖ نِسَآءَهُمْ:} اس حکم کی وجہ اور ذبح کی کیفیت کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۴۹)۔
➎ { اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِيْنَ: إِنَّ } عموماً اپنے سے پہلے والے کلام کی علت بیان کرنے کے لیے آتا ہے، یعنی اس کے اس ظلم اور سرکشی کی وجہ یہ تھی کہ وہ ان لوگوںمیں سے تھا جن کا کام ہی فساد اور جن کی پہچان ہی مفسدین کے نام سے ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

4-1یعنی ظلم و ستم کا بازار گرم کر رکھا تھا اور اپنے کو بڑا معبود کہلاتا تھا۔ 4-2جن کے ذمے الگ الگ کام اور ڈیوٹیاں تھیں۔ 4-3اس سے مراد بنی اسرائیل ہیں، جو اس وقت کی افضل ترین قوم تھی لیکن آزمائش کے طور پر فرعون کی غلام اور اس کی ستم زانیوں کا تختہ مشق بنی ہوئی تھی۔ 4-4جس کی وجہ بعض نجومیوں کی پیش گوئی تھی کہ بنی اسرائیل میں پیدا ہونے والے ایک بچے کے ہاتھوں فرعون کی ہلاکت اور اس کی سلطنت کا خاتمہ ہوگا۔ جس کا حل اس نے یہ نکالا کہ ہر پیدا ہونے والا اسرائیلی بچہ قتل کردیا جائے۔ حالانکہ اس احمق نے یہ نہیں سوچا کہ اگر کاہن سچا ہے تو ایسا یقینا ہو کر رہے گا چاہے وہ بچے قتل کرواتا رہے اور اگر وہ جھوٹا ہے تو قتل کروانے کی ضرورت ہی نہیں تھی (فتح القدیر) بعض کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم ؑ کی طرف سے یہ خوشحبری منتقل ہوتی چلی آرہی تھی کہ ان کی نسل سے ایک بچہ ہوگا جسکے ہاتھوں سلطنت مصر کی تباہی ہوگی۔ قبیلوں نے یہ بشارت بنی اسرائیل سے سنی اور فرعون کو اس سے آگاہ کردیا جس پر اس نے بنی اسرائیل کے بچوں کو مروانا شروع کردیا۔ (ابن کثیر)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

4۔ فرعون نے ملک (مصر) میں سرکشی [4] اختیار کر رکھی تھی۔ اور اپنی رعیت کو کئی گروہ بنا دیا تھا اور ان میں سے ایک گروہ (بنی اسرائیل) کو بہت کمزور [5] بنا رکھا تھا۔ وہ اس گروہ کے لڑکوں کو تو قتل کر دیتا [6] مگر لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا تھا۔ بلا شبہ وہ (معاشرہ میں) بگاڑ پیدا کرنے والوں سے تھا۔
[4] یعنی فرعون نے سر اٹھا رکھا تھا۔ اپنے آپ کو بہت بڑی چیز سمجھنے لگا تھا، لوگوں پر ظلم و زیادتی میں حد سے بڑھنے لگا تھا۔ اپنے آپ کو بندگی کے مقام سے اٹھا کر مکمل خود مختاری کے مقام تک لے گیا تھا اور سخت باغیانہ روش اختیار کر رکھی تھی۔ بعد میں فرعون کا لفظ لغوی لحاظ سے متکبر، سرکش اور متمرد کے معنوی میں استعمال ہونے لگا ہے۔
[5] فرعون کی سیاسی پالیسی۔ قبطی اور سبطی کون لوگ تھے :۔
اپنی حکومت کو مستحکم کرنے اور مستحکم بنائے رکھنے کے سلسلہ میں اس کی سیاسی پالیسی یہ تھی کہ اس نے اپنی رعایا میں طبقاتی تقسیم پیدا کر دی تھی۔ ایک تو اس کی اپنی قوم یا مصر کے قدیم باشندے تھے جنہیں قبطی کہتے ہیں اور یہ معزز طبقہ تھا۔ سرکاری مناصب بھی انھیں ہی مل سکتے تھے اور حکمران قوم ہونے کے ناطے سے ان کے حقوق کی ضرورت سے بھی زیادہ نگہداشت کی جاتی تھی۔ دوسرے بنی اسرائیل تھے۔ جو حضرت یوسفؑ کے زمانہ یعنی تقریباً چار سو سال سے یہاں آکر آباد ہوئے تھے۔ اس وقت وہ حکمران قوم کی حیثیت سے آئے تھے لیکن ایک صدی بعد ہی ان میں جب بے دینی اور اخلاقی انحطاط شروع ہو گیا اور فرقوں میں بٹ گئے۔ تو اللہ نے ان سے حکومت چھین لی اور مصری لوگ پھر سے قابض ہو گئے۔ انہوں نے ان بنی اسرائیل سے انتقاماً اچھوتوں اور شودروں کا سا سلوک روا رکھا ہوا تھا۔ معاشرہ میں ان کی کچھ عزت نہ تھی۔ کوئی سرکاری عہدہ انھیں نہیں مل سکتا تھا۔ یہ لوگ عموماً حکمران قوم کے افراد کے غلام، ملازم اور ان کی عورتیں بھی ان کے گھروں کا کام کاج کرتی تھیں۔ اس طرح فرعون نے عملاً ان لوگوں کو اپنا غلام بنا کر رکھا ہوا تھا۔
[6] سبطیوں کی نسل کشی کے لیے فرعون کا اقدام:۔
مصر کی قومیت پرستی کی تحریک تو مدتوں پہلے شروع ہو چکی تھی اور اسی کے نتیجہ میں بنی اسرائیل (یعنی قبطیوں) سے ایسا ناروا سلوک کیا جاتا تھا۔ تاہم فرعون رعمسیس نے اس کے لئے انتہائی قدم یہ اٹھایا کہ آئندہ سے بنی اسرائیل کے ہاں پیدا ہونے والے لڑکے کو قتل کر دیا جائے اور لڑکیوں کو زندہ رہنے دیا جائے۔ لڑکیاں یا عورتیں تو از خود قبطیوں یا آل فرعون کے قبضہ میں آ جائیں گی اور اس طرح کچھ مدت بعد بنی اسرائیل کی نسل ہی ختم ہو کر مصریوں میں مدغم ہو جائے گی۔ چنانچہ فرعون کے اس حکم کی تعمیل کے لئے جاسوس قسم کی عورتیں مقرر کی گئی تھیں۔ جو بنی اسرائیل کے ہاں نوازائیدہ بچوں کی رپورٹ حکومت کو پیش کیا کرتی تھیں۔ اور یہ محض احتیاطی تدبیر تھی ورنہ بنی اسرائیل کے لئے آرڈر یہی تھا کہ وہ نوزائیدہ لڑکے کی اطلاع حکومت کو فراہم کریں اور وہ اس بات پر مجبور بھی تھے۔
فرعون کا خواب کہ ایک اسرائیلی اس کی حکومت کاخاتمہ کرے گا:۔
بعض تفاسیر میں منقول ہے کہ فرعون کو ایک پریشان کن خواب آیا تھا جس کی نجومیوں نے اسے تعبیر یہ بتلائی تھی کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہونے والا ہے جس کے ہاتھوں فرعون اور اس کی حکومت تباہ ہو جائے گی اور فرعون نے اسی خطرہ کے سد باب کے لئے بنی اسرائیل کے لڑکوں کے قتل کا حکم دیا تھا۔ اس پہلو سے اگر غور کیا جائے تو فرعون کا یہ اقدام سراسر حماقت اور استبداد تھا۔ کیونکہ اگر نجومیوں کی یہ تعبیر درست تھی تو یہ کام ہو کے رہنا چاہئے تھا اور وہ ہو کے رہا۔ خواب یا اس کی تعبیر میں یہ اشارہ تک نہیں پایا جاتا کہ اگر فرعون اس خطرہ کا کوئی سدباب سوچ لے تو بچ سکے گا۔ اور اگر یہ تعبیر غلط تھی تو پھر ویسے ہی یہ ایک سفاکانہ حرکت تھی۔ بہرحال دونوں صورتوں میں اس کا یہ اقدام ظالمانہ اور وحشیانہ قسم کا تھا۔ اور جہاں اس واقعہ خواب یا اس کی تعبیر کا تعلق ہے، اس کی صحت اور عدم صحت کے متعلق اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ اور یہ صورت نہ بھی ہوتی تو قومیت پرستی کی بنیاد پر حالات ایسے پیدا ہو چکے تھ کہ فرعون نے بنی اسرائیل کو مکمل طور پر کچل دینے کے لئے یہی اقدام مناسب سمجھا۔ اور ابن کثیر اس خواب اور اس کی تعبیر کے واقعہ کی صورت حال یہ بتلاتے ہیں کہ بنی اسرائیل آپس میں حضرت ابراہیم خلیل اللہؑ کی ایک پیشین گوئی کا تذکرہ کیا کرتے تھے کہ ایک اسرائیلی نوجوان کے ہاتھوں سلطنت مصر کی تباہی مقدر ہو گی۔ رفتہ رفتہ یہ بات فرعون کے کانوں تک بھی پہنچ گئی۔ اس احمق نے قضا و قدر کی روک تھام کے لئے یہ سفاکانہ اسکیم جاری کی تھی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