قَالَ الَّذِیۡ عِنۡدَہٗ عِلۡمٌ مِّنَ الۡکِتٰبِ اَنَا اٰتِیۡکَ بِہٖ قَبۡلَ اَنۡ یَّرۡتَدَّ اِلَیۡکَ طَرۡفُکَ ؕ فَلَمَّا رَاٰہُ مُسۡتَقِرًّا عِنۡدَہٗ قَالَ ہٰذَا مِنۡ فَضۡلِ رَبِّیۡ ۟ۖ لِیَبۡلُوَنِیۡۤ ءَاَشۡکُرُ اَمۡ اَکۡفُرُ ؕ وَ مَنۡ شَکَرَ فَاِنَّمَا یَشۡکُرُ لِنَفۡسِہٖ ۚ وَ مَنۡ کَفَرَ فَاِنَّ رَبِّیۡ غَنِیٌّ کَرِیۡمٌ ﴿۴۰﴾
اس نے کہا جس کے پاس کتاب کا ایک علم تھا، میں اسے تیرے پاس اس سے پہلے لے آتا ہوں کہ تیری آنکھ تیری طرف جھپکے۔ پس جب اس نے اسے اپنے پاس پڑا ہوا دیکھا تو اس نے کہا یہ میرے رب کے فضل سے ہے، تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتاہوں، یا نا شکری کرتا ہوں اور جس نے شکر کیا تو وہ اپنے ہی لیے شکرکرتا ہے اور جس نے ناشکری کی تو یقینا میرا رب بہت بے پروا، بہت کرم والا ہے۔
En
ایک شخص جس کو کتاب الہیٰ کا علم تھا کہنے لگا کہ میں آپ کی آنکھ کے جھپکنے سے پہلے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کئے دیتا ہوں۔ جب سلیمان نے تخت کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا تو کہا کہ یہ میرے پروردگار کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا پروردگار بےپروا (اور) کرم کرنے والا ہے
En
جس کے پاس کتاب کا علم تھا وه بول اٹھا کہ آپ پلک جھپکائیں اس سے بھی پہلے میں اسے آپ کے پاس پہنچا سکتا ہوں۔ جب آپ نے اسے اپنے پاس موجود پایا تو فرمانے لگے یہی میرے رب کا فضل ہے، تاکہ وه مجھے آزمائے کہ میں شکر گزاری کرتا ہوں یا ناشکری، شکر گزار اپنے ہی نفع کے لیے شکر گزاری کرتا ہے اور جو ناشکری کرے تو میرا پروردگار (بے پروا اور بزرگ) غنی اور کریم ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 40) ➊ { قَالَ الَّذِيْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ …:} ابن ابی حاتم نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنھما سے نقل فرمایا ہے کہ سلیمان علیہ السلام نے فرمایا: ”میں اس سے جلدی چاہتا ہوں۔“ اس پر وہ شخص جس کے پاس کتاب کا ایک علم تھا، کہنے لگا: ”میں اسے آپ کے پاس اس سے پہلے لاتا ہوں کہ آپ کی آنکھ جھپکے۔“ سلیمان علیہ السلام نے دیکھا تو وہ تخت ان کے پاس پڑا ہوا تھا۔ اس پر تکبر اور غرور کے بجائے انھوں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔
➋ آنکھ جھپکنے سے پہلے تخت لانے والا یہ شخص کون تھا، اس کے پاس کس کتاب کا علم تھا اور وہ علم کیا تھا؟ اس کی تصریح قرآن یا کسی صحیح حدیث میں نہیں ہے۔ لہٰذا ہم صرف اتنی بات ماننے کے مکلف ہیں جتنی قرآن میں بیان کی گئی ہے کہ وہ ایک شخص تھا جس کے پاس کتاب کا علم تھا۔ اکثر مفسرین کا کہنا یہ ہے کہ وہ سلیمان علیہ السلام کا ایک وزیر آصف بن برخیا تھا، جو بنی اسرائیل سے تھا اور اسے اللہ تعالیٰ کے اس اسم اعظم کا علم تھا جس کے ذریعے سے اگر دعا کی جائے تو وہ اسے ضرور قبول فرماتا ہے اور وہ تخت لانا آصف بن برخیا کی کرامت تھی، لیکن ظاہر ہے کہ ان مفسرین کی یہ بات اسرائیلیات سے ہے، کیونکہ یہ حضرات نہ اس وقت موجود تھے، نہ یہ بتاتے ہیں کہ انھیں یہ بات کس نے بتائی اور نہ ان سے لے کر سلیمان علیہ السلام تک کوئی سند ہے کہ اس پر یقین کیا جا سکے۔ بعض مفسرین نے اسے جبریل علیہ السلام اور بعض نے خضر علیہ السلام قرار دیا ہے، مگر یہ بالکل ہی بے اصل ہے۔ بعض مفسرین نے سلیمان علیہ السلام کو وہ شخص قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ جب عفریت نے سلیمان علیہ السلام کے مجلس سے اٹھنے سے پہلے تخت لانے کی بات کی تو سلیمان علیہ السلام نے، جن کے پاس کتاب اللہ کا علم تھا، اسے مخاطب ہو کر فرمایا کہ میں آنکھ جھپکنے سے بھی پہلے تیرے پاس لاتا ہوں۔ چنانچہ وہ اسے لے آئے اور یہ ان کا معجزہ تھا، جس پر انھوں نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ رازی اور کچھ اور مفسرین نے صرف اس بات کو صحیح کہا ہے، مگر اس میں جو تکلف ہے وہ مخفی نہیں۔ زمانہ حال کے ایک مفسر محمد اسحاق خاں نے ایک احتمال کا ذکر کیا ہے جو ان سے پہلے بھی ایک جدید مفسر ذکر کر چکے ہیں، وہ لکھتے ہیں: ”علم کتاب سے بظاہر یہاں مراد خداوند قدوس کی کتاب و شریعت یعنی تورات کا علم ہے کہ اپنے دور میں علم اور ہدایت و نور کا سرچشمہ وہی کتابِ الٰہی تھی۔ اس کے ساتھ ہی معلوم ہوتا ہے کہ اس عالم کتاب کو اسمائے الٰہی اور خواص کلمات کے اس علم کا بھی کوئی حصہ حاصل تھا جو سحر اور شعبدہ وغیرہ جیسے سفلی علوم کے مقابلے کے لیے بنی اسرائیل کو بابل کی اسیری کے دور میں ہاروت و ماروت نامی دو فرشتوں کے ذریعے سے قدرت کی طرف سے عطا فرمایا گیا تھا۔ یہ علم تورات وغیرہ آسمانی صحیفوں میں سے کسی کا حصہ نہیں تھا، بلکہ یہ ان سے الگ ایک خاص علم تھا جو ایک خاص دور میں اور خاص ضرورت و مصلحت کے لیے بنی اسرائیل کو سکھایا گیا تھا۔ جس طرح کہ اس کا ذکر سورۂ بقرہ میں ہاروت و ماروت کے قصے کے ضمن میں فرمایا گیا ہے۔ سو علم کتاب و شریعت رکھنے والے اس شخص نے اپنے اسی علم کی تاثیر و تسخیر کے ذریعے سے ملکہ بلقیس کے اس تخت کو اس قدر جلد سلیمان علیہ السلام کے پاس حاضر کر دیا۔“
