ترجمہ و تفسیر — سورۃ النمل (27) — آیت 65

قُلۡ لَّا یَعۡلَمُ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ الۡغَیۡبَ اِلَّا اللّٰہُ ؕ وَ مَا یَشۡعُرُوۡنَ اَیَّانَ یُبۡعَثُوۡنَ ﴿۶۵﴾
کہہ دے اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہے غیب نہیں جانتا اور وہ شعور نہیں رکھتے کہ کب اٹھائے جائیں گے۔ En
کہہ دو کہ جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں خدا کے سوا غیب کی باتیں نہیں جانتے۔ اور نہ یہ جانتے ہیں کہ کب (زندہ کرکے) اٹھائے جائیں گے
En
کہہ دیجئے کہ آسمانوں والوں میں سے زمین والوں میں سے سوائے اللہ کے کوئی غیب نہیں جانتا، انہیں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ کب اٹھا کھڑے کیے جائیں گے؟ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 65) ➊ { قُلْ لَّا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ …: الْغَيْبَ غَابَ يَغِيْبُ} کا مصدر ہے، اکثر غائب کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، مراد وہ چیزیں ہیں جو نہ حواس خمسہ سے معلوم ہو سکیں اور نہ عقل ان کا ادراک کر سکے۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی بھی معبود کی عبادت، اس سے فریاد کرنے اور اسے مشکل کشا یا حاجت روا سمجھنے کی ابتدا اس بات سے ہوتی ہے کہ اسے عالم الغیب سمجھ لیا جاتا ہے۔ ورنہ اگر عقیدہ یہ ہو کہ میرے تمام احوال سے میرے مالک کے سوا کوئی واقف ہی نہیں، تو وہ کسی غیر کو کیوں پکارے گا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے صراحت کے ساتھ یہ اعلان کرنے کا حکم دیا کہ کوئی آسمان میں ہے یا زمین میں، اللہ کے سوا غیب کوئی نہیں جانتا۔
➋ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبروں کو غیب کی بعض باتوں کی اطلاع دیتا ہے، مگر اس سے وہ عالم الغیب نہیں بن جاتے، کیونکہ انھیں اتنی ہی بات معلوم ہوتی ہے جتنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے بتائی جاتی ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ عٰلِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلٰى غَيْبِهٖۤ اَحَدًا (26) اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ فَاِنَّهٗ يَسْلُكُ مِنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ رَصَدًا (27) لِّيَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّهِمْ وَ اَحَاطَ بِمَا لَدَيْهِمْ وَ اَحْصٰى كُلَّ شَيْءٍ عَدَدًا [الجن: ۲۶ تا ۲۸] (وہ) غیب کو جاننے والا ہے، پس اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا۔ مگر کوئی رسول، جسے وہ پسند کر لے تو بے شک وہ اس کے آگے اور اس کے پیچھے پہرا لگا دیتا ہے۔ تاکہ جان لے کہ انھوں نے واقعی اپنے رب کے پیغامات پہنچا دیے ہیں اور اس نے ان تمام چیزوں کااحاطہ کر رکھا ہے جو ان کے پاس ہیں اور ہر چیز کو گن کر شمار کر رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یعقوب علیہ السلام کو مصر سے قمیص کی روانگی کے ساتھ ہی یوسف علیہ السلام کی خوشبو آ گئی، مگر چند میل کے فاصلے پر کنویں میں پڑے ہوئے یوسف علیہ السلام کی خبر نہ ہو سکی اور سال ہا سال تک رونے کی وجہ سے آنکھیں سفید ہو گئیں، مگر علم اس وقت ہوا جب اللہ تعالیٰ نے چاہا۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے معراج کروا دیا، مگر جوتوں پر لگی گندگی کا علم اسی وقت ہوا جب جبریل علیہ السلام نے آکر نماز میں بتایا۔ اگر بعض باتیں معلوم ہونے سے کوئی عالم الغیب بن جاتا ہو تو ہم میں سے ہر شخص عالم الغیب ہو گا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتانے سے ہمیں بھی غیب کی کئی باتوں کا علم ہے۔
