اَمَّنۡ یَّبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ثُمَّ یُعِیۡدُہٗ وَ مَنۡ یَّرۡزُقُکُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ ءَ اِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِ ؕ قُلۡ ہَاتُوۡا بُرۡہَانَکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۶۴﴾
یا وہ جو پیدائش کی ابتدا کرتا ہے، پھر اسے دہراتا ہے اور جو تمھیں آسمان و زمین سے رزق دیتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی (اور) معبود ہے؟ کہہ لائو اپنی دلیل، اگر تم سچے ہو۔
En
بھلا کون خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا۔ پھر اس کو بار بار پیدا کرتا رہتا ہے اور (کون) تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے (یہ سب کچھ خدا کرتا ہے) تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے (ہرگز نہیں) کہہ دو کہ (مشرکو) اگر تم سچے ہو تو دلیل پیش کرو
En
کیا وه جو مخلوق کی اول دفعہ پیدائش کرتا ہے پھر اسے لوٹائے گا اور جو تمہیں آسمان اور زمین سے روزیاں دے رہا ہے، کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے کہہ دیجئے کہ اگر سچے ہو تو اپنی دلیل ﻻؤ
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 64) ➊ { اَمَّنْ يَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ:} یہ سادہ سی بات، جسے ایک جملے میں بیان کر دیا گیا ہے، اپنے اندر ایسی تفصیلات رکھتی ہے کہ آدمی ان کی گہرائی میں جتنی دور تک اترتا جاتا ہے اتنے ہی وجود الٰہ اور وحدت الٰہ کے شواہد اسے ملتے چلے جاتے ہیں۔ پہلے تو بجائے خود تخلیق ہی کو دیکھیے، انسان کا علم آج تک یہ راز نہیں پاسکا ہے کہ زندگی کیسے اور کہاں سے آتی ہے؟! اس وقت تک مسلّم سائنٹفک حقیقت یہی ہے کہ بے جان مادے کی محض ترکیب سے خود بخود جان پیدا نہیں ہو سکتی۔ حیات کی پیدائش کے لیے جتنے عوامل درکار ہیں ان سب کا ٹھیک تناسب کے ساتھ بالکل اتفاقاً جمع ہو کر زندگی کا آپ سے آپ وجود میں آجانا دہریوں کا ایک غیر علمی مفروضہ تو ضرور ہے، لیکن اگر ریاضی کے قانون بخت و اتفاق کو اس پر منطبق کیا جائے تو اس کے وقوع کا امکان صفر سے زیادہ نہیں نکلتا۔ اب تک تجربی طریقے پر سائنس کے معملوں میں بے جان مادے سے جاندار مادہ پیدا کرنے کی جتنی بھی کوششیں کی گئی ہیں، تمام ممکن تدابیر استعمال کرنے کے باوجود سب قطعی ناکام ہو چکی ہیں۔ زیادہ سے زیادہ جو چیز معلوم کی جا سکی ہے وہ صرف وہ مادہ ہے جسے اصطلاح میں ”ڈی۔ این۔اے“ کہا جاتا ہے۔ یہ وہ مادہ ہے جو زندہ خلیوں میں پایا جاتا ہے۔ یہ جوہر حیات تو ضرور ہے مگر خود جاندار نہیں۔ زندگی اب بھی بجائے خود ایک معجزہ ہی ہے، جس کی کوئی علمی توجیہ اس کے سوا نہیں کی جا سکی ہے کہ یہ ایک خالق کے امر و ارادہ اور منصوبے کا نتیجہ ہے۔ اس کے بعد آگے دیکھیے، زندگی محض ایک مجرد صورت میں نہیں، بلکہ بے شمار متنوّع صورتوں میں پائی جاتی ہے۔ اس وقت تک روئے زمین پر حیوانات کی تقریباً ۱۰ لاکھ اور نباتات کی تقریباً ۲ لاکھ انواع کا پتا چلا ہے، یہ لکھوکھہا انواع اپنی ساخت اور نوعی خصوصیات میں ایک دوسرے سے ایسا واضح اور قطعی امتیاز رکھتی ہیں اور قدیم ترین معلوم زمانے سے اپنی اپنی صورت نوعیہ کو اس طرح مسلسل برقرار رکھتی چلی آ رہی ہیں کہ ایک خدا کے تخلیقی منصوبے کے سوا زندگی کے اس عظیم تنوع کی کوئی اور معقول توجیہ کر دینا کسی ڈارون کے بس کی بات نہیں ہے۔ آج تک کہیں بھی دو نوعوں کے درمیان کی کوئی ایک کڑی بھی نہیں مل سکی ہے جو ایک نوع کی ساخت اور خصوصیات کا ڈھانچہ توڑ کر نکل آئی ہو اور ابھی دوسری نوع کی ساخت اور خصوصیات تک پہنچنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہی ہو۔ متحجرات کا پورا ریکارڈ اس کی نظیر سے خالی ہے اور موجودہ حیوانات میں بھی یہ خنثیٰ مشکل کہیں نہیں ملا ہے۔ آج تک کسی نوع کا جو فرد بھی ملا ہے، اپنی پوری صورت نوعیہ کے ساتھ ہی ملا ہے اور ہر وہ افسانہ جو کسی مقصود کڑی کے بہم پہنچ جانے کا وقتاً فوقتاً سنا دیا جاتا ہے، تھوڑی مدت بعد حقائق اس کی ساری پھونک نکال دیتے ہیں۔ اس وقت یہ حقیقت اپنی جگہ بالکل اٹل ہے کہ ایک صانع، حکیم، ایک الخالق، الباری، المصور ہی نے زندگی کو یہ لاکھوں متنوّع صورتیں عطا کی ہیں۔
یہ تو ہے ابتدائے خلق کا معاملہ، اب ذرا اعادۂ خلق پر غور کیجیے۔ خالق نے ہر نوع حیوانی اور نباتی کی ساخت و ترکیب میں وہ حیرت انگیز نظام العمل رکھ دیا ہے جو اس کے بے شمار افراد میں سے بے حد و حساب نسل ٹھیک اسی کی صورتِ نوعیہ اور مزاج و خصوصیات کے ساتھ نکالتا چلا جاتا ہے اور کبھی جھوٹوں بھی ان کروڑ ہا کروڑ چھوٹے چھوٹے کارخانوں میں یہ بھول چوک نہیں ہوتی کہ ایک نوع کا کوئی کارخانۂ تناسل کسی دوسری نوع کا ایک نمونہ نکال کر پھینک دے۔ جدید علم تناسل کے مشاہدات اس معاملے میں حیرت انگیز حقائق پیش کرتے ہیں۔ ہر پودے میں یہ صلاحیت رکھ دی گئی ہے کہ اپنی نوع کا سلسلہ آگے کی نسلوں تک جاری رکھنے کے لیے ایسا مکمل انتظام کرے جس سے آنے والی نسل اس کی نوع کی تمام امتیازی خصوصیات کی حامل ہو اور اس کا ہر فرد دوسری تمام انواع کے افراد سے اپنی صورت نوعیہ میں ممیز ہو۔ یہ بقائے نوع اور تناسل کا سامان ہر پودے کے ایک خلیے کے ایک حصہ میں ہوتا ہے، جسے بمشکل انتہائی طاقت ور خوردبین کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ چھوٹا سا انجینئر پوری صحت کے ساتھ پودے کے سارے نشوونما کو حتماً اسی راستے پر ڈالتا ہے جو اس کی اپنی صورت نوعیہ کا راستہ ہے۔ اسی کی بدولت گیہوں کے ایک دانے سے آج تک جتنے پودے بھی دنیا میں کہیں پیدا ہوئے ہیں، انھوں نے گیہوں ہی پیدا کیا ہے۔ کسی آب و ہوا یا کسی ماحول میں یہ حادثہ رونما نہیں ہوا کہ دانۂ گندم کی نسل سے کوئی ایک ہی دانۂ جو پیدا ہوتا۔ ایسا ہی معاملہ حیوانات اور انسان کا بھی ہے کہ ان میں سے کسی کی تخلیق بھی بس ایک دفعہ ہو کر نہیں رہ گئی، بلکہ ناقابل تصور وسیع پیمانے پر ہر طرف اعادۂ خلق کا ایک عظیم کارخانہ چل رہا ہے جو ہر نوع کے افراد سے پیہم اسی نوع کے بے شمار افراد وجود میں لاتا چلا جا رہا ہے۔ اگر کوئی شخص توالدو تناسل کے اس خوردبینی تخم کو دیکھے جو تمام نوعی امتیازات اور موروثی خصوصیات کو اپنے ذرا سے وجود کے بھی محض ایک حصے میں لیے ہوئے ہوتا ہے اور پھر اس انتہائی نازک اور پیچیدہ عضوی نظام اور بے انتہا لطیف و پر پیچ عملیات کو دیکھے کہ جن کی مدد سے ہر نوع کے ہر فرد کا تخمِ تناسل اُسی نوع کا فرد وجود میں لاتا ہے، تو وہ ایک لمحہ کے لیے بھی تصوّر نہیں کر سکتا کہ ایسا نازک اور پیچیدہ نظام العمل کبھی خود بخود بن سکتا ہے اور پھر مختلف انواع کے اربوں ملین افراد میں آپ سے آپ ٹھیک چلتا بھی رہ سکتا ہے۔ یہ چیز نہ صرف اپنی ابتدا کے لیے ایک صانع حکیم چاہتی ہے، بلکہ ہر آن اپنے درست طریقہ پر چلتے رہنے کے لیے بھی ایک ناظم و مدبّر اور ایک حی و قیوم کی طالب ہے جو ایک لحظہ کے لیے بھی ان کارخانوں کی نگرانی و راہ نمائی سے غافل نہ ہو۔ یہ حقائق ایک دہریے کے انکارِ خدا کی بھی اسی طرح جڑ کاٹ دیتے ہیں جس طرح ایک مشرک کے شرک کی۔ کون احمق یہ گمان کر سکتا ہے کہ خدائی کے اس کام میں کوئی فرشتہ یا جن یا نبی یا ولی ذرہ برابر بھی کوئی حصہ رکھتا ہے، اور کون صاحبِ عقل آدمی تعصب سے پاک ہو کر یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ سارا کارخانۂ خلق و اعادۂ خلق اس کمال حکمت و نظم کے ساتھ اتفاقاً شروع ہوا اور آپ سے آپ چلے جا رہا ہے۔ (تفہیم القرآن)
➋ { وَ مَنْ يَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ:} رزق دینے کا معاملہ بھی اتنا سادہ نہیں ہے جتنا سرسری طور پر کوئی شخص ان مختصر الفاظ کو پڑھ کر محسوس کرتا ہے۔ اس زمین پر لاکھوں انواع حیوانات کی اور لاکھوں ہی نباتات کی پائی جاتی ہیں۔ جن میں سے ہر ایک کے اربوں افراد موجود ہیں اور ہر ایک کی غذائی ضروریات الگ ہیں۔ خالق نے ان میں سے ہر نوع کی غذا کا سامان اس کثرت سے اور ہر ایک کی دسترس کے اس قدر قریب فراہم کیا ہے کہ کسی نوع کے افراد بھی یہاں غذا پانے سے محروم نہیں رہ جاتے، اور پھر اس انتظام میں زمین اور آسمان کی اتنی مختلف قوتیں مل جل کر کام کرتی ہیں جن کا شمار مشکل ہے۔ گرمی، روشنی، ہوا، پانی اور زمین کے مختلف اقسام کے مادوں کے درمیان اگر ٹھیک تناسب کے ساتھ تعاون نہ ہو تو غذا کا ایک ذرّہ بھی وجود میں نہیں آ سکتا۔ کون شخص تصور کر سکتاہے کہ یہ حکیمانہ انتظام ایک مدبر کی تدبیر اور سوچے سمجھے منصوبے کے بغیر یوں ہی اتفاقاً ہو سکتا تھا؟ اور کون اپنے ہوش و حواس میں رہتے ہوئے یہ خیال کر سکتا ہے کہ اس انتظام میں کسی جنّ، فرشتے یا کسی بزرگ کی روح کا کوئی عمل دخل ہے؟ (تفہیم القرآن)
➌ { قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ:} یعنی اس چیز کی کوئی دلیل لاؤ کہ اللہ کے سوا یا اس کے ساتھ کوئی اور معبود ہے۔ ظاہر ہے اس پر ان کے پاس کوئی دلیل ہے ہی نہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ وَ مَنْ يَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ لَا بُرْهَانَ لَهٗ بِهٖ فَاِنَّمَا حِسَابُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ اِنَّهٗ لَا يُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ }» [المؤمنون: ۱۱۷]”اور جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو پکارے، جس کی کوئی دلیل اس کے پاس نہیں تو اس کا حساب صرف اس کے رب کے پاس ہے۔ بے شک حقیقت یہ ہے کہ کافر فلاح نہیں پائیں گے۔“ تو جب تمھارے پاس اس کی کوئی دلیل ہی نہیں تو یہ بات تمھاری سمجھ میں کیسے آتی ہے کہ پیدا کرنا، رزق دینا اور دوسرے یہ تمام کام تو اللہ کے ہوں، مگر عبادت اس کے سوا یا اس کے ساتھ کسی اور کی کی جائے؟ {” بُرْهَانَكُمْ “} (اپنی دلیل) اس لیے فرمایا کہ فی الواقع تو کوئی دلیل نہیں، تم نے اگر کوئی دلیل بنا رکھی ہے تو پیش کرو۔
