ترجمہ و تفسیر — سورۃ النمل (27) — آیت 24

وَجَدۡتُّہَا وَ قَوۡمَہَا یَسۡجُدُوۡنَ لِلشَّمۡسِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَ زَیَّنَ لَہُمُ الشَّیۡطٰنُ اَعۡمَالَہُمۡ فَصَدَّہُمۡ عَنِ السَّبِیۡلِ فَہُمۡ لَا یَہۡتَدُوۡنَ ﴿ۙ۲۴﴾
میں نے اسے اور اس کی قوم کو پایا کہ وہ اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں اور شیطان نے ان کے لیے ان کے اعمال مزین کر دیے ہیں، پس انھیں اصل راستے سے روک دیا ہے، پس وہ ہدایت نہیں پاتے۔ En
میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم خدا کو چھوڑ کر آفتاب کو سجدہ کرتے ہیں اور شیطان نے ان کے اعمال انہیں آراستہ کر دکھائے ہیں اور ان کو رستے سے روک رکھا ہے پس وہ رستے پر نہیں آئے
En
میں نے اسے اور اس کی قوم کو، اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر سورج کو سجده کرتے ہوئے پایا، شیطان نے ان کے کام انہیں بھلے کرکے دکھلا کر صحیح راه سے روک دیا ہے۔ پس وه ہدایت پر نہیں آتے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 24) {وَجَدْتُّهَا وَ قَوْمَهَا يَسْجُدُوْنَ لِلشَّمْسِ …:} یعنی ہر قسم کی نعمت میسر ہونے پر لازم تھا کہ وہ ان نعمتوں کے عطا کرنے والے کی عبادت کرتے اور اسی کو سجدہ کرتے، مگر میں نے دیکھا کہ اس کے بجائے وہ اور اس کی قوم سورج کو سجدہ کرتے ہیں اور شیطان نے ان کے لیے ان کے اعمال خوش نما بنا دیے ہیں اور انھیں اصل راستے سے روک دیا ہے، لہٰذا وہ ہدایت نہیں پاتے۔ یعنی ان کے ہدایت نہ پانے کی وجہ یہ ہے کہ شیطان نے ان کی نگاہ میں سورج کی پرستش مزین کر دی ہے، اس لیے وہ اپنے آپ کو حق پر سمجھ رہے ہیں۔ اب غلط راستے پر چلنے والا کوئی شخص یقین کر لے کہ میں صحیح جا رہا ہوں اور غلطی بتانے والے کی دشمنی پر اتر آئے تو وہ کبھی سیدھے راستے پر نہیں آ سکتا۔ یہ کہہ کر ہد ہد نے گویا سلیمان علیہ السلام کو اس قوم سے جہاد کرنے کی طرف توجہ دلائی۔ یہاں اعمال مزین کرنے کی نسبت شیطان کی طرف فرمائی ہے، کیونکہ وہ لوگوں کی نگاہ میں گناہ کو مزین کرتا ہے۔ دوسری جگہ کفار کے لیے اعمال مزین کرنے کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف فرمائی ہے، جیسا کہ اسی سورت کی آیت (۴) میں ہے، کیونکہ مخلوق کے ہر عمل کا خالق اللہ تعالیٰ ہے۔ ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کو مخاطب کرکے فرمایا تھا: «{وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ وَ مَا تَعْمَلُوْنَ [الصافات: ۹۶] حالانکہ اللہ ہی نے تمھیں پیدا کیا اور اسے بھی جو تم کرتے ہو۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

24-1اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح پرندوں کو یہ شعور ہے کہ غیب کا علم انبیاء بھی نہیں جانتے، جیسا کہ ہدہد نے حضرت سلیمان ؑ کو کہا کہ میں ایک ایسی اہم خبر لایا ہوں جس سے آپ بھی بیخبر ہیں، اسی طرح وہ اللہ کی وحدانیت کا احساس و شعور بھی رکھتے ہیں۔ اسی لئے یہاں ہدہد نے حیرت واستعجاب کے انداز میں کہا کہ یہ ملکہ اور اس کی قوم اللہ کے بجائے، سورج کی پجاری ہے اور شیطان کے پیچھے لگی ہوئی ہے۔ جس نے ان کے لئے سورج کی عبادت کو بھلا کر کے دکھلایا ہوا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

24۔ میں نے (یہ بھی) دیکھا کہ وہ خود اور اس کی قوم اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے ہیں اور شیطان نے ان کے لئے ان کے اعمال [25] کو آراستہ کر کے انھیں راہ (حق) سے روک دیا ہے، لہذا وہ راہ (حق) نہیں پا رہے۔
[25] اہل سبا کی سورج پرستی:۔
یعنی یہ لوگ سورج پرست بھی ہیں اور آخرت کے منکر بھی۔ لہٰذا وہ اپنی ساری کوششیں زیادہ سے زیادہ دولت کمانے اور اپنا معیار زندگی بلند کرنے میں صرف کر رہے ہیں۔ اور اسی کام کو اپنی زندگی کا منتہائے مقصد سمجھے بیٹھے ہیں اور شیطان نے انھیں یہی بات سمجھائی ہے کہ ان کی عقلی اور فکری قوتوں کا یہی بہترین مصرف ہے کہ وہ اپنی اس دنیا کی زندگی کو زیادہ سے زیادہ شاندار بنائیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