➌ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کی جو صفات بیان ہوئی ہیں وہ سوال کے انداز میں بیان ہوئی ہیں، کیونکہ مشرکین بھی مانتے تھے کہ پیدا کرنا، بارش اتارنا، رزق دینا اور دوسری صفات صرف اللہ تعالیٰ کی ہیں۔ علم کے متعلق چونکہ مشرکین یہ نہیں مانتے تھے، بلکہ غیر اللہ کو پکارتے ہی اس لیے تھے کہ سمجھتے تھے کہ وہ ہمارے حال سے واقف ہیں اور ہماری فریاد سن رہے ہیں، حالانکہ اکیلے اللہ تعالیٰ کو خالق ماننے کا مطلب یہی ہے کہ اپنی مخلوق کا پورا علم بھی وہی رکھتا ہے، فرمایا: «{ اَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَ هُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ [الملک: ۱۴] کیاوہ نہیں جانتا جس نے پیدا کیا ہے اور وہی تو ہے جو نہایت باریک بین ہے، کامل خبر رکھنے والا ہے۔ جس نے پیدا ہی نہیں کیا اسے اللہ کی مخلوق کے جملہ احوال کا علم کیسے ہو سکتا ہے؟ مگر آج کل بھی بعض کلمہ گو حضرات انبیاء، اولیاء اور پیروں فقیروں کو اس عقیدے کے ساتھ پکارتے ہیں کہ وہ سب کچھ جانتے ہیں، بلکہ صاف کہتے ہیں کہ وہ کون سی بات ہے جو ان سے مخفی ہے اور اس کے لیے انھوں نے بے شمار کہانیاں گھڑ رکھی ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے سوالیہ انداز کے بجائے صاف لفظوں میں کہہ دینے کا حکم فرمایا کہ اللہ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا۔
➍ جب انبیاء و اولیاء غیب نہیں جانتے تو کاہن، رمال، جفار، جوتشی، جعلی استخارے کر کے آئندہ کی خبریں بتانے والے اور چوریاں بتانے والے عالم الغیب کیسے ہو سکتے ہیں؟ یہ سب لوگ جھوٹے و دغا باز ہیں۔ آسمان سے سنی ہوئی کوئی بات سچی نکل آتی ہے تو وہ اس کے ساتھ اپنے جھوٹ کا بازار چمکاتے رہتے ہیں۔
➎ اگر اللہ کے سوا کوئی عالم الغیب ہوتا تو اس کے سب سے زیادہ لائق ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ کچھ حضرات کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو علم غیب عطائی تھا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو {مَا كَانَ وَ مَا يَكُوْنُ} کا علم عطا فرما دیا تھا، فرق صرف ذاتی اور عطائی کا ہے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی کو اپنی کسی صفت میں برابر کا شریک بنا لے۔ دیکھیے سورۂ روم (۲۸) اور سورۂ نحل (۷۱) کی تفسیر۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس دعویٰ کے لیے کہ اللہ تعالیٰ نے {مَا كَانَ وَمَا يَكُوْنُ} (جو ہو چکا اور جو ہو گا) کا سارا علم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دے دیا تھا، یہ واضح کرنا پڑے گا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ علم کب عطا فرمایا۔ اگر کہا جائے کہ نبوت ملنے سے پہلے یا وفات سے پہلے کسی وقت آپ کو یہ علم عطا ہو گیا تھا تو جبریل علیہ السلام کی آمد اور وحی کے نزول کا سلسلہ عبث ٹھہرتا ہے اور اگر کہا جائے کہ وفات سے پہلے تو آپ عالم الغیب نہیں تھے، البتہ وفات کے وقت عالم الغیب ہو گئے تھے، تو وہ احادیث اس کا رد کرتی ہیں جن میں فرشتوں کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہنے کا ذکر ہے کہ [إِنَّكَ لَا تَدْرِيْ مَا أَحْدَثُوْا بَعْدَكَ] [بخاري: ۴۶۲۵] تم نہیں جانتے انھوں نے تمھارے بعد کیا نئے کام کیے تھے۔ اور جن میں شفاعت کے لیے عرش کے نیچے سجدے کی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ محامد سکھانے کا ذکر ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے پہلے معلوم نہیں ہوں گے۔ (دیکھیے بخاری: ۷۵۱۰)
