ترجمہ و تفسیر — سورۃ النمل (27) — آیت 83

وَ یَوۡمَ نَحۡشُرُ مِنۡ کُلِّ اُمَّۃٍ فَوۡجًا مِّمَّنۡ یُّکَذِّبُ بِاٰیٰتِنَا فَہُمۡ یُوۡزَعُوۡنَ ﴿۸۳﴾
اور جس دن ہم ہر امت میں سے ایک جماعت اکٹھی کریں گے، ان لوگوں سے جو ہماری آیات کو جھٹلاتے تھے، پھر ان کی قسمیں بنائی جائیں گی۔ En
اور جس روز ہم ہر اُمت میں سے اس گروہ کو جمع کریں گے جو ہماری آیتوں کی تکذیب کرتے تھے تو اُن کی جماعت بندی کی جائے گی
En
اور جس دن ہم ہر امت میں سے ان لوگوں کے گروه کو جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے تھے گھیر گھار کر ﻻئیں گے پھر وه سب کے سب الگ کر دیئے جائیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 83) {وَ يَوْمَ نَحْشُرُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ …: يُوْزَعُوْنَ وَزَعَ يَزَعُ } (ف) سے مضارع مجہول ہو تو معنی ہے روکے جائیں گے اور {أَوْزَعَ يُوْزِعُ} (افعال) سے ہو تو معنی ہے الگ الگ تقسیم کیے جائیں گے۔ یعنی ہر امت میں سے اللہ کی آیات جھٹلانے والے لوگوں کے گروہ کو جمع کیا جائے گا، پھر جو لوگ آگے ہوں گے انھیں روک لیا جائے، تاکہ پیچھے والے ان سے آکر مل جائیں۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ ان کی الگ الگ قسموں کی جماعت بندی کی جائے گی، مثلاً چوروں، ڈاکوؤں، قاتلوں اور زانیوں وغیرہ میں سے ہر ایک کا الگ جتھا بنایا جائے گا۔ اس معنی کی تائید سورۂ صافات کی آیت (۲۲) اور سورۂ تکویر کی آیت (۷) سے ہوتی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

83-1یا قسم قسم کردیئے جائیں گے۔ یعنی زانیوں کا ٹولہ، شرابیوں کا ٹولہ وغیرہ۔ یا یہ معنی ہیں کہ ان کو روکا جائے گا۔ یعنی ان کو ادھر ادھر اور آگے پیچھے ہونے سے روکا جائے گا اور سب کو ترتیب وار لا کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

83۔ اور جس دن ہم ہر امت سے ایسے لوگوں کی ایک فوج اکٹھی کریں گے جو ہماری آیات کو جھٹلاتی تھی پھر ان کی گروہ بندی [87] کی جائے گی۔
[87] اس آیت میں: ﴿دَابَّةً کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ جس کا مادہ ﴿د ب ب﴾ ہے اور ﴿دبّ بمعنی عام رفتار (مشی) ہلکی یا سست رفتار سے چلنا ہے۔ اور دابہ ہر اس جاندار کو کہتے ہیں جو ہلکی چال چلتا ہو۔ خواہ وہ پیٹ کے بل چلے جیسے سانپ اور چھپکلی وغیرہ یا خواہ دو پاؤں پر چلے جیسے انسان اور بندروں کی بعض اقسام یا چار پاؤں پر چلے جیسے وحشی جانور اور چوپائے وغیرہ۔ نیز مذکر و مؤنث کے لئے اس کا یکساں استعمال ہوتا ہے۔ اور قرآن میں یہ لفظ دیمک کے لئے بھی آیا ہے۔ جس نے حضرت سلیمانؑ کی وفات کے بعد ان کی لاٹھی کو چاٹ کھایا تھا اور وہ ٹوٹ گئی تھی۔ [38: 14]
اس آیت میں جس دابة کا ذکر ہے۔ معلوم تو یہی ہوتا ہے کہ وہ انسان کی شکل کا یا اس سے ملتا جلتا ہو گا۔ تکلہم کا لفظ اس قیاس کی تائید کرتا ہے۔ تاہم یہ ضروری بھی نہیں۔ جس طرح اس دابة کا خروج خرق عادت ہو گا اسی طرح اس کا لوگوں سے کلام کرنا بھی خرق عادت ہو سکتا ہے۔ بہرحال یہ یقینی بات ہے کہ اس کا خروج علامات قرب قیامت میں سے ایک علامت ہے جیسا کہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے:
دابۃ الارض کی حقیقت:۔
حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تین باتیں جب ظاہر ہو جائیں تو اس وقت کسی کو ایمان لانے کا کچھ فائدہ نہ ہو گا۔ الا یہ کہ وہ پہلے ایمان لا چکا ہو اور نیک اعمال کرتا رہا ہو۔ ایک سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، دوسرے دجال کا نکلنا اور تیسرے دابۃ الارض کا خروج“ [مسلم۔ کتاب الایمان۔ باب بیان الزمن الذی لایقبل فیه الایمان]
2۔ حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دابة الارض نکلے گا تو اس کے پاس سلیمان کی مہر اور موسیٰ کا عصا ہو گا۔ پھر وہ (عصائے موسیٰ سے) مومن کے منہ پر لکیر کھینچ دے گا جس سے وہ چمک اٹھے گا اور کافر کی ناک پر (سلیمان کی انگوٹھی سے) مہر لگا دے گا۔ یہاں تک کہ سب لوگ ایک خوان پر جمع ہوں گے تو وہ یہ کہے گا کہ یہ مومن ہے اور یہ کافر ہے۔ (یعنی مومن اور کافر ممتاز ہو جائیں گے) [ترمذي۔ ابواب التفسير]
3۔ حضرت حذیفہ بن اسید غفاریؓ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم پر برآمد ہوئے جبکہ ہم گفتگو میں مشغول تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا باتیں کر رہے تھے؟“ ہم نے عرض کیا: قیامت کا ذکر کرتے تھے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی۔ جب تک تم اس سے پہلے دس نشانیاں نہ دیکھ لو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نشانیاں بتلائیں۔ دھواں، دجال، دابۃ الارض، سورج کا مغرب سے نکلنا، نزول عیسیٰ ابن مریم، یاجوج ماجوج کا خروج۔ تین مقامات پر زمین کا خسف مشرق میں، مغرب میں، جزیرہ عرب میں۔ اور ان نشانیوں کے بعد ایک آگ پیدا ہو گی جو لوگوں کو یمن سے نکال کر ہانکتی ہوئی ان کے محشر (سر زمین شام) کی طرف لے جائے گی“ [مسلم۔ کتاب الفتن واشراط الساعة]
بعض دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت سے پہلے صفا پہاڑی پھٹے گی اس میں سے ایک جانور نکلے گا جو لوگوں سے باتیں کرے گا کہ اب قیامت نزدیک نزدیک ہے اور سچے ایمان والوں اور چھپے منکروں کو نشان دے کر جدا کر دے گا۔ دابۃ الارض سے متعلق بہت سے رطب و یابس اقوال و روایات بعض تفاسیر میں درج ہیں۔ مگر معتبر روایات سے تقریباً اتنا ہی ثابت ہے جو اوپر درج ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

