ترجمہ و تفسیر — سورۃ النمل (27) — آیت 23

اِنِّیۡ وَجَدۡتُّ امۡرَاَۃً تَمۡلِکُہُمۡ وَ اُوۡتِیَتۡ مِنۡ کُلِّ شَیۡءٍ وَّ لَہَا عَرۡشٌ عَظِیۡمٌ ﴿۲۳﴾
بے شک میں نے ایک عورت کو پایا کہ ان پر حکومت کر رہی ہے اور اسے ہر چیز میں سے حصہ دیا گیا ہے اور اس کا ایک بڑا تخت ہے۔ En
میں نے ایک عورت دیکھی کہ ان لوگوں پر بادشاہت کرتی ہے اور ہر چیز اسے میسر ہے اور اس کا ایک بڑا تخت ہے
En
میں نے دیکھا کہ ان کی بادشاہت ایک عورت کر رہی ہے جسے ہر قسم کی چیز سے کچھ نہ کچھ دیا گیا ہے اور اس کا تخت بھی بڑی عظمت واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 23) ➊ { اِنِّيْ وَجَدْتُّ امْرَاَةً تَمْلِكُهُمْ:} ہُد ہُد کے لیے یہ بات بڑے تعجب کی تھی کہ کسی قوم کی بادشاہ ایک عورت ہو۔ ابوبکرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر پہنچی کہ اہلِ فارس نے کسریٰ کی بیٹی کو اپنا بادشاہ بنا لیا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَنْ يُّفْلِحَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَهُمُ امْرَأَةً] [بخاري، المغازي، باب کتاب النبي صلی اللہ علیہ وسلم إلٰی کسرٰی و قیصر: ۴۴۲۵، ۷۰۹۹] وہ قوم کبھی فلاح نہیں پائے گی جنھوں نے اپنے معاملے کا والی ایک عورت کو بنا دیا۔
➋ { وَ اُوْتِيَتْ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ:} یعنی اسے سلطنت کے لیے درکار ہر چیز دی گئی ہے۔ { كُلِّ } کا مفہوم ہر مقام کی مناسبت سے متعین ہوتا ہے، ورنہ اسے ہر چیز تو نہیں دی گئی تھی۔
➌ اس عورت کا نام مفسرین نے بلقیس بیان کیا ہے، بعض نے لکھا ہے کہ اس کی ماں جنوں سے تھی، مگر یہ بات قرآن یا حدیث سے ثابت نہیں، اگر ضرورت ہوتی تو قرآن میں اس کا نام ضرور بیان ہوتا اور انسانوں اور جنوں کی اس رشتہ داری کا ذکر بھی ہوتا۔ یقینا اس کا نام و نسب ذکر نہ کرنے ہی میں حکمت ہے۔ اس لیے آپ اسے بلقیس کے بجائے ملکہ سبا کہہ سکتے ہیں۔