➏ الغرض، یہ اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے کہ عالم الغیب اللہ کے سوا کوئی نہیں، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے غیب کی کسی بات کی اطلاع دے دے، لیکن جمیع {مَا كَانَ وَمَا يَكُوْنُ} کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، چنانچہ فرمایا: «{ وَ عِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَاۤ اِلَّا هُوَ [الأنعام: ۵۹] اور اسی کے پاس غیب کی چابیاں ہیں، انھیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور فرمایا: «{ اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ وَ يُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَ يَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ وَ مَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّا ذَا تَكْسِبُ غَدًا وَ مَا تَدْرِيْ نَفْسٌۢ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ [لقمان: ۳۴] بے شک اللہ، اسی کے پاس قیامت کا علم ہے اور وہ بارش برساتا ہے اور وہ جانتا ہے جو کچھ ماؤں کے پیٹوں میں ہے اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائی کرے گا اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں مرے گا۔ اور فرمایا: «{ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ [البقرۃ: ۲۵۵] وہ جانتا ہے جو کچھ ان کے سامنے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وہ اس کے علم میں سے کسی چیز کا احاطہ نہیں کرتے مگر جتنا وہ چاہے۔
قرآن مجید نے اللہ کے سوا کسی سے علم الغیب کی صرف مطلق اور عام نفی ہی نہیں فرمائی بلکہ انبیاء علیھم السلام اور خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں صاف تصریح فرمائی ہے کہ وہ عالم الغیب نہیں ہیں، انھیں غیب کا علم اتنا ہی دیا گیا ہے جس کی رسالت کے لیے ضرورت تھی۔ پہلے انبیاء کے متعلق دیکھیے، آدم علیہ السلام کا قصہ۔ [طٰہٰ: ۱۲۰ تا ۱۲۲] نوح علیہ السلام کا قصہ۔ [ھود: ۳۱ تا ۳۶ اور ۴۵ تا ۴۷] ابراہیم علیہ السلام کا قصہ۔ [الشعراء: ۶۹ تا ۸۶] لوط علیہ السلام کا قصہ۔ [ھود: ۷۷ تا ۸۳] یعقوب علیہ السلام کا قصہ۔ [یوسف: ۸۳، ۸۴] سلیمان علیہ السلام کا قصہ۔ [النمل: ۲۰ تا ۲۸] موسیٰ علیہ السلام کا قصہ۔ [الأعراف: ۱۴۳۔ طٰہٰ: ۲۱ اور ۶۴ تا ۶۸ اور ۸۳ تا ۸۶۔ النمل: ۱۰۔ القصص: ۲۰] زکریا علیہ السلام کا قصہ۔ [مریم: ۲ تا ۱۰۔ آل عمران: ۳۷ تا ۴۷] داؤد علیہ السلام کا قصہ۔ [صٓ: ۲۲ تا ۲۵] فرشتے بھی غیب نہیں جانتے۔ [البقرۃ: ۳۱ تا ۳۳] اور جن بھی غیب نہیں جانتے ہیں۔ [سبا: ۱۲ تا ۱۴] ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے تین زمانے ہیں، نبوت سے پہلے کا زمانہ۔ نبوت کا زمانہ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد کا زمانہ۔ نبوت سے پہلے زمانے کے متعلق قرآن مجید نے تصریح فرمائی کہ آپ کو ان باتوں کا علم نہ تھا۔ دیکھیے سورۂ شوریٰ (۵۲)، قصص (۴۴ تا ۴۶، ۴۸) اور ہود (۴۹)۔
نبی بننے سے فوت ہونے تک کے زمانے میں اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گزشتہ و آئندہ کے بے شمار واقعات اور علوم عطا فرمائے، مگر اللہ کے علم سے آپ کے علم کی کوئی نسبت نہیں، جیسا کہ خضر علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام کو اپنے اور موسیٰ علیہ السلام کے علم کی اللہ تعالیٰ کے علم سے نسبت کی مثال سمندر اور چڑیا کی چونچ کے قطرے کی مثال دے کر سمجھائی۔ [دیکھیے بخاري: ۴۷۲۵] ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا: [مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّهُ يَعْلَمُ الْغَيْبَ فَقَدْ كَذَبَ] [بخاري، التوحید، باب قول اللہ تعالٰی: «‏‏‏‏عالم الغیب فلا یظھر علی غیبہ أحدا» ‏‏‏‏ …: ۷۳۸۰، ۴۸۵۵] جو شخص تجھے یہ کہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم غیب جانتے تھے اس نے جھوٹ کہا۔ اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے چند واقعات اختصار کے ساتھ ملاحظہ ہوں جن سے آپ کے عالم الغیب ہونے کی نفی ہوتی ہے: (1) عائشہ رضی اللہ عنھا سے متعلق واقعۂ افک۔ دیکھیے سورۂ نور (۱۶ تا ۲۶) اور صحیح بخاری میں حدیث افک (۴۱۴۱)۔ (2) شہد حرام کرنے کا واقعہ۔ دیکھیے سورۂ تحریم (۱ تا ۴) اور صحیح بخاری (۴۹۱۲)۔ (3) اللہ نے آپ سے کچھ پیغمبروں کا حال بیان فرمایا، کچھ کا نہیں۔ دیکھیے سورۂ نساء (۱۶۴)۔ (4) آپ کو قیامت کے وقت کا علم نہیں۔ دیکھیے سورۂ احزاب (۶۳)، شوریٰ (۱۷)، اعراف (۱۸۷)، طٰہٰ (۱۵)، نمل (۶۵)، لقمان (۳۴)، حٰم السجدہ (۴۷)، زخرف (۸۵) اور ملک (۲۵، ۲۶)۔ (5) اللہ کے لشکروں کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ دیکھیے مدثر (۳۱)۔ (6) عبد اللہ بن ام مکتوم نابینا صحابی کا واقعہ۔ دیکھیے سورۂ عبس (۱ تا ۱۲)۔ (7) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ مدینہ اور اس کے ارد گرد کچھ منافق ہیں، نفاق پر اڑے ہوئے ہیں، تو انھیں نہیں جانتا، ہم انھیں جانتے ہیں۔ دیکھیے سورۂ توبہ (۱۰۱)۔ (8) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آسمانوں پر تشریف لے جانا اور جبریل علیہ السلام سے بار بار پوچھنا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا کہ سدرۃ المنتہیٰ کو ایسے رنگوں نے ڈھانپ لیا کہ میں نہیں جانتا وہ کیا تھے؟ [دیکھیے بخاري، الصلاۃ، باب کیف فرضت الصلاۃ في الإسراء: ۳۴۹] (9) فتح مکہ کے موقع پر آپ پردے کے پیچھے غسل کر رہے تھے کہ ام ہانی رضی اللہ عنھا حاضر ہوئیں، اس نے سلام کہا تو آپ نے فرمایا: کون ہے؟ بتایا کہ ام ہانی ہوں۔ [دیکھیے بخاري، الغسل، باب التستر فی الغسل عند الناس: ۲۸۰] (10) ایک سفر میں عائشہ رضی اللہ عنھا کا ہار گم ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور لوگ آپ کے ساتھ اس کی تلاش کے لیے ٹھہر گئے۔ بعد میں اس اونٹ کو کھڑا کیا جس پر عائشہ رضی اللہ عنھا سو رہی تھیں تو ہار اس کے نیچے سے مل گیا۔ [دیکھیے بخاري، التیمم، باب: ۳۳۴]
(11) مرض الموت میں جب آپ کا مرض بڑھ گیا تو آپ بار بار بے ہوش ہو کر ہوش میں آتے تو فرماتے: لوگوں نے نماز پڑھ لی ہے؟ عرض کیا جاتا، نہیں تین بار ایسا ہوا۔ [دیکھیے بخاري، الأذان، باب أن جعل الإمام لیؤتم بہ: ۶۸۷] (12) ستر صحابہ کو مشرکین کی ایک جماعت کی طرف بھیجا، انھوں نے ان کو شہید کر دیا، آپ سخت غمگین ہوئے۔ [دیکھیے بخاري، الوتر، باب القنوت قبل الرکوع و بعدہ: ۱۰۰۲] (13) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوئے رہے، ابوبکر و عمر رضی اللہ عنھما اور دوسرے صحابہ بھی سوئے رہے، سورج پوری طرح نکل آیا تو صبح کی نماز بعد میں پڑھی۔ [دیکھیے مسلم، المساجد، باب قضاء الصلاۃ الفائتۃ…: ۶۸۰] (14) مسجد میں جھاڑو دینے والی عورت فوت ہو گئی اور جنازے کے بعد دفن کر دی گئی، تو آپ نے فرمایا: تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا۔ پھر آپ نے فرمایا: مجھے اس کی قبر بتاؤ۔ [دیکھیے بخاري، الصلاۃ، باب کنس المسجد: ۴۵۸] (15) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں اپنے گھر جاتا ہوں، وہاں مجھے میرے بستر پر کھجور پڑی ہوئی ملتی ہے، میں اسے کھانے کے لیے اٹھا لیتا ہوں، لیکن پھر یہ ڈر ہوتا ہے کہ کہیں یہ صدقہ کی کھجور نہ ہو تو میں اسے پھینک دیتا ہوں۔ [دیکھیے بخاري، اللقطۃ، باب إذا وجد تمرۃ …: ۲۴۳۱]
(16) آپ نے فرمایا: مجھے لیلۃ القدر دکھائی گئی، پھر بھلا دی گئی۔[دیکھیے بخاري، فضل لیلۃ القدر، باب التماس لیلۃ القدر…: ۲۰۱۶] (17) بنوعکل اور عرینہ کے لوگوں کا واقعہ جنھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹوں کے ساتھ رہ کر دودھ اور پیشاب پینے کا حکم دیا اور وہ تندرست ہونے پر آپ کے چرواہے کو قتل کرکے اونٹنیاں ہانک کر لے گئے۔ [دیکھیے بخاري، الجہاد والسیر، باب إذا حرق المشرک…: ۳۰۱۸، ۲۳۳] (18) یہودی عورت کا بکری کے گوشت میں زہر ملانے کا واقعہ۔ [دیکھیے بخاري، الھبۃ و فضلھا، باب قبول الھدیۃ من المشرکین: ۲۶۱۷] (19) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دس آدمیوں کو جاسوسی کے لیے روانہ کیا، ان کا سردار عاصم بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کو بنایا۔ سات شہید ہو گئے، تین بچ گئے، انھوں نے دعا کی: یا اللہ! ہماری خبر ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچا دے۔ بعد میں باقی دو بھی شہید ہو گئے اور خبیب رضی اللہ عنہ قیدی بن گئے، پھر ان کو بھی شہید کر دیا گیا۔ [دیکھیے بخاري، الجھاد والسیر، باب ھل یستأسر الرجل؟…: ۳۰۴۵] مزید واقعات محترم ارشاد اللہ مان کی کتاب تلاشِ حق میں دیکھیں، انھوں نے یہاں اٹھتر (۷۸) واقعات نقل کیے ہیں۔
رہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد کا زمانہ، تو کئی احادیث سے ثابت ہے کہ آپ قیامت کے دن بھی عالم الغیب نہیں ہوں گے۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [يَأَيُّهَا النَّاسُ! إِنَّكُمْ مَحْشُوْرُوْنَ إِلَی اللّٰهِ حُفَاهً عُرَاةً غُرْلًا، ثُمَّ قَالَ: «{ كَمَا بَدَاْنَاۤ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِيْدُهٗ وَعْدًا عَلَيْنَا اِنَّا كُنَّا فٰعِلِيْنَ إِلٰی آخِرِ الْآيَةِ ثُمَّ قَالَ: أَلَا وَإِنَّ أَوَّلَ الْخَلَائِقِ يُكْسٰی يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِبْرَاهِيْمُ، أَلَا وَإِنَّهُ يُجَاءُ بِرِجَالٍ مِنْ أُمَّتِيْ فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ فَأَقُوْلُ يَا رَبِّ! أُصَيْحَابِيْ، فَيُقَالُ، إِنَّكَ لَا تَدْرِيْ مَا أَحْدَثُوْا بَعْدَكَ، فَأَقُوْلُ كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ: «{ وَ كُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ فَيُقَالُ: إِنَّ هٰؤُلَاءِ لَمْ يَزَالُوْا مُرْتَدِّيْنَ عَلٰی أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ] [بخاري، التفسیر، باب: «و کنت علیہم شھیدا ما دمت فیھم…» : ۴۶۲۵] اے لوگو! تم اللہ کے سامنے ننگے پاؤں، ننگے بدن اور بے ختنہ جمع کیے جاؤ گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: «{ كَمَا بَدَاْنَاۤ اَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِيْدُهٗ وَعْدًا عَلَيْنَا اِنَّا كُنَّا فٰعِلِيْنَ [الأنبیاء: ۱۰۴] جس طرح ہم نے پہلی پیدائش کی ابتدا کی (اسی طرح) ہم اسے لوٹائیں گے۔ یہ ہمارے ذمے وعدہ ہے، یقینا ہم ہمیشہ (پورا) کرنے والے ہیں۔ پھر فرمایا: سنو! سب سے پہلے قیامت کے دن ابراہیم علیہ السلام کو کپڑے پہنائے جائیں گے۔ سن لو! میری امت کے کچھ لوگ لائے جائیں گے، فرشتے ان کو پکڑ کر بائیں طرف والوں (یعنی دوزخیوں) میں لے جائیں گے۔ میں عرض کروں گا: اے رب! یہ تو میرے امتی ہیں۔ ارشاد ہو گا: تم نہیں جانتے، انھوں نے تمھارے بعد کیا کام کیے۔ تو اس وقت میں وہی کہوں گا جو اللہ کے نیک بندے عیسیٰ علیہ السلام نے کہا: «{ وَ كُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمْ [المائدۃ: ۱۱۷] اور میں ان پر گواہ تھا جب تک میں ان میں رہا، پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان پر نگران تھا۔ ارشاد ہو گا: یہ لوگ اپنی ایڑیوں کے بل اسلام سے پھرتے رہے جب تو ان سے جدا ہوا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [فَأَسْتَأْذِنُ عَلٰی رَبِّيْ فَيُؤْذَنُ لِيْ فَأَقُوْمُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَأَحْمَدُهُ بِمَحَامِدَ لَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ الْآنَ، يُلْهِمُنِيْهِ اللّٰهُ تَعَالٰی] [مسلم، الإیمان، باب أدنٰی أھل الجنۃ منزلۃ فیھا: ۳۲۶ /۱۹۳] (قیامت کے روز جب سب لوگ میرے پاس آئیں گے تو) میں اپنے رب سے اجازت مانگوں گا، مجھے اجازت دے دی جائے گی تو میں اپنے رب کے سامنے کھڑا ہو جاؤں گا اور اللہ کی ایسی حمدو ثنا کروں گا کہ آج میں اس پر قادر نہیں، اس وقت وہ حمد اللہ تعالیٰ مجھے القا کرے گا۔