لیکن یہ بھی تکلف سے خالی نہیں ہے۔ قرآن مجید اور تفاسیر کے مطالعہ کے بعد دو باتیں زیادہ قریب معلوم ہوتی ہیں، ان میں سے کوئی بھی مراد ہو سکتی ہے۔ (واللہ اعلم) پہلی یہ کہ سلیمان علیہ السلام نے اپنے جن سرداروں سے تخت لانے کی فرمائش کی وہ تین قسم کے لشکروں کے سردار تھے۔ جن، انس اور طیر یعنی پرندے، ان میں جبریل علیہ السلام بطور سردار شامل نہیں تھے اور خضر علیہ السلام کا اس وقت تک زندہ ہونا اور سلیمان علیہ السلام کے سرداروں میں شامل ہونا، پھر اتنی طاقت کا مالک ہونا بالکل ہی بے سروپا بات ہے۔ غالب احتمال یہ ہے کہ یہ تخت لانے والا کوئی صالح جن تھا جو ان جنوں میں سے تھا جو اللہ تعالیٰ نے سلیمان علیہ السلام کے تابع کر رکھے تھے۔ جنوں کی سرعت انتقال مسلم ہے، یعنی وہ نہایت تیزی کے ساتھ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو سکتے ہیں، جیسا کہ وہ آسمان دنیا کے نیچے فرشتوں کی باتیں سننے کے لیے پہنچ جاتے ہیں، اتنی تیزی سے نہ انسان منتقل ہو سکتا ہے نہ پرندے۔ آج کل تیز رفتار سے تیز رفتار طیارے بھی اتنی تیزی سے کار روائی نہیں کر سکتے جتنی تیزی کا دعویٰ عفریت نے کیا تھا۔ الفاظ قرآن سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ عفریت (خبیث سرکش) جن نے گھنٹے دو گھنٹے یا اس سے کم و بیش وقت میں وہ تخت محافظوں اور کمروں سے نکال کر لانے کا اور اتنی طاقت رکھنے کا دعویٰ کیا تو وہ شخص جو کتاب کا ایک علم رکھتا تھا، اسے چشم زدن میں لے آیا۔ {” الَّذِيْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ “} میں {” الَّذِيْ “} سے مراد انسان بھی ہو سکتا ہے اور جن بھی۔ یہ لفظ صرف انسان کے ساتھ خاص نہیں کہ کہا جائے کہ وہ انسان ہی تھا۔ اس لیے یا تو آیت کا مطلب یہ ہے کہ عفریت کی سرعت مجلس سے اٹھنے تک کی تھی، مگر کتاب کا ایک علم رکھنے والے صالح جن کی سرعت آنکھ جھپکنے سے بھی تیز تھی۔
ایک دوسرا احتمال ہمارے استاذ حافظ محمد گوندلوی رحمہ اللہ بیان فرماتے تھے کہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس علم کی کیفیت بیان نہیں فرمائی، کیونکہ نزول قرآن کے وقت بیان کی جاتی تو وہ کسی کی سمجھ میں نہیں آ سکتی تھی۔ مثلاً آج سے دو سو سال پہلے اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرتا کہ ہزاروں میل کے فاصلے سے تصویر ایک جگہ سے دوسری جگہ آنکھ جھپکنے میں پہنچ سکتی ہے تو کوئی شخص اسے تسلیم نہ کرتا، مگر آج یہ بات حقیقت بن کر سب کے سامنے آ چکی ہے۔ اس طرح سلیمان علیہ السلام کے اس سردار کے پاس وہ علم بھی تھا جس سے کوئی مادی وجود بھی آنکھ جھپکنے میں ہزاروں میل کے فاصلے سے منتقل ہو سکتا ہے۔ آج کل سائنس دان اس کے لیے سرتوڑ کوشش کر رہے ہیں، مگر معلوم ہوتا ہے کہ یہ نعمت سلیمان علیہ السلام کے ساتھ ہی خاص تھی، کیونکہ انھوں نے دعا کی تھی: «{ رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَهَبْ لِيْ مُلْكًا لَّا يَنْۢبَغِيْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِيْ }» [صٓ: ۳۵] ”اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھے ایسی بادشاہی عطا فرماجو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو۔“ رہی یہ بات کہ یہ علم رکھنے والا جنّ تھا یا انسان، تو یہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ اگر وہ انسان تھا تو کچھ بعید نہیں کہ وہی ہو جس کا نام ہمارے مفسرین نے اہل کتاب سے آصف نقل کیا ہے۔ بہرحال نام معلوم ہونا نہ ضروری ہے نہ اس کا کوئی خاص فائدہ ہے، ورنہ اللہ تعالیٰ نام ضرور بتا دیتا۔ سلیمان علیہ السلام کی سلطنت کی عظمت ہر حال میں مسلّم ہے، جو ان کے بعد نہ کسی کو عطا ہوئی ہے نہ ہو گی۔ اگر یہ قوت طبعی علم کے تحت ہو پھر بھی سلیمان علیہ السلام کا معجزہ ہی ہے کہ ان کے زیر فرمان اس قسم کے اصحاب کمال تھے جو بعد میں کسی کو میسر نہیں ہوئے۔ رہی یہ بات کہ یہ طبعی علم، {” عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ “} کیسے ہو گیا، تو جواب اس کا یہ ہے کہ آسمانی کتابوں میں طبعی علوم کی طرف بہت توجہ دلائی گئی ہے، چنانچہ فرمایا: «{ اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّيْلِ وَ النَّهَارِ وَ الْفُلْكِ الَّتِيْ تَجْرِيْ فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنْفَعُ النَّاسَ }» [البقرۃ: ۱۶۴] ”بے شک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے اور رات اور دن کے بدلنے میں اور ان کشتیوں میں جو سمندر میں وہ چیزیں لے کر چلتی ہیں جو لوگوں کو نفع دیتی ہیں۔“ اور دیکھیے سورۂ آل عمران اور دوسری بہت سی آیات۔
➌ ہمارے زمانے کے کچھ اولیاء پرست حضرات کہتے ہیں کہ جب سلیمان علیہ السلام کے ایک امتی ولی میں اتنی طاقت تھی تو امتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اولیاء کی طاقت تو اس سے کہیں بڑھ کر ہے، اس لیے آنکھ جھپکنے میں کسی کو کہیں سے کہیں پہنچا دینا اولیائے کرام کی قوت کا ادنیٰ کرشمہ ہے۔ مگر ان حضرات کے پاس اس بات کا کیا جواب ہے کہ اگر ایسے اولیاء موجود ہیں تو وہ سلیمان علیہ السلام کے امتی ولی کی طرح امریکہ، برطانیہ، اسرائیل یا بھارت کے کفار کو چیلنج کیوں نہیں دیتے اور ان کے ایٹم بم اٹھا کر کیوں نہیں لے آتے، کفار کی غلامی پر قناعت کیوں کیے بیٹھے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء سے افضل اور ہماری امت تمام امتوں سے افضل ہے، مگر دنیا کی نعمتوں میں سے کوئی نعمت، مثلاً جنّوں اور پرندوں کی فوج یا دنیا کے علوم میں سے کوئی علم کسی اور پیغمبر یا اس کی امت کو عطا ہو جائے جو امتِ مسلمہ کے پاس نہ ہو تو اس سے امتِ مسلمہ کی افضلیت میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔ دوسرے پیغمبروں اور ان کی امتوں کی فضیلت جزوی ہے، ہمارے نبی اور آپ کی امت کی فضیلت کلی ہے۔ ہمارے نبی اور آپ کے صحابہ نے بھی جہاد کے ذریعے سے دنیا فتح کی اور اسلام کا بول بالا کیا، حالانکہ ان کے پاس وہ وسائل نہ تھے جو سلیمان علیہ السلام کے پاس تھے۔ اتنے کم وسائل رکھتے ہوئے حیرت انگیز شجاعت اور بے مثال قربانی کے ساتھ سلیمان علیہ السلام سے زیادہ علاقوں کو اسلام کے زیر نگیں لانا سید الانبیاء اور آپ کی امت کے افضل ہونے کی دلیل ہے۔
➍ {فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ:} بقاعی نے فرمایا: ”بظاہر اتنے الفاظ ہی کافی تھے کہ {” فَلَمَّا رَآهُ عِنْدَهُ “} کیونکہ {” عِنْدَهُ “} کا لفظ {”مُسْتَقِرٌّ “} محذوف ہی کے متعلق ہوتا ہے۔ یہاں اس لفظ کو ظاہر کرنے اور صرف {” عِنْدَهٗ “} کے بجائے {” مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ “} کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اسے حقیقت میں اپنے پاس پڑا ہوا پایا، جو نہ جادو کا اثر تھا، نہ خواب اور نہ ہی کوئی مثالی صورت۔“
➎ { قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّيْ …:} جب سلیمان علیہ السلام نے وہ تخت فی الواقع آنکھوں کے سامنے پڑا ہوا دیکھا تو بجائے پھولنے یا فخر و غرور کے اپنے رب کے فضل کا اعتراف کیا کہ اس میں میرا کوئی کمال نہیں کہ مجھے ایسے علم والے ساتھی میسر ہیں، بلکہ یہ صرف اور صرف میرے رب کا فضل ہے جس کا مقصد میری آزمائش ہے کہ میں اس کا شکر کرتا ہوں یا کفر کرتا ہوں۔ کفر کا لفظ شکر کے مقابلے میں بھی آتا ہے اور ایمان کے مقابلے میں بھی۔ کیونکہ جو شخص اللہ کی نعمت کی قدر کرتا ہے اور اس کا شکر ادا کرتا ہے، وہ اس پر ایمان بھی لے آتا ہے اور جو اس کی نعمت کی بے قدری اور ناشکری کرتا ہے وہ اس پر ایمان لانے سے بھی محروم رہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نعمت چھین کر بھی آزمائش ہوتی ہے اور نعمت دے کر بھی۔ مومن مصیبت پر صبر کرتا ہے اورآزمائش میں کامیاب ہو جاتا ہے، پھر نعمت پر شکر کرتا ہے تب بھی کامیاب ہوتا ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ صبر وہی کرتا ہے جو شاکر ہو اور شکر وہی کرتا ہے جو صابر ہو۔ اس واقعہ میں سلیمان علیہ السلام کی بہت بڑی فضیلت ہے کہ اتنی عظیم سلطنت اور حیرت انگیز قوتوں والے لشکر رکھنے کے باوجود نہ ان کے دل میں فخر کا کوئی خیال آیا، نہ ہی زبان پر کوئی ایسا لفظ آیا، بلکہ انھوں نے ہر نعمت کو اللہ کا فضل ہی قرار دیا۔
➏ { وَ مَنْ شَكَرَ فَاِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ …:} یعنی جو شکر کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا کوئی فائدہ نہیں کرتا، اس کا فائدہ خود اسی کو ہے، کیونکہ اس سے اسے مزید نعمتیں حاصل ہوں گی، جیسا کہ فرمایا: «{ لَىِٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ }» [إبراھیم: ۷] ”کہ بے شک اگر تم شکر کرو گے تو میں ضرور ہی تمھیں زیادہ دوں گا۔“ اور جو اللہ کی نعمتوں کی بے قدری اور ان کا انکار کرتا ہے وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑتا۔ اسے نہ بندوں کی کوئی ضرورت یا پروا ہے، نہ ان کی عبادت کی، کیونکہ وہ غنی ہے اور اتنے بے حد کرم والا ہے کہ بندوں کے کفر اور ناشکری کے باوجود نعمتیں دیتا ہی چلا جاتا ہے اور فوری گرفت کے بجائے اس نے مہلت دے رکھی ہے، تاکہ بندے اس کی طرف پلٹ آئیں۔ اس مفہوم کی اور بھی آیات ہیں، جیسے فرمایا: «{ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَيْهَا }» [حٰمٓ السجدۃ: ۴۶] ”جس نے نیک عمل کیا سو اپنے لیے اور جس نے برائی کی سو اسی پر ہو گی۔“ اور فرمایا: «{ وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنْ تَكْفُرُوْۤا اَنْتُمْ وَ مَنْ فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا فَاِنَّ اللّٰهَ لَغَنِيٌّ حَمِيْدٌ }» [إبراھیم: ۸] ”اور موسیٰ نے کہا اگر تم اور وہ لوگ جو زمین میں ہیں، سب کے سب کفر کرو تو بے شک اللہ یقینا بڑا بے پروا، بے حد تعریف والا ہے۔“ ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے روایت کی کہ اس نے فرمایا: [يَا عِبَادِيْ! لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَ آخِرَكُمْ، وَ إِنْسَكُمْ وَ جِنَّكُمْ، كَانُوْا عَلٰی أَتْقٰی قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِنْكُمْ، مَا زَادَ ذٰلِكَ فِيْ مُلْكِيْ شَيْئًا، يَا عِبَادِيْ! لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَ آخِرَكُمْ، وَ إِنْسَكُمْ وَ جِنَّكُمْ، كَانُوْا عَلٰی أَفْجَرِ قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِّنْكُمْ، مَا نَقَصَ ذٰلِكَ مِنْ مُلْكِيْ شَيْئًا، يَا عِبَادِيْ! لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَ آخِرَكُمْ، وَ إِنْسَكُمْ وَ جِنَّكُمْ، قَامُوْا فِيْ صَعِيْدٍ وَاحِدٍ فَسَأَلُوْنِيْ، فَأَعْطَيْتُ كُلَّ إِنْسَانٍ مَسْأَلَتَهُ، مَا نَقَصَ ذٰلِكَ مِمَّا عِنْدِيْ إِلَّا كَمَا يَنْقُصُ الْمِخْيَطُ إِذَا أُدْخِلَ الْبَحْرَ، يَا عِبَادِيْ! إِنَّمَا هِيَ أَعْمَالُكُمْ أُحْصِيْهَا لَكُمْ، ثُمَّ أُوَفِّيْكُمْ إِيَّاهَا، فَمَنْ وَجَدَ خَيْرًا فَلْيَحْمَدِ اللّٰهَ، وَمَنْ وَجَدَ غَيْرَ ذٰلِكَ فَلَا يَلُوْمَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ] [مسلم، البر والصلۃ، باب تحریم الظلم: ۲۵۷۷] ”اے میرے بندو! اگر تمھارے اول اور تمھارے آخر اور تمھارے انس اور تمھارے جن تم میں سے کسی سب سے زیادہ متقی شخص کے دل پر ہو جائیں (یعنی اس جیسے ہو جائیں)، تو یہ چیز میرے ملک میں کچھ اضافہ نہیں کرے گی۔ اے میرے بندو! اگر تمھارے اول اور تمھارے آخر اور تمھارے انس اور تمھارے جن تمھارے کسی سب سے فاجر شخص کے دل پر ہو جائیں (یعنی اس جیسے ہو جائیں)، تو یہ چیز میرے ملک میں کچھ کمی نہیں کرے گی۔ اے میرے بندو! اگر تمھارے اول اور تمھارے آخر اور تمھارے انس اور تمھارے جن ایک میدان میں کھڑے ہو جائیں، پھر مجھ سے مانگیں اور میں ہر ایک کو دے دوں جو اس نے مانگا، تو یہ میرے مُلک میں سے اتنا ہی کم کرے گا جتنا ایک سوئی جب سمندر میں داخل کی جائے۔ اے میرے بندو! یہ تو تمھارے ہی اعمال ہیں جو میں تمھارے لیے محفوظ رکھتا ہوں، تو جو خیر پائے وہ اللہ کی حمد کرے اور جو اس کے سوا پائے وہ اپنے آپ ہی کو ملامت کرے۔“
➋ آنکھ جھپکنے سے پہلے تخت لانے والا یہ شخص کون تھا، اس کے پاس کس کتاب کا علم تھا اور وہ علم کیا تھا؟ اس کی تصریح قرآن یا کسی صحیح حدیث میں نہیں ہے۔ لہٰذا ہم صرف اتنی بات ماننے کے مکلف ہیں جتنی قرآن میں بیان کی گئی ہے کہ وہ ایک شخص تھا جس کے پاس کتاب کا علم تھا۔ اکثر مفسرین کا کہنا یہ ہے کہ وہ سلیمان علیہ السلام کا ایک وزیر آصف بن برخیا تھا، جو بنی اسرائیل سے تھا اور اسے اللہ تعالیٰ کے اس اسم اعظم کا علم تھا جس کے ذریعے سے اگر دعا کی جائے تو وہ اسے ضرور قبول فرماتا ہے اور وہ تخت لانا آصف بن برخیا کی کرامت تھی، لیکن ظاہر ہے کہ ان مفسرین کی یہ بات اسرائیلیات سے ہے، کیونکہ یہ حضرات نہ اس وقت موجود تھے، نہ یہ بتاتے ہیں کہ انھیں یہ بات کس نے بتائی اور نہ ان سے لے کر سلیمان علیہ السلام تک کوئی سند ہے کہ اس پر یقین کیا جا سکے۔ بعض مفسرین نے اسے جبریل علیہ السلام اور بعض نے خضر علیہ السلام قرار دیا ہے، مگر یہ بالکل ہی بے اصل ہے۔ بعض مفسرین نے سلیمان علیہ السلام کو وہ شخص قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ جب عفریت نے سلیمان علیہ السلام کے مجلس سے اٹھنے سے پہلے تخت لانے کی بات کی تو سلیمان علیہ السلام نے، جن کے پاس کتاب اللہ کا علم تھا، اسے مخاطب ہو کر فرمایا کہ میں آنکھ جھپکنے سے بھی پہلے تیرے پاس لاتا ہوں۔ چنانچہ وہ اسے لے آئے اور یہ ان کا معجزہ تھا، جس پر انھوں نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ رازی اور کچھ اور مفسرین نے صرف اس بات کو صحیح کہا ہے، مگر اس میں جو تکلف ہے وہ مخفی نہیں۔ زمانہ حال کے ایک مفسر محمد اسحاق خاں نے ایک احتمال کا ذکر کیا ہے جو ان سے پہلے بھی ایک جدید مفسر ذکر کر چکے ہیں، وہ لکھتے ہیں: ”علم کتاب سے بظاہر یہاں مراد خداوند قدوس کی کتاب و شریعت یعنی تورات کا علم ہے کہ اپنے دور میں علم اور ہدایت و نور کا سرچشمہ وہی کتابِ الٰہی تھی۔ اس کے ساتھ ہی معلوم ہوتا ہے کہ اس عالم کتاب کو اسمائے الٰہی اور خواص کلمات کے اس علم کا بھی کوئی حصہ حاصل تھا جو سحر اور شعبدہ وغیرہ جیسے سفلی علوم کے مقابلے کے لیے بنی اسرائیل کو بابل کی اسیری کے دور میں ہاروت و ماروت نامی دو فرشتوں کے ذریعے سے قدرت کی طرف سے عطا فرمایا گیا تھا۔ یہ علم تورات وغیرہ آسمانی صحیفوں میں سے کسی کا حصہ نہیں تھا، بلکہ یہ ان سے الگ ایک خاص علم تھا جو ایک خاص دور میں اور خاص ضرورت و مصلحت کے لیے بنی اسرائیل کو سکھایا گیا تھا۔ جس طرح کہ اس کا ذکر سورۂ بقرہ میں ہاروت و ماروت کے قصے کے ضمن میں فرمایا گیا ہے۔ سو علم کتاب و شریعت رکھنے والے اس شخص نے اپنے اسی علم کی تاثیر و تسخیر کے ذریعے سے ملکہ بلقیس کے اس تخت کو اس قدر جلد سلیمان علیہ السلام کے پاس حاضر کر دیا۔“
لیکن یہ بھی تکلف سے خالی نہیں ہے۔ قرآن مجید اور تفاسیر کے مطالعہ کے بعد دو باتیں زیادہ قریب معلوم ہوتی ہیں، ان میں سے کوئی بھی مراد ہو سکتی ہے۔ (واللہ اعلم) پہلی یہ کہ سلیمان علیہ السلام نے اپنے جن سرداروں سے تخت لانے کی فرمائش کی وہ تین قسم کے لشکروں کے سردار تھے۔ جن، انس اور طیر یعنی پرندے، ان میں جبریل علیہ السلام بطور سردار شامل نہیں تھے اور خضر علیہ السلام کا اس وقت تک زندہ ہونا اور سلیمان علیہ السلام کے سرداروں میں شامل ہونا، پھر اتنی طاقت کا مالک ہونا بالکل ہی بے سروپا بات ہے۔ غالب احتمال یہ ہے کہ یہ تخت لانے والا کوئی صالح جن تھا جو ان جنوں میں سے تھا جو اللہ تعالیٰ نے سلیمان علیہ السلام کے تابع کر رکھے تھے۔ جنوں کی سرعت انتقال مسلم ہے، یعنی وہ نہایت تیزی کے ساتھ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو سکتے ہیں، جیسا کہ وہ آسمان دنیا کے نیچے فرشتوں کی باتیں سننے کے لیے پہنچ جاتے ہیں، اتنی تیزی سے نہ انسان منتقل ہو سکتا ہے نہ پرندے۔ آج کل تیز رفتار سے تیز رفتار طیارے بھی اتنی تیزی سے کار روائی نہیں کر سکتے جتنی تیزی کا دعویٰ عفریت نے کیا تھا۔ الفاظ قرآن سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ عفریت (خبیث سرکش) جن نے گھنٹے دو گھنٹے یا اس سے کم و بیش وقت میں وہ تخت محافظوں اور کمروں سے نکال کر لانے کا اور اتنی طاقت رکھنے کا دعویٰ کیا تو وہ شخص جو کتاب کا ایک علم رکھتا تھا، اسے چشم زدن میں لے آیا۔ {” الَّذِيْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ “} میں {” الَّذِيْ “} سے مراد انسان بھی ہو سکتا ہے اور جن بھی۔ یہ لفظ صرف انسان کے ساتھ خاص نہیں کہ کہا جائے کہ وہ انسان ہی تھا۔ اس لیے یا تو آیت کا مطلب یہ ہے کہ عفریت کی سرعت مجلس سے اٹھنے تک کی تھی، مگر کتاب کا ایک علم رکھنے والے صالح جن کی سرعت آنکھ جھپکنے سے بھی تیز تھی۔
ایک دوسرا احتمال ہمارے استاذ حافظ محمد گوندلوی رحمہ اللہ بیان فرماتے تھے کہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس علم کی کیفیت بیان نہیں فرمائی، کیونکہ نزول قرآن کے وقت بیان کی جاتی تو وہ کسی کی سمجھ میں نہیں آ سکتی تھی۔ مثلاً آج سے دو سو سال پہلے اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرتا کہ ہزاروں میل کے فاصلے سے تصویر ایک جگہ سے دوسری جگہ آنکھ جھپکنے میں پہنچ سکتی ہے تو کوئی شخص اسے تسلیم نہ کرتا، مگر آج یہ بات حقیقت بن کر سب کے سامنے آ چکی ہے۔ اس طرح سلیمان علیہ السلام کے اس سردار کے پاس وہ علم بھی تھا جس سے کوئی مادی وجود بھی آنکھ جھپکنے میں ہزاروں میل کے فاصلے سے منتقل ہو سکتا ہے۔ آج کل سائنس دان اس کے لیے سرتوڑ کوشش کر رہے ہیں، مگر معلوم ہوتا ہے کہ یہ نعمت سلیمان علیہ السلام کے ساتھ ہی خاص تھی، کیونکہ انھوں نے دعا کی تھی: «{ رَبِّ اغْفِرْ لِيْ وَهَبْ لِيْ مُلْكًا لَّا يَنْۢبَغِيْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِيْ }» [صٓ: ۳۵] ”اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھے ایسی بادشاہی عطا فرماجو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو۔“ رہی یہ بات کہ یہ علم رکھنے والا جنّ تھا یا انسان، تو یہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ اگر وہ انسان تھا تو کچھ بعید نہیں کہ وہی ہو جس کا نام ہمارے مفسرین نے اہل کتاب سے آصف نقل کیا ہے۔ بہرحال نام معلوم ہونا نہ ضروری ہے نہ اس کا کوئی خاص فائدہ ہے، ورنہ اللہ تعالیٰ نام ضرور بتا دیتا۔ سلیمان علیہ السلام کی سلطنت کی عظمت ہر حال میں مسلّم ہے، جو ان کے بعد نہ کسی کو عطا ہوئی ہے نہ ہو گی۔ اگر یہ قوت طبعی علم کے تحت ہو پھر بھی سلیمان علیہ السلام کا معجزہ ہی ہے کہ ان کے زیر فرمان اس قسم کے اصحاب کمال تھے جو بعد میں کسی کو میسر نہیں ہوئے۔ رہی یہ بات کہ یہ طبعی علم، {” عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ “} کیسے ہو گیا، تو جواب اس کا یہ ہے کہ آسمانی کتابوں میں طبعی علوم کی طرف بہت توجہ دلائی گئی ہے، چنانچہ فرمایا: «{ اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّيْلِ وَ النَّهَارِ وَ الْفُلْكِ الَّتِيْ تَجْرِيْ فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنْفَعُ النَّاسَ }» [البقرۃ: ۱۶۴] ”بے شک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے اور رات اور دن کے بدلنے میں اور ان کشتیوں میں جو سمندر میں وہ چیزیں لے کر چلتی ہیں جو لوگوں کو نفع دیتی ہیں۔“ اور دیکھیے سورۂ آل عمران اور دوسری بہت سی آیات۔
➌ ہمارے زمانے کے کچھ اولیاء پرست حضرات کہتے ہیں کہ جب سلیمان علیہ السلام کے ایک امتی ولی میں اتنی طاقت تھی تو امتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اولیاء کی طاقت تو اس سے کہیں بڑھ کر ہے، اس لیے آنکھ جھپکنے میں کسی کو کہیں سے کہیں پہنچا دینا اولیائے کرام کی قوت کا ادنیٰ کرشمہ ہے۔ مگر ان حضرات کے پاس اس بات کا کیا جواب ہے کہ اگر ایسے اولیاء موجود ہیں تو وہ سلیمان علیہ السلام کے امتی ولی کی طرح امریکہ، برطانیہ، اسرائیل یا بھارت کے کفار کو چیلنج کیوں نہیں دیتے اور ان کے ایٹم بم اٹھا کر کیوں نہیں لے آتے، کفار کی غلامی پر قناعت کیوں کیے بیٹھے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء سے افضل اور ہماری امت تمام امتوں سے افضل ہے، مگر دنیا کی نعمتوں میں سے کوئی نعمت، مثلاً جنّوں اور پرندوں کی فوج یا دنیا کے علوم میں سے کوئی علم کسی اور پیغمبر یا اس کی امت کو عطا ہو جائے جو امتِ مسلمہ کے پاس نہ ہو تو اس سے امتِ مسلمہ کی افضلیت میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔ دوسرے پیغمبروں اور ان کی امتوں کی فضیلت جزوی ہے، ہمارے نبی اور آپ کی امت کی فضیلت کلی ہے۔ ہمارے نبی اور آپ کے صحابہ نے بھی جہاد کے ذریعے سے دنیا فتح کی اور اسلام کا بول بالا کیا، حالانکہ ان کے پاس وہ وسائل نہ تھے جو سلیمان علیہ السلام کے پاس تھے۔ اتنے کم وسائل رکھتے ہوئے حیرت انگیز شجاعت اور بے مثال قربانی کے ساتھ سلیمان علیہ السلام سے زیادہ علاقوں کو اسلام کے زیر نگیں لانا سید الانبیاء اور آپ کی امت کے افضل ہونے کی دلیل ہے۔
