ترجمہ و تفسیر — سورۃ النمل (27) — آیت 31

اَلَّا تَعۡلُوۡا عَلَیَّ وَ اۡتُوۡنِیۡ مُسۡلِمِیۡنَ ﴿٪۳۱﴾
یہ کہ میرے مقابلے میں سرکشی نہ کرو اور فرماں بردار بن کر میرے پاس آجاؤ۔ En
(بعد اس کے یہ) کہ مجھے سرکشی نہ کرو اور مطیع ومنقاد ہو کر میرے پاس چلے آؤ
En
یہ کہ تم میرے سامنے سرکشی نہ کرو اور مسلمان بن کر میرے پاس آجاؤ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 30 میں تا آیت 32 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

31-1جس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بادشاہوں کو خطوط لکھے تھے، جن میں انھیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔ اسی طرح سلیمان ؑ نے بھی اسے اسلام قبول کرنے کی دعوت بذریعہ خط دی۔ آج کل مکتوب الیہ کا نام خط میں پہلے لکھا جاتا ہے لیکن سلف کا طریقہ یہی تھا جو حضرت سلیمان ؑ نے اختیار کیا کہ پہلے اپنا نام تحریر کیا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

31۔ یہ کہ میرے مقابلے میں سرکشی اختیار نہ کرو، بلکہ فرمانبردار اور مطیع ہو کر میرے پاس [29] آ جاؤ“
[29] سیدنا سلیمانؑ کے مختصر سے خط کی امتیازی خصوصیات:۔
جس وقت نامہ بر ہدہد نے یہ خط دربار میں ملکہ سبا کے سامنے پھینکا اس وقت وہ سورج کی عبادت کے لئے تیار کر رہی تھی۔ اس خط نے اسے عجیب قسم کی کشمکش میں مبتلا کر دیا۔ کیونکہ یہ خط کئی پہلوؤں سے بہت اہم تھا۔ مثلاً ایک یہ کہ یہ خط اسے غیر معمولی طریقہ سے ملا۔ یعنی یہ خط کسی ملک کے سفارت خانہ کی معرفت نہیں بلکہ ایک نامہ بر پرندہ کے ذریعہ ملا تھا۔ دوسرے یہ کہ یہ خط کسی معمولی درجہ کے حاکم سے نہیں بلکہ شام و فلسطین کے عظیم فرمانروا کی طرف سے موصول ہوا تھا۔ تیسرا یہ کہ یہ خط رحمٰن اور رحیم کے نام سے شروع کیا گیا تھا کہ ان ناموں سے یہ لوگ قطعاً متعارف نہ تھے۔ اور چوتھے یہ کہ اس انتہائی مختصر سے خط میں ملکہ سے مکمل اطاعت کا اور پھر اس کے بعد حضرت سلیمانؑ کے پاس حاضر ہونے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اور یہ بھی بتلا دیا گیا تھا کہ میرے مقابلہ میں سرکشی کی راہ اختیار نہ کرنا ورنہ نقصان اٹھاؤ گے۔ پانچویں یہ کہ انداز خطاب ایسا تھا جس میں کسی قسم کی کوئی لچک نہ پائی جاتی تھی۔ اس آیت میں: ﴿وَأْتُونِي مُسْلِمِينَ کے الفاظ آئے ہیں۔ مسلمین کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ میرے فرمانبردار بن کر میرے ہاں آؤ۔ اور یہ حکم آپ کی فرمانروائی سے مطابقت رکھتا ہے۔ اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اسلام لا کر یا مسلمان ہو کر میرے ہاں آؤ اور سورج پرستی چھوڑ دو۔ اور یہ حکم آپ کی نبوت سے تعلق رکھتا ہے اور آپ چونکہ بادشاہ بھی تھے اور نبی بھی۔ لہٰذا اس سلسلہ میں اپنے سرکاری امیروں، وزیروں سے مشورہ کرنا ہی مناسب سمجھا۔ چنانچہ اس نے سب کو اکٹھا کر کے اس خط کے وصول ہونے اور اس کی مختلف پہلوؤں سے اہمیت سے آگاہ کیا پھر اسے پوچھا کہ: تم لوگ مجھے اس خط کے جواب کے بارے میں کیا مشورہ دیتے ہو؟ اور یہ تو جانتے ہی ہو کہ میں سلطنت کے ایسے اہم کاموں میں پہلے بھی تم سے مشورہ کرتی رہی ہوں۔ اور از خود میں نے کبھی مشورہ کے بغیر کسی کام کا فیصلہ نہیں کیا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