➐ { وَ مَا يَشْعُرُوْنَ اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ:} اس سے معلوم ہوا کہ علمِ غیب کی نفی ان سے نہیں کی جا رہی جو قیامت کے دن اٹھائے نہیں جائیں گے، مثلاً بت یا حجر و شجر، یا شمس و قمر، یا فرشتے، بلکہ ان لوگوں سے کی جا رہی ہے جو قیامت کو اٹھائے جائیں گے، خواہ وہ پیغمبر ہوں یا صدیق، یا شہداء، یا صالحین، فرمایا، علم غیب تو کجا انھیں یہ بھی شعور نہیں کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

65-1یعنی جس طرح مذکورہ معاملات میں اللہ تعالیٰ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی طرح غیب کے علم میں بھی وہ متفرد ہے۔ اس کے سوا کوئی عالم الغیب نہیں۔ نبیوں اور رسولوں کو بھی اتنا ہی علم ہوتا ہے جتنا اللہ تعالیٰ وحی اور الہام کے ذریعے سے انھیں بتلا دیتا ہے اور جو علم کسی کے بتلانے سے حاصل ہو، اس کے عالم کو عالم الغیب نہیں کہا جاتا۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ جو شخص یہ گمان رکھتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آئندہ کل پیش آنے والے حالات کا علم رکھتے ہیں، اس نے اللہ پر بہت بڑا بہتان باندھا اس لئے کہ وہ تو فرما رہا ہے کہ آسمان و زمین میں غیب کا علم صرف اللہ کو ہے ' (صحیح بخاری) حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ستارے تین مقاصد کے لیے بنائے ہیں۔ آسمان کی زینت، رہنمائی کا ذریعہ اور شیطان کو سنگسار کرنا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے احکام سے بیخبر لوگوں نے ان سے غیب کا علم حاصل کرنے (کہانت) کا ڈھونگ رچا لیا ہے۔ مثلا کہتے ہیں جو فلاں فلاں ستارے کے وقت نکاح کرے گا تو یہ یہ ہوگا فلاں فلاں ستارے کے وقت سفر کرے گا تو ایسا ایسا ہوگا۔ فلاں فلاں ستارے کے وقت پیدا ہوگا تو ایسا ایسا ہوگا وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب ڈھکوسلے ہیں۔ ان کے قیاسات کے خلاف اکثر ہوتا رہتا ہے۔ ستاروں، پرندوں اور جانوروں سے غیب کا علم کس طرح حاصل ہوسکتا ہے؟ جبکہ اللہ کا فیصلہ تو یہ ہے کہ آسمان و زمین میں اللہ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا۔ (ابن کثیر)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

65۔ آپ ان سے کہئے کہ: اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ [71] چیزوں کو کوئی بھی نہیں جانتا۔ وہ تو یہ بھی نہیں جانتے کہ کب انھیں اٹھایا [72] جائے گا
[71] غیب اور شہادت کے مختلف پہلو:۔
غیب سے مراد ایک تو ایسی چیزیں ہیں جو کسی خاص انسان کے علم یا مشاہدہ میں نہ آئی ہوں۔ پھر جب وہ اس کے علم میں آجائیں گی تو اس کے لئے غیب نہ رہیں گی۔ مثلاً سڑک پر ایک بس اور کار کا حادثہ ہو گیا جس میں چار آدمی مر گئے۔ پھر جب اسے اس کا علم ہو جائے گا یا وہ خود مشاہدہ کر لے گا تو یہ واقعہ اس کے لئے غیب نہ رہا۔ ایسی خبریں ماضی کی بھی ہو سکتی ہیں۔ حال کی بھی جو کسی کو معلوم ہوتی ہیں اور کسی کے لئے غیب کا درجہ رکھتی ہیں۔ البتہ مستقبل کی خبریں سب کے لئے غیب ہوتی ہیں۔ دوسری قسم یہ ہے کہ جتنے علوم انسان دریافت کر چکا ہے یا جس حد تک دریافت کر چکا ہے۔ وہ سب انسان کے لئے علم الشہادۃ ہیں اور جن علوم تک انسان کی رسائی ہو ہی نہیں ہو سکتی یا نہیں ہو سکی۔ وہ اس کے لئے علم غیب ہیں۔ تیسری قسم ان اشیاء کا علم ہے جن تک انسان کی رسائی نہ پہلے کبھی ہوئی اور نہ آئندہ کبھی ہو سکے گی اور کتاب و سنت کی تصریح کے مطابق یہ پانچ چیزیں ہیں۔
(1) کل کیا کچھ ہونے والا ہے اور فلاں شخص کل کیا کچھ کرے گا۔
(2) موت کب آئے اور کہاں آئے گی۔
(3) رحم مادر میں تغیرات کیونکر واقع ہوتے ہیں۔
(4) نفع رساں بارش کب ہو گی۔
(5) قیامت کب آئے گی۔ [31: 34]
ان چیزوں کا علم صرف اللہ کو ہوتا ہے۔
علم غیب صرف اللہ کو ہے :۔
ان تصریحات سے معلوم ہوا کہ غیب کا علم صرف اللہ کو ہے۔ البتہ اس علم میں سے جتنا وہ انسانی ہدایت کے لئے ضروری سمجھتا ہے اس سے اپنے انبیاء کو مطلع کر دیتا ہے۔ جیسے قیامت، بعث بعد الموت، جنت و دوزخ اور روز قیامت کے احوال اور ایسے ہی ماضی کے حالات جیسے شرعی اصطلاح میں تذکیر بایام اللہ کہتے ہیں۔