➍ اسرائیلیات میں کس قدر مبالغہ ہوتا ہے، خواہ بیان کرنے والے کتنے ثقہ اور کس پائے کے ہوں، اس کا اندازہ مفسرین کے ان بیانات سے ہوتا ہے جن میں انھوں نے ملکہ سبا کی افواج کی تعداد بیان کی ہے۔ تفسیر ابن کثیر میں سے اس کے متعلق تین اقوال ملاحظہ فرمائیں: (1) ابن ابی حاتم نے ابن عباس رضی اللہ عنھما سے بیان کیا ہے کہ سلیمان علیہ السلام کے معاملے والی خاتون کے ساتھ ایک ہزار سردار تھے اور ہر سردار کے تحت ایک لاکھ جنگجو تھے (کل تعداد دس کروڑ ہوئی)۔ (2) مجاہد نے کہا، ملکہ سبا کے تحت بارہ ہزار سردار تھے اور ہر سردار کے تحت ایک لاکھ جنگجو تھے (کل تعداد ایک ارب بیس کروڑ)۔ (3) قتادہ نے کہا، اس کے مشیر تین سو بارہ آدمی تھے، ہر آدمی دس ہزار پر امیر تھا (کل تعداد اکتیس لاکھ بیس ہزار)۔ ابن کثیر نے فرمایا: یہ قول زیادہ قریب ہے، اگرچہ ملک یمن کے لحاظ سے یہ بھی بہت زیادہ ہے۔
یہ روایات اگرچہ ابن عباس رضی اللہ عنھما، مجاہد اور قتادہ سے آئی ہیں، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی نہیں۔ ان کا اسرائیلی ہونا ظاہر ہے اور ابن کثیر نے دو لفظوں میں ان کا ساقط الاعتبار ہونا بیان فرما دیا ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ اتنی فوج تو بہت دور کی بات ہے، آیا اس وقت ملک یمن یا شاید پوری دنیا کی آبادی بھی ایک ارب بیس کروڑ تھی؟ اس سے پہلے سلیمان علیہ السلام کے لشکروں کی تعداد بھی مفسرین نے اسی انداز سے بیان کی ہے اور کئی مفسرین نے ناقابل اعتبار کہہ کر اسے نقل نہیں کیا۔ بہرحال { وَ اُوْتِيَتْ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ } سے یہ ظاہر ہے کہ ملکہ عظیم الشان سلطنت کی مالک تھی اور اسے مال و دولت، افواج اور اسلحہ وغیرہ کی تمام چیزیں میسر تھیں، جو حکومت کے لیے درکار ہوتی ہیں۔
➎ { وَ لَهَا عَرْشٌ عَظِيْمٌ:} ہُد ہُد نے اس کے تخت کا خاص طور پر ذکر کیا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس تخت میں کوئی ایسی خوبی تھی کہ سلیمان علیہ السلام جیسے شان و شوکت والے بادشاہ کے ساتھ رہنے والے ہد ہد نے بھی اسے عظیم قرار دیا۔ یہاں بھی بعض مفسرین نے ایسی اسرائیلی روایات ذکر کی ہیں جو پہلی ہی نظر میں فضول دکھائی دیتی ہیں، مثلاً یہ کہ وہ اسی (۸۰) ہاتھ (۱۲۰ فٹ) لمبا اور چالیس (۴۰) ہاتھ (۶۰ فٹ) چوڑا تھا۔ بھلا ایک عورت کو بیٹھنے کے لیے اتنے لمبے چوڑے تخت کی کیا ضرورت تھی۔ طبری نے یہاں بہت خوب صورت بات فرمائی ہے کہ عظیم سے مراد یہاں قدر و قیمت میں عظیم ہونا ہے، نہ کہ لمبا چوڑا ہونے میں عظیم ہونا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