➍ {فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ:} بقاعی نے فرمایا: ”بظاہر اتنے الفاظ ہی کافی تھے کہ {” فَلَمَّا رَآهُ عِنْدَهُ “} کیونکہ {” عِنْدَهُ “} کا لفظ {”مُسْتَقِرٌّ “} محذوف ہی کے متعلق ہوتا ہے۔ یہاں اس لفظ کو ظاہر کرنے اور صرف {” عِنْدَهٗ “} کے بجائے {” مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ “} کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اسے حقیقت میں اپنے پاس پڑا ہوا پایا، جو نہ جادو کا اثر تھا، نہ خواب اور نہ ہی کوئی مثالی صورت۔“
➎ { قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّيْ …:} جب سلیمان علیہ السلام نے وہ تخت فی الواقع آنکھوں کے سامنے پڑا ہوا دیکھا تو بجائے پھولنے یا فخر و غرور کے اپنے رب کے فضل کا اعتراف کیا کہ اس میں میرا کوئی کمال نہیں کہ مجھے ایسے علم والے ساتھی میسر ہیں، بلکہ یہ صرف اور صرف میرے رب کا فضل ہے جس کا مقصد میری آزمائش ہے کہ میں اس کا شکر کرتا ہوں یا کفر کرتا ہوں۔ کفر کا لفظ شکر کے مقابلے میں بھی آتا ہے اور ایمان کے مقابلے میں بھی۔ کیونکہ جو شخص اللہ کی نعمت کی قدر کرتا ہے اور اس کا شکر ادا کرتا ہے، وہ اس پر ایمان بھی لے آتا ہے اور جو اس کی نعمت کی بے قدری اور ناشکری کرتا ہے وہ اس پر ایمان لانے سے بھی محروم رہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نعمت چھین کر بھی آزمائش ہوتی ہے اور نعمت دے کر بھی۔ مومن مصیبت پر صبر کرتا ہے اورآزمائش میں کامیاب ہو جاتا ہے، پھر نعمت پر شکر کرتا ہے تب بھی کامیاب ہوتا ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ صبر وہی کرتا ہے جو شاکر ہو اور شکر وہی کرتا ہے جو صابر ہو۔ اس واقعہ میں سلیمان علیہ السلام کی بہت بڑی فضیلت ہے کہ اتنی عظیم سلطنت اور حیرت انگیز قوتوں والے لشکر رکھنے کے باوجود نہ ان کے دل میں فخر کا کوئی خیال آیا، نہ ہی زبان پر کوئی ایسا لفظ آیا، بلکہ انھوں نے ہر نعمت کو اللہ کا فضل ہی قرار دیا۔
➏ { وَ مَنْ شَكَرَ فَاِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ …:} یعنی جو شکر کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا کوئی فائدہ نہیں کرتا، اس کا فائدہ خود اسی کو ہے، کیونکہ اس سے اسے مزید نعمتیں حاصل ہوں گی، جیسا کہ فرمایا: «{ لَىِٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ }» [إبراھیم: ۷] ”کہ بے شک اگر تم شکر کرو گے تو میں ضرور ہی تمھیں زیادہ دوں گا۔“ اور جو اللہ کی نعمتوں کی بے قدری اور ان کا انکار کرتا ہے وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑتا۔ اسے نہ بندوں کی کوئی ضرورت یا پروا ہے، نہ ان کی عبادت کی، کیونکہ وہ غنی ہے اور اتنے بے حد کرم والا ہے کہ بندوں کے کفر اور ناشکری کے باوجود نعمتیں دیتا ہی چلا جاتا ہے اور فوری گرفت کے بجائے اس نے مہلت دے رکھی ہے، تاکہ بندے اس کی طرف پلٹ آئیں۔ اس مفہوم کی اور بھی آیات ہیں، جیسے فرمایا: «{ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَيْهَا }» [حٰمٓ السجدۃ: ۴۶] ”جس نے نیک عمل کیا سو اپنے لیے اور جس نے برائی کی سو اسی پر ہو گی۔“ اور فرمایا: «{ وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنْ تَكْفُرُوْۤا اَنْتُمْ وَ مَنْ فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا فَاِنَّ اللّٰهَ لَغَنِيٌّ حَمِيْدٌ }» [إبراھیم: ۸] ”اور موسیٰ نے کہا اگر تم اور وہ لوگ جو زمین میں ہیں، سب کے سب کفر کرو تو بے شک اللہ یقینا بڑا بے پروا، بے حد تعریف والا ہے۔“ ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے روایت کی کہ اس نے فرمایا: [يَا عِبَادِيْ! لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَ آخِرَكُمْ، وَ إِنْسَكُمْ وَ جِنَّكُمْ، كَانُوْا عَلٰی أَتْقٰی قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِنْكُمْ، مَا زَادَ ذٰلِكَ فِيْ مُلْكِيْ شَيْئًا، يَا عِبَادِيْ! لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَ آخِرَكُمْ، وَ إِنْسَكُمْ وَ جِنَّكُمْ، كَانُوْا عَلٰی أَفْجَرِ قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِّنْكُمْ، مَا نَقَصَ ذٰلِكَ مِنْ مُلْكِيْ شَيْئًا، يَا عِبَادِيْ! لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَ آخِرَكُمْ، وَ إِنْسَكُمْ وَ جِنَّكُمْ، قَامُوْا فِيْ صَعِيْدٍ وَاحِدٍ فَسَأَلُوْنِيْ، فَأَعْطَيْتُ كُلَّ إِنْسَانٍ مَسْأَلَتَهُ، مَا نَقَصَ ذٰلِكَ مِمَّا عِنْدِيْ إِلَّا كَمَا يَنْقُصُ الْمِخْيَطُ إِذَا أُدْخِلَ الْبَحْرَ، يَا عِبَادِيْ! إِنَّمَا هِيَ أَعْمَالُكُمْ أُحْصِيْهَا لَكُمْ، ثُمَّ أُوَفِّيْكُمْ إِيَّاهَا، فَمَنْ وَجَدَ خَيْرًا فَلْيَحْمَدِ اللّٰهَ، وَمَنْ وَجَدَ غَيْرَ ذٰلِكَ فَلَا يَلُوْمَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ] [مسلم، البر والصلۃ، باب تحریم الظلم: ۲۵۷۷] ”اے میرے بندو! اگر تمھارے اول اور تمھارے آخر اور تمھارے انس اور تمھارے جن تم میں سے کسی سب سے زیادہ متقی شخص کے دل پر ہو جائیں (یعنی اس جیسے ہو جائیں)، تو یہ چیز میرے ملک میں کچھ اضافہ نہیں کرے گی۔ اے میرے بندو! اگر تمھارے اول اور تمھارے آخر اور تمھارے انس اور تمھارے جن تمھارے کسی سب سے فاجر شخص کے دل پر ہو جائیں (یعنی اس جیسے ہو جائیں)، تو یہ چیز میرے ملک میں کچھ کمی نہیں کرے گی۔ اے میرے بندو! اگر تمھارے اول اور تمھارے آخر اور تمھارے انس اور تمھارے جن ایک میدان میں کھڑے ہو جائیں، پھر مجھ سے مانگیں اور میں ہر ایک کو دے دوں جو اس نے مانگا، تو یہ میرے مُلک میں سے اتنا ہی کم کرے گا جتنا ایک سوئی جب سمندر میں داخل کی جائے۔ اے میرے بندو! یہ تو تمھارے ہی اعمال ہیں جو میں تمھارے لیے محفوظ رکھتا ہوں، تو جو خیر پائے وہ اللہ کی حمد کرے اور جو اس کے سوا پائے وہ اپنے آپ ہی کو ملامت کرے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