یہ تو ہے ابتدائے خلق کا معاملہ، اب ذرا اعادۂ خلق پر غور کیجیے۔ خالق نے ہر نوع حیوانی اور نباتی کی ساخت و ترکیب میں وہ حیرت انگیز نظام العمل رکھ دیا ہے جو اس کے بے شمار افراد میں سے بے حد و حساب نسل ٹھیک اسی کی صورتِ نوعیہ اور مزاج و خصوصیات کے ساتھ نکالتا چلا جاتا ہے اور کبھی جھوٹوں بھی ان کروڑ ہا کروڑ چھوٹے چھوٹے کارخانوں میں یہ بھول چوک نہیں ہوتی کہ ایک نوع کا کوئی کارخانۂ تناسل کسی دوسری نوع کا ایک نمونہ نکال کر پھینک دے۔ جدید علم تناسل کے مشاہدات اس معاملے میں حیرت انگیز حقائق پیش کرتے ہیں۔ ہر پودے میں یہ صلاحیت رکھ دی گئی ہے کہ اپنی نوع کا سلسلہ آگے کی نسلوں تک جاری رکھنے کے لیے ایسا مکمل انتظام کرے جس سے آنے والی نسل اس کی نوع کی تمام امتیازی خصوصیات کی حامل ہو اور اس کا ہر فرد دوسری تمام انواع کے افراد سے اپنی صورت نوعیہ میں ممیز ہو۔ یہ بقائے نوع اور تناسل کا سامان ہر پودے کے ایک خلیے کے ایک حصہ میں ہوتا ہے، جسے بمشکل انتہائی طاقت ور خوردبین کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ چھوٹا سا انجینئر پوری صحت کے ساتھ پودے کے سارے نشوونما کو حتماً اسی راستے پر ڈالتا ہے جو اس کی اپنی صورت نوعیہ کا راستہ ہے۔ اسی کی بدولت گیہوں کے ایک دانے سے آج تک جتنے پودے بھی دنیا میں کہیں پیدا ہوئے ہیں، انھوں نے گیہوں ہی پیدا کیا ہے۔ کسی آب و ہوا یا کسی ماحول میں یہ حادثہ رونما نہیں ہوا کہ دانۂ گندم کی نسل سے کوئی ایک ہی دانۂ جو پیدا ہوتا۔ ایسا ہی معاملہ حیوانات اور انسان کا بھی ہے کہ ان میں سے کسی کی تخلیق بھی بس ایک دفعہ ہو کر نہیں رہ گئی، بلکہ ناقابل تصور وسیع پیمانے پر ہر طرف اعادۂ خلق کا ایک عظیم کارخانہ چل رہا ہے جو ہر نوع کے افراد سے پیہم اسی نوع کے بے شمار افراد وجود میں لاتا چلا جا رہا ہے۔ اگر کوئی شخص توالدو تناسل کے اس خوردبینی تخم کو دیکھے جو تمام نوعی امتیازات اور موروثی خصوصیات کو اپنے ذرا سے وجود کے بھی محض ایک حصے میں لیے ہوئے ہوتا ہے اور پھر اس انتہائی نازک اور پیچیدہ عضوی نظام اور بے انتہا لطیف و پر پیچ عملیات کو دیکھے کہ جن کی مدد سے ہر نوع کے ہر فرد کا تخمِ تناسل اُسی نوع کا فرد وجود میں لاتا ہے، تو وہ ایک لمحہ کے لیے بھی تصوّر نہیں کر سکتا کہ ایسا نازک اور پیچیدہ نظام العمل کبھی خود بخود بن سکتا ہے اور پھر مختلف انواع کے اربوں ملین افراد میں آپ سے آپ ٹھیک چلتا بھی رہ سکتا ہے۔ یہ چیز نہ صرف اپنی ابتدا کے لیے ایک صانع حکیم چاہتی ہے، بلکہ ہر آن اپنے درست طریقہ پر چلتے رہنے کے لیے بھی ایک ناظم و مدبّر اور ایک حی و قیوم کی طالب ہے جو ایک لحظہ کے لیے بھی ان کارخانوں کی نگرانی و راہ نمائی سے غافل نہ ہو۔ یہ حقائق ایک دہریے کے انکارِ خدا کی بھی اسی طرح جڑ کاٹ دیتے ہیں جس طرح ایک مشرک کے شرک کی۔ کون احمق یہ گمان کر سکتا ہے کہ خدائی کے اس کام میں کوئی فرشتہ یا جن یا نبی یا ولی ذرہ برابر بھی کوئی حصہ رکھتا ہے، اور کون صاحبِ عقل آدمی تعصب سے پاک ہو کر یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ سارا کارخانۂ خلق و اعادۂ خلق اس کمال حکمت و نظم کے ساتھ اتفاقاً شروع ہوا اور آپ سے آپ چلے جا رہا ہے۔ (تفہیم القرآن)
