فَمَکَثَ غَیۡرَ بَعِیۡدٍ فَقَالَ اَحَطۡتُّ بِمَا لَمۡ تُحِطۡ بِہٖ وَ جِئۡتُکَ مِنۡ سَبَاٍۭ بِنَبَاٍ یَّقِیۡنٍ ﴿۲۲﴾
پس وہ کچھ دیر ٹھہرا، جو زیادہ نہ تھی، پھر اس نے کہا میں نے اس بات کا احاطہ کیا ہے جس کا احاطہ تو نے نہیں کیا اور میں تیرے پاس سبا سے ایک یقینی خبر لایا ہوں۔
En
ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ ہُدہُد آ موجود ہوا اور کہنے لگا کہ مجھے ایک ایسی چیز معلوم ہوئی ہے جس کی آپ کو خبر نہیں اور میں آپ کے پاس (شہر) سبا سے ایک سچی خبر لے کر آیا ہوں
En
کچھ زیاده دیر نہ گزری تھی کہ آ کر اس نے کہا میں ایک ایسی چیز کی خبر ﻻیا ہوں کہ تجھے اس کی خبر ہی نہیں، میں سبا کی ایک سچی خبر تیرے پاس ﻻیا ہوں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 22) ➊ { فَمَكَثَ غَيْرَ بَعِيْدٍ …:} احاطہ کا معنی کسی چیز کا پورا علم اور مکمل معلومات ہوتا ہے۔ ہُد ہُد کو بھی فکر تھی کہ غیر حاضری کی کیا سزا ہو سکتی ہے، اس لیے وہ تھوڑی ہی دیر میں حاضر ہو گیا اور اپنی غیر حاضری کا عذر بیان کرنے لگا۔ سب سے پہلے اس نے سلیمان علیہ السلام کے دل میں اس خبر کا تجسس اور شوق پیدا کیا جو وہ سنانے چلا تھا، چنانچہ اس نے کہا کہ میں نے اس بات کی مکمل معلومات حاصل کر لی ہیں جس کی مکمل معلومات آپ کے پاس نہیں اور میں سبا سے ایک یقینی خبر لے کر آیا ہوں۔
➋ اس سے معلوم ہوا کہ سلیمان علیہ السلام کو سبا کے پورے حالات معلوم نہ تھے۔ شاہ عبد القادر لکھتے ہیں: ”سلیمان علیہ السلام کو اس ملک کا حال مفصل نہ پہنچا تھا، اب پہنچا۔“ (موضح) یہاں ایک سوال ہے کہ اتنی عظیم الشان سلطنت کے باوجود سلیمان علیہ السلام کو سبا اور یمن کا علم کیوں نہ ہوا؟ جواب یہ ہے کہ یہ بات درست نہیں کہ سلیمان علیہ السلام کو یمن کا علم نہ تھا، بات صرف یہ ہے کہ وہ دوسرے علاقوں کے معاملات میں مصروفیت کی وجہ سے اس کی طرف پوری توجہ نہیں کر سکے تھے۔ اس لیے ہُد ہُد نے جو چشم دید حالات بیان کیے، وہ اس سے پہلے انھیں معلوم نہیں ہو سکے تھے۔ ہُد ہُد نے بھی احاطہ علم کی نفی کی ہے، علم کی نفی نہیں کی۔ اس کے علاوہ ہُد ہُد نے عورت کے حکمران ہونے اور اس کی اور اس کی قوم کی آفتاب پرستی کو زیادہ نمایاں کیا، کیونکہ اس کے نزدیک ان میں سے کوئی بات بھی قابل برداشت نہیں تھی۔
➌ سلیمان علیہ السلام وہ عظیم پیغمبر تھے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: «{ وَ لَقَدْ اٰتَيْنَا دَاوٗدَ وَ سُلَيْمٰنَ عِلْمًا }» [النمل: ۱۵] ” اور بلاشبہ یقینا ہم نے داؤد اور سلیمان کو ایک علم دیا۔“ ان کے مقابلے میں علمی لحاظ سے ہُد ہُد کی کوئی حیثیت نہ تھی، اس کے باوجود ہُد ہُد نے دعوے سے کہا کہ میں نے اس بات کا احاطہ کیا ہے جس کا آپ نے احاطہ نہیں کیا۔ سلیمان علیہ السلام اس پر نہ ناراض ہوئے، نہ اسے گستاخ قرار دیا۔ اس سے معلوم ہوا ایک کم مرتبہ شخص کو کوئی ایسی بات معلوم ہو سکتی ہے جو اس سے عالی مرتبے والے کو معلوم نہ ہو، مثلاً یہ مسئلہ کہ اجازت تین دفعہ مانگی جاتی ہے، اس کے بعد واپس چلے جانا چاہیے، عمر رضی اللہ عنہ کو معلوم نہ تھا، ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو معلوم تھا۔ [دیکھیے أبوداوٗد: ۵۱۸۰] جنابت کے لیے تیمم کا مسئلہ عمار بن یاسر رضی اللہ عنھما کو یاد رہا، عمر اور ابن مسعود رضی اللہ عنھما کے ذہن میں نہ رہا۔ چنانچہ وہ جنبی کے لیے تیمم کے قائل نہیں تھے۔ [دیکھیے بخاري: ۳۴۶، ۳۴۷] وہ درخت جو مسلم کی مانند ہے، ابوبکر و عمر رضی اللہ عنھما اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس کے دوسرے حاضرین کے ذہن میں نہ آیا، ابن عمر رضی اللہ عنھما کے ذہن میں آ گیا۔ [دیکھیے بخاري: ۶۱] صحیح بخاری کی ایک حدیث ہے: [أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی يَشْهَدُوْا أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰهِ وَ يُقِيْمُوا الصَّلَاةَ وَ يُؤْتُوا الزَّكَاةَ] یہ حدیث ابن عمر رضی اللہ عنھما کو معلوم تھی، ابو بکر و عمر رضی اللہ عنھما کو معلوم نہ تھی۔ اس پر حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں: ”اس قصے میں دلیل ہے کہ سنت بعض اوقات اکابر صحابہ سے مخفی رہ جاتی ہے اور دوسرے صحابہ اس پر مطلع ہو جاتے ہیں، اس لیے آراء کی طرف توجہ نہیں کی جائے گی، خواہ وہ کتنی قوی ہوں، جب ان کے خلاف سنت موجود ہو اور یہ نہیں کہا جائے گا کہ یہ سنت فلاں سے کیسے مخفی رہ گئی؟“ (واللہ الموفق) [فتح الباري، الإیمان، باب: «فإن تابوا و أقاموا الصلاۃ…» ، تحت ح: ۲۵]
➍ فروہ بن مُسَیْک مرادی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب سبا کے بارے میں آیات نازل ہوئیں، (جیسے سبا: ۱۵) تو ایک آدمی نے کہا: ”یا رسول اللہ! یہ سبا کیا ہے، کوئی زمین ہے یا کوئی عورت ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَيْسَ بِأَرْضٍ وَلَا امْرَأَةٍ وَلٰكِنَّهُ رَجُلٌ وَلَدَ عَشْرَةً مِنَ الْعَرَبِ، فَتَيَامَنَ مِنْهُمْ سِتَّةٌ وَ تَشَاءَمَ مِنْهُمْ أَرْبَعَةٌ، فَأَمَّا الَّذِيْنَ تَشَاءَمُوْا: فَلَخْمٌ وَ جُذَامٌ وَ غَسَّانُ وَ عَامِلَةُ، وَ أَمَّا الَّذِيْنَ تَيَامَنُوْا فَالْأَزْدُ وَالْأَشْعَرِيُّوْنَ وَحِمْيَرٌ وَكِنْدَةُ وَمَذْحِجٌ وَأَنْمَارٌ، فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! وَمَا أَنْمَارُ؟ قَالَ: الَّذِيْنَ مِنْهُمْ خَثْعَمٌ وَبَجِيْلَةُ] [ترمذي، تفسیر القرآن، باب و من سورۃ سبا: ۳۲۲۲، قال الألباني صحیح حسن] ”نہ وہ زمین ہے نہ عورت، بلکہ عرب کا ایک آدمی تھا جس کے ہاں دس بچے پیدا ہوئے، ان میں سے چھ یمن میں چلے گئے اور چار شام کو چلے گئے۔ جو لوگ شام میں گئے تھے وہ یہ ہیں: لخم، جذام، غسان اور عاملہ اور جو یمن میں گئے تھے وہ یہ ہیں: ازد، اشعرون، حمیر، مذحج اور انمار۔“ اس نے پوچھا: ”یا رسول اللہ! انمار سے مراد کون ہیں؟“ فرمایا: ”وہی جن میں سے خثعم اور بجیلہ ہیں۔“ بعد میں اس قوم کا اور یمن کے اس شہر کا نام بھی سبا پڑ گیا، جیسا کہ اس آیت میں ہے۔ یہ شہر یمن کے موجودہ دار الحکومت صنعاء سے تقریباً پچیس میل کے فاصلے پر واقع تھا۔
➎ یہاں ایک لطیف نکتہ ہے کہ سلیمان علیہ السلام نبی تھے، مگر یہ {” نَبَأٌ “} (خبر) ان کے پاس نہ تھی۔ ہد ہد نبی نہ تھا، مگر یہ {” نَبَأٌ “} (خبر) اس کے پاس تھی۔ معلوم ہوا نبی کے پاس ہر {” نَبَأٌ“} نہیں ہوتی، نہ وہ عالم الغیب ہوتا ہے، بلکہ اس کے پاس صرف اتنی {” نَبَأٌ “} ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ اسے بتا دے اور صرف کسی {” نَبَأٌ “} سے کوئی شخص نبی نہیں بن جاتا، جب تک اسے وحی الٰہی سے خبر نہ دی جاتی ہو۔ (الشیخ محمد حسین شیخوپوری رحمہ اللہ)
➏ اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ حکمران کو حالات سے باخبر رہنے کے لیے تمام اطراف میں جاسوس مقرر کرنے ضروری ہیں۔
➋ اس سے معلوم ہوا کہ سلیمان علیہ السلام کو سبا کے پورے حالات معلوم نہ تھے۔ شاہ عبد القادر لکھتے ہیں: ”سلیمان علیہ السلام کو اس ملک کا حال مفصل نہ پہنچا تھا، اب پہنچا۔“ (موضح) یہاں ایک سوال ہے کہ اتنی عظیم الشان سلطنت کے باوجود سلیمان علیہ السلام کو سبا اور یمن کا علم کیوں نہ ہوا؟ جواب یہ ہے کہ یہ بات درست نہیں کہ سلیمان علیہ السلام کو یمن کا علم نہ تھا، بات صرف یہ ہے کہ وہ دوسرے علاقوں کے معاملات میں مصروفیت کی وجہ سے اس کی طرف پوری توجہ نہیں کر سکے تھے۔ اس لیے ہُد ہُد نے جو چشم دید حالات بیان کیے، وہ اس سے پہلے انھیں معلوم نہیں ہو سکے تھے۔ ہُد ہُد نے بھی احاطہ علم کی نفی کی ہے، علم کی نفی نہیں کی۔ اس کے علاوہ ہُد ہُد نے عورت کے حکمران ہونے اور اس کی اور اس کی قوم کی آفتاب پرستی کو زیادہ نمایاں کیا، کیونکہ اس کے نزدیک ان میں سے کوئی بات بھی قابل برداشت نہیں تھی۔
➌ سلیمان علیہ السلام وہ عظیم پیغمبر تھے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: «{ وَ لَقَدْ اٰتَيْنَا دَاوٗدَ وَ سُلَيْمٰنَ عِلْمًا }» [النمل: ۱۵] ” اور بلاشبہ یقینا ہم نے داؤد اور سلیمان کو ایک علم دیا۔“ ان کے مقابلے میں علمی لحاظ سے ہُد ہُد کی کوئی حیثیت نہ تھی، اس کے باوجود ہُد ہُد نے دعوے سے کہا کہ میں نے اس بات کا احاطہ کیا ہے جس کا آپ نے احاطہ نہیں کیا۔ سلیمان علیہ السلام اس پر نہ ناراض ہوئے، نہ اسے گستاخ قرار دیا۔ اس سے معلوم ہوا ایک کم مرتبہ شخص کو کوئی ایسی بات معلوم ہو سکتی ہے جو اس سے عالی مرتبے والے کو معلوم نہ ہو، مثلاً یہ مسئلہ کہ اجازت تین دفعہ مانگی جاتی ہے، اس کے بعد واپس چلے جانا چاہیے، عمر رضی اللہ عنہ کو معلوم نہ تھا، ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو معلوم تھا۔ [دیکھیے أبوداوٗد: ۵۱۸۰] جنابت کے لیے تیمم کا مسئلہ عمار بن یاسر رضی اللہ عنھما کو یاد رہا، عمر اور ابن مسعود رضی اللہ عنھما کے ذہن میں نہ رہا۔ چنانچہ وہ جنبی کے لیے تیمم کے قائل نہیں تھے۔ [دیکھیے بخاري: ۳۴۶، ۳۴۷] وہ درخت جو مسلم کی مانند ہے، ابوبکر و عمر رضی اللہ عنھما اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس کے دوسرے حاضرین کے ذہن میں نہ آیا، ابن عمر رضی اللہ عنھما کے ذہن میں آ گیا۔ [دیکھیے بخاري: ۶۱] صحیح بخاری کی ایک حدیث ہے: [أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰی يَشْهَدُوْا أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللّٰهِ وَ يُقِيْمُوا الصَّلَاةَ وَ يُؤْتُوا الزَّكَاةَ] یہ حدیث ابن عمر رضی اللہ عنھما کو معلوم تھی، ابو بکر و عمر رضی اللہ عنھما کو معلوم نہ تھی۔ اس پر حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں: ”اس قصے میں دلیل ہے کہ سنت بعض اوقات اکابر صحابہ سے مخفی رہ جاتی ہے اور دوسرے صحابہ اس پر مطلع ہو جاتے ہیں، اس لیے آراء کی طرف توجہ نہیں کی جائے گی، خواہ وہ کتنی قوی ہوں، جب ان کے خلاف سنت موجود ہو اور یہ نہیں کہا جائے گا کہ یہ سنت فلاں سے کیسے مخفی رہ گئی؟“ (واللہ الموفق) [فتح الباري، الإیمان، باب: «فإن تابوا و أقاموا الصلاۃ…» ، تحت ح: ۲۵]
➍ فروہ بن مُسَیْک مرادی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب سبا کے بارے میں آیات نازل ہوئیں، (جیسے سبا: ۱۵) تو ایک آدمی نے کہا: ”یا رسول اللہ! یہ سبا کیا ہے، کوئی زمین ہے یا کوئی عورت ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [لَيْسَ بِأَرْضٍ وَلَا امْرَأَةٍ وَلٰكِنَّهُ رَجُلٌ وَلَدَ عَشْرَةً مِنَ الْعَرَبِ، فَتَيَامَنَ مِنْهُمْ سِتَّةٌ وَ تَشَاءَمَ مِنْهُمْ أَرْبَعَةٌ، فَأَمَّا الَّذِيْنَ تَشَاءَمُوْا: فَلَخْمٌ وَ جُذَامٌ وَ غَسَّانُ وَ عَامِلَةُ، وَ أَمَّا الَّذِيْنَ تَيَامَنُوْا فَالْأَزْدُ وَالْأَشْعَرِيُّوْنَ وَحِمْيَرٌ وَكِنْدَةُ وَمَذْحِجٌ وَأَنْمَارٌ، فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! وَمَا أَنْمَارُ؟ قَالَ: الَّذِيْنَ مِنْهُمْ خَثْعَمٌ وَبَجِيْلَةُ] [ترمذي، تفسیر القرآن، باب و من سورۃ سبا: ۳۲۲۲، قال الألباني صحیح حسن] ”نہ وہ زمین ہے نہ عورت، بلکہ عرب کا ایک آدمی تھا جس کے ہاں دس بچے پیدا ہوئے، ان میں سے چھ یمن میں چلے گئے اور چار شام کو چلے گئے۔ جو لوگ شام میں گئے تھے وہ یہ ہیں: لخم، جذام، غسان اور عاملہ اور جو یمن میں گئے تھے وہ یہ ہیں: ازد، اشعرون، حمیر، مذحج اور انمار۔“ اس نے پوچھا: ”یا رسول اللہ! انمار سے مراد کون ہیں؟“ فرمایا: ”وہی جن میں سے خثعم اور بجیلہ ہیں۔“ بعد میں اس قوم کا اور یمن کے اس شہر کا نام بھی سبا پڑ گیا، جیسا کہ اس آیت میں ہے۔ یہ شہر یمن کے موجودہ دار الحکومت صنعاء سے تقریباً پچیس میل کے فاصلے پر واقع تھا۔
➎ یہاں ایک لطیف نکتہ ہے کہ سلیمان علیہ السلام نبی تھے، مگر یہ {” نَبَأٌ “} (خبر) ان کے پاس نہ تھی۔ ہد ہد نبی نہ تھا، مگر یہ {” نَبَأٌ “} (خبر) اس کے پاس تھی۔ معلوم ہوا نبی کے پاس ہر {” نَبَأٌ“} نہیں ہوتی، نہ وہ عالم الغیب ہوتا ہے، بلکہ اس کے پاس صرف اتنی {” نَبَأٌ “} ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ اسے بتا دے اور صرف کسی {” نَبَأٌ “} سے کوئی شخص نبی نہیں بن جاتا، جب تک اسے وحی الٰہی سے خبر نہ دی جاتی ہو۔ (الشیخ محمد حسین شیخوپوری رحمہ اللہ)
➏ اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ حکمران کو حالات سے باخبر رہنے کے لیے تمام اطراف میں جاسوس مقرر کرنے ضروری ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
22-1احاطہ کے معنی ہیں کسی چیز کی بابت مکمل علم اور معرفت حاصل کرنا 22-2سَبَا ایک شخص کے نام پر ایک قوم کا نام بھی تھا اور ایک شہر کا بھی۔ یہاں شہر مراد ہے۔ یہ صنعا (یمن) سے تین دن کے فاصلے پر ہے اور مارب یمن کے نام سے معروف ہے (فتح القدیر)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
22۔ تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ (ہدہد آ گیا اور) کہنے لگا: ”میں نے وہ کچھ معلوم کیا ہے جو ابھی تک آپ کو معلوم نہیں، میں سبا [24] سے متعلق ایک یقینی خبر آپ کے پاس لایا ہوں
[24] سیدنا سلیمانؑ کی حدود سلطنت :۔
حضرت سلیمانؑ کی سلطنت فلسطین، شرق اردن اور شام کے کچھ علاقہ میں تھی۔ افریقہ میں بھی حبشہ اور مصر کا کچھ حصہ آپ کے زیر نگیں آگیا تھا۔ لیکن جنوبی یمن کا علاقہ آپ کی سلطنت سے بہت دور تھا۔ ہدہد حضرت سلیمانؑ کے لشکر سے غائب ہو کر یمن کے علاقہ سبا میں پہنچا تھا۔ یہاں کے لوگ تجارت پیشہ اور آسودہ حال تھے۔ کچھ دیر بعد ہدہد حضرت سلیمان کے پاس حاضر ہو گیا اور کہنے لگا کہ میں اہل سبا کے کچھ ایسے یقینی حالات معلوم کر کے آرہا ہوں جن کی تا حال آپ کو کچھ خبر نہیں ہے۔ اور وہ یقینی خبر یہ کہ سبا کا ملک ایک زرخیز و شاداب علاقہ ہے ان لوگوں کو وہاں سب ضروریات زندگی وافر مقدار میں میسر ہیں۔ ان لوگوں پر حکمران ایک عورت ہے۔ (ملکہ بلقیس) جو بڑے عالی شان تخت پر بیٹھ کر حکمرانی کر رہی ہے۔ اس کا تخت سونے کا ہے۔ جس میں ہیرے اور جواہرات جڑے ہوئے ہیں اور اس وقت ایسا تخت کسی بادشاہ کے پاس نہیں ہے۔ مذہبی لحاظ سے یہ لوگ مشرک اور آفتاب پرست ہیں۔ اور اپنے اس مذہب پر خوش اور نازاں ہیں۔ سورج پرستی کو نیکی اور ثواب کا کام سمجھتے ہیں۔ ہدہد نے یہ الفاظ کہہ کر گویا سلیمانؑ کو اس قوم پر جہاد کرنے کی ترغیب دی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ہدہد کی غیر حاضری ٭٭
ہدہد کی غیر حاضری کو تھوڑی سی دیر گزری تھی جو وہ آ گیا۔ اس نے کہا کہ اے نبی اللہ علیہ السلام جس بات کی آپ کو خبر بھی نہیں میں اس کی ایک نئی خبر لے کر آپ کے پاس حاضر ہوا ہوں۔ میں سبا سے آ رہا ہوں اور پختہ یقینی خبر لایا ہوں۔ ان کے سباحمیر تھے اور یہ یمن کے بادشاہ تھے۔ ایک عورت ان کی بادشاہت کر رہی ہے اس کا نام بلقیس بنت شرجیل تھا یہ سب کی ملکہ تھی۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں۔ اس کی ماں جنیہ عورت تھی اس کے قدم کا پچھلا حصہ چوپائے کے کھر جیسا تھا۔
اور روایت میں ہے اس کی ماں کا نام رفاعہ تھا ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں ان کے باپ کا نام ذی شرخ تھا اور ماں کا نام بلتغہ تھا لاکھوں کا اس کا لشکر تھا۔ اس کی بادشاہی ایک عورت کے ہاتھ میں ہے اس کے مشیر وزیر تین سو بارہ شخص ہیں ان میں سے ہر ایک کے ماتحت بارہ ہزار کی جمعیت ہے اس کی زمین کا نام مارب ہے یہ صنعاء سے تین میل کے فاصلہ پر ہے یہی قول قرین قیاس ہے اس کا اکثر حصہ مملکت یمن ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ہر قسم کا دنیوی ضروری اسباب اسے مہیا ہے اس کا نہایت ہی شاندار تخت ہے جس پر وہ جلوس کرتی ہے۔ سونے سے منڈھا ہوا ہے اور جڑاؤ اور مروارید کی کاریگری اس پر ہوئی ہے۔ یہ اسی (80) ہاتھ اونچا اور چالیس(40) ہاتھ چوڑا تھا۔ چھ سو عورتیں ہر وقت اس کی خدمت میں کمربستہ رہتی تھیں اس کا دیوان خاص جس میں یہ تخت تھا بہت بڑا محل تھا بلند وبالاکشادہ اور فراخ پختہ مضبوط اور صاف جس کے مشرقی حصہ میں تین سو ساٹھ طاق تھے اور اتنے ہی مغربی حصے میں۔
اسے اس صنعت سے بنایا تھا کہ ہر دن سورج ایک طاق سے نکلتا اور اسی کے مقابلہ کے طاق سے غروب ہوتا۔ اہل دربار صبح و شام اس کوسجدہ کرتے۔ راجا پر جا سب آفتاب پرست تھے اللہ کا عابد ان میں ایک بھی نہ تھا شیطان نے برائیاں انہیں اچھی کر دکھائی تھیں اور ان پر حق کا راستہ بند کر رکھا تھا وہ راہ راست پر آتے ہی نہ تھے۔ راہ راست یہ ہے کہ سورج چاند اور ستاروں کی بجائے صرف اللہ ہی کی ذات کو سجدے کے لائق ماناجائے۔
