ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشعراء (26) — آیت 83

رَبِّ ہَبۡ لِیۡ حُکۡمًا وَّ اَلۡحِقۡنِیۡ بِالصّٰلِحِیۡنَ ﴿ۙ۸۳﴾
اے میرے رب! مجھے حکم عطا کر اور مجھے نیک لوگوں کے ساتھ ملا۔
اے پروردگار مجھے علم ودانش عطا فرما اور نیکوکاروں میں شامل کر
اے میرے رب! مجھے قوت فیصلہ عطا فرما اور مجھے نیک لوگوں میں ملا دے

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 83) ➊ { رَبِّ هَبْ لِيْ حُكْمًا:} اللہ تعالیٰ کی تعریف اور اس کی صفات بیان کرنے کے بعد ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کی بارگاہ میں چند دعائیں کی ہیں۔ اس میں دعا کا ادب ملحوظ رکھا گیا ہے اور اس کا سلیقہ سکھایا گیا ہے کہ دعا سے پہلے اللہ تعالیٰ کی تعریف جس قدر ہو سکے کرو، پھر اپنی عرض داشت پیش کرو۔ سورۂ فاتحہ میں بھی یہی سبق سکھایا گیا ہے۔
حُکْم کا معنی فیصلہ ہے، یعنی پروردگارا! فیصلے کے لیے جو چیزیں درکار ہیں وہ سب مجھے عطا کر، یعنی اپنے دین کا پورا علم جس سے صحیح فیصلہ ہوتا ہے، پھر ہر معاملے کا صحیح فہم، پھر وہ اقتدار جس کے ساتھ فیصلہ نافذ ہوتا ہے۔
➌ {وَّ اَلْحِقْنِيْ بِالصّٰلِحِيْنَ:} یعنی دنیا میں بھی صالح دوستوں اور ساتھیوں کی رفاقت عطا فرما اور آخرت میں بھی انھی کے ساتھ ملا دے۔ یوسف علیہ السلام نے بھی یہ دعا کی: «{ تَوَفَّنِيْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِيْ بِالصّٰلِحِيْنَ [یوسف: ۱۰۱] مجھے مسلم ہونے کی حالت میں فوت کر اور مجھے نیک لوگوں کے ساتھ ملا دے۔ اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی آخری وقت دعا کی تھی: [اَللّٰهُمَّ فِي الرَّفِيْقِ الْأَعْلٰی] (اے اللہ!) مجھے سب سے بلند رفیقوں میں شامل فرما دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا تین دفعہ کی۔ [بخاري، فضائل أصحاب النبي صلی اللہ علیہ وسلم ، باب: ۳۶۶۹، ۴۴۳۷]

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

83-1حکم یا حکمت سے مراد علم و فہم، قوت فیصلہ، یا نبوت و رسالت یا اللہ کے حدود و احکام کی معرفت ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

83۔ (اس کے بعد ابراہیم نے دعا کی کہ) پروردگار! مجھے حکمت عطا فرما اور مجھے صالح لوگوں میں شامل [59] کر دے۔
[59] اللہ تعالیٰ کی مندرجہ بالا صفات بیان کرنے کے بعد حضرت ابراہیمؑ اللہ تعالیٰ کے حضور دست بدعا ہو جاتے ہیں۔ پہلی دعا یہ ہے کہ یا اللہ مجھے صحیح قوت فیصلہ اور دینی بصیرت عطا فرما اور میرے علم میں اضافہ کر اور مجھے نیک لوگوں کی سوسائٹی عطا فرما۔ اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ دنیا میں ایک نیک بخت اور نیک سیرت انسان اگر کسی بری سوسائٹی میں پھنس جائے تو اسے جتنی تکلیف اور ذہنی کوفت ہوتی ہے، اسے سب جانتے ہیں۔ لہٰذا ہر شخص کو کوشش کرنی چاہئے اور اس کے لئے دعا بھی کرتے رہنا چاہئے کہ اسے نیک لوگوں کی صحبت حاصل ہو۔ اور آخرت میں اللہ تعالیٰ یقیناً نیک لوگوں کو نیک لوگوں سے ہی ملا دے گا۔ تاہم اس نعمت کے لئے دست بدعا رہنا چاہئے۔ حضرت ابراہیمؑ نے بھی ایسی دعا کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنی وفات کے ساتھ یہ دعا فرمائی تھی۔ ﴿اللهم الرفيق الاعلي﴾