➋ { وَ مَنْ يَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ:} رزق دینے کا معاملہ بھی اتنا سادہ نہیں ہے جتنا سرسری طور پر کوئی شخص ان مختصر الفاظ کو پڑھ کر محسوس کرتا ہے۔ اس زمین پر لاکھوں انواع حیوانات کی اور لاکھوں ہی نباتات کی پائی جاتی ہیں۔ جن میں سے ہر ایک کے اربوں افراد موجود ہیں اور ہر ایک کی غذائی ضروریات الگ ہیں۔ خالق نے ان میں سے ہر نوع کی غذا کا سامان اس کثرت سے اور ہر ایک کی دسترس کے اس قدر قریب فراہم کیا ہے کہ کسی نوع کے افراد بھی یہاں غذا پانے سے محروم نہیں رہ جاتے، اور پھر اس انتظام میں زمین اور آسمان کی اتنی مختلف قوتیں مل جل کر کام کرتی ہیں جن کا شمار مشکل ہے۔ گرمی، روشنی، ہوا، پانی اور زمین کے مختلف اقسام کے مادوں کے درمیان اگر ٹھیک تناسب کے ساتھ تعاون نہ ہو تو غذا کا ایک ذرّہ بھی وجود میں نہیں آ سکتا۔ کون شخص تصور کر سکتاہے کہ یہ حکیمانہ انتظام ایک مدبر کی تدبیر اور سوچے سمجھے منصوبے کے بغیر یوں ہی اتفاقاً ہو سکتا تھا؟ اور کون اپنے ہوش و حواس میں رہتے ہوئے یہ خیال کر سکتا ہے کہ اس انتظام میں کسی جنّ، فرشتے یا کسی بزرگ کی روح کا کوئی عمل دخل ہے؟ (تفہیم القرآن)
➌ { قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ:} یعنی اس چیز کی کوئی دلیل لاؤ کہ اللہ کے سوا یا اس کے ساتھ کوئی اور معبود ہے۔ ظاہر ہے اس پر ان کے پاس کوئی دلیل ہے ہی نہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ وَ مَنْ يَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ لَا بُرْهَانَ لَهٗ بِهٖ فَاِنَّمَا حِسَابُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ اِنَّهٗ لَا يُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ }» [المؤمنون: ۱۱۷]”اور جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو پکارے، جس کی کوئی دلیل اس کے پاس نہیں تو اس کا حساب صرف اس کے رب کے پاس ہے۔ بے شک حقیقت یہ ہے کہ کافر فلاح نہیں پائیں گے۔“ تو جب تمھارے پاس اس کی کوئی دلیل ہی نہیں تو یہ بات تمھاری سمجھ میں کیسے آتی ہے کہ پیدا کرنا، رزق دینا اور دوسرے یہ تمام کام تو اللہ کے ہوں، مگر عبادت اس کے سوا یا اس کے ساتھ کسی اور کی کی جائے؟ {” بُرْهَانَكُمْ “} (اپنی دلیل) اس لیے فرمایا کہ فی الواقع تو کوئی دلیل نہیں، تم نے اگر کوئی دلیل بنا رکھی ہے تو پیش کرو۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
64-1یعنی قیامت والے دن تمہیں دوبارہ زندگی عطا فرمائے گا۔ 64-2یعنی آسمان سے بارش نازل فرما کر، زمین سے اس کے چھپے خزانے (غلہ جات اور میوے) پیدا فرماتا ہے اور یوں آسمان و زمین کی برکتوں کو کھول دیتا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
64۔ بھلا کون ہے؟ جو خلقت کی ابتدا کرتا ہے پھر اس کا اعادہ [69] کرے گا؟ اور کون ہے جو تمہیں آسمان اور زمین [70] سے رزق دیتا ہے؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور الٰہ ہے؟ آپ ان سے کہئے کہ اگر تم سچے ہو تو اپنی کوئی دلیل لاؤ۔
[69] نباتات اور جاندار اشیاء کی انواع جو انسان کے علم میں آچکی ہیں:۔