جیسے فرمان قرآن ہے «وَمِنْ آيَاتِهِ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ ۚ لَا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوا لِلَّـهِ الَّذِي خَلَقَهُنَّ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ» ۱؎ [41-فصلت:37] ’ کہ رات دن سورج چاند سب قدرت اللہ کی نشانیاں ہیں۔ تمہیں سورج چاند کو سجدہ نہ کرنا چاہیئے سجدہ صرف اسی اللہ کو کرنا چاہیئے جو ان سب کا خالق ہے۔ ‘
آیت «الا یسجدوا» کی ایک قرأت «الایا اسجدوا» بھی ہے۔ یا کہ بعد کا منادیٰ محذوف ہے یعنی اے میری قوم خبردار سجدہ اللہ ہی کے لیے کرنا جو آسمان کی زمین کی ہر ہر پوشیدہ چیز سے باخبر ہے۔ «خب» کی تفسیر پانی اور بارش اور پیداوار سے بھی کی گئی ہے۔
کیا عجب کہ ہدہد کی جس میں یہی صفت تھی یہی مراد ہو۔ «سَوَاءٌ مِّنكُم مَّنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَن جَهَرَ بِهِ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِاللَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ» ۱؎ [13-الرعد:10] اور تمہارے ہر مخفی اور ظاہر کام کو بھی وہ جانتا ہے۔ کھلی چھپی بات اس پر یکساں ہے وہی تنہا معبود برحق ہے وہی عرش عظیم کا رب ہے جس سے بڑی کوئی چیز نہیں۔
چونکہ ہدہد خیر کی طرف بلانے والا ایک اللہ کی عبادت کا حکم دینے وال اس کے سوا غیر کے سجدے سے روکنے والا تھا اسی لیے اس کے قتل کی ممانعت کر دی گئی۔ مسند احمد , ابوداؤد , ابن ماجہ میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار جانوروں کا قتل منع فرما دیا۔ چیونٹی شہد کی مکھی ہدہد اور صرد یعنی لٹورا۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:5267،قال الشيخ الألباني:صحیح]
آیت «الا یسجدوا» کی ایک قرأت «الایا اسجدوا» بھی ہے۔ یا کہ بعد کا منادیٰ محذوف ہے یعنی اے میری قوم خبردار سجدہ اللہ ہی کے لیے کرنا جو آسمان کی زمین کی ہر ہر پوشیدہ چیز سے باخبر ہے۔ «خب» کی تفسیر پانی اور بارش اور پیداوار سے بھی کی گئی ہے۔
کیا عجب کہ ہدہد کی جس میں یہی صفت تھی یہی مراد ہو۔ «سَوَاءٌ مِّنكُم مَّنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَن جَهَرَ بِهِ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِاللَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ» ۱؎ [13-الرعد:10] اور تمہارے ہر مخفی اور ظاہر کام کو بھی وہ جانتا ہے۔ کھلی چھپی بات اس پر یکساں ہے وہی تنہا معبود برحق ہے وہی عرش عظیم کا رب ہے جس سے بڑی کوئی چیز نہیں۔
چونکہ ہدہد خیر کی طرف بلانے والا ایک اللہ کی عبادت کا حکم دینے وال اس کے سوا غیر کے سجدے سے روکنے والا تھا اسی لیے اس کے قتل کی ممانعت کر دی گئی۔ مسند احمد , ابوداؤد , ابن ماجہ میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار جانوروں کا قتل منع فرما دیا۔ چیونٹی شہد کی مکھی ہدہد اور صرد یعنی لٹورا۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:5267،قال الشيخ الألباني:صحیح]