قُلِ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ وَ سَلٰمٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیۡنَ اصۡطَفٰی ؕ آٰللّٰہُ خَیۡرٌ اَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ ﴿ؕ۵۹﴾
کہہ دے سب تعریف اللہ کے لیے ہے اور سلام ہے اس کے ان بندوں پر جنھیں اس نے چن لیا۔ کیا اللہ بہتر ہے، یا وہ جنھیں یہ شریک ٹھہراتے ہیں؟
En
کہہ دو کہ سب تعریف خدا ہی کو سزاوار ہے اور اس کے بندوں پر سلام ہے جن کو اس نے منتخب فرمایا۔ بھلا خدا بہتر ہے یا وہ جن کو یہ (اس کا شریک) ٹھہراتے ہیں
En
تو کہہ دے کہ تمام تعریف اللہ ہی کے لیے ہے اور اس کے برگزیده بندوں پر سلام ہے۔ کیا اللہ تعالیٰ بہتر ہے یا وه جنہیں یہ لوگ شریک ٹھہرا رہے ہیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 59) ➊ { قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ:} اس آیت کی پچھلی آیات کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیھم السلام کو جھٹلانے والی قوموں کے انجام بد کے اور انبیاء اور ان کے ساتھیوں کو نجات دینے کے ذکر کے بعد فرمایا کہ اللہ کے اس احسان پر ”الحمد للہ“ کہو کہ سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے منکروں کی جڑ کاٹ دی اور اپنے بندوں کو بچا لیا، جیسا کہ فرمایا: «{فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ }» [الأنعام: ۴۵] ”تو ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی گئی جنھوں نے ظلم کیا تھا اور سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو سب جہانوں کا رب ہے۔“
➋ { وَ سَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِيْنَ اصْطَفٰى:} اس کا عطف {” الْحَمْدُ لِلّٰهِ “} پر بھی ہو سکتا ہے کہ کہو {” الْحَمْدُ لِلّٰهِ “} اور کہو {” سَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِيْنَ اصْطَفٰى “} اور {” قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ “} پر بھی۔ اس صورت میں یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے چنیدہ بندوں پر سلام ہے اور یہی راجح ہے۔ یعنی اللہ کے ان بندوں پر سلام ہے جنھیں اس نے نبوت کے لیے یا انبیاء پر ایمان لانے اور ان کی مدد کے لیے چن لیا اور جو اپنی اقوام کی شدید مخالفت اور بے شمار مصائب کے باوجود حق پر ڈٹے رہے اور حق کا پیغام پہنچاتے رہے۔ اللہ کے ان بندوں میں انبیاء، ان کے صحابہ اور تمام مومن شامل ہیں، جیسا کہ تشہد میں ہے: [اَلسَّلَامُ عَلَيْنَا وَ عَلٰی عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِيْنَ] ”سلام ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر۔“
➌ { آٰللّٰهُ خَيْرٌ اَمَّا يُشْرِكُوْنَ:} یعنی اللہ تووہ ہے جو مجرموں کو سزا دیتا ہے اور اپنے چنیدہ بندوں کو نجات دیتا ہے اور ان پر سلام بھیجتا ہے۔ اب بتاؤ وہ اللہ بہتر ہے یا وہ معبود جنھیں لوگوں نے اللہ کا شریک بنا رکھا ہے، جو دوسروں کو نفع یا نقصان تو کجا اپنی حفاظت تک نہیں کر سکتے۔
