ترجمہ و تفسیر — سورۃ النمل (27) — آیت 49

قَالُوۡا تَقَاسَمُوۡا بِاللّٰہِ لَنُبَیِّتَنَّہٗ وَ اَہۡلَہٗ ثُمَّ لَنَقُوۡلَنَّ لِوَلِیِّہٖ مَا شَہِدۡنَا مَہۡلِکَ اَہۡلِہٖ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوۡنَ ﴿۴۹﴾
انھوں نے کہا آپس میں اللہ کی قسم کھائو کہ ہم ضرور ہی اس پر اور اس کے گھر والوں پر رات حملہ کریں گے، پھر ضرور ہی اس کے وارث سے کہہ دیں گے ہم اس کے گھر والوں کی ہلاکت کے وقت موجود نہ تھے اور بلاشبہ ہم ضرور سچے ہیں۔ En
کہنے لگے کہ خدا کی قسم کھاؤ کہ ہم رات کو اس پر اور اس کے گھر والوں پر شب خون ماریں گے پھر اس کے وارث سے کہہ دیں گے کہ ہم تو صالح کے گھر والوں کے موقع ہلاکت پر گئے ہی نہیں اور ہم سچ کہتے ہیں
En
انہوں نے آپس میں بڑی قسمیں کھا کھا کر عہد کیا کہ رات ہی کو صالح اور اس کے گھر والوں پر ہم چھاپہ ماریں گے، اور اس کے وارﺛوں سے صاف کہہ دیں گے کہ ہم اس کے اہل کی ہلاکت کے وقت موجود نہ تھے اور ہم بالکل سچے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 49) ➊ { قَالُوْا تَقَاسَمُوْا بِاللّٰهِ لَنُبَيِّتَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗ …: لَنُبَيِّتَنَّهٗ بَيَّتَ يُبَيِّتُ تَبْيِيْتًا } شب خون مارنا، رات کو اچانک حملہ کرنا۔ جب ان لوگوں نے باہمی مشورے سے اونٹنی کو ہلاک کر دیا اور صالح علیہ السلام نے انھیں تین دن بعد عذاب آنے سے خبردار کر دیا تو ا س کے بعد بھی ان لوگوں نے یہی سمجھا کہ یہ عذاب تو آتا ہے یا نہیں، اس سے پہلے کیوں نہ ہم صالح اور اس کے گھر والوں کا قصہ تمام کر دیں۔ چنانچہ ان نو بدمعاشوں نے صالح علیہ السلام کے قتل کا ویسا ہی منصوبہ بنایا جیسا قریش مکہ نے ہجرت سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا بنایا تھا۔ البتہ یہ فرق ضرور تھا کہ قریش نے سوچا تھا کہ بدلے کی صورت میں قتل کرنے پر ہم سے دیت کا مطالبہ کیا جائے گا تو وہ ہم سب مل کر اکٹھی کرکے دے دیں گے۔ لیکن یہ بدمعاش ان سے بھی چار ہاتھ آگے کی بات سوچ رہے تھے، انھوں نے طے کیا کہ جب صالح(علیہ السلام) کے ولی (جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ولی بنو ہاشم تھے) ہم سے کوئی بات پوچھیں گے تو ہم کہہ دیں گے کہ ہم تو موقع پر موجود ہی نہ تھے، ہمیں کیا خبر انھیں کون قتل کر گیا ہے؟ دوسرا فرق یہ تھا کہ قریشِ مکہ نے صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کا منصوبہ تیار کیا تھا، جب کہ ان بدمعاشوں نے صالح علیہ السلام اور ان کے پورے خاندان کو مار ڈالنے کا منصوبہ بنایا اور اپنے اس منصوبے کے معاہدے پر سب نے ایک دوسرے کے سامنے قسمیں کھائیں کہ ایک تو اس کو اور اس کے خاندان کو قتل کرکے دم لیں گے، دوسرے اپنے جرم کا کبھی اعتراف نہیں کریں گے۔ (کیلانی)
➋ مفسر شنقیطی نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے صالح علیہ السلام کو ان کے اولیاء کے ذریعے سے بہت نفع پہنچایا، کیونکہ ظاہر ہے کہ ان نو(۹) بدمعاشوں نے شب خون مار کر صالح علیہ السلام اور ان کے خاندان کو قتل کرنے اور اس کا اعتراف نہ کرنے کا منصوبہ اسی لیے بنایا کہ وہ ان کے اولیاء کے خوف سے علانیہ قتل کرنے کی جرأت نہیں کر سکتے تھے اور قتل کرنے کی صورت میں بھی انھیں ان کے اولیاء کا خوف تھا۔ جیسا کہ قریش ابوطالب اور بنو ہاشم کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر علانیہ ہاتھ ڈالنے کی جرأت نہیں کرتے تھے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

