وَ قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ سَیُرِیۡکُمۡ اٰیٰتِہٖ فَتَعۡرِفُوۡنَہَا ؕ وَ مَا رَبُّکَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿٪۹۳﴾
اور کہہ دے سب تعریف اللہ کے لیے ہے، عنقریب وہ تمھیں اپنی نشانیاں دکھائے گا تو تم انھیں پہچان لو گے اور تیرا رب ہرگز اس سے غافل نہیں جو تم کرتے ہو۔
En
اور کہو کہ خدا کا شکر ہے۔ وہ تم کو عنقریب اپنی نشانیاں دکھائے گا تو تم اُن کو پہچان لو گے۔ اور جو کام تم کرتے ہو تمہارا پروردگار اُن سے بےخبر نہیں ہے
En
کہہ دیجئے، کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کو سزاوار ہیں وه عنقریب اپنی نشانیاں دکھائے گا جنہیں تم (خود) پہچان لو گے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو اس سے آپ کا رب غافل نہیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 93) ➊ { وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ:} اور کہہ دے کہ سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو تمام صفات کمال کا جامع ہے۔ کسی کے ہدایت قبول کرنے یا نہ کرنے سے اس کی حمد میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔ اگر تمام جنّ و انس اور پہلے اور پچھلے سب سے متقی شخص کے دل والے ہو جائیں تو اس سے اس کی بادشاہت میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا اور اگر تمام جنّ و انس اور اول و آخر سب سے فاجر شخص کے دل والے ہو جائیں تو اس سے اس کی بادشاہت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی۔
➋ { سَيُرِيْكُمْ اٰيٰتِهٖ فَتَعْرِفُوْنَهَا:} عنقریب وہ تمھیں اپنی نشانیاں دکھائے گا، تو تم انھیں پہچان لو گے کہ ہاں یہ وہی نشانیاں ہیں جن کا وعدہ اللہ اور اس کے رسول نے کیا تھا، مگر اس وقت کا پہچاننا تمھیں کوئی فائدہ نہ دے سکے گا۔ یہ خطاب کفار مکہ سے ہے، اسلامی فتوحات اور تباہ شدہ قوموں کے آثار بھی ان میں شامل ہیں اور قرب قیامت کی نشانیاں بھی اس کے تحت آجاتی ہیں۔ دیکھیے سورۂ حٰم السجدہ (۵۳)۔
➌ { وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ:} آیت کے اس جملے کے تحت ابن کثیر نے ابن ابی حاتم سے جید سند کے ساتھ عمر بن عبدالعزیز کا قول ذکر کیا ہے، انھوں نے فرمایا: [فَلَوْ كَانَ اللّٰهُ مُغْفِلًا شَيْئًا لَأَغْفَلَ مَا تَعَفِّي الرِّيَاحُ مِنْ أَثَرِ قَدَمَيِ ابْنِ آدَمَ] [ابن کثیر: 219/6] ”اگر اللہ تعالیٰ کسی چیز سے غفلت کرنے والا ہوتا، تو ابن آدم کے قدموں کے نشانوں سے ضرور غفلت برتتا، جنھیں ہوائیں مٹا دیتی ہیں (مگر اللہ تعالیٰ ان سے بھی غافل نہیں)۔“ مراد یہ آیت ہے: «{ اِنَّا نَحْنُ نُحْيِ الْمَوْتٰى وَ نَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَ اٰثَارَهُمْ }» [یٰس: ۱۲] ”بے شک ہم ہی مردوں کو زندہ کرتے ہیں اور ہم لکھ رہے ہیں جو عمل انھوں نے آگے بھیجے اور ان کے چھوڑے ہوئے نشان بھی۔“ اور ابن کثیر نے امام احمد رحمہ اللہ کے متعلق نقل فرمایا کہ وہ یہ دو اشعار پڑھا کرتے تھے، جو یا تو ان کے ہیں یا کسی اور کے:
{إِذَا مَا خَلَوْتَ الدَّهْرَ يَوْمًا فَلاَ تَقُلْ
خَلَوْتُ وَلٰكِنْ قُلْ عَلَيَّ رَقِيْبُ
وَ لَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ يَغْفُلُ سَاعَةً
وَ لَا أَنَّ مَا يَخْفٰي عَلَيْهِ يَغِيْبُ}
”یعنی جب تو کسی بھی وقت اکیلا ہو تو یہ نہ کہنا کہ میں اکیلا ہوں، بلکہ کہنا کہ مجھ پر ایک زبردست نگران ہے اور نہ کبھی گمان کرنا کہ اللہ تعالیٰ ایک لمحے کے لیے بھی غافل ہے اور نہ یہ کہ کوئی پوشیدہ چیز اس کے علم سے باہر ہے۔“
