ترجمہ و تفسیر — سورۃ النمل (27) — آیت 32

قَالَتۡ یٰۤاَیُّہَا الۡمَلَؤُا اَفۡتُوۡنِیۡ فِیۡۤ اَمۡرِیۡ ۚ مَا کُنۡتُ قَاطِعَۃً اَمۡرًا حَتّٰی تَشۡہَدُوۡنِ ﴿۳۲﴾
کہا اے سردارو! تم میرے معاملے میں مجھے حل بتاؤ، میں کبھی کسی معاملے کافیصلہ کرنے والی نہیں، یہاں تک کہ تم میرے پاس موجود ہو۔ En
(خط سنا کر) وہ کہنے لگی کہ اے اہل دربار میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو، جب تک تم حاضر نہ ہو (اور صلاح نہ دو) میں کسی کام کو فیصل کرنے والی نہیں
En
اس نے کہا اے میرے سردارو! تم میرے اس معاملہ میں مجھے مشوره دو۔ میں کسی امر کا قطعی فیصلہ جب تک تمہاری موجودگی اور رائے نہ ہو نہیں کیا کرتی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 32) ➊ { قَالَتْ يٰۤاَيُّهَا الْمَلَؤُا اَفْتُوْنِيْ فِيْۤ اَمْرِيْ …:} اس سے پہلے ملکہ سبا کی بات چل رہی ہے، { يٰۤاَيُّهَا الْمَلَؤُا اَفْتُوْنِيْ} بھی اسی کا کلام ہے۔ بظاہر درمیان میں { قَالَتْ } لانے کی ضرورت نہ تھی۔ بقاعی فرماتے ہیں: کلام کے درمیان وقفہ ہے کہ ملکہ سبا سلیمان علیہ السلام کا خط سنا کر منتظر تھی کہ قوم کے سردار اس پر اپنا رد عمل ظاہر کریں گے، مگر جب وہ خط سن کر خاموش اور مبہوت رہ گئے، تو اس نے کہا: اے سردارو! میرے اس معاملے میں مجھے حل بتاؤ۔
➋ اس سے ملکہ کی دانش مندی اور سمجھ داری ظاہر ہے کہ وہ ہر کام اپنے سرداروں کے مشورے سے کرتی تھی اور یہ بھی کہ سبا کا نظام بادشاہی ہونے کے باوجود استبدادی نہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ طرز حکومت کوئی بھی ہو، بادشاہت ہو یا خلافت، یا جمہوریت، مشورے کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتا۔ بعض لوگ بادشاہت کو مطلق العنانی اور جمہوریت کو مشورہ قرار دیتے ہیں، مگر یہ سراسر غلط ہے۔ ایک بادشاہ ہر کام مشورے سے کرنے والا ہو سکتا ہے، عادل بادشاہ ایسے ہی ہوتے ہیں اور ایک جمہوری سربراہ بدترین مطلق العنان آمر ہو سکتا ہے، جو پارلیمنٹ کے ارکان کو ان کی خواہشوں اور کمزوریوں کی وجہ سے داغ دار بنا کر اپنی مرضی کے تابع رکھنے پر مجبور رکھنے والا ہو۔ اس وقت تقریباً دنیا کے تمام جمہوری سربراہوں کا یہی حال ہے، بلکہ جمہوریت جس میں عوام کے لفظ کی گردان ذکر الٰہی کی طرح کی جاتی ہے، صرف عوام کو ایک دفعہ رائے کا حق دیتی ہے، پھر وہ چار پانچ سال تک بے بسی سے اپنے چنے ہوئے نمائندوں کی مطلق العنانی کے زخم کھاتے رہتے ہیں۔ اسلام میں مطلق العنان بادشاہت یا جمہوریت دونوں کا وجود نہیں۔ یہاں خلیفہ ہو یا بادشاہ، اللہ تعالیٰ کے احکام کو، جو قرآن و حدیث میں ہیں، کوئی چاہے یا نہ چاہے، ہر حال میں نافذ کرنے کا پابند ہے۔ اس کے بعد دوسرے معاملات میں وہ مشورہ کرنے کا پابند ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَيْنَهُمْ [الشورٰی: ۳۸] اور ان کا کام آپس میں مشورہ کرنا ہے۔ اور فرمایا: «{ وَ شَاوِرْهُمْ فِي الْاَمْرِ [آل عمران: ۱۵۹] اور کام میں ان سے مشورہ کر۔ مگر اس کے لیے نہ ہر ایک سے مشورہ ضروری ہے نہ وہ اکثریت کی رائے کا پابند ہے، بلکہ وہ ہر کام میں ان لوگوں سے مشورہ لے گا جو اس کے اہل ہیں اور چونکہ فیصلے کے نفع نقصان کا ذمہ دار وہ ہے، اس لیے آخری فیصلہ اسی کا ہو گا، جو بعض اوقات اقلیت کی رائے کے مطابق بھی ہو سکتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنھما سے فرمایا: [لَوْ أَنَّكُمَا تَتَّفِقَانِ عَلٰي أَمْرٍ وَاحِدٍ مَا عَصَيْتُكُمَا فِيْ مَشْوَرَةٍ أَبَدًا] [فتح الباري، الاعتصام بالکتاب والسنۃ، باب قول اللہ تعالٰی: «و أمرھم شورٰی …» ‏‏‏‏: 341/13] اگر تم کسی بات پر متفق ہو جاؤ تو میں اس معاملے میں کبھی تمھاری مخالفت نہیں کروں گا۔ مشورے کی ایک مثال ملکہ سبا کے سرداروں کی مجلس ہے کہ انھوں نے مشورہ دے کر کہا: «{ وَ الْاَمْرُ اِلَيْكِ فَانْظُرِيْ مَا ذَا تَاْمُرِيْنَ [النمل: ۳۳]اور معاملہ تیرے سپرد ہے، سو دیکھ تو کیا حکم دیتی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

32۔ (یہ خط سنا کر) ملکہ کہنے لگی: ”اے اہل دربار! میرے اس معاملہ میں مجھے مشورہ دو۔ جب تک تم لوگ میرے پاس موجود نہ ہو میں کسی معاملہ کو طے نہیں کیا کرتی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

بلقیس کو خط ملا ٭٭
بلقیس نے سلیمان علیہ السلام کا خط انہیں سنا کر ان سے مشورہ طلب کیا اور کہا کہ تم جانتے ہو جب تک تم سے میں مشورہ نہ کر لوں، تم موجود نہ ہو تو میں چونکہ کسی امر کا فیصلہ تنہا نہیں کرتی اس بارے میں بھی تم سے مشورہ طلب کرتی ہوں بتاؤ کیا رائے ہے؟ سب نے متفقہ طور پر جواب دیا کہ ہماری جنگی طاقت بہت کچھ ہے اور ہماری طاقت مسلم ہے۔ اس طرف سے تو اطمینان ہے آگے جو آپ کا حکم ہو۔ ہم تابعدراری کے لیے موجود ہیں۔ اسمیں ایک حد تک سرداران لشکر نے لڑائی کی طرف اور مقابلے کی طرف رغبت دی تھی۔
لیکن بلقیس چونکہ سمجھدار عاقبت اندیش تھی اور ہدہد کے ہاتھوں خط کے ملنے کا ایک کھلا معجزہ دیکھ چکی تھی یہ بھی معلوم کر لیا تھا کہ سلیمان کی طاقت کے مقابلے میں، میں میرا لاؤ لشکر کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ اگر لڑائی کی نوبت آئی تو علاوہ ملک کی بربادی کے میں بھی سلامت نہ رہ سکوں گی اس لیے اس نے اپنے وزیروں اور مشیروں سے کہا بادشاہوں کا قاعدہ ہے کہ جب وہ کسی ملک کو فتح کرتے ہیں تو اسے برباد کر دیتے ہیں اجاڑ دیتے ہیں۔ وہاں کے ذی عزت لوگوں کو ذلیل کر دیتے ہیں۔ سرداران لشکر اور حکمران شہر خصوصی طور پر ان کی نگاہوں میں پڑھ جاتے ہیں۔
جناب باری تعالیٰ نے اس کی تصدیق فرمائی کہ فی الواقع یہ صحیح ہے وہ ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ اس کے بعد اسنے جو ترکیب سوچی کہ ایک چال چلے اور سلیمان سے موافقت کر لے صلح کر لے وہ اس نے ان کے سامنے پیش کی کہا کہ اس وقت تو میں ایک گراں بہا تحفہ انہیں بھیجتی ہوں دیکھتی ہوں اس کے بعد وہ میرے قاصدوں سے کیا فرماتے ہیں۔ بہت ممکن ہے کہ وہ اسے قبول فرما لیں اور ہم آئندہ بھی انہیں یہ رقم بطور جزیے کے بھیجتے رہیں اور انہیں ہم پر چڑھائی کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔
اسلام کی قبولیت میں اسی طرح اس نے ہدیے بھیجنے میں نہاپت دانائی سے کام لیا۔ وہ جانتی تھی کہ روپیہ پیسہ وہ چیز ہے فولاد کو بھی نرم کر دیتا ہے۔ نیز اسے یہ بھی آزمانا تھا کہ دیکھیں وہ ہمارے اس مال کو قبول کرتے ہیں یا نہیں۔؟ اگر قبول کر لیا تو سمجھ لو کہ وہ ایک بادشاہ ہیں پھر ان سے مقابلہ کرنے میں کوئی حرج نہیں اور اگر واپس کر دیا تو ان کی نبوت میں کوئی شک نہیں پھر مقابلہ سراسر بےسود بلکہ مضر ہے۔
