(آیت 35) {وَاِنِّيْمُرْسِلَةٌاِلَيْهِمْبِهَدِيَّةٍ …:} اس کے بعد اس نے طے کیا کہ حالات کا جائزہ لیتی رہے اور سلیمان علیہ السلام سے موافقت کرکے صلح کرلے۔ چنانچہ اس نے اپنے سرداروں سے کہا کہ میں اس کی طرف ان کے شایان شان تحفہ بھیجتی ہوں، پھر دیکھتی ہوں کہ وہ میرے قاصدوں کو کیا جواب دیتے ہیں۔ بہت ممکن ہے کہ وہ تحفہ قبول کر لیں اور ہم ہر سال کچھ رقم بطور جزیہ بھیجتے رہیں اور وہ ہم پر چڑھائی کا خیال ترک کر دیں۔ یہ خاتون اپنے شرک کی حالت اور اسلام کی حالت دونوں میں بہت عقل مند تھی۔ وہ جانتی تھی کہ کسی کے شوق کے مطابق تحفہ وہ چیز ہے جو لوہے کو بھی نرم کر دیتا ہے، اور اسے یہ بھی آزمانا تھا کہ دیکھیں وہ ہمارے اس مال کو قبول کرتے ہیں یا نہیں، اگر قبول کر لیا تو سمجھ لو کہ وہ ایک بادشاہ ہیں، پھر ان سے مقابلہ کرنے میں کوئی حرج نہیں اور اگر واپس کر دیا تو ان کی نبوت میں کوئی شک نہیں، پھر مقابلہ سراسر بے سود بلکہ مُضِر ہے۔ مفسرین نے ان تحائف کی عجیب و غریب تفصیلات بیان کی ہیں جو سب اسرائیلیات ہیں، ان میں سے ایک بھی ثابت نہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
35-1اس سے اندازہ ہوجائے گا کہ سلیمان ؑ کوئی دنیا دار بادشاہ ہے یا نبی مرسل، جس کا مقصد اللہ کے دین کا غلبہ ہے۔ اگر ہدیہ قبول نہیں کیا تو یقینا اس کا مقصد دین کی اشاعت و سر بلندی ہے، پھر ہمیں بھی اطاعت بغیر چارہ نہیں ہوگا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
35۔ میں (تجربہ کے طور پر) ان کی طرف کچھ تحفہ بھیجتی ہوں پھر دیکھوں گی کہ میرے بھیجے ہوئے آدمی کیا جواب لاتے [32] ہیں۔
[32] سیدنا سلیمانؑ کی خدمت میں وفد کی روانگی:۔
ملکہ کی اس تقریر سے یہ تو صاف واضح تھا کہ وہ مقابلہ کے لئے تیار نہیں۔ مگر وہ فوری طور پر مطیع فرمان ہونے پر بھی آمادہ نہ تھی۔ لہٰذا اس نے ایک دانشمندانہ قوم اٹھاتے ہوئے درمیانی راستہ اختیار کیا۔ جو یہ تھا کہ حضرت سلیمانؑ کے پاس ایک وفد بھیجا جائے اور ساتھ کچھ تحفے تحائف بھی بھیجے جائیں ان لوگوں کے رد عمل سے ان کی ذہنیت پوری طرح واضح ہو جائے گی۔ چنانچہ اس نے ہدہد کی صورت میں بہت سامان و دولت کچھ سونے کی اینٹیں اور کچھ نوادرات بھیجے اور وفد کے لئے ایسے آدمی انتخاب کئے جو بہت خوبصورت تھے اور اس سے دراصل وہ حضرت سلیمانؑ کا امتحان لینا چاہتی تھی وہ کس قسم کی اشیاء کا شوق رکھتے ہیں۔ نیز یہ کہ اگر وہ دنیا دار بادشاہ ہے تو تحائف قبول کر لے گا۔ اندریں صورت اس سے جنگ بھی لڑی جا سکتی ہے اور نبی ہے تو تحفے قبول نہیں کرے گا نہ اس سے مقابلہ ممکن ہو گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