ترجمہ و تفسیر — سورۃ النمل (27) — آیت 28

اِذۡہَبۡ بِّکِتٰبِیۡ ہٰذَا فَاَلۡقِہۡ اِلَیۡہِمۡ ثُمَّ تَوَلَّ عَنۡہُمۡ فَانۡظُرۡ مَا ذَا یَرۡجِعُوۡنَ ﴿۲۸﴾
میرا یہ خط لے جا، پس اسے ان کی طرف پھینک دے، پھر ان سے لوٹ آ، پس دیکھ وہ کیا جواب دیتے ہیں۔ En
یہ میرا خط لے جا اور اسے ان کی طرف ڈال دے پھر ان کے پاس سے پھر آ اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں
En
میرے اس خط کو لے جاکر انہیں دے دے پھر ان کے پاس سے ہٹ آ اور دیکھ کہ وه کیا جواب دیتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 28) ➊ { اِذْهَبْ بِّكِتٰبِيْ هٰذَا …:} سلیمان علیہ السلام نے فوراً ہی خبر کی تحقیق کا آغاز کر دیا، چنانچہ خط لکھا اور ہد ہد کو حکم دیا کہ میرا یہ خط لے جا اور اسے ان کی طرف پھینک، پھر ان سے لوٹ کر دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں، یعنی ایک طرف رہ کر ان کی باتیں سنتا اور ان پر سوچ بچار کرتا رہ، پھر آ کر مجھ سے بیان کر۔ یہاں بات کا کچھ حصہ محذوف ہے جو خود بخود سمجھ میں آ رہا ہے کہ ہد ہد وہ خط لے کر گیا اور اسے ملکہ سبا کے پاس لے جا کر پھینک دیا۔ ملکہ اس خط کی آمد کا طریقہ اور اس کا مضمون پڑھ کر حیران رہ گئی۔
➋ اس سے معلوم ہوا کہ سلیمان علیہ السلام ہد ہد سے عام معلومات کی بہم رسانی کے علاوہ خط رسانی کا کام بھی لیتے تھے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

28-1یعنی ایک جانب ہٹ کر چھپ جا اور دیکھ کہ وہ آپس میں کیا گفتگو کرتے ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

28۔ یہ میرا خط لے جا اور ان کی طرف پھینک دے پھر ان سے ہٹ کر دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے [28] ہیں۔“
[28] سیدنا سلیمانؑ کا ہدہد کے ذریعہ ملکہ سبا کو خط بھیجنا:۔
سلیمانؑ نے ہدہد کا جواب یا اس کی معذرت سن کر فرمایا: میں تمہیں ایک خط لکھ کر دیتا ہوں۔ یہ خط لے جا کر دربار میں ملکہ اور اس کے درباریوں کے سامنے پھینک دو۔ پھر انتظار کی خاطر ایک طرف ہٹ جاؤ۔ پھر دیکھنا کہ اس خط کا ان پر رد عمل کیا ہوتا ہے۔ اور واپس آ کر مجھے اس رد عمل کے مطابق اطلاع بھی دو۔ اس سے جہاں یہ بات معلوم ہو جائے گی کہ اس یقینی خبر کو ہم تک پہنچانے میں کہاں تک سچے ہو۔ وہاں ان لوگوں کے رد عمل سے یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ وہ لوگ کس ذہنیت کے مالک ہیں۔
ہدہد کی عقلی تاویل اور اس کا جواب:۔
بعض عقل پرست نے اس ہدہد کی پیغام رسانی کے قصہ کو بھی عقل کے مطابق بنانے کی کوشش فرمائی ہے۔ جن لوگوں نے طیر سے طیارے مراد لیا، ان کا کہنا یہ ہے کہ یہ ہدہد اس طیارے کا پائلٹ تھا۔ اور جن لوگوں نے طیر کے معنی طیارہ لینا حماقت سمجھا وہ کہتے ہیں کہ ہدہد کسی فوجی افسر کا نام تھا۔ اور یہ دستور ہر جگہ پایا جاتا ہے کہ لوگ بعض انسانوں کے نام درختوں یا پرندوں کے نام رکھ لیتے ہیں۔ اس توجیہ میں یہاں تک تو بات کسی حد تک قابل تسلیم ہے۔ اب مشکل یہ پیش آتی ہے کہ سلیمانؑ ہدہد سے کہتے ہیں کہ میرا یہ خط لے جا اور ان کے آگے پھینک دے یا ڈال دے۔ ﴿فَاَلْقِهْ اِلَيْهِمْ یہ کام پرندہ تو کر سکتا ہے۔ لیکن کوئی انسان سفیر کی حیثیت سے جا کر اگر ایسا کام کرے تو یہ انتہائی بد تمیزی کی بات ہو گی اور کچھ عجب نہیں کہ وہ اس بد تمیزی کی پاداش میں قید میں ڈال دیا جائے یا قتل ہی کر ڈالا جائے۔ دوسری مشکل یہ پیش آتی ہے کہ حضرت سلیمانؑ ہدہد کو یہ ہدایت کرتے ہیں کہ یہ خط ان کے آگے پھینک دے۔ پھر ان سے پرے ہٹ کر دیکھ کہ اس خط کا ان پر رد عمل کیا ہوتا ہے؟ اب تو یہ ظاہر ہے کہ کوئی بھی حکومت کسی غیر ملکی سفیر کے سامنے اپنے اندرونی معاملات کے مشورے نہیں کر سکتی۔ البتہ کسی پرندہ کی صورت میں یہ بات ممکن ہے۔ ہمارے خیال میں ان لوگوں کی یہ تاویلات خود ان کی اپنی ذات کو بھی مطمئن نہیں کر سکتیں۔ چہ جائیکہ دوسرے ان سے مطمئن ہوں۔ کیونکہ قرآن کے الفاظ پکار پکار کر ایسے لوگوں کی تاویلات کی تردید کر رہے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

