ترجمہ و تفسیر — سورۃ النمل (27) — آیت 70

وَ لَا تَحۡزَنۡ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا تَکُنۡ فِیۡ ضَیۡقٍ مِّمَّا یَمۡکُرُوۡنَ ﴿۷۰﴾
اور ان پر غم نہ کر اور نہ اس سے کسی تنگی میں ہو جو وہ چال چلتے ہیں۔ En
اور ان (کے حال) پر غم نہ کرنا اور نہ اُن چالوں سے جو یہ کر رہے ہیں تنگ دل ہونا
En
آپ ان کے بارے میں غم نہ کریں اور ان کے داؤں گھات سے تنگ دل نہ ہوں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 70) ➊ { وَ لَا تَحْزَنْ عَلَيْهِمْ:} اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی ہے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے، تو آپ ان پر غمگین نہ ہوں۔ آپ کا کام سمجھانا اور بدی کے انجام سے آگاہ کرنا ہے، کسی کو مومن بنا دینا نہ آپ کا کام ہے، نہ آپ کی ذمہ داری۔
➋ { وَ لَا تَكُنْ فِيْ ضَيْقٍ مِّمَّا يَمْكُرُوْنَ:} یعنی یہ لوگ آپ کے خلاف جو سازشیں کرتے اور چالیں چلتے ہیں، ان سے آپ تنگ دل نہ ہوں، اللہ تعالیٰ آپ کا محافظ و نگہبان ہے: «{ وَ اللّٰهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ [المائدۃ: ۶۷] وہی آپ کو ان لوگوں سے بچائے گا اور وہ اپنے مکر و فریب میں خود ہی گرفتار ہوں گے، آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

70۔ (اے نبی!) آپ ان کے حال پر غمزدہ نہ ہوں اور نہ ہی ان کی چالوں [75] سے دل میں تنگی محسوس کریں۔
[75] یعنی جو کافر آپ پر ایمان لانے کے بجائے آپ کی مخالفت پر کمر بستہ ہو گئے ہیں اور اسلام کے خلاف سازشوں کا جال بچھانے میں مصروف ہیں ان کی ایسی سرگرمیوں سے آپ پریشان اور غمزدہ نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ ان کی کسی چال کو کامیاب نہ ہونے دے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