49-1یعنی صالح ؑ کو اور اس کے گھر والوں کو قتل کردیں گے، یہ قسمیں انہوں نے اس وقت کھائیں، جب اونٹنی کے قتل کے بعد حضرت صالح ؑ نے کہا کہ تین دن کے بعد تم پر عذاب آجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عذاب کے آنے سے قبل ہی ہم صالح ؑ اور ان کے گھر والوں کا صفایا کردیں۔ 49-2یعنی ہم قتل کے وقت وہاں موجود نہ تھے ہمیں اس بات کا علم ہے کہ کون انھیں قتل کر گیا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

49۔ انہوں نے کہا: ”سب آپس میں اللہ کی قسم کھاؤ کہ ہم رات کو صالح اور اس کے گھر والوں پر شب خون [50] ماریں گے۔ پھر اس کے ولی سے کہہ دیں گے کہ ہم تو اس کے خاندان کی ہلاکت کے موقع پر موجود ہی نہ تھے۔ اور یقیناً ہم سچے ہیں۔“
[50] قوم ثمود کے ان غنڈوں کی سازش:۔
جب ان لوگوں نے ملی بھگت سے قدار کو آگے لگا کر ناقۃ اللہ کو زخمی کر دیا۔ تو حضرت صالحؑ نے ان لوگوں کو تین دن بعد عذاب آنے کا الٹی میٹم دے دیا۔ اس الٹی میٹم کے بعد بھی ان لوگوں نے یہی سمجھا کہ یہ عذاب تو آتا ہے یا نہیں۔ اس سے پہلے ہی ہم کیوں نہ صالح اور اس کے گھر والوں کا قصہ بھی تمام کر دیں۔ چنانچہ نو بدمعاشوں نے حضرت صالحؑ کو بھی ٹھکانے لگا دینے کی ویسی ہی سکیم بنائی جیسی قریش مکہ نے ہجرت سے پیشتر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قصہ پاک کر دینے کے لئے بنائی تھی۔ البتہ یہ فرق ضرور تھا کہ قریش نے یہ سمجھا کہ اس طرح بلوا کی صورت میں قتل کرنے پر ہم سے دیت کا مطالبہ کیا جائے گا تو وہ ہم آپس میں بانٹ لیں گے۔ لیکن یہ بدمعاش ان سے بھی چار ہاتھ آگے کی بات سوچ رہے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ جب حضرت صالحؑ کے ولی (جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ولی حضرت ابو طالب تھے) ہم سے کوئی بات پوچھیں گے تو ہم کہہ دیں گے کہ ہم تو موقع پر موجود ہی نہ تھے۔ ہمیں کیا خبر کہ کون ان کو قتل کر گیا ہے۔ اور دوسرا فرق یہ تھا کہ قریش مکہ نے صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کا منصوبہ تیار کیا تھا جبکہ ان بدمعاشوں نے حضرت صالح اور ان کے پورے خاندان کو مار ڈالنے کا منصوبہ بنایا تھا اور اپنے اس منصوبہ کے معاہدہ پر سب نے ایک دوسرے کے سامنے قسمیں کھائیں کہ ایک تو اس خاندان کو قتل کر کے دم لیں گے اور دوسرے اپنے جرم کا کبھی اعتراف نہ کریں گے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اونٹنی کو مار ڈالا ٭٭
ثمود کے شہر میں نوفسادی شخص تھے جن کی طبعیت میں اصلاح تھی ہی نہیں یہی ان کے رؤسا اور سردار تھے انہی کے مشورے اور حکم سے اونٹنی کو مار ڈالا گیا تھا ان کے نام یہ ہیں دعمی، دعیم، ھرما، ھریم، داب، صواب، مسطع، قدار بن سالف یہی آخری وہ شخص ہے جس نے اپنے ہاتھ سے اونٹنی کی کوچیں کاٹی تھیں۔ جس کا بیان آیت «‏‏‏‏فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطٰى فَعَقَرَ» ۱؎ [54-القمر:29]‏‏‏‏ اور آیت «‏‏‏‏إِذِ انبَعَثَ أَشْقَاهَا * فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّـهِ نَاقَةَ اللَّـهِ وَسُقْيَاهَا * فَكَذَّبُوهُ فَعَقَرُوهَا فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُم بِذَنبِهِمْ فَسَوَّاهَا» ‏‏‏‏ ۱؎ [91-الشمس:14-12]‏‏‏‏ میں ہے۔
یہی وہ لوگ تھے جو درہم کے سکے کو تھوڑا ساکتر لیتے تھے اور اسے چلاتے تھے۔ سکے کو کاٹنا بھی ایک طرح کا فساد ہے چنانچہ ابوداؤد وغیرہ میں حدیث ہے { جس میں بلاضرورت سکے کو جو مسلمانوں میں رائج ہو کاٹنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے } ۱؎ [سنن ابوداود:3449،قال الشيخ الألباني:ضعیف]‏‏‏‏