آغاز خلق اور اعادہ خلق کا مسئلہ بھی اپنے اندر اللہ کی ہزارہا قدرتوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ اور انسان جتنا اس معاملہ میں غور کرتا ہے اس کی حیرانگی میں اضافہ ہی ہوتا جاتا ہے۔ اس مسئلہ میں سب سے پہلا سوال یہ پیش آتا ہے کہ روح کیا چیز ہے جس پر زندگی کا مدار ہے۔ اور یہ سوال آج بھی ایسا پیچیدہ اور لاینحل ہے جیسا کہ حضرت آدمؑ کے وقت تھا۔ انسان نے یہ تو دریافت کر لیا کہ مثلاً انسان فلاں فلاں عناصر کا مرکب ہے اور انسان کے جسم میں ان عناصر کی مقدار اتنی اور اتنی ہوتی ہے۔ مگر انہی عناصر کو اسی مقدار کے مطابق ترکیب دے کر ایک زندہ انسان بن کھڑا کرنا انسان کی بساط سے باہر ہے۔ اور یہ مسئلہ غالباً تا قیامت لاینحل ہی رہے گا۔ پھر یہ صرف ایک انسان کا مسئلہ نہیں بلکہ تمام جاندار اشیاء کا مسئلہ ہے۔ جس میں نباتات بھی شامل ہیں۔ نباتات بھی جانداروں کی طرح بڑھتی ہے۔ پھلتی پھولتی ہے حتیٰ کہ احساس و شعور بھی رکھتی ہے۔ اس وقت تک روئے زمین پر نباتات کی تقریباً دو لاکھ انواع اور جاندار اشیاء کی تقریباً دس لاکھ انواع انسان کے علم میں آچکی ہیں۔ جو اپنی ساخت، عناصر اور ترکیب کے لحاظ سے بالکل ایک دوسرے سے الگ ہیں اور جب سے انسان نے ان انواع کو جاننا شروع کیا اس وقت سے لے کر آج تک انسان کے علم میں یہ بات نہیں آسکی کہ نباتات یا حیوانات کی کوئی نوع ارتقاء کی منزل طے کر کے اپنے سے کسی اعلیٰ جنس میں تبدیل ہو گئی ہو۔ بلکہ جس حال میں انسان نے اسے پہلے دن دیکھا تھا اسی حال میں بھی یہ آج بھی پائی جاتی ہے۔ جس سے ڈارون کے نظریہ کا از خود ابطال ہو جاتا ہے اگرچہ ڈارون کے نظریہ کے باطل ہونے کے اور بھی بے شمار دلائل موجود ہیں۔ گویا اللہ تعالیٰ نے نباتات کی اور حیوانات کی جس نوع کو جس طرح پہلے دن پیدا کیا تھا آج بھی وہ اسی صورت میں پائی جاتی ہے اور انسان کی تخلیق تو ایک بالکل خصوصی نوعیت رکھتی ہے۔ جس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں نے اسے اپنے ہاتھ سے بنایا ہے۔ [38: 75]
آغاز خلق اور اعادہ خلق کا سلسلہ ہر آن جاری ہے :۔
اور اعادہ خلق سے صرف یہ مراد نہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام انسانوں کو ان کی قبروں سے زندہ کر کے اٹھا کھڑا کرے گا۔ بلکہ اعادہ خلق سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر آن مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردہ پیدا کر رہا ہے۔ اور یہ نظام نباتات اور حیوانات کی تمام تر اقسام میں جاری و ساری ہے۔ مثلاً ایک ننھے سے بیج کو لیجئے اس میں اس درخت کی وہ تمام تر خصوصیات سمو دی گئی ہیں جس کا وہ بیج ہے۔ جب اس بیج کو نشو و نما کا موقع ملے گا تو اس میں وہ تمام تر خصوصیات مثلاً اس کا رنگ، اس کا مزا، اس کی بو، اس کا قد و قامت، اس کا پھل اسی درخت جیسا ہو گا جس کا وہ بیج تھا۔ اسی طرح کسی جاندار یا انسان کے نطفہ میں اس انسان کی شکل و صورت ہی منتقل نہیں ہوتی بلکہ اس کی عادات و خصائل تک منتقل ہو جاتی ہیں۔ رہا انسان کا جسم اور اس کے اندر پیچیدہ مشینری، اس کا عصبی، عضلاتی، لحمی اور ہڈیوں کی پیدائش کا نظام یہ سب چیزیں اس انسان کے نطفہ میں ایک خورد بینی جرثومہ کی شکل میں منتقل ہو جاتی ہیں۔ اور جب اسے نشو و نما کا موقع میسر آتا ہے تو یہ سب چیزیں عملی طور پر وجود میں آ جاتی ہیں کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ ایک جاندار کے جرثومہ میں کسی دوسرے جرثومہ کے خواص منتقل ہو جائیں۔ یا مثلاً کسی عورت کے رحم میں اونٹ کا جرثومہ چلا جائے تو اس کے ہاں اونٹ کا بچہ پیدا ہو جائے اللہ کا اعادہ خلق کا نظام آغاز خلق سے بھی زیادہ پیچیدہ اور حیران کن ہے۔ اب غور فرمائیے کہ اس آغاز خلق اور اعادہ خلق کے نظام میں اللہ کے علاوہ کسی فرشتے، کسی نبی، کسی ولی، کسی جن، کسی پیر و فقیر، یا کسی سیارے یا بت کا عمل دخل ہے؟ اگر نہیں تو پھر وہ عبادت کے مستحق کیسے ہو سکتے ہیں؟