بلقیس نے بہت ہی گراں قدر تحفہ سلیمان علیہ السلام کے پاس بھیجا۔ سونا موتی جواہر وغیرہ سونے کی کثیر مقدار اینٹیں سونے کے برتن وغیرہ۔ بعض کے مطابق کچھ بچے عورتوں کے لباس میں اور کچھ عورتیں لڑکوں کے لباس میں بھیجیں اور کہا کہ اگر وہ انہیں پہچان لیں تو اسے نبی مان لینا چاہیئے۔ جب یہ سلیمان علیہ السلام کے پاس پہنچے تو آپ علیہ السلام نے سب کو وضو کرنے کا حکم دیا۔ لڑکیوں نے برتن سے پانی بہا کر اپنے ہاتھ دھوئے اور لڑکوں نے برتن میں ہی ہاتھ ڈال کر پانی لیا۔
اس سے آپ نے دونوں کو الگ الگ پہچان کر علیحدہ کر دیا کہ یہ لڑکیاں ہیں اور یہ لڑکے ہیں۔ بعض کہتے ہیں اس طرح پہچانا کہ لڑکیوں نے تو پہلے اپنے ہاتھ کے اندرونی حصہ کو دھویا اور لڑکوں نے ان کے برخلاف بیرونی حصے کو پہلے دھویا یہ بھی مروی ہے کہ ان میں سے ایک جماعت نے اس کے برخلاف ہاتھ کی انگلیوں سے شروع کر کے کہنی تک لے گئے۔ ان میں سے کسی میں نفی کا امکان نہیں، «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
یہ بھی مذکور ہے کہ بلقیس نے ایک برتن بھیجا تھا کہا اسے ایسے پانی سے پر کر دو جو نہ زمین کا ہو نہ آسمان کا تو آپ نے گھوڑے دوڑائے اور ان کے پسینوں سے وہ برتن بھر دیا۔ اسنے کچھ خرمہرے اور ایک لڑی بھیجی تھی آپ نے انہیں لڑی میں پرو دیا۔ یہ سب اقوال عموماً بنی اسرائیل کی روایتوں سے لیے جاتے ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ البتہ بظاہر الفاظ قرآنی سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اس رانی کے تحفے کی طرف مطلقاً التفات ہی نہیں کیا۔ اور اسے دیکھتے ہی فرمایا کہ کیا تم مجھے مالی رشوت دے کر شرک پر باقی رہنا چاہتے ہو؟ یہ محض ناممکن ہے مجھے رب نے بہت کچھ دے رکھا ہے۔ ملک، مال، لاؤ، لشکر سب میرے پاس موجود ہے۔ تم سے پر طرح بہتر حالت میں میں ہوں «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔
تم ہی اپنے اس ہدیے سے خوش رہو یہ کام تم ہی کو سونپا کہ مال سے راضی ہو جاؤ اور تحفہ تمہیں جھکا دے یہاں تو دو ہی چیزیں ہیں یا شرک چھوڑدو یا تلوار روکو۔ یہ بھی کہا گیا ہے اس سے پہلے کہ اس کے قاصد پہنچیں سلیمان علیہ السلام نے جنات کو حکم دیا اور انہوں نے سونے چاندی کے ایک ہزار محل تیار کر دئے۔
جس وقت قاصد پائے تخت میں پہنچے ان محلات کو دیکھ کر ہوش جاتے رہے اور کہنے لگے یہ بادشاہ تو ہمارے اس تحفے کو اپنی حقارت سمجھے گا۔ یہاں تو سونا مٹی کی وقعت بھی نہیں رکھتا۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ بادشاہوں کو یہ جائز ہے کہ بیرونی لوگوں کے لیے کچھ تکلفات کرے اور قاصدوں کے سامنے اپنی زینت کا اظہار کرے۔
پھر آپ نے قاصدوں سے فرمایا کہ یہ ہدیے انہیں کو واپس کر دو اور ان سے کہدو مقابلے کی تیاری کر لیں یاد رکھو میں وہ لشکر لے کر چڑھائی کروں گا کہ وہ سامنے آہی نہیں سکتے۔ انہیں ہم سے جنگ کرنے کی طاقت ہی نہیں۔ ہم انہیں ان کی سلطنت سے بیک بینی و دوگوش ذلت و حقارت کے ساتھ نکال دیں گے ان کے تخت و تاج کو رونددیں گے۔
جب قاصد اس تحفے کو واپس لے پہنچے اور شاہی پیغام بھی سنادیا۔ بلقیس کو آپ کی نبوت کا یقین ہو گیا فوراً خود بھی اور تمام لشکر اور رعایا مسلمان ہو گئے اور اپنے لشکروں سمیت وہ سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو گئے جب آپ نے اس کا قصد معلوم کیا تو بہت خوش ہوئے اور اللہ کا شکر ادا کیا۔