ترجمہ و تفسیر — سورۃ القصص (28) — آیت 29

فَلَمَّا قَضٰی مُوۡسَی الۡاَجَلَ وَ سَارَ بِاَہۡلِہٖۤ اٰنَسَ مِنۡ جَانِبِ الطُّوۡرِ نَارًا ۚ قَالَ لِاَہۡلِہِ امۡکُثُوۡۤا اِنِّیۡۤ اٰنَسۡتُ نَارًا لَّعَلِّیۡۤ اٰتِیۡکُمۡ مِّنۡہَا بِخَبَرٍ اَوۡ جَذۡوَۃٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّکُمۡ تَصۡطَلُوۡنَ ﴿۲۹﴾
پھر جب موسیٰ نے وہ مدت پوری کردی اور اپنے گھر والوں کو لے کر چلا تو اس نے پہاڑ کی طرف سے ایک آگ دیکھی، اپنے گھر والوں سے کہا تم ٹھہرو، بے شک میں نے ایک آگ دیکھی ہے، ہوسکتاہے کہ میں تمھارے لیے اس سے کوئی خبر لے آئوں، یا آگ کا کوئی انگارا، تاکہ تم تاپ لو۔ En
جب موسٰی نے مدت پوری کردی اور اپنے گھر کے لوگوں کو لے کر چلے تو طور کی طرف سے آگ دکھائی دی تو اپنے گھر والوں سے کہنے لگے کہ تم یہاں ٹھیرو۔ مجھے آگ نظر آئی ہے شاید میں وہاں سے (رستے کا) کچھ پتہ لاؤں یا آگ کا انگارہ لے آؤں تاکہ تم تاپو
En
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مدت پوری کرلی اور اپنے گھر والوں کو لے کر چلے تو کوه طور کی طرف آگ دیکھی۔ اپنی بیوی سے کہنے لگے ٹھہرو! میں نے آگ دیکھی ہے بہت ممکن ہے کہ میں وہاں سے کوئی خبر ﻻؤں یا آگ کا کوئی انگاره ﻻؤں تاکہ تم سینک لو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 29) ➊ { فَلَمَّا قَضٰى مُوْسَى الْاَجَلَ وَ سَارَ بِاَهْلِهٖۤ:} اہلِ کتاب اور اکثر مسلمان مفسرین کا کہنا ہے کہ ان دس سالوں کے دوران وہ فرعون فوت ہو گیا جس نے موسیٰ علیہ السلام کی پرورش کی تھی اور اب اس کی جگہ اور فرعون حکمران تھا۔ (واللہ اعلم)
موسیٰ علیہ السلام نے جب وہ مدت پوری کر لی تو بیوی کو لے کر اپنے وطن جانے کے ارادے سے مدین سے روانہ ہو گئے۔ اس ارادے کی دلیل یہ ہے کہ طور اس راستے پر واقع ہے جو مدین سے مصر کی طرف جاتا ہے۔ ایک تو اپنے والدین اور بہن بھائیوں سے ملنے کا شوق تھا، دوسرے ہو سکتا ہے یہ خیال بھی ہو کہ لوگ اب تک اس واقعہ کو بھول چکے ہوں گے اور وہاں رہنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔
➋ { اٰنَسَ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ نَارًا …: جَذْوَةٍ } لکڑی کا ٹکڑا جس کے سرے پر آگ ہو۔ یہ واقعہ تفصیل کے ساتھ سورۂ طٰہٰ اور سورۂ نمل میں گزر چکا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

29-1حضرت ابن عباس نے اس مدت سے دس سالہ مدت مراد لی ہے، کیونکہ یہی اکمل اور اطیب (یعنی خسر موسیٰ ؑ کے لئے خوشگوار اور مرغوب) تھی اور حضرت موسیٰ ؑ کے کریمانہ اخلاق نے اپنے بوڑھے خسر کی دلی خواہش کے خلاف کرنا پسند نہیں کیا۔ 29-2اس سے معلوم ہوا کہ خاوند اپنی بیوی کو جہاں چاہے لے جاسکتا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