انبیاء و اقوام کے حالات اور بعض مستقبل کے متعلق پیشین گوئیاں اور بشارات :۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کی زبان سے بار بار یہ اعلان کروایا کہ اللہ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا۔ ایک مقام پر فرمایا:”اے نبی کہہ دو کہ اگر میں غیب جانتا ہوتا تو میں بہت بھلائیاں اکٹھی کر لیتا اور مجھے کبھی کوئی تکلیف نہ پہنچتی“ [7: 188] اور انبیا پر چونکہ بموجب تصریح احادیث صحیحہ ابتلا کا دور آتا ہے تو جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء بھی اتنا ہی غیب کا علم جانتے ہیں۔ جتنا اللہ انھیں بتلا دیتا ہے۔
علم غیب اور الوہیت کا باہمی تعلق:۔
علم غیب کو اللہ تعالیٰ سے مخصوص رکھنا اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے اور اس کی وجہ ہے کہ الوہیت اور علم غیب ماننے میں ایک گہرا تعلق ہے۔ قدیم زمانے سے لے کر آج تک انسان نے جس ہستی میں الوہیت کے کسی شائبہ کا گمان کیا ہے اس کے متعلق یہ ضرور خیال کیا ہے کہ اس پر سب کچھ روشن ہے اور کوئی چیز اس پر پوشیدہ نہیں رہتی۔ آپ نے اکثر اولیاء اللہ کے تذکروں میں پڑھا یا سنا ہو گا کہ پیر اپنے مریدوں کے حالات سے آگاہ ہوتا ہے۔ پھر ایسے بے شمار واقعات بھی ان تذکروں میں پائے جاتے ہیں۔ ایسے سب قصے اس لئے گھڑے جاتے ہیں کہ ان پیروں میں الوہیت کی صفات کو تسلیم کیا جائے اگرچہ زبان سے ان کا اقرار نہ کیا جائے۔ گویا کسی کے متعلق ایسا عقیدہ رکھنا ہی شرک کی سب سے بڑی بنیاد ہے۔ کوئی بزرگ یا پیر خواہ زندہ ہو یا فوت ہو چکا ہو کسی کی فریاد تو اسی صورت میں سن سکتا ہے اور اس کی حاجت روائی اور مشکل کشائی اسی صورت میں کر سکتا ہے کہ سب سے پہلے وہ اپنے مریدوں کے احوال سے آگاہ ہو پھر اس کے بعد امور کائنات میں کچھ تصرف بھی رکھتا ہو۔
علم غیب ناقابل تقسیم صفت ہے :۔
پھر جس طرح اللہ تعالیٰ کی بعض دوسری صفات مثلاً خلاقیت اور رزاقیت ناقابل تقسیم و تجزیہ ہیں۔ اس طرح علم غیب بھی ناقابل تقسیم و تجزیہ ہیں۔ یعنی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ فلاں بزرگ اپنے تمام مریدوں کے حالات سے یا اپنے علاقہ یا شہر کے حالات سے پوری طرح با خبر ہے اور ان کے غیب کے حالات بھی جانتا ہے۔ یا فلاں ہستی اس علاقہ کی زمین کے مدفون خزانوں کو جانتی ہے، ایسی تمام باتیں شرک میں داخل ہیں۔
[72] آیت کے اس جملہ سے یہ معلوم ہوا کہ اس آیت میں صرف ان ہستیوں کے علم غیب جاننے کی تردید مقصود ہے۔ جن پر بعث بعد الموت کا مرحلہ پیش آنے والا ہے۔ اب ظاہر ہے کہ اس سے مراد نہ بت ہو سکتے ہیں نہ حجر و شجر نہ شمس و قمر اور نہ فرشتے۔ ان سے مراد صرف وہی بزرگ ہو سکتے ہیں جن میں کسی نہ کسی رنگ میں الوہیت کی کوئی صفت اور بالخصوص علم الغیب تسلیم کیا جاتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اللہ کے سوا کوئی غیب داں نہیں ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ وہ سارے جہاں کو معلوم کرا دیں کہ ساری مخلوق آسمان کی ہو یا زمین کی غیب کے علم سے خالی ہے بجز اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک لہ کے کوئی اور غیب کا جاننے والا نہیں۔ یہاں استثناء منقطع ہے یعنی سوائے اللہ کے کوئی انسان جن فرشتہ غیب دان نہیں۔ جیسے فرمان ہے «وَعِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَآ اِلَّا هُوَ» ‏‏‏‏ ۱؎ [6-الأنعام:59]‏‏‏‏ ’ یعنی غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہے جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ‘