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

حکم سے کیا مراد ہے؟ ٭٭
حکم سے مراد علم عقل الوہیت کتاب اور نبوت ہے۔ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ مجھے یہ چیزیں عطا فرما کر دنیا اور آخرت میں نیک لوگوں میں شامل رکھ۔ چنانچہ صحیح حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی آخری وقت میں دعا مانگی تھی کہ { اے اللہ اعلیٰ رفیقوں میں ملادے } تین بار یہی دعا کی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4436]‏‏‏‏
ایک حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا بھی مروی ہے۔ { «اللَّهُمَّ أَحْيِنَا مُسْلِمِينَ وَأَمِتْنَا مُسْلِمِينَ وَأَلْحِقْنَا بِالصَّالِحِينَ غَيْر خَزَايَا وَلَا مُبَدِّلِينَ» ۔ یعنی اے اللہ! ہمیں اسلام پر زندہ رکھ اور مسلمانی کی حالت میں ہی موت دے اور نیکوں میں ملادے }۔ ۱؎ [مسند احمد:424/3:صحیح]‏‏‏‏ در آنحالیکہ نہ رسوائی ہو نہ تبدیلی۔
پھر اور دعا کرتے ہیں کہ میرے بعد بھی میرا ذکر خیر لوگوں میں جاری رہے۔ لوگ نیک باتوں میں میری اقتداء کرتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بھی ان کا ذکر پچھلی نسلوں میں باقی رکھا۔ ہر ایک آپ علیہ السلام پر سلام بھیجتا ہے اللہ کسی نیک بندے کی نیکی اکارت نہیں کرتا۔ ایک جہان ہے جن کی زبانیں آپ علیہ السلام کی تعریف وتوصیف سے تر ہیں۔ دنیا میں بھی اللہ نے انہیں اونچائی اور بھلائی دی۔ عموماً ہر مذہب وملت کے لوگوں خلیل اللہ علیہ السلام سے محبت رکھتے ہیں۔
اور دعا کرتے ہیں کہ میرا ذکر جمیل جہاں میں باقی رہے وہاں آخرت میں بھی جنتی بنایا جاؤں۔ اور اے اللہ میرے گمراہ باپ کو معاف فرما۔‏‏‏‏ لیکن اپنے کافر باپ کے لیے یہ استغفار کرنا ایک وعدے پر تھا جب آپ علیہ السلام پر اس کا دشمن اللہ ہونا کھل گیا کہ وہ کفر پر ہی مرا تو آپ علیہ السلام کے دل سے اس کی عزت ومحبت جاتی رہی اور استغفار کرنا بھی ترک کر دیا۔
ابراہیم علیہ السلام بڑے صاف دل اور بردبار تھے۔ ہمیں بھی جہاں ابراہیم علیہ السلام کی روش پر چلنے کا حکم ملا ہے وہیں یہ بھی فرما دیا گیا ہے کہ اس بات میں ان کی پیروی نہ کرنا پھر دعا کرتے ہیں کہ مجھے قیامت کے دن کی رسوائی سے بچالینا۔ جب کہ تمام اگلی پچھلی مخلوق زندہ ہو کر ایک میدان میں کھڑی ہوگی۔‏‏‏‏ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { قیامت کے دن ابراہیم علیہ السلام کی اپنے والد سے ملاقات ہوگی۔ آپ علیہ السلام دیکھیں گے کہ اس کا منہ ذلت سے اور گردوغبار سے آلودہ ہو رہا ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4768]‏‏‏‏
اور روایت میں ہے کہ { اس وقت آپ علیہ السلام جناب باری تعالیٰ میں عرض کریں گے کہ پروردگار تیرا مجھ سے قول ہے کہ مجھے قیامت کے دن رسوا نہ کرے گا۔ اللہ فرمائے گا ’ سن لے جنت تو کافر پر قطعاً حرام ہے ‘ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4768]‏‏‏‏
اور روایت میں ہے کہ { ابراہیم علیہ السلام اپنے باپ کو اس حالت میں دیکھ کر فرمائیں گے کہ دیکھ میں تجھے نہیں کہہ رہا تھا کہ میری نافرمانی نہ کر باپ جواب دے گا کہ اچھا اب نہ کرونگا۔‏‏‏‏ آپ اللہ تعالیٰ کی جناب میں عرض کریں گے کہ پروردگار تو نے مجھے سے وعدہ کیا ہے کہ اس دن مجھے رسوا نہ فرمائے گا۔ اب اس سے بڑھ کر اور رسوائی کیا ہو گی کہ میرا باپ اس طرح رحمت سے دور ہے۔‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ ’ میرے خلیل علیہ السلام میں نے جنت کو کافروں پر حرام کر دیا ہے ‘، پھر فرمائے گا ’ ابراہیم (‏‏‏‏علیہ السلام) دیکھ تیرے پیروں تلے کیا ہے؟ ‘ آپ علیہ السلام دیکھیں گے کہ ایک بدصورت بچھو کیچڑ و پانی میں لتھڑا کھڑا ہے جس کے پاؤں پکڑ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا}۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3350]‏‏‏‏
حقیقتاً یہ ان کے والد ہونگے جو اس صورت میں کر دئیے گئے اور اپنی مقررہ جگہ پہنچادئے گئے اس دن انسان اگر اپنا فدیہ مال سے ادا کرنا چاہے گو دنیا بھر کے خزانے دیدے لیکن بےسود ہے، نہ اس دن اولاد فائدہ دے گی۔ تمام اہل زمین کو اپنے بدلے میں دینا چاہے پھر بھی لاحاصل۔ اس دن نفع دینے والی چیز ایمان اخلاص اور شرک اور اہل شرک سے بیزاری ہے۔
جس کا دل صالح ہو یعنی شرک و کفر کے میل کچیل سے صاف ہو، اللہ کو سچا جانتا ہو قیامت کو یقینی مانتا ہو دوبارہ کے جی اٹھنے پر ایمان رکھتا ہو اللہ کی توحید کا قائل اور عامل ہو۔ نفاق وغیرہ سے دل مریض نہ ہو۔ بلکہ ایمان واخلاص اور نیک عقیدے سے دل صحیح اور تندرست ہو۔ بدعتوں سے نفرت رکھتا ہو اور سنت سے اطمینان اور الفت رکھتا ہو۔