➍ بعض مفسرین نے اس آیت کی پہلی آیات سے یہ مناسبت ذکر فرمائی کہ انبیاء کے قصص سے فارغ ہو کر {” آٰللّٰهُ خَيْرٌ اَمَّا يُشْرِكُوْنَ “} سے توحید کا بیان شروع فرمایا اور یہ الفاظ بطور خطبہ ارشاد فرمائے جو بیان شروع ہونے سے قبل کہنے چاہییں۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”اللہ کی تعریف اور پیغمبر پر سلام بھیج کر اگلی بات شروع کرنی لوگوں کو سکھلا دی۔“ (موضح) چنانچہ کلام کا یہی ادب علماء، خطباء اور واعظین کی تحریروں، تقریروں میں اور فتح کی خوش خبری اور کسی نعمت پر مبارکباد کے مکتوبات میں تورات سے چلا آتا ہے کہ ابتدا حمد و سلام سے کرتے ہیں۔ مگر اب اسے ملائیت سمجھا جانے لگا ہے اور موجودہ زمانے کے مسلمان مقررین اور مصنّفین اپنی گفتگو یا تحریر کا آغاز اس کلام سے کرنے کا تصور تک اپنے ذہن میں نہیں رکھتے، یا پھر اس میں شرم محسوس کرتے ہیں۔
➎ {” خَيْرٌ “} اسم تفضیل کا صیغہ ہے، جو اصل میں {”أَخْيَرُ“} تھا، زیادہ اچھا، یعنی کیا اللہ بہتر (زیادہ اچھا) ہے یا وہ جنھیں یہ شریک ٹھہراتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کے معبودوں میں بھی کوئی خیر یا اچھائی ہے، کیونکہ ان میں تو کسی خیر کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ دراصل ان پر طنز ہے کہ تم جو ان باطل معبودوں کو پوجتے ہو تو یقینا ان میں کوئی خیر سمجھ کر ہی پوجتے ہو، مگر یہ بتاؤ کہ تمھارے مطابق بھی بہتر اور زیادہ اچھا کون ہے؟ یہ ایسا سوال ہے کہ ضدی سے ضدی مشرک بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہمارے معبود بہتر ہیں، اور یہ مان لینے کے بعد کہ بہتر اللہ تعالیٰ ہے، ان کے شرک کی بنیاد ہی ڈھے جاتی ہے، اس لیے کہ یہ بات تو سراسر عقل کے خلاف ہے کہ بہتر کو چھوڑ کر کمتر کو اختیار کیا جائے۔
➋ { وَ سَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِيْنَ اصْطَفٰى:} اس کا عطف {” الْحَمْدُ لِلّٰهِ “} پر بھی ہو سکتا ہے کہ کہو {” الْحَمْدُ لِلّٰهِ “} اور کہو {” سَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِيْنَ اصْطَفٰى “} اور {” قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ “} پر بھی۔ اس صورت میں یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے چنیدہ بندوں پر سلام ہے اور یہی راجح ہے۔ یعنی اللہ کے ان بندوں پر سلام ہے جنھیں اس نے نبوت کے لیے یا انبیاء پر ایمان لانے اور ان کی مدد کے لیے چن لیا اور جو اپنی اقوام کی شدید مخالفت اور بے شمار مصائب کے باوجود حق پر ڈٹے رہے اور حق کا پیغام پہنچاتے رہے۔ اللہ کے ان بندوں میں انبیاء، ان کے صحابہ اور تمام مومن شامل ہیں، جیسا کہ تشہد میں ہے: [اَلسَّلَامُ عَلَيْنَا وَ عَلٰی عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِيْنَ] ”سلام ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر۔“
➌ { آٰللّٰهُ خَيْرٌ اَمَّا يُشْرِكُوْنَ:} یعنی اللہ تووہ ہے جو مجرموں کو سزا دیتا ہے اور اپنے چنیدہ بندوں کو نجات دیتا ہے اور ان پر سلام بھیجتا ہے۔ اب بتاؤ وہ اللہ بہتر ہے یا وہ معبود جنھیں لوگوں نے اللہ کا شریک بنا رکھا ہے، جو دوسروں کو نفع یا نقصان تو کجا اپنی حفاظت تک نہیں کر سکتے۔