اور فرمان ہے «اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ» ۱؎ [31-لقمان:34]‏‏‏‏ ’ اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے۔ ‘ وہی بارش برساتا ہے وہی مادہ کے پیٹ کے بچے سے واقف ہے۔ کوئی نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا نہ کسی کو یہ خبر کہ وہ کہاں مرے گا؟ علیم وخبیر صرف اللہ ہی ہے۔
اور بھی اس مضمون کی بہت سی آیتیں ہیں۔ مخلوق تو یہ بھی نہیں جانتی کہ قیامت کب آئے گی۔ آسمانوں اور زمینوں کے رہنے والوں میں سے ایک بھی واقف نہیں کہ قیامت کا دن کون سا ہے؟ جیسے فرمان ہے آیت «ثَقُلَتْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ» ۱؎ [7-الأعراف:187]‏‏‏‏ سب پر یہ علم مشکل ہے اور بوجھل ہے وہ تو اچانک آ جائے گی۔
سیدہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا فرمان ہے جو کہے کہ حضور کل کائنات کی بات جانتے تھے اس نے اللہ تبارک وتعالیٰ پر بہتان عظیم باندھا اس لیے کہ اللہ فرماتا ہے زمین و آسمان والوں میں سے کوئی بھی غیب کی بات جاننے والا نہیں۔ ۱؎ [صحیح مسلم:177]‏‏‏‏
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ستاروں میں تین فائدے رکھے ہیں۔ آسمان کی زینت بھولے بھٹکوں کی رہبری اور شیطانوں کی مار۔ کسی اور بات کا ان کے ساتھ عقیدہ رکھنا اپنی رائے سے بات بنانا اور خود ساختہ تکلیف اور اپنی عاقبت کے حصہ کو کھونا ہے۔
جاہلوں نے ستاروں کے ساتھ علم نجوم کو متعلق رکھ کر فضول باتیں بنائی ہیں کہ اس ستارے کے وقت جو نکاح کرے یوں ہو گا فلاں ستارے کے موقعہ پر سفر کرنے سے یہ ہوتا ہے فلاں ستارے کے وقت جو تولد ہوا وہ ایسا وغیرہ وغیرہ۔
یہ سب ڈھکوسلے ہیں ان کی بکواس کے خلاف اکثر ہوتا رہتا ہے ہر ستارے کے وقت کالا گورا ٹھنگنا لمبا خوبصورت بد شکل پیدا ہوتا ہی رہتا ہے۔ نہ کوئی جانور غیب جانے نہ کسی پرند سے غیب حاصل ہو سکے نہ ستارے غیب کی رہنمائی کریں۔
سنو اللہ کا فیصلہ ہو چکا ہے کہ آسمان و زمیں کی کل مخلوق غیب سے بےخبر ہے۔ انہیں تو اپنے جی اٹھنے کا وقت بھی نہیں معلوم ہے [ابن ابی حاتم]‏‏‏‏ سبحان اللہ قتادہ رحمہ اللہ کا یہ قول کتنا صحیح کس قدر مفید اور معلومات سے پر ہے۔
فرماتا ہے بات یہ ہے کہ ان کے علم آخرت کے وقت کے جاننے سے قاصر ہیں عاجز ہو گئے ہیں۔ ایک قرأت میں «بل ادرک» ‏‏‏‏ہے یعنی سب کے علم آخرت کا صحیح وقت نہ جاننے میں برابر ہیں۔ جیسے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کے سوال کے جواب میں فرمایا تھا کہ میرا اور تیرا دونوں کا علم اس کے جواب سے عاجز ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:94-93]‏‏‏‏
پس یہاں بھی فرمایا کہ آخرت سے ان کے علم غائب ہیں۔ چونکہ کفار اپنے رب سے جاہل ہیں اس لیے آخرت کے بھی منکر ہیں۔ وہاں تک ان کے علم پہنچتے ہی نہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ آخرت میں ان کو علم حاصل ہو گا لیکن بےسود ہے۔ جیسے اور جگہ بھی ہیں کہ جس دن یہ ہمارے پاس پہنچے گے بڑے ہی دانا وبینا ہو جائیں گے۔ لیکن آج ظالم کھلی گمراہی میں ہونگے۔
پھر فرماتا ہے کہ بلکہ یہ تو شک ہی میں ہیں اس سے مراد کافر ہے جیسے فرمان ہے «وَعُرِضُوا عَلَىٰ رَبِّكَ صَفًّا لَّقَدْ جِئْتُمُونَا كَمَا خَلَقْنَاكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ ۚ بَلْ زَعَمْتُمْ أَلَّن نَّجْعَلَ لَكُم مَّوْعِدًا» ‏‏‏‏ ۱؎ [18-الكهف:48]‏‏‏‏ ’ یعنی یہ لوگ اپنے رب کے سامنے صف بستہ پیش کئے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہم نے جس طرح تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اب ہم تمہیں دوبارہ لے آئے ہیں۔ ‘
لیکن تم تو یہ سمجھتے رہے کہ قیامت تو کوئی چیز ہی نہیں۔ مراد یہ ہے کہ تم میں سے کافر یہ سمجھتے رہے۔ پس مندرجہ بالا آیات بھی گو ضمیر جنس کی طرف لوٹتی ہے لیکن مراد کفار ہی ہیں اسی لیے آخر میں فرمایا کہ یہ تو اس سے اندھاپے میں ہیں، نابینا ہو رہے ہیں، آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