ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشعراء (26) — آیت 81

وَ الَّذِیۡ یُمِیۡتُنِیۡ ثُمَّ یُحۡیِیۡنِ ﴿ۙ۸۱﴾
اور وہ جو مجھے موت دے گا، پھر مجھے زندہ کرے گا۔
اور جو مجھے مارے گا اور پھر زندہ کرے گا
اور وہی مجھے مار ڈالے گا پھر زنده کردے گا

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 81) {وَ الَّذِيْ يُمِيْتُنِيْ ثُمَّ يُحْيِيْنِ:} یہ دونوں حصر کے بغیر ہیں، کیونکہ ان میں حصر کی ضرورت نہیں تھی کہ کہا جائے وہی مجھے موت دے گا اور وہی مجھے زندہ کرے گا، کیونکہ سب مانتے ہیں کہ مارنا یا زندہ کرنا صرف رب العالمین کا کام ہے، اور کسی کا یہ دعویٰ ہی نہیں۔ ابراہیم علیہ السلام کے دور کے جبار نے جو کہا تھا: «{ اَنَا اُحْيٖ وَ اُمِيْتُ [البقرۃ: ۲۵۸] (میں زندگی بخشتا اور موت دیتا ہوں) وہ محض اس کی ڈھٹائی اور بے شرمی تھی، اس کے دعوے کو کسی نے وقعت ہی نہیں دی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

81-1یعنی قیامت والے دن جب سارے لوگوں کو زندہ فرمائے گا، مجھے بھی زندہ کرے گا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

81۔ نیز وہی مجھے مارے گا، پھر زندہ کرے [57] گا
[57] زندگی اور موت صرف اللہ کے ہاتھوں میں ہے :۔
موت ایک ایسی اٹل حقیقت ہے جس سے نہ کسی کو مفر ہے اور نہ اس میں کسی کا کچھ اختیار ہے۔ انسان نہ اپنی مرضی سے پیدا ہوا تھا اور نہ اپنی مرضی سے موت کو ٹال سکتا ہے۔ اسی طرح وہ اپنی دوبارہ زندگی کو روکنے میں بھی مجبور محض ہے۔ اللہ کی شان یہ ہے کہ وہ ہر آن زندہ سے مردہ کو اور مردہ سے زندہ کرنے کے کرشمے دکھاتا رہتا ہے۔ لہٰذا دوبارہ پیدائش سے انکار کی معقول وجہ نہیں ہو سکتی۔ اور یہ ایسے کام ہیں۔ جن میں اللہ کے سوا کسی دوسری ہستی کا کوئی عمل دخل نہیں۔ پھر اللہ کی عبادت میں آخر دوسروں کو کیوں شریک بنایا جا سکتا ہے۔ یا دوسروں کو عبادت کے لائق کیسے قرار دیا جا سکتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