➍ بعض مفسرین نے اس آیت کی پہلی آیات سے یہ مناسبت ذکر فرمائی کہ انبیاء کے قصص سے فارغ ہو کر {” آٰللّٰهُ خَيْرٌ اَمَّا يُشْرِكُوْنَ “} سے توحید کا بیان شروع فرمایا اور یہ الفاظ بطور خطبہ ارشاد فرمائے جو بیان شروع ہونے سے قبل کہنے چاہییں۔ شاہ عبد القادر رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ”اللہ کی تعریف اور پیغمبر پر سلام بھیج کر اگلی بات شروع کرنی لوگوں کو سکھلا دی۔“ (موضح) چنانچہ کلام کا یہی ادب علماء، خطباء اور واعظین کی تحریروں، تقریروں میں اور فتح کی خوش خبری اور کسی نعمت پر مبارکباد کے مکتوبات میں تورات سے چلا آتا ہے کہ ابتدا حمد و سلام سے کرتے ہیں۔ مگر اب اسے ملائیت سمجھا جانے لگا ہے اور موجودہ زمانے کے مسلمان مقررین اور مصنّفین اپنی گفتگو یا تحریر کا آغاز اس کلام سے کرنے کا تصور تک اپنے ذہن میں نہیں رکھتے، یا پھر اس میں شرم محسوس کرتے ہیں۔
➎ {” خَيْرٌ “} اسم تفضیل کا صیغہ ہے، جو اصل میں {”أَخْيَرُ“} تھا، زیادہ اچھا، یعنی کیا اللہ بہتر (زیادہ اچھا) ہے یا وہ جنھیں یہ شریک ٹھہراتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کے معبودوں میں بھی کوئی خیر یا اچھائی ہے، کیونکہ ان میں تو کسی خیر کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ دراصل ان پر طنز ہے کہ تم جو ان باطل معبودوں کو پوجتے ہو تو یقینا ان میں کوئی خیر سمجھ کر ہی پوجتے ہو، مگر یہ بتاؤ کہ تمھارے مطابق بھی بہتر اور زیادہ اچھا کون ہے؟ یہ ایسا سوال ہے کہ ضدی سے ضدی مشرک بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ ہمارے معبود بہتر ہیں، اور یہ مان لینے کے بعد کہ بہتر اللہ تعالیٰ ہے، ان کے شرک کی بنیاد ہی ڈھے جاتی ہے، اس لیے کہ یہ بات تو سراسر عقل کے خلاف ہے کہ بہتر کو چھوڑ کر کمتر کو اختیار کیا جائے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
59-1جن کو اللہ نے رسالت اور بندوں کی رہنمائی کے لئے چنا تاکہ لوگ صرف ایک اللہ کی عبادت کریں۔ 59-2یہ استفہام تقریری ہے یعنی اللہ ہی کی عبادت بہتر ہے کیونکہ جب خالق رازق اور مالک یہی ہے تو عبادت کا مستحق کوئی دوسرا کیوں کر ہوسکتا ہے جو نہ کسی چیز کا خالق ہے نہ رازق اور مالک خیر اگرچہ تفضیل کا صیغہ ہے لیکن یہاں تفضیل کے معنی میں نہیں ہے مطلق بہتر کے معنی میں ہے اس لیے کہ معبودان باطلہ میں تو سرے سے کوئی خیر ہے ہی نہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
59۔ آپ ان سے کہئے کہ: ”سب طرح کی تعریف اللہ کو سزاوار [57] ہے اور اس کے ان بندوں پر سلامتی ہو جنہیں اس نے برگزیدہ [58] کیا، کیا اللہ بہتر ہے یا وہ معبود جنہیں یہ اس کا شریک بنا رہے [59] ہیں؟
[57] الحمد للہ کے استعمال کا خاص موقع:۔
ویسے تو ہر حال میں اللہ کی تعریف بیان کرنا چاہئے اور اس کا شکر بجا لانا چاہئے۔ لیکن اہل عرب اس جملہ کا استعمال عموماً اس وقت کرتے ہیں۔ جب فریق مخالف یا مخاطب پر دلائل کے ساتھ اتمام حجت کر دی جائے۔ اور اس کے پاس ان دلائل کا کوئی معقول جواب نہ ہو یا اسے کوئی معقول جواب میسر نہ آئے۔ یہاں بھی تین انبیاء کا ذکر کرنے اور منکرین حق کا ایک ہی جیسا انجام بتلانے کے بعد یہ جملہ اسی مفہوم کو ادا کرنے کے لئے استعمال ہوا ہے۔
[58] برگزیدہ لوگوں سے مراد انبیاء علیہم السلام ہیں جن کے ساتھ ان کے متبعین کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ جن کی اللہ تعالیٰ نے مدد فرمائی، انھیں کافروں کے مظالم سے نجات دلائی اور ان پر نازل کردہ عذاب سے انھیں بچا کر ان پر رحمت فرمائی۔ یہ مطلب تو ربط مضمون کے لحاظ سے ہے جملہ کا حکم عام ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ بندوں پر ہر وقت اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلامتی نازل ہوتی رہتی ہے۔