تحقیق شروع ہو گئی ٭٭
ہدہد کی خبر سنتے ہی سلیمان علیہ السلام نے اس کی تحقیق شروع کر دی کہ اگر یہ سچا ہے تو قابل معافی ہے اور اگر جھوٹا ہے تو قابل سزا ہے۔ اسی سے فرمایا کہ میرا یہ خط بلقیس کو جو وہاں کی فرمانروا ہے دے آ۔ اس خط کو چونچ میں لے کر یا پر سے بندھواکر ہدہد اڑا۔ وہاں پہنچ کر بلقیس کے محل میں گیا وہ اس وقت خلوت خانہ میں تھی۔ اس نے ایک طاق میں سے وہ خط اس کے سامنے رکھا اور ادب کے ساتھ ایک طرف ہو گیا۔
اسے سخت تعجب معلوم ہوا حیرت ہوئی اور ساتھ ہی کچھ خوف زدہ بھی ہوئی۔ خط کو اٹھا کر مہر توڑ کر خط کھول کر پڑھا اس کے مضمون سے واقف ہو کر اپنے امراء وزراء سردار اور رؤسا کو جمع کیا اور کہنے لگی کہ ایک باوقعت خط میرے سامنے ڈالا گیا ہے اس خط کا باوقعت ہونا اس پر اس سے بھی ظاہر ہو گیا تھا کہ ایک جانور اسے لاتا ہے وہ ہوشیاری اور احتیاط سے پہنچاتا ہے۔ سامنے با ادب رکھ کر ایک طرف ہو جاتا ہے تو جان گئی تھی کہ یہ خط مکرم ہے اور کسی باعزت شخص کا بھیجا ہوا ہے۔
پھر خط کامضمون سب کو پڑھ کرسنایا کہ یہ خط سلیمان علیہ السلام کا ہے اور اس کے شروع میں «‏‏‏‏بسم اللہ الرحمن الرحیم» لکھا ہوا ہے ساتھ ہی مسلمان ہونے اور تابع فرمان بننے کی دعوت ہے۔ اب سب نے پہچان لیا کہ یہ اللہ کے پیغمبر کا دعوت نامہ ہے اور ہم میں سے کسی میں ان کے مقابلے کی تاب وطاقت نہیں۔
پھر خط کی بلاغت اختصار اور وضاحت نے سب کو حیران کر دیا یہ مختصر سی عبارت بہت سی باتوں سے سوا ہے۔ دریا کو کوزہ میں بند کر دیا ہے علماء کرام کا مقولہ ہے کہ سلیمان علیہ السلام سے پہلے کسی نے خط میں «بسم اللہ الرحمن الرحیم» نہیں لکھی۔
ایک غریب اور ضعیف حدیث ابن ابی حاتم میں ہے { سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہا تھا کہ آپ نے فرمایا میں ایک ایسی آیت جانتا ہوں جو مجھ سے پہلے سلیمان بن داؤد علیہ السلام کے بعد کسی نبی پر نہیں اتری میں نے کہا حضور وہ کون سی آیت ہے؟ آپ نے فرمایا مسجد سے جانے سے پہلے ہی میں تجھے بتا دوں گا اب آپ نکلنے لگے ایک پاؤں مسجد سے باہر رکھ بھی دیامیرے جی میں آیا شاید آپ بھول گئے۔ اتنے میں آپ نے یہی آیت پڑھی۔ } ۱؎ [ضعیف:اس میں عبدالکریم راوی ضعیف ہے]‏‏‏‏
اور روایت میں ہے کہ { جب تک یہ آیت نہیں اتری تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دعا «باسمک اللہم» تحریر فرمایا کرتے تھے۔ جب یہ آیت اتری آپ نے «بسم اللہ الرحمن الرحیم» لکھنا شرع کیا۔ } خط کا مضمون صرف اسی قدر تھا کہ میرے سامنے سرکشی نہ کرو مجھے مجبور نہ کرو میری بات مان لو تکبر سے کام نہ لو موحد مخلص مطیع بن کر میرے پاس چلی آؤ۔