ترجمہ و تفسیر — سورۃ القصص (28) — آیت 33

قَالَ رَبِّ اِنِّیۡ قَتَلۡتُ مِنۡہُمۡ نَفۡسًا فَاَخَافُ اَنۡ یَّقۡتُلُوۡنِ ﴿۳۳﴾
کہا اے میرے رب! بے شک میں نے ان میں سے ایک شخص کو قتل کیا ہے، اس لیے ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔ En
موسٰی نے کہا اے پروردگار اُن میں کا ایک شخص میرے ہاتھ سے قتل ہوچکا ہے سو مجھے خوف ہے کہ وہ (کہیں) مجھ کو مار نہ ڈالیں
En
موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا پروردگار! میں نے ان کا ایک آدمی قتل کر دیا تھا۔ اب مجھے اندیشہ ہے کہ وه مجھے بھی قتل کر ڈالیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 33) {قَالَ رَبِّ اِنِّيْ قَتَلْتُ مِنْهُمْ نَفْسًا …:} موسیٰ علیہ السلام نے یہ بات ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کے لیے نہیں کہی، بلکہ اس سلسلے میں پیش آنے والی مشکلات میں مدد کی درخواست کے لیے کہی۔ چنانچہ ان خطرات کا ذکر کیا جو انھیں اس سلسلے میں نظر آرہے تھے اور اللہ تعالیٰ سے ان خطرات میں مدد کی ضمانت حاصل کر لی۔ (تفسیر بقاعی میں ہے کہ یہ پیش بینی اس جلیل القدر پیغمبر کی عادت مبارکہ تھی، دیکھیے انھوں نے کس طرح ہماری بھلائی کے لیے بار بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تخفیف کی درخواست کے لیے اللہ تعالیٰ کی جناب میں واپس جانے کو کہا) ان میں سے پہلا خطرہ یہ بیان کیا کہ میں نے ان کا ایک آدمی قتل کیا ہے، اس لیے ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے دعوت پیش کرنے سے پہلے ہی قتل کر دیں گے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

33-1یہ خطرہ تھا جو واقع حضرت موسیٰ ؑ کی جان کو لاحق تھا، کیونکہ ان کے ہاتھوں ایک قبطی قتل ہوچکا تھا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

33۔ موسیٰ نے عرض کیا: پروردگار! میں نے ان کے ایک آدمی کو مار ڈالا تھا لہذا مجھے خطرہ ہے کہ وہ مجھے مار ڈالیں گے