[59] یعنی اللہ تو وہ ہے جو مجرموں کو سزا دے کر اپنے بندوں کو ان کے مظالم سے بچا لیتا ہے اور ان کی مدد بھی کرتا ہے۔ سوائے مشرکین مکہ یا اب تم خود ہی فیصلہ کر لو کہ ایسی قوتوں والا اللہ بہتر ہے یا تمہارے وہ معبود جو دوسروں کو کوئی فائدہ یا نقصان تو کیا پہنچائیں گے۔ اپنی حفاظت تک کے لئے وہ تمہارے محتاج ہیں۔
[58] برگزیدہ لوگوں سے مراد انبیاء علیہم السلام ہیں جن کے ساتھ ان کے متبعین کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔ جن کی اللہ تعالیٰ نے مدد فرمائی، انھیں کافروں کے مظالم سے نجات دلائی اور ان پر نازل کردہ عذاب سے انھیں بچا کر ان پر رحمت فرمائی۔ یہ مطلب تو ربط مضمون کے لحاظ سے ہے جملہ کا حکم عام ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ بندوں پر ہر وقت اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلامتی نازل ہوتی رہتی ہے۔
[59] یعنی اللہ تو وہ ہے جو مجرموں کو سزا دے کر اپنے بندوں کو ان کے مظالم سے بچا لیتا ہے اور ان کی مدد بھی کرتا ہے۔ سوائے مشرکین مکہ یا اب تم خود ہی فیصلہ کر لو کہ ایسی قوتوں والا اللہ بہتر ہے یا تمہارے وہ معبود جو دوسروں کو کوئی فائدہ یا نقصان تو کیا پہنچائیں گے۔ اپنی حفاظت تک کے لئے وہ تمہارے محتاج ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ہو رہا ہے کہ آپ کہیں کہ ساری تعریفوں کے لائق فقط اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اسی نے اپنے بندوں کو اپنی بےشمار نعمتیں عطا فرما رکھی ہیں۔ اس کی صفتیں عالی ہیں اس کے نام بلند اور پاک ہیں اور حکم ہوتا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے برگذیدہ بندوں پر سلام بھیجیں جیسے انبیاء اور رسول علیہم السلام۔ حمدوصلوٰۃ کا ساتھ ہی ذکر آیت «سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُوْنَ * وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ» ۱؎ [37-الصافات:181-180] میں بھی ہے۔
برگزیدہ بندوں سے مراد اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور خود انبیاء علیہم السلام بطور اولیٰ اس میں داخل ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں اور ان کے تابعداروں کے بچالینے اور مخالفین کے غارت کر دینے کی نعمت بیان فرما کر اپنی تعریفیں کرنے والے اور اپنے نیک بندوں پر سلام بھیجنے کا حکم دیا۔
اس کے بعد بطور سوال کے مشرکوں کے اس فعل پر انکار کیا کہ وہ اللہ عزوجل کے ساتھ اس کی عبادت میں دوسروں کو شریک ٹھہرا رہے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ پاک اور بری ہے۔
الحمد للہ انیسواں پارہ ختم ہوا۔
برگزیدہ بندوں سے مراد اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور خود انبیاء علیہم السلام بطور اولیٰ اس میں داخل ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں اور ان کے تابعداروں کے بچالینے اور مخالفین کے غارت کر دینے کی نعمت بیان فرما کر اپنی تعریفیں کرنے والے اور اپنے نیک بندوں پر سلام بھیجنے کا حکم دیا۔
اس کے بعد بطور سوال کے مشرکوں کے اس فعل پر انکار کیا کہ وہ اللہ عزوجل کے ساتھ اس کی عبادت میں دوسروں کو شریک ٹھہرا رہے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ پاک اور بری ہے۔
الحمد للہ انیسواں پارہ ختم ہوا۔