دابتہ الارض ٭٭
اللہ کی باتوں کو نہ ماننے والوں کا اللہ کے سامنے حشر ہو گا اور وہاں انہیں ڈانٹ ڈپٹ ہو گی تاکہ ان کی ذلت وحقارت ہو۔ ہر قوم میں سے ہر زمانے کے ایسے لوگوں کے گروہ الگ الگ پیش ہونگے جیسے فرمان ہے «اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ» ۱؎ [37-الصافات:22]‏‏‏‏ ’ ظالموں کو اور ان کے جوڑوں کو جمع کرو۔ ‘ اور جیسے فرمان ہے «وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ» ۱؎ [81-التكوير:7]‏‏‏‏ ’ جب کہ نفسوں کی جوڑیاں ملائی جائیں گی۔ ‘
یہ سب ایک دوسرے کو دھکے دیں گے اور اول والے آخر والوں کو رد کریں گے۔ پھر سب کے سب جانوروں کی طرح ہنکا کر اللہ کے سامنے لائیں جائیں گے۔ ان کے حاضر ہوتے ہی وہ منتقم حقیقی نہایت غصہ سے ان سے باز پرس کرے گا۔ یہ نیکیوں سے خالی ہاتھ ہونگے۔
جیسے فرمایا «فَلَا صَدَّقَ وَلَا صَلَّىٰ * وَلَـٰكِن كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ» ‏‏‏‏ ۱؎ [75-القيامة:32-31]‏‏‏‏ ’ یعنی نہ انہوں نے سچائی کی تھی نہ نمازیں پڑھی تھیں بلکہ جھٹلایا تھا اور منہ موڑا تھا۔ ‘ پس ان پر حجت ثابت ہو جائے گی اور کوئی عذر نہ کر سکیں گے۔
جیسے فرمان ہے «هَـٰذَا يَوْمُ لَا يَنطِقُونَ» * «وَلَا يُؤْذَنُ لَهُمْ فَيَعْتَذِرُونَ» * «وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِّلْمُكَذِّبِينَ» ۱؎ [77-المرسلات:37-35]‏‏‏‏ ’ یہ وہ دن ہے کہ بول نہ سکیں گے اور نہ کوئی معقول عذر پیش کر سکیں گے اور نہ غیر معقول معذرت کی اجازت پائیں گے۔‘
پس ان کے ذمہ بات ثابت ہو جائے گی۔ ششدرو حیران رہ جائیں گے اپنے ظلم کا بدلہ خوب پائیں گے۔ دنیا میں ظالم تھے اب جس کے سامنے کھٹے ہونگے وہ عالم الغیب ہے کوئی بات بنائے نہ بنے گی۔
پھر اپنی قدرت کاملہ کا بیان فرماتا ہے اور اپنی بلندئ شان بتاتا ہے اور اپنی عظیم الشان سلطنت دکھاتا ہے جو کھلی دلیل ہے۔ اس کی اطاعت کی فرضیت پر اور اس کے حکموں کے بجا لانے اور اس کے منع کردہ کاموں سے رکے رہنے کی ضروت پر۔ اور اس کے نبیوں کو سچا ماننے کی اصلیت پر۔ کہ اس نے رات کو پرسکون بنایا تاکہ تم اس میں آرام حاصل کر لو اور دن بھر کی تھکان دور کر لو اور دن کو روشن بنایا تاکہ تم اپنی معاش کی تلاش کر لو سفر تجارت کاروبار باآسانی کر سکو۔ یہ تمام چیزیں ایک مومن کے لیے تو کافی سے زیادہ دلیل ہیں۔