29۔ پھر جب موسیٰ نے وہ مدت پوری کر لی اور اپنے اہل خانہ [39] کو لے کر چلے تو طور (پہاڑ) کے ایک طرف انھیں آگ نظر آئی، انہوں نے اپنے اہل خانہ سے کہا تم یہاں ٹھہرو میں نے ایک آگ سی دیکھی ہے۔ شاید میں وہاں سے تمہارے لئے کچھ (راستہ کی) خبر یا آگ کا کوئی انگارا ہی [39۔ 1] اٹھا لاؤں تاکہ تم سینک سکو
[39] دس سال بعد اپنے وطن کو روانگی:۔
اس معاہدہ کے بعد حضرت شعیبؑ نے اپنی بیٹی کا حضرت موسیٰؑ سے نکاح کر دیا۔ اور آپ وہاں متاہل زندگی گزارنے لگے۔ کہتے ہیں کہ جس لڑکی سے آپ کا نکاح ہوا اس کا نام صفورہ تھا۔ آپ نکاح کے بعد یہاں آٹھ کے بجائے دس سال ہی قیام پذیر رہے۔ پھر اپنے آبائی وطن مصر کی طرف جانے کے ارادہ سے اپنے اہل و عیال سمیت مدین سے نکل کھڑے ہوئے۔ ایک تو آپ کو اپنے والدین اور بہن بھائی سے ملنے کا اشتیاق تھا۔ دوسرے آپ یہ بھی سوچ رہے تھے کہ ممکن ہے لوگ اب تک واقعہ قتل کو بھول چکے ہوں، اس لئے اپنے ہی وطن جانا مناسب سمجھا۔
[39۔ 1]
سیدنا موسیٰ کا راہ بھولنا:۔
راستہ میں جب آپ طور سینا کے دامن میں پہنچے تو اندھیری رات کی وجہ سے راستہ بھول گئے۔ سردی کا موسم اور شدید ٹھنڈی رات اور بال بچے ساتھ تھے۔ سخت پریشان ہو گئے۔ ایسے حال میں کوئی راہ بتلانے والا بھی نہیں مل رہا تھا۔ آخر دور سے انھیں ایک آگ نظر آئی جسے آپ نے غنیمت سمجھا اور خیال کیا کہ وہاں کوئی آگ جلانے والا تو ضرور ہو گا۔ لہٰذا اپنے اہل و عیال سے کہا تم یہیں ٹھہرو۔ میں اس آگ کے قریب جاتا ہوں۔ اگر کسی نے راستہ بتلا دیا تو فبھا ورنہ کچھ آگ کے انگارے ہی لے آؤں گا۔ تاکہ آپ لوگ اسے سینک سکیں۔ (یہ پورا واقعہ تفصیل کے ساتھ سورۃ طٰہ میں گزر چکا ہے)