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

یاد ماضی ٭٭
یہ گزر چکاکہ موسیٰ علیہ السلام فرعون سے خوف کھا کر اس کے شہر سے بھاگ نکلے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے وہیں اسی کے پاس نبی بن کر جانے کو فرمایا تو آپ علیہ السلام کو وہ سب یاد آ گیا اور عرض کرنے لگے اے اللہ ان کے ایک آدمی کی جان میرے ہاتھ سے نکل گئی تھی تو ایسانہ ہو کہ وہ بدلے کا نام رکھ کر میرے قتل کے درپے ہو جائیں۔‏‏‏‏
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بچپن کے زمانے میں جب کہ آپ علیہ السلام کے سامنے بطور تجربہ کے ایک آگ اور ایک کھجور یا یک موتی رکھا تھا تو آپ نے انگارہ پکڑ لیا تھا اور منہ میں ڈال لیا تھا اس واسطے آپ کی زبان میں کچھ کسر رہ گئی تھی اور اسی لیے آپ نے اپنی زبان کی بابت اللہ سے دعا مانگی تھی «قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّن لِّسَانِي يَفْقَهُوا قَوْلِي وَاجْعَل لِّي وَزِيرًا مِّنْ أَهْلِي هَارُونَ أَخِي اشْدُدْ بِهِ أَزْرِي وَأَشْرِكْهُ فِي أَمْرِي» [20-طه:25-32]‏‏‏‏ کہ ’ میری زبان کی گرہ کھول دے تا کہ لوگ میری بات سمجھ سکیں اور میرے بھائی ہارون علیہ السلام کو میرا وزیر بنا دے اس سے میرا بازو مضبوط کر اور اسے میرے کام میں شریک کر تاکہ نبوت ورسالت کا فریضہ ادا ہو اور تیرے بندوں کو تیری کبریائی کی دعوت دے سکیں ‘۔
یہاں بھی «. وَأَخِي هَارُونُ هُوَ أَفْصَحُ مِنِّي لِسَانًا فَأَرْسِلْهُ مَعِيَ رِدْءًا يُصَدِّقُنِي إِنِّي أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ» ۱؎ [28-القصص:34]‏‏‏‏ ہے۔
آپ علیہ السلام کی دعا منقول ہے کہ ’ آپ علیہ السلام نے فرمایا میرے بھائی ہارون کو میرے ساتھ ہی اپنا رسول بنا کر بھیجیں وہ میرا معین و وزیر ہو جائے۔ وہ میری باتوں کو باور کرے تاکہ میرا بازو مضبوط رہے دل بڑھا ہوا رہے ‘۔ اور یہ بھی بات ہے کہ دو آوازیں بہ نسبت ایک آواز کے زیادہ مضبوط اور با اثر ہوتی ہیں۔ میں اکیلا رہا تو ڈر ہے کہ کہیں وہ مجھے جھٹلا نہ دیں اور ہارون علیہ السلام ساتھ ہوا تو میری باتیں بھی لوگوں کو سمجھا دیا کرے گا۔
جناب باری ارحم الراحمین نے جواب دیا کہ ’ تیری مانگ منظور ہے ہم تیرے بھائی کو تجھ کو سہارا دیں گے اور اسے بھی تیرے ساتھ نبی بنا دیں گے ‘۔
جیسے اور آیت میں ہے «قَالَ قَدْ أُوتِيتَ سُؤْلَكَ يَا مُوسَىٰ» ۱؎ [20- طه: 36]‏‏‏‏ ’ موسیٰ (‏‏‏‏علیہ السلام) تیرا سوال پورا کر دیا گیا ‘۔
اور آیت «وَوَهَبْنَا لَهُ مِن رَّحْمَتِنَا أَخَاهُ هَارُونَ نَبِيًّا» ۱؎ [19-مريم:53]‏‏‏‏ میں ہے ’ ہم نے اپنی رحمت سے اسے اس کے بھائی ہارون کو نبی بنا دیا ‘۔
اسی لیے بعض اسلاف کا فرمان ہے کہ کسی بھائی نے اپنے بھائی پر وہ احسان نہیں کیا جو موسیٰ علیہ السلام نے ہارون علیہ السلام پر کیا کہ اللہ سے دعا کر کے انہیں نبی بنوادیا۔ یہ موسیٰ علیہ السلام کی بڑی بزرگی کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی ایسی دعا بھی رد نہ کی۔ واقعی آپ اللہ کے نزدیک بڑے ہی مرتبہ والے تھے۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ ہم تم دونوں کو زبردست دلیلیں اور کام حجتیں دیں گے فرعونی تمہیں کوئی ایذاء نہیں دے سکتے۔ کیونکہ تم میرا پیغام میرے بندوں کے نام پہنچانے والے ہو۔ ایسوں کو میں خود دشمنوں سے سنبھالتا ہوں۔ ان کامددگار اور مؤید میں خود بن جاتا ہوں۔ انجام کار تم اور تمہارے ماننے والے ہی غالب آئیں گے ‘۔
جیسے فرمان ہے اللہ لکھ چکا ہے «كَتَبَ اللَّـهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي إِنَّ اللَّـهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ» ۱؎ [58-المجادلة:21]‏‏‏‏ ’ میں اور میرے رسول ہی غالب آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ قوت والا عزت والا ہے ‘۔
اور آیت میں ہے «إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ يَوْمَ لَا يَنفَعُ الظَّالِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ» ۱؎ [40-غافر:51،52]‏‏‏‏، ’ ہم اپنے رسولوں اور ایمان والوں کی دنیا کی زندگی میں بھی مدد کرتے ہیں ‘۔
ابن جریر رحمہ اللہ کے نزدیک آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ ہمارے دئیے ہوئے غلبہ کی وجہ سے فرعونی تمہیں تکلیف نہ پہنچاسکیں گے اور ہماری دی ہوئی نشانیوں کی وجہ سے غلبہ صرف تمہیں ہی حاصل ہو گا۔ لیکن پہلے جو مطلب بیان ہوا ہے اس سے بھی یہی ثابت ہے تو اس کی کوئی حاجت ہی نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