(آیت 75) {وَمَامِنْغَآىِٕبَةٍفِيالسَّمَآءِوَالْاَرْضِ …:} اس آیت کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ انعام (۵۹) {”غَآىِٕبَةٍ“} میں تاء مبالغہ کے لیے ہے، جیسے {”كَافِيَةٌ“} اور {”عَلاَّمَةٌ“} میں ہے، یعنی انتہائی مخفی چیز بھی لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہے، لہٰذا جس عذاب کی یہ جلدی مچا رہے ہیں اس کا وقت بھی اس میں لکھا ہے، وہ اپنے وقت پر آکر رہے گا۔ اس کے دیر سے آنے کا یہ مطلب لینا کہ نہیں آئے گا، سرا سر حماقت ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
75-1اس سے مراد لوح محفوظ ہے۔ ان ہی غائب چیزوں میں اس عذاب کا علم بھی ہے جس کے لئے یہ کفار جلدی مچاتے ہیں لیکن اس کا وقت بھی اللہ نے لوح محفوظ میں لکھ رکھا ہے جسے صرف وہی جانتا ہے اور جب وہ وقت آجاتا ہے جو اس نے کسی قوم کی تباہی کے لئے لکھ رکھا ہے، تو پھر اسے تباہ کردیتا ہے۔ یہ مقررہ وقت آنے سے پہلے جلدی کیوں کرتے ہیں؟
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
75۔ اور زمین و آسمان کی کوئی پوشیدہ چیز ایسی نہیں جو کتاب مبین (لوح محفوظ) میں لکھی ہوئی [79] نہ ہو۔
[79] یعنی ان لوگوں کے ظاہری اعمال سے بھی اللہ واقف ہے اور باطنی خیالات سے بھی، ان کی حالیہ کرتوتوں سے بھی اور جو کچھ یہ آئندہ کے لئے سازشیں تیار کر رہے ہیں ان سب باتوں سے صرف واقف نہیں بلکہ یہ سب کچھ پہلے سے ہی اس کے ریکارڈ میں درج ہے۔ نیز یہ بھی کہ ان لوگوں کو کتنی مہلت دی جائے گی اور کب ان پر عذاب آئے گا۔ جو چیز علم الٰہی میں طے شدہ ہے وہ اپنے وقت پر آکے رہے گی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