40-1یہ کون شخص تھا جس نے یہ کہا؟ یہ کتاب کون سی تھی؟ اور یہ علم کیا تھا، جس کے زور پر یہ دعویٰ کیا گیا؟ اس میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں، ان تینوں کی پوری حقیقت اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ یہاں قرآن کریم کے الفاظ سے جو معلوم ہوتا ہے وہ اتنا ہی ہے کہ وہ کوئی انسان ہی تھا، جس کے پاس کتاب الٰہی کا علم تھا، اللہ تعالیٰ نے کرامات اور اعجاز کے طور پر اسے یہ قدرت دے دی کہ پلک جھپکتے میں وہ تخت لے آیا۔ کرامت اور معجزہ نام ہی ایسے کاموں کا ہے جو ظاہری اسباب اور امور عادیہ کے یکسر خلاف ہوں اور وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت و مشیت سے ہی ظہور پذیر پاتے ہیں۔ اس لئے نہ شخصی قوت قابل تعجب ہے اور نہ اس علم کا سراغ لگانے کی ضرورت، جس کا ذکر یہاں ہے۔ کیونکہ یہ تو اس شخص کا تعارف ہے جس کے ذریعے سے یہ کام ظاہری طور پر انجام پایا، ورنہ حقیقت میں تو یہ مشیت الٰہی ہی کی کار فرمائی ہے جو چشم زدن میں، جو چاہے، کرسکتی ہے۔ حضرت سلیمان ؑ بھی اس حقیقت سے آگاہ تھے، اس لئے انہوں نے دیکھا کہ تخت موجود ہے تو اسے فضل ربی سے تعبیر کیا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
40۔ پھر ایک اور شخص، جس کے پاس کتاب [34] کا علم تھا، کہنے لگا: ”میں یہ تخت آپ کو آپ کی نگاہ لوٹانے سے پہلے ہی لائے دیتا ہوں“ پھر جب سلیمان نے اس تخت کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا تو پکار اٹھے: ”یہ میرے پروردگار کا فضل [35] ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر [36] کرتا ہوں یا نا شکری؟ اور جو شکر کرتا ہے تو اس کا شکر اس کے اپنے ہی لئے مفید [37] ہے۔ اور اگر کوئی نا شکری کرے تو میرا پروردگار (اس کے شکر سے) بے نیاز ہے اور اپنی ذات [38] میں بزرگ ہے۔“
[34] ملکہ سبا کا تخت کتنے عرصہ میں اور کیسے سلیمانؑ کے پاس آپہنچا:۔
ابھی اس دیو ہیکل کی بات ختم نہ ہونے پائی تھی کہ دربار میں ایک اور شخص بول اٹھا کہ میں اس تخت کو کم سے کم وقت میں آپ کے پاس لا سکتا ہوں۔ آپ اگر آسمان کی طرف نگاہ دوڑائیں پھر نگاہ نیچے لوٹائیں تو صرف اتنی مدت میں وہ تخت آپ کے قدموں میں پڑا ہو گا۔ تخت لانے والا کون تھا؟ وہ شخص کون تھا؟ جن یا انسان؟ وہ کتاب کونسی تھی؟ ام الکتاب یعنی لوح محفوظ تھی یا قرآن تھا یا کوئی اور کتاب تھی؟ وہ علم تقدیر الٰہی کا علم تھا یا کسی اور قسم کا علم تھا؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن کا جواب قرآن و حدیث میں نہیں ملتا۔ اور غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ باتیں سمجھنا انسان کی محدود عقل سے ماوراء ہیں۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ وہ شخص آپ کا وزیر آصف بن برخیا تھا۔ کتاب سے مراد کتب سماویٰ ہے۔ اور اسم اعظم کا عامل اور اللہ کے اسماء اور کلام اللہ کی تاثیر سے واقف تھا لیکن یہ سب قیاس آرائیاں ہیں۔ البتہ نتیجہ قرآن نے واضح طور پر بتلا دیا کہ وہ شخص اپنے دعویٰ میں بالکل سچا تھا۔ اور فی الواقع اس نے چشم زدن میں ملکہ بلقیس کا تخت حضرت سلیمانؑ کے پاس لا حاضر کیا تھا۔ ایسے واقعات اگرچہ خرق عادت ہیں تاہم موجودہ علوم نے ایسی باتوں کو بہت حد تک قریب الفہم بنا دیا ہے۔ مثلاً یہی زمین جس پر ہم آباد ہیں سورج کے گرد سال بھر چکر کاٹتی ہے اور اس کی رفتار چھیاسٹھ ہزار چھ سو میل فی گھنٹہ بنتی ہے۔ حیرانگی کی بات یہ ہے کہ اس قدر عظیم الجثہ کرہ زمین برق رفتاری کے ساتھ چکر کاٹ رہا ہے اور ہمیں اس کا احساس تک نہیں ہوتا اور یہ ایسی بات ہے کہ ہم ایمان کی حد تک یقین رکھتے ہیں۔ اب اس زمین کی جسامت اور وزن کے مقابلہ میں ملکہ بلقیس کے تخت کی جسامت اور وزن دیکھئے اور مآرب سے یروشلم کا صرف ڈیڑھ ہزار میل فاصلہ ذہن میں لا کر غور فرمائیے کہ اگر یہی بات ممکن ہے تو دوسری کیوں ممکن نہیں ہو سکتی۔ اور یہ تو ظاہر ہے کہ جو شخص چشم زدن میں تخت لایا تھا تو وہاں بھی اللہ ہی کی قدرت کام کر رہی تھی۔ یہ اس شخص کا کوئی ذاتی کمال نہ تھا۔ اور نہ ہی وہ تخت ظاہری اسباب کے ذریعہ وہاں لایا گیا تھا۔ بعض عقل پرستوں نے اس تخت لانے کے واقعہ سے متعلق بھی عقل کے گھوڑے دوڑائے ہیں اور ایسی بے ہودہ تاویلات پیش فرمائیں ہیں کہ عقل ہی سر پیٹ کر رہ جائے۔ مثلاً یہ کہ حضرت سلیمانؑ کو ملکہ بلقیس کا تخت مطلوب نہ تھا بلکہ اس سے ملتا جلتا تخت مطلوب تھا اور اس غرض کے لئے انہوں نے ٹھیکیداروں سے ٹنڈر طلب کئے تھے۔ وغیر ذلک من الخرافات یہاں طویل بحثوں کا اندراج ممکن نہیں۔ البتہ میں نے اپنی تصنیف ”عقل پرستی اور انکار معجزات“ میں ایسی سب تاویلات اور ان کا تجزیہ و تردید تفصیل سے پیش کر دی ہے۔