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

دس سال حق مہر ٭٭
پہلے یہ بیان گزر چکا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے دس سال پورے کئے تھے۔ قرآن کے اس لفظ «الَْاَجَلَ» سے بھی اس کی طرف اشارہ ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ بلکہ مجاہد رحمہ اللہ کا تو قول ہے کہ دس سال یہ اور دس سال اور بھی گزرے۔ اس قول میں یہ صرف تنہا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
اب موسیٰ علیہ السلام کو خیال اور شوق پیدا ہوا کہ چپ چاپ وطن میں جاؤں اور اپنے والوں سے مل آؤں چنانچہ آپ اپنی بیوی صاحبہ کو اور اپنی بکریوں کو لے کر وہاں سے چلے رات کو بارش ہونے لگی اور سرد ہوائیں چلنے لگیں اور سخت اندھیرا ہو گیا۔ آپ علیہ السلام ہر چند چراغ جلاتے تھے مگر روشنی نہیں ہوتی تھی۔ سخت متعجب اور حیران تھے اتنے میں دیکھتے ہیں کہ کچھ دور آگ روشن ہے تو اپنی اہلیہ صاحبہ سے فرمایا کہ تم یہاں ٹھہرو وہاں کچھ روشنی دکھائی دیتی ہے میں وہاں جاتا ہوں اگر کوئی وہاں ہوا تو اس سے راستہ بھی دریافت کرلونگا اس لیے کہ ہم راہ بھولے ہوئے ہیں۔ یا میں وہاں سے کچھ آگ لے آؤ نگا جس سے تم تاپ لو اور جاڑے کا علاج ہو جائے۔
جب آپ علیہ السلام وہاں پہنچے تو اس وادی کے دائیں جانب کے مغربی پہاڑ سے آواز سنائی دی۔ جیسے قرآن کی اور آیت میں ہے «ووَمَا كُنتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِيِّ إِذْ قَضَيْنَا إِلَىٰ مُوسَى الْأَمْرَ وَمَا كُنتَ مِنَ الشَّاهِدِينَ» ۱؎ [28-القصص:44]‏‏‏‏ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام آگ کے قصد سے قبلہ کی طرف چلے تھے اور مغربی پہاڑ آپ علیہ السلام کے دائیں طرف تھا اور ایک سرسبز ہرے بھرے درخت میں آگ نظر آ رہی تھی جو پہاڑ کے دامن میں میدان کے متصل تھی۔
یہ وہاں جا کر اس حالت کو دیکھ کر حیران وششدہ رہ گئے کہ ہرے اور سبز درخت میں سے آگ کے شعلے نکلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں لیکن آگ کسی چیز میں جلتی ہوئی دکھائی نہیں دیتی، اسی وقت اللہ کی طرف سے آواز آئی۔
عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے اس درخت کو جس میں سے موسیٰ علیہ السلام کو آواز آئی تھی دیکھا ہے وہ سرسبز وشاداب ہرا بھرا درخت ہے جو چمک رہا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ علیق کا درخت تھا اور بعض کہتے ہیں یہ عوسج کا درخت تھا اور آپ علیہ السلام کی لکڑی بھی اسی درخت کی تھی۔
کلیم اللہ علیہ السلام نے سنا کہ آواز آ رہی ہے کہ ’ اے موسیٰ میں ہوں رب العالمین۔ جو اس وقت تجھ سے کلام کر رہا ہوں۔ میں جو چاہوں کر سکتا ہوں۔ میرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں نہ میرے سوا کوئی رب ہے میں اس سے پاک ہو کہ کوئی مجھ جیسا ہو مخلوق میں سے کوئی بھی میرا شریک نہیں میں یکتا اور بے مثل ہوں اور «وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ» ہوں۔ میری ذات، میری صفات، میرے افعال میرے اقوال میں میرا کوئی شریک ساجھی ساتھی نہیں۔ میں ہر طرح پاک اور نقصان سے دور ہوں ‘۔
اسی ضمن میں فرمان ہوا کہ ’ اپنی لکڑی زمین پر گرادو اور میری قدرت اپنی آنکھوں سے دیکھ لو ‘۔ اور آیت میں ہے کہ پہلے دریافت فرمایا گیا کہ ’ اے موسیٰ! تیرے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟ آپ علیہ السلام نے جواب دیا کہ یہ میری لکڑی ہے جس سے میں ٹیک لگاتا ہوں اور جس سے اپنی بکریوں کے لے پتے جھاڑ لیتا ہوں اور دوسرے بھی میرے بہت سے کام اس سے نکلتے ہیں ‘۔
اب مطلع فرمایا کہ ’ لکڑی کو احساس دلا کر پھر زمین پر انہی کے ہاتھوں پھنکوائی۔ وہ زمین پر گرتے ہی ایک پھن اٹھائے پھنکارتا ہوا اژدہابن کر ادھر ادھر فراٹے بھرنے لگی ‘۔
یہ اس بات کی دلیل تھی کہ بولنے والا واقعی اللہ ہی ہے جوقادر مطلق ہے وہ جس چیز کو جو فرما دے ٹل نہیں سکتا۔ سورۃ طہٰ کی تفسیر میں اس کا بیان بھی پورا گزر چکا ہے۔
اس خوفناک سانپ کو جو باوجود بہت بڑا اور بہت موٹا ہونے کے تیر کی طرح ادھر ادھر جا رہا تھا منہ کھولتا تھا تو معلوم ہوتا تھا کہ ابھی نگل جائے گا۔ جہاں سے گزرتا تھا پتھر ٹوٹ جاتے تھے۔
اسے دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام سہم گئے اور دہشت کے مارے ٹھہر نہ سکے الٹے پیروں بھاگے اور مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ وہیں اللہ کی طرف سے آواز آئی ’ موسیٰ ادھر آ ڈر نہیں تو میرے امن میں ہے ‘۔ اب موسیٰ علیہ السلام کا دل ٹھہر گیا۔ اطمینان سے بے خوف ہو کر وہیں اپنی جگہ آ کر باادب کھڑے ہو گئے۔ یہ معجزہ عطا فرما کر پھر دوسرا معجزہ یہ دیا کہ موسیٰ علیہ السلام اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال کر نکالتے تو وہ چاند کی طرح چمکنے لگتا اور بہت بھلا معلوم ہوتا یہ نہیں کہ کوڑھ کے داغ کی طرح سفید ہو جائے۔ یہ بھی بحکم الٰہی آپ نے وہی کیا اور اپنے ہاتھ کو مثل چاند منور دیکھ لیا۔
پھر حکم دیا کہ ’ تمہیں اس سانپ سے یا کسی گھبراہٹ ڈر خوف رعب سے دہشت معلوم ہو تو اپنے بازو اپنے بدن سے ملالو ڈر خوف جاتا رہے گا ‘۔ اور یہ بھی ہے کہ جو شخص ڈر اور دہشت کے وقت اپنا ہاتھ اپنے دل پر اللہ کے اس فرمان کے ماتحت رکھ لے تو ان شاءاللہ اس کا خوف ڈر جاتا رہے گا۔
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابتداء میں موسیٰ علیہ السلام کے دل پر فرعون کا بہت خوف تھا آپ جب اسے دیکھتے تو یہ دعا پڑھتے «اللَّهُمَّ إِنِّي أَدْرَأبِك فِيْ نَحْرهٖ وَأَعُوذبِك مِنْ شَرّهٖ» ۔ اے اللہ میں تجھے اس کے مقابلہ میں کرتا ہوں۔ اور اس کی برائی سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔‏‏‏‏
اللہ تعالیٰ نے ان کے دل سے رعب وخوف ہٹالیا اور فرعون کے دل میں ڈال دیا پھر تو اس کا یہ حال ہو گیا تھا کہ موسیٰ علیہ السلام کو دیکھتے ہی اس کا پیشاب خطا ہو جاتا تھا۔ یہ دونوں معجزے یعنی عصائے موسیٰ علیہ السلام اور ید بیضاء دے کر اللہ نے فرمایا کہ ’ اب فرعون اور فرعونیوں کے پاس رسالت لے کر جاؤ اور بطور دلیل یہ معجزہ پیش کرو اور ان فاسقوں کو اللہ کی راہ دکھاؤ ‘۔