الغرض ان کا یہ فساد بھی تھا اور دیگر فساد بھی بہت سارے تھے۔ اس ناپاک گروہ نے جمع ہو کر مشورہ کیا کہ آج رات کو صالح علیہ السلام کو اور اس کے گھرانے کو قتل کر ڈالو اس پر سب نے حلف اٹھائے اور مضبوط عہد و پیمان کئے۔ لیکن یہ لوگ صالح علیہ السلام تک پہنچیں اس سے پہلے عذاب الٰہی ان تک پہنچ گیا اور ان کا ستیاناس کر دیا۔
اوپر سے ایک چٹان لڑھکتی ہوئی اور ان سب سرداروں کے سر پھوٹ گئے سارے ہی ایک ساتھ مرگئے ان کے حوصلے بہت بڑھ گئے تھے خصوصا جب انہوں نے صالح علیہ السلام کی اونٹنی کو قتل کیا۔ اور دیکھا کہ کوئی عذاب الٰہی نہیں آیا تو اب نبی اللہ علیہ السلام کے قتل پر آمادہ ہوئے۔ مشورے کئے کہ چپ چاپ اچانک اسے اور اس کے بال بچوں اور اس کے والی وارثوں کو ہلاک کر دو اور قوم سے کہہ دو کہ ہمیں کیا خبر؟ اگر صالح نبی علیہ السلام ہے تو ہمارے ہاتھ لگنے کا نہیں ورنہ اسے بھی اس کی اونٹنی کے ساتھ سلادو اس ارادے سے چلے راہ ہی میں تھے جو فرشتے نے پتھر سے ان سب کے دماغ پاش پاش کر دئیے۔
ان کے مشوروں میں جو اور جماعت شریک تھی انہوں نے جب دیکھا کہ انہیں گئے ہوئے عرصہ ہو گیا اور واپس نہیں آئے تو یہ خبر لینے چلے دیکھا کہ سب کے سر پھٹے ہوئے ہیں بھیجے نکلے پڑے ہیں اور سب مردہ ہیں۔ انہوں نے صالح علیہ السلام پر ان کے قتل کی تہمت رکھی اور انہیں مار ڈالنے کے لیے نکلے لیکن ان کی قوم ہتھیار لگا کر آ گئی اور کہنے لگے دیکھو اس نے تم سے کہا ہے کہ تین دن میں اللہ کا عذاب تم پر آئے گا تم یہ تین دن گذرنے دو۔ اگر یہ سچا ہے تو اس کے قتل سے اللہ کو اور ناراض کرو گے اور زیادہ سخت عذاب آئیں گے اور اگر یہ جھوٹا ہے تو پھر تمہارے ہاتھ سے بچ کر کہاں جائے گا؟ چنانچہ وہ لوگ چلے گئے۔
فی الواقع ان سے نبی اللہ صالح علیہ السلام نے صاف فرما دیا تھا کہ تم نے اللہ کی اونٹنی کو قتل کیا ہے تو تم اب تین دن تک مزے اڑالو پھر اللہ کا سچا وعدہ ہو کر رہے گا۔ یہ لوگ صالح علیہ السلام کی زبانی یہ سب سن کر کہنے لگے یہ تو اتنی مدت سے کہہ رہا ہے آؤ ہم آج ہی اس سے فارغ ہو جائیں جس پتھر سے اونٹنی نکلی تھی اسی پہاڑی پر صالح علیہ السلام کی ایک مسجد تھی جہاں آپ نماز پڑھاکرتے تھے انہوں نے مشورہ کیا کہ جب وہ نماز کو آئے اسی وقت راہ میں ہی اس کا کام تمام کر دو۔
جب پہاڑی پر چڑھنے لگے تو دیکھا کہ اوپر سے ایک چٹان لڑھکتی ہوئی آ رہی ہے اس سے بچنے کے لیے ایک غار میں گھس گئے چٹان آ کر غار کے منہ میں اس طرح ٹھہر گیا کہ غار کامنہ بالکل بند ہو گیا۔ سب کے سب ہلاک ہو گئے اور کسی کو پتہ بھی نہ چلا کہ کہاں گئے؟ انہیں یہاں عذاب آیا وہاں باقی والے وہیں ہلاک کر دئیے گئے نہ ان کی خبر انہیں ہوئی اور نہ ان کی انہیں۔
صالح علیہ السلام اور باایمان لوگوں کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے اور اپنی جانیں اللہ کے عذابوں میں گنوادیں۔ انہوں نے مکر کیا اور ہم نے ان کی چال بازی کا مزہ انہیں چکھا دیا۔ اور انہیں اس سے ذرا پہلے بھی مطلق علم نہ ہو سکا۔ انجام کار ان کی فریب بازیوں کا یہ ہوا کہ سب کے سب تباہ و برباد ہوئے۔ یہ ہیں ان کی بستیاں جو سنسان پڑی ہیں ان کے ظلم کی وجہ سے یہ ہلاک ہو گئے ان کے بارونق شہر تباہ کر دئے گئے ذی علم لوگ ان نشانوں سے عبرت حاصل کر سکتے ہیں۔ ہم نے ایماندار متقیوں کو بال بال بچا لیا۔