[70] خوراک کی پیدائش کے عوامل:۔
تمام نباتات اور حیوانات کی ضروریات زندگی اگرچہ زمین ہی سے وابستہ ہیں۔ تاہم ان کی خوراک، پیدائش میں بہت سے دوسرے عوامل بھی کام کرتے ہیں۔ سب سے بڑا عامل تو زمین کی قوت روئیدگی ہے۔ مٹی کی تاریکی میں ہی بیج کی نشو و نما شروع ہونے لگتی ہے۔ دوسرا عامل سورج ہے۔ جس کی گرمی سے سطح سمندر سے آبی بخارات اٹھتے ہیں۔ تیسری عامل ہوائیں ہیں جو ان آبی بخارات کی سمت موڑتی ہیں۔ چوتھا عامل پہاڑوں کی بلندی یا کسی بلند طبقہ کی ٹھنڈک ہے جو پھر سے ان آبی بخارات کو پانی کے قطروں کی شکل میں تبدیل کر دیتا ہے۔ پھر اسی پانی کے ساتھ زمین کی قوت روئیدگی ملتی ہے۔ تب جا کر نباتات اگتی ہے اور انسان اور حیوانات کو رزق میسر آتا ہے۔ غور فرمائیے کہ ان سمندروں، اس سورج، ان ہواؤں، ان پہاڑوں اور اس زمین کی پیدائش میں اللہ کے سوا کسی دوسری ہستی کا کچھ عمل دخل ہے؟ اب اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ بارش فلاں سیارے کے فلاں نچھتر میں داخل ہونے پر یا اس سیارے کی روح کے مجسمے یا بت کی قربانی یا نذرانہ دینے سے ہوتی ہے تو اسے کوئی تجرباتی مشاہداتی یا نقلی دلیل پیش کرنا چاہئے۔ اور اگر وہ ایسا نہیں کر سکتے تو اللہ کی رزاقیت میں دوسرے کیسے شامل ہو سکتے ہیں۔ اور لوگوں کے داتا کیسے بن سکتے ہیں؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ستاروں کے فوائد ٭٭
آسمان و زمین میں اللہ تعالیٰ نے ایسی نشانیاں رکھ دی ہیں کہ خشکی اور تری میں جو راہ بھول جائے وہ انہیں دیکھ کر راہ راست اختیار کر لے۔ جیسے فرمایا ہے کہ «وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُونَ» ۱؎ [16-النحل:16] ’ ستاروں سے لوگ راہ پاتے ہیں ‘ «وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ النُّجُومَ لِتَهْتَدُوا بِهَا فِي ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ» ’ سمندروں میں خشکی میں انہیں دیکھ کر اپنا راستہ ٹھیک کر لیتے ہیں ‘ ۱؎ [6-الأنعام:97]
بادل پانی بھرے برسیں اس سے پہلے ٹھنڈی اور بھینی بھینی ہوائیں چلاتا ہے۔ جس سے لوگ سمجھ جاتے ہیں کہ اب رب کی رحمت برسے گی۔ اللہ کے سوا ان کاموں کا کرنے والا کوئی نہیں نہ کوئی ان پر قادر ہے۔ تمام شریکوں سے وہ الگ ہے پاک ہے سب سے بلند ہے۔
بادل پانی بھرے برسیں اس سے پہلے ٹھنڈی اور بھینی بھینی ہوائیں چلاتا ہے۔ جس سے لوگ سمجھ جاتے ہیں کہ اب رب کی رحمت برسے گی۔ اللہ کے سوا ان کاموں کا کرنے والا کوئی نہیں نہ کوئی ان پر قادر ہے۔ تمام شریکوں سے وہ الگ ہے پاک ہے سب سے بلند ہے۔
قدرت کاملہ کا ثبوت ٭٭
فرمان ہے کہ اللہ وہ ہے جو اپنی قدرت کاملہ سے مخلوقات کو بےنمونہ پیدا کرتا ہے۔ پھر انہیں فنا کر کے دوبارہ پیدا کرے گا۔ جب تم اسے پہلی دفعہ پیدا کرنے پر قادر مان رہے ہو تو دوبارہ کی پیدائش جو اس کے لیے بہت ہی آسان ہے اس پر قادر کیوں نہیں مانتے؟