[35] جب حضرت سلیمانؑ نے چشم زدن میں ملکہ کا تخت اپنے قدموں میں پڑا دیکھا تو فوراً اس بات کا اعتراف کیا کہ یہ مجھ پر اللہ کا فضل ہے۔ جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ تخت معجزانہ طریق پر وہاں لایا گیا تھا اور اس کی عقلی توجیہات ناممکن ہیں۔ ورنہ اگر یہ کوئی عادی امر ہوتا تو نہ یہ اللہ کے فضل کی کوئی بات تھی اور نہ ہی اس وقت اللہ کا شکر ادا کرنے کا خیال آسکتا تھا۔
[36] قرآن میں متعدد مقامات پر یہ مضمون دہرایا گیا ہے کہ انسان کی دنیا میں آزمائش صرف اس بات پر ہوتی ہے کہ وہ اللہ کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرتا ہے یا نا شکرا بن کر رہتا ہے۔ نیز ایمان کی ضد بھی کفر ہے۔ اور شکر کی ضد بھی کفر ہے۔ جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح ایمان اور شکر کا آپس میں گہرا تعلق ہے ویسا ہی کفر اور نا شکری میں گہرا تعلق ہے۔ جو شخص جس قدر زیادہ مضبوط ایمان والا ہو گا اس قدر وہ اللہ کا شکر گزار بندہ ہو گا اور جو شخص جس درجے کا کافر ہو گا۔ اتنا ہی وہ نا شکرا ہو گا۔ حضرت سلیمانؑ چونکہ اللہ کے نبی تھے اس لئے وہ جب کوئی اللہ کا انعام یا اس کا فضل دیکھتے تو فوراً اللہ کا شکر ادا کرنے میں مشغول ہو جاتے۔ اور یہ انبیاء اور ایمانداروں کا دستور ہوتا ہے۔ اس کے برعکس کافر پر جب اللہ تعالیٰ کوئی انعام فرماتا ہے تو شکر ادا کرنے کی بجائے اس کی طبیعت مزید سرکشی اور تکبر کی طرف مائل ہونے لگتی ہے اور وہ اترانے اور شیخیاں بگھارنے لگتا ہے۔
[35] جب حضرت سلیمانؑ نے چشم زدن میں ملکہ کا تخت اپنے قدموں میں پڑا دیکھا تو فوراً اس بات کا اعتراف کیا کہ یہ مجھ پر اللہ کا فضل ہے۔ جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ تخت معجزانہ طریق پر وہاں لایا گیا تھا اور اس کی عقلی توجیہات ناممکن ہیں۔ ورنہ اگر یہ کوئی عادی امر ہوتا تو نہ یہ اللہ کے فضل کی کوئی بات تھی اور نہ ہی اس وقت اللہ کا شکر ادا کرنے کا خیال آسکتا تھا۔
[36] قرآن میں متعدد مقامات پر یہ مضمون دہرایا گیا ہے کہ انسان کی دنیا میں آزمائش صرف اس بات پر ہوتی ہے کہ وہ اللہ کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرتا ہے یا نا شکرا بن کر رہتا ہے۔ نیز ایمان کی ضد بھی کفر ہے۔ اور شکر کی ضد بھی کفر ہے۔ جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح ایمان اور شکر کا آپس میں گہرا تعلق ہے ویسا ہی کفر اور نا شکری میں گہرا تعلق ہے۔ جو شخص جس قدر زیادہ مضبوط ایمان والا ہو گا اس قدر وہ اللہ کا شکر گزار بندہ ہو گا اور جو شخص جس درجے کا کافر ہو گا۔ اتنا ہی وہ نا شکرا ہو گا۔ حضرت سلیمانؑ چونکہ اللہ کے نبی تھے اس لئے وہ جب کوئی اللہ کا انعام یا اس کا فضل دیکھتے تو فوراً اللہ کا شکر ادا کرنے میں مشغول ہو جاتے۔ اور یہ انبیاء اور ایمانداروں کا دستور ہوتا ہے۔ اس کے برعکس کافر پر جب اللہ تعالیٰ کوئی انعام فرماتا ہے تو شکر ادا کرنے کی بجائے اس کی طبیعت مزید سرکشی اور تکبر کی طرف مائل ہونے لگتی ہے اور وہ اترانے اور شیخیاں بگھارنے لگتا ہے۔
[37] شکر کی تاثیر:۔
شکر اپنے اندر ایک خاص تاثیر رکھتا ہے اور وہ ہے نعمت کی افزونی یعنی شکر کی خاصیت ہے کہ وہ مزید نعمتوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے اس کے برعکس نا شکری کی خاصیت یہ ہے کہ نا شکرا آدمی موجودہ نعمت سے بھی محروم کر دیا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ ایسی حقیقت ہے جس کا ہر شخص ذاتی طور پر بھی تجربہ رکھتا ہے اور تجربہ کر سکتا ہے۔ تاہم ثبوت کے طور پر اس پر قرآن کریم کی صریح آیت بھی موجود ہے ارشاد باری ہے: ”اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں تمہیں اور بھی زیادہ دوں گا اور اگر نا شکری کرو گے تو یاد رکھو میرا عذاب بڑا سخت ہے“ [14: 7] شکر سے متعلق مزید تفصیلات اسی آیت کے تحت حاشیہ میں ملاحظہ فرمائیے۔ اس آیت سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ شکر ادا کرنے کا فائدہ شکر ادا کرنے والے کو ہی پہنچتا ہے۔
[38] نا شکری کا نقصان:۔
اور اگر کوئی شخص نا شکری کرتا ہے تو اس کا نقصان اسی کو پہنچتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا نہ کسی کے شکر ادا کرنے سے کچھ سنور جاتا ہے اور نہ کسی کی نا شکری کرنے سے اس کا کچھ بگڑ جاتا ہے۔ وجہ وہ یہ ہے کہ وہ بندوں کے شکر یا نا شکری سے بے نیاز ہے۔ کیونکہ اس کی ذات اور اس کے سب کارنامے اپنی ذات میں محمود ہیں۔ وہ کسی کے تعریف بیان کرنے کے محتاج نہیں ہیں۔ اس مضمون کو درج ذیل قدسی حدیث میں پوری طرح واضح کر دیا گیا ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اے میرے بندو! اگر اول سے آخر تک تم سب انسان اور جن اپنے سب سے زیادہ متقی شخص کے دل جیسے ہو جاؤ تو اس سے میری بادشاہی میں کچھ اضافہ نہ ہو جائے گا اور اے میرے بندو اگر اول سے آخر تک تم سب انسان اور جن اپنے سے زیادہ بد کار شخص کے دل کی طرح ہو جاؤ تو اس سے میری بادشاہت میں کوئی کمی واقع نہ ہو گی۔ اور اے میرے بندو! یہ تمہارے اپنے اعمال ہی ہیں جن کا میں تمہارے حساب میں شمار کرتا ہوں پھر تمہیں ان اعمال کی پوری جزا دیتا ہوں لہٰذا جسے کوئی بھلائی نصیب ہو اسے چاہئے کہ اللہ کا شکر ادا کرے۔ اور جسے کچھ اور نصیب ہو تو وہ اپنے آپ ہی کو ملامت کرے“ [مسلم۔ کتاب البرواصلہ۔ باب تحریم الظلم]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