➋ { سَيُرِيْكُمْ اٰيٰتِهٖ فَتَعْرِفُوْنَهَا:} عنقریب وہ تمھیں اپنی نشانیاں دکھائے گا، تو تم انھیں پہچان لو گے کہ ہاں یہ وہی نشانیاں ہیں جن کا وعدہ اللہ اور اس کے رسول نے کیا تھا، مگر اس وقت کا پہچاننا تمھیں کوئی فائدہ نہ دے سکے گا۔ یہ خطاب کفار مکہ سے ہے، اسلامی فتوحات اور تباہ شدہ قوموں کے آثار بھی ان میں شامل ہیں اور قرب قیامت کی نشانیاں بھی اس کے تحت آجاتی ہیں۔ دیکھیے سورۂ حٰم السجدہ (۵۳)۔
➌ { وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ:} آیت کے اس جملے کے تحت ابن کثیر نے ابن ابی حاتم سے جید سند کے ساتھ عمر بن عبدالعزیز کا قول ذکر کیا ہے، انھوں نے فرمایا: [فَلَوْ كَانَ اللّٰهُ مُغْفِلًا شَيْئًا لَأَغْفَلَ مَا تَعَفِّي الرِّيَاحُ مِنْ أَثَرِ قَدَمَيِ ابْنِ آدَمَ] [ابن کثیر: 219/6] ”اگر اللہ تعالیٰ کسی چیز سے غفلت کرنے والا ہوتا، تو ابن آدم کے قدموں کے نشانوں سے ضرور غفلت برتتا، جنھیں ہوائیں مٹا دیتی ہیں (مگر اللہ تعالیٰ ان سے بھی غافل نہیں)۔“ مراد یہ آیت ہے: «{ اِنَّا نَحْنُ نُحْيِ الْمَوْتٰى وَ نَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَ اٰثَارَهُمْ }» [یٰس: ۱۲] ”بے شک ہم ہی مردوں کو زندہ کرتے ہیں اور ہم لکھ رہے ہیں جو عمل انھوں نے آگے بھیجے اور ان کے چھوڑے ہوئے نشان بھی۔“ اور ابن کثیر نے امام احمد رحمہ اللہ کے متعلق نقل فرمایا کہ وہ یہ دو اشعار پڑھا کرتے تھے، جو یا تو ان کے ہیں یا کسی اور کے:
{إِذَا مَا خَلَوْتَ الدَّهْرَ يَوْمًا فَلاَ تَقُلْ
خَلَوْتُ وَلٰكِنْ قُلْ عَلَيَّ رَقِيْبُ
وَ لَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ يَغْفُلُ سَاعَةً
وَ لَا أَنَّ مَا يَخْفٰي عَلَيْهِ يَغِيْبُ}
”یعنی جب تو کسی بھی وقت اکیلا ہو تو یہ نہ کہنا کہ میں اکیلا ہوں، بلکہ کہنا کہ مجھ پر ایک زبردست نگران ہے اور نہ کبھی گمان کرنا کہ اللہ تعالیٰ ایک لمحے کے لیے بھی غافل ہے اور نہ یہ کہ کوئی پوشیدہ چیز اس کے علم سے باہر ہے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
93-1کہ جو کسی کو اس وقت تک عذاب نہیں دیتا جب تک دلیل قائم نہیں کردیتا۔ 93-2ہم انھیں آفاق وانفس میں اپنی نشانیاں دکھلائیں گے تاکہ ان پر حق واضح ہوجائے اگر زندگی میں یہ نشانیاں دیکھ کر ایمان نہیں لاتے تو موت کے وقت تو ان نشانیوں کو دیکھ کر ضرور پہچان لیتے ہیں۔ لیکن اس وقت کی معرفت کوئی فائدہ نہیں پہنچاتی، اس لئے کہ اس وقت ایمان مقبول نہیں۔ 93-2بلکہ ہر چیز کو وہ دیکھ رہا ہے۔ اس میں کافروں کے لئے ترہیب شدید اور تہدید عظیم ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
93۔ نیز کہہ دیجئے کہ سب طرح کی تعریف اللہ ہی کے لئے ہے وہ عنقریب تمہیں اپنی ایسی نشانیاں [103] دکھائے گا جنہیں تم پہچان لو گے اور جو کچھ تم لوگ کر رہے ہو اس سے آپ کا پروردگار بے خبر نہیں۔
[103] یعنی ایسی نشانیاں جن سے تمہیں بخوبی معلوم ہو جائے گا کہ جو باتیں میں کہتا تھا وہی حق اور درست تھیں۔ یعنی تمہیں اللہ تعالیٰ اس دنیا میں ذلیل و خوار کرے گا اور مسلمانوں کا ہر آڑے وقت میں ساتھ دے گا اور ان کی مدد فرمائے گا۔ اور تمہاری سر توڑ معاندانہ کوششوں کے باوجود اسلام سربلند ہوکے رہے گا۔ اس وقت تم ٹھیک طرح پہچان لو گے کہ تم سے کئے گئے وعدے بھی درست تھے، یہ قرآن بھی درست اور حق تھا اور میں بھی فی الواقع اللہ کا پیغمبر ہوں۔ اور یہ سب کچھ مانے بغیر تمہارے لئے دوسرا کوئی چارہ کار نہ رہے گا۔ چنانچہ فتح مکہ اور پھر اس کے بعد اعلان براءت پر سب کفار اور مشرکین پر یہ حقائق منکشف ہو گئے اور ایمان لانے کے لئے ان کے لئے کوئی دوسرا راستہ نہ رہا۔ تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