آسمان سے بارش برسانا اور زمین سے اناج اگانا اور تمہاری روزی کا سامان آسمان اور زمین سے پیدا کرنا اسی کا کام ہے۔ جیسے سورۃ الطارق میں فرمایا «وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الرَّجْعِ» * «وَالْأَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِ» ۱؎ [86-الطارق:12-11] ’ پانی والے آسمان کی اور پھوٹنے والی زمین کی قسم۔ ‘
آسمان سے بارش برسانا اور زمین سے اناج اگانا اور تمہاری روزی کا سامان آسمان اور زمین سے پیدا کرنا اسی کا کام ہے۔ جیسے سورۃ الطارق میں فرمایا «وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الرَّجْعِ» * «وَالْأَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِ» ۱؎ [86-الطارق:12-11] ’ پانی والے آسمان کی اور پھوٹنے والی زمین کی قسم۔ ‘
اور آیت میں ہے «هُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَىٰ عَلَى الْعَرْشِ ۚ يَعْلَمُ مَا يَلِجُ فِي الْأَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَمَا يَنزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا ۖ وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ ۚ وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ» ۱؎ [57-الحديد:4] ’ یعنی اللہ خوب جانتا ہے ہر اس چیز کو جو آسمان میں سما جائے اور جو زمین سے باہر اگ آئے۔ اور جو آسمان سے اترے اور جو اس پر چڑھے۔ پس آسمان سے مینہ برسانے والا اسے زمین میں ادھر اھر تک پہنچانے والا اور اس کی وجہ سے طرح طرح کے پھل پھول اناج گھاس پات اگانے والا وہی ہے جو تمہاری اور تمہارے جانوروں کی روزیاں ہیں۔ ‘
یقیناً یہ تمام چیزیں صاحب عقل کے لیے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ہیں۔ اپنی ان قدرتوں کو اور اپنے ان گراں بہا احسانوں کو بیان فرما کر فرمایا کہ کیا اللہ کے ساتھ ان کاموں کا کرنے والا کوئی اور بھی ہے؟ جس کی عبادت کی جائے اگر تم اللہ کے سوا دوسروں کو معبود ماننے کے دعوے کو دلیل سے ثابت کر سکتے ہو تو وہ دلیل پیش کرو؟
لیکن چونکہ وہ محض بےدلیل ہیں اس لیے دوسری آیت میں فرما دیا کہ «وَمَن يَدْعُ مَعَ اللَّـهِ إِلَـٰهًا آخَرَ لَا بُرْهَانَ لَهُ بِهِ فَإِنَّمَا حِسَابُهُ عِندَ رَبِّهِ ۚ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الْكَافِرُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:117] ’ اللہ کے ساتھ جو دوسرے کو بھی پوجے جس کی کوئی دلیل بھی اس کے پاس نہ ہو وہ یقیناً کافر ہے اور نجات سے محروم ہے۔‘
یقیناً یہ تمام چیزیں صاحب عقل کے لیے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ہیں۔ اپنی ان قدرتوں کو اور اپنے ان گراں بہا احسانوں کو بیان فرما کر فرمایا کہ کیا اللہ کے ساتھ ان کاموں کا کرنے والا کوئی اور بھی ہے؟ جس کی عبادت کی جائے اگر تم اللہ کے سوا دوسروں کو معبود ماننے کے دعوے کو دلیل سے ثابت کر سکتے ہو تو وہ دلیل پیش کرو؟
لیکن چونکہ وہ محض بےدلیل ہیں اس لیے دوسری آیت میں فرما دیا کہ «وَمَن يَدْعُ مَعَ اللَّـهِ إِلَـٰهًا آخَرَ لَا بُرْهَانَ لَهُ بِهِ فَإِنَّمَا حِسَابُهُ عِندَ رَبِّهِ ۚ إِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الْكَافِرُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:117] ’ اللہ کے ساتھ جو دوسرے کو بھی پوجے جس کی کوئی دلیل بھی اس کے پاس نہ ہو وہ یقیناً کافر ہے اور نجات سے محروم ہے۔‘