ترجمہ و تفسیر — سورۃ النمل (27) — آیت 67

وَ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا ءَ اِذَا کُنَّا تُرٰبًا وَّ اٰبَآؤُنَاۤ اَئِنَّا لَمُخۡرَجُوۡنَ ﴿۶۷﴾
اور ان لوگوں نے کہا جنھوں نے کفر کیا، کیا جب ہم مٹی ہو جائیں گے اور ہمارے باپ دادا بھی تو کیا واقعی ہم ضرور نکالے جانے والے ہیں؟ En
اور جو لوگ کافر ہیں کہتے ہیں جب ہم اور ہمارے باپ دادا مٹی ہو جائیں گے تو کیا ہم پھر (قبروں سے) نکالے جائیں گے
En
کافروں نے کہا کہ کیا جب ہم مٹی ہو جائیں گے اور ہمارے باپ دادا بھی کیا ہم پھر نکالے جائیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 67) {وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا …:} پچھلی آیت میں بتایا گیا تھا کہ کفار آخرت سے اندھے بنے ہوئے ہیں، اس آیت میں بتایا کہ وہ اپنے اندھے پن میں کیسے بے کار اعتراض کرتے ہیں۔ یہاں بظاہر { قَالُوْا } کہنا ہی کافی تھا کہ انھوں نے کہا مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اور ان لوگوں نے کہا جنھوں نے کفر کیا یعنی ان کی اس بات کا سبب ان کا کفر، یعنی حق کو چھپانا اور اس کا انکار کرنا ہے۔ دوبارہ زندہ کرنے پر تعجب کے اظہار کے لیے کفار نے دو مرتبہ ہمزہ استفہامیہ استعمال کیا ہے اور دوسرے ہمزہ کے بعد مزید تعجب کے اظہار کے لیے {إِنَّ} اور لام تاکید کا لفظ استعمال کیا ہے کہ کیا جب ہم مٹی ہو جائیں گے اور ہمارے باپ دادا بھی تو کیا واقعی ہم ضرور نکالے جانے والے ہیں۔ ان کے ایک ایک لفظ سے ظاہر ہو رہا ہے کہ ان کے نزدیک قبروں میں جانے اور مٹی ہو جانے کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر قبروں سے نکالا جانا ممکن ہی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر اس کا جواب دیا ہے کہ جس نے پہلی دفعہ بنایا وہ دوبارہ کیوں نہیں بنا سکتا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

67۔ اور کافر یہ پوچھتے ہیں کہ: جب ہم اور ہمارے آباء و اجداد مٹی بن جائیں گے تو کیا پھر (قبروں سے) نکالے جائیں گے؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

حیات ثانی کے منکر ٭٭
یہاں یہ بیان ہو رہا ہے کہ منکرین قیامت کی سمجھ میں اب تک بھی نہیں آیا کہ مرنے اور سڑ گل جانے کے بعد مٹی اور راکھ ہو جانے کے بعد ہم دوبارہ کیسے پیدا کئے جائیں گے؟ وہ اس پر سخت متعجب ہیں۔ کہتے ہیں مدتوں سے اگلے زمانوں سے یہ سنتے تو چلے آتے ہیں لیکن ہم نے تو کسی کو مرنے کے بعد جیتا ہوا دیکھا نہیں۔ سنی سنائی باتیں ہیں انہوں نے اپنے اگلوں سے انہوں نے اپنے سے پہلے والوں سے سنیں ہم تک پہنچیں لیکن سب عقل سے دور ہیں۔
اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب بتاتا ہے کہ ان سے کہو ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھیں کہ رسولوں کو جھوٹا جاننے والوں اور قیامت کو نہ ماننے والوں کا کیسا دردرناک حسرت ناک انجام ہوا؟ ہلاک اور تباہ ہو گئے اور نبیوں اور ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ نے بچا لیا۔ یہ نبیوں کی سچائی کی دلیل ہے۔
پھر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتے ہیں کہ یہ تجھے اور میرے کلام کو جھٹلاتے ہیں لیکن تو ان پر افسوس اور رنج نہ کر۔ ان کے پیچھے اپنی جان کو روگ نہ لگا۔ یہ تیرے ساتھ جو روباہ بازیاں کر رہے ہیں اور جو چالیں چل رہے ہیں ہمیں خوب علم ہے تو بیفکر رہ۔ تجھے اور تیرے دن کو ہم عروج دینے والے ہیں۔ دنیا جہاں پر تجھے ہم بلندی دیں گے۔