23-1یعنی ہدہد کے لئے بھی یہ امر باعث تعجب تھا کہ سبا میں ایک عورت حکمران ہے۔ لیکن آجکل کہا جاتا ہے کہ عورتیں بھی ہر معاملے میں مردوں کے برابر ہیں۔ اگر مرد حکمران ہوسکتا ہے تو عورت کیوں نہیں ہوسکتی، حالانکہ یہ نظریہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ عورت کی سربراہی کے عدم جواز پر قرآن و حدیث میں واضح دلائل موجود ہیں۔ 23-2کہا جاتا ہے کہ اس کا طول80ہاتھ اور عرض40ہاتھ اور انچائی30ہاتھ تھی اور اس میں موتی، سرخ یا قوت اور سبز زمرد جڑے ہوئے تھے، واللہ اعلم۔ (فتح القدیر) ویسے یہ قول مبالغے سے خالی نہیں معلوم ہوتا۔ یمن میں بلقیس کا جو محل ٹوٹی پھوٹی شکل میں موجود ہے اس میں اتنے بڑے تخت کی گنجائش نہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

23۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ان پر حکمرانی کرتی ہے جسے سب کچھ عطا کیا گیا ہے اور اس کا تخت عظیم الشان ہے

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

ہدہد کی غیر حاضری ٭٭
ہدہد کی غیر حاضری کو تھوڑی سی دیر گزری تھی جو وہ آ گیا۔ اس نے کہا کہ اے نبی اللہ علیہ السلام جس بات کی آپ کو خبر بھی نہیں میں اس کی ایک نئی خبر لے کر آپ کے پاس حاضر ہوا ہوں۔ میں سبا سے آ رہا ہوں اور پختہ یقینی خبر لایا ہوں۔ ان کے سباحمیر تھے اور یہ یمن کے بادشاہ تھے۔ ایک عورت ان کی بادشاہت کر رہی ہے اس کا نام بلقیس بنت شرجیل تھا یہ سب کی ملکہ تھی۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں۔ اس کی ماں جنیہ عورت تھی اس کے قدم کا پچھلا حصہ چوپائے کے کھر جیسا تھا۔
اور روایت میں ہے اس کی ماں کا نام رفاعہ تھا ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں ان کے باپ کا نام ذی شرخ تھا اور ماں کا نام بلتغہ تھا لاکھوں کا اس کا لشکر تھا۔ اس کی بادشاہی ایک عورت کے ہاتھ میں ہے اس کے مشیر وزیر تین سو بارہ شخص ہیں ان میں سے ہر ایک کے ماتحت بارہ ہزار کی جمعیت ہے اس کی زمین کا نام مارب ہے یہ صنعاء سے تین میل کے فاصلہ پر ہے یہی قول قرین قیاس ہے اس کا اکثر حصہ مملکت یمن ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ہر قسم کا دنیوی ضروری اسباب اسے مہیا ہے اس کا نہایت ہی شاندار تخت ہے جس پر وہ جلوس کرتی ہے۔ سونے سے منڈھا ہوا ہے اور جڑاؤ اور مروارید کی کاریگری اس پر ہوئی ہے۔ یہ اسی (‏‏‏‏80)‏‏‏‏‏‏‏‏ ہاتھ اونچا اور چالیس(‏‏‏‏40)‏‏‏‏‏‏‏‏ ہاتھ چوڑا تھا۔ چھ سو عورتیں ہر وقت اس کی خدمت میں کمربستہ رہتی تھیں اس کا دیوان خاص جس میں یہ تخت تھا بہت بڑا محل تھا بلند وبالاکشادہ اور فراخ پختہ مضبوط اور صاف جس کے مشرقی حصہ میں تین سو ساٹھ طاق تھے اور اتنے ہی مغربی حصے میں۔
اسے اس صنعت سے بنایا تھا کہ ہر دن سورج ایک طاق سے نکلتا اور اسی کے مقابلہ کے طاق سے غروب ہوتا۔ اہل دربار صبح و شام اس کوسجدہ کرتے۔ راجا پر جا سب آفتاب پرست تھے اللہ کا عابد ان میں ایک بھی نہ تھا شیطان نے برائیاں انہیں اچھی کر دکھائی تھیں اور ان پر حق کا راستہ بند کر رکھا تھا وہ راہ راست پر آتے ہی نہ تھے۔ راہ راست یہ ہے کہ سورج چاند اور ستاروں کی بجائے صرف اللہ ہی کی ذات کو سجدے کے لائق ماناجائے۔
جیسے فرمان قرآن ہے «وَمِنْ آيَاتِهِ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ ۚ لَا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوا لِلَّـهِ الَّذِي خَلَقَهُنَّ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ» ۱؎ [41-فصلت:37]‏‏‏‏ ’ کہ رات دن سورج چاند سب قدرت اللہ کی نشانیاں ہیں۔ تمہیں سورج چاند کو سجدہ نہ کرنا چاہیئے سجدہ صرف اسی اللہ کو کرنا چاہیئے جو ان سب کا خالق ہے۔ ‘
آیت «الا یسجدوا» کی ایک قرأت «الایا اسجدوا» بھی ہے۔ یا کہ بعد کا منادیٰ محذوف ہے یعنی اے میری قوم خبردار سجدہ اللہ ہی کے لیے کرنا جو آسمان کی زمین کی ہر ہر پوشیدہ چیز سے باخبر ہے۔ «خب» کی تفسیر پانی اور بارش اور پیداوار سے بھی کی گئی ہے۔
کیا عجب کہ ہدہد کی جس میں یہی صفت تھی یہی مراد ہو۔ «‏‏‏‏سَوَاءٌ مِّنكُم مَّنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَن جَهَرَ بِهِ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِاللَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ» ‏‏‏‏ ۱؎ [13-الرعد:10]‏‏‏‏ اور تمہارے ہر مخفی اور ظاہر کام کو بھی وہ جانتا ہے۔ کھلی چھپی بات اس پر یکساں ہے وہی تنہا معبود برحق ہے وہی عرش عظیم کا رب ہے جس سے بڑی کوئی چیز نہیں۔
چونکہ ہدہد خیر کی طرف بلانے والا ایک اللہ کی عبادت کا حکم دینے وال اس کے سوا غیر کے سجدے سے روکنے والا تھا اسی لیے اس کے قتل کی ممانعت کر دی گئی۔ مسند احمد , ابوداؤد , ابن ماجہ میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار جانوروں کا قتل منع فرما دیا۔ چیونٹی شہد کی مکھی ہدہد اور صرد یعنی لٹورا۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:5267،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