ترجمہ و تفسیر — سورۃ النمل (27) — آیت 90

وَ مَنۡ جَآءَ بِالسَّیِّئَۃِ فَکُبَّتۡ وُجُوۡہُہُمۡ فِی النَّارِ ؕ ہَلۡ تُجۡزَوۡنَ اِلَّا مَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۹۰﴾
اور جوبرائی لے کر آئے گا تو ان کے چہرے آگ میں اوندھے ڈالے جائیں گے۔ تم بدلہ نہیں دیے جاؤ گے مگر اسی کا جو تم کیا کرتے تھے۔ En
اور جو برائی لے کر آئے گا تو ایسے لوگ اوندھے منہ دوزخ میں ڈال دیئے جائیں گے۔ تم کو تو اُن ہی اعمال کا بدلہ ملے گا جو تم کرتے رہے ہو
En
اور جو برائی لے کر آئیں گے وه اوندھے منھ آگ میں جھونک دیئے جائیں گے۔ صرف وہی بدلہ دیئے جاؤ گے جو تم کرتے رہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 90) {وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّيِّئَةِ فَكُبَّتْ وُجُوْهُهُمْ فِي النَّارِ …:} یہاں برائی سے مراد شرک ہے، اس پر صحابہ اور بعد کے علماء کی اکثریت کا اتفاق ہے۔ اس تخصیص کی وجہ وہ ہولناک سزا ہے جو آگے بیان کی جا رہی ہے۔ دلیل اس کی وہ صحیح حدیث ہے جس میں ہے کہ آگ سجدے کے مقامات کو نہیں کھائے گی (دیکھیے بخاری: ۶۵۷۳) اور سجدے کے مقامات میں سب سے زیادہ معزز مقام چہرہ ہے، لہٰذا یہ ممکن نہیں کہ چہرے کے بل آگ میں گرائے جانے والوں سے مراد موحد مسلمان ہوں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

90۔ اور جو برائی لے کر آئے گا تو ایسے لوگ اوندھے منہ جہنم میں پھینک دیئے [100] جائیں گے (اور کہا جائے گا) تمہیں اتنا ہی بدلہ ملے گا جو تم کام کرتے رہے۔
[100] سزا یا برے اعمال کے برے بدلہ کے مطابق اللہ کا ضابطہ یا قانون یہ ہے۔ کہ جتنا کسی نے جرم کیا ہے اسے اتنی ہی سزا دی جائے اس سے زیادہ نہ دی جائے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی حال میں بھی اپنے بندوں پر ظلم یا زیادتی نہیں کرتا۔ یہ الگ بات ہے کہ کئی جرائم ایسے ہیں جن کی سزا ہی خلود فی النار ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