ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشعراء (26) — آیت 80

وَ اِذَا مَرِضۡتُ فَہُوَ یَشۡفِیۡنِ ﴿۪ۙ۸۰﴾
اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے۔
اور جب میں بیمار پڑتا ہوں تو مجھے شفا بخشتا ہے
اور جب میں بیمار پڑ جاؤں تو مجھے شفا عطا فرماتا ہے

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 80) ➊ { وَ اِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِيْنِ:} یعنی وہی ہے جو مجھے کھلاتا ہے اور پلاتا ہے، مگر میں جب اس کھانے پینے میں حد اعتدال سے گزر کر بیمار ہوتا ہوں، یا اپنی کسی اور غلطی کی وجہ سے بیمار ہوتا ہوں تو وہی ہے جو پھر مجھے شفا دے دیتا ہے۔ یہ پچھلی آیت کے ساتھ ایک لطیف مطابقت ہے۔ بعض طبیبوں کا کہنا ہے کہ اگر مُردوں سے پوچھا جائے، تمھاری موت کا سبب کیا ہوا تو اکثر یہی کہیں گے کہ زیادہ کھانے سے، بدہضمی سے۔
➋ اگرچہ بیماری اور شفا دونوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں، مگر ابراہیم علیہ السلام نے یہاں بیمار ہونے کی نسبت اپنی طرف کی ہے کہ جب میں بیمار ہوتا ہوں اور شفا دینے کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی ہے کہ { فَهُوَ يَشْفِيْنِ } (تو وہی مجھے شفا دیتا ہے)، اس میں ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کا ادب ملحوظ رکھا ہے کہ خیر و شر دونوں کا خالق ہونے کے باوجود شر کی نسبت اس کی طرف نہ کی جائے، جیسا کہ صحیح مسلم (۷۷۱) کی ایک حدیث میں ہے: [وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ] اور جیسا کہ سورۂ فاتحہ میں { اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ } میں انعام کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہے، مگر { الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّيْنَ } میں غضب اور ضلالت کی نسبت اس کی طرف نہیں ہے اور سورۂ کہف (۷۹ تا ۸۲) میں خضر علیہ السلام نے تینوں واقعات کی تاویل بیان کرتے وقت اس ادب کو خوب ملحوظ رکھا ہے اور سورۂ جن (۱۰) میں جنوں نے بھی اس ادب کو ملحوظ رکھا ہے۔ { فَهُوَ يَشْفِيْنِ } میں بھی حصر ہے کہ وہی مجھے شفا دیتا ہے، کوئی اور نہیں، کیونکہ اور بھی بے شمار ہستیاں ہیں جن کو لوگوں نے شفا دینے والے سمجھ رکھا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

80-1بیماری کو دور کر کے شفا عطا کرنے والا بھی وہی ہے یعنی دواؤں میں شفا کی تاثیر بھی اسی کے حکم سے ہوتی ہے۔ ورنہ دوائیں بھی بےاثر ثابت ہوتی ہیں بیماری بھی اگرچہ اللہ کے حکم اور مشیت سے ہی آتی ہے لیکن اس کی نسبت اللہ کی طرف نہیں کی بلکہ اپنی طرف کی یہ گویا اللہ کے ذکر میں اس کے ادب و احترام کے پہلو کو ملحوظ رکھا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

80۔ اور جب میں بیمار [56] پڑتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے۔
[56] حضرت ابراہیمؑ نے بیماری کی نسبت اللہ تعالیٰ کی بجائے اپنی طرف فرمائی تو یہ محض اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور اپنی کسر نفسی کی بنا پر ایسا کہا۔ ورنہ بیماری اور شفا سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے ہوتا ہے۔ اب بیماری اور شفا کے متعلق اللہ تعالیٰ کا مطالبہ یہ ہے کہ ہر جاندار کی طبیعت ہی اس کی سب سے بڑی معالج ہوتی ہے۔ بدن میں کسی مقام پر بھی کوئی نقص واقع ہو جائے تو طبیعت فوراً ادھر متوجہ ہو جاتی ہے۔ باہر سے کوئی آفت پڑنے کا خطرہ ہو تو ہر جاندار سے بلا ارادہ ایسی حرکات سرزد ہونے لگتی ہیں۔ جو اس کی اس آفت سے حفاظت کر سکیں اور دوائی کی ضرورت صرف اس وقت پیش آتی ہے جب طبیعت کی مدافعت سے معاملہ بڑھ جائے اور دوائی کا کام صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ طبیعت کا مدد کرتی ہے ورنہ اصل معالج طبیعت ہی ہوتی ہے۔ جو اللہ تعالیٰ نے ہی بنائی ہے علاوہ ازیں دواؤں میں تاثیر اور خاصیت بھی اللہ کی پیدا کردہ ہے پھر کبھی دوا اپنا اثر دکھاتی ہے کبھی بے اثر ثابت ہوتی ہے اور کبھی الٹا اثر دکھاتی ہے اسی لئے کوئی حکیم یا ڈاکٹر یہ بات دعویٰ سے نہیں کہہ سکتا کہ وہ فلاں مرض کا علاج کر کے شفا دے سکتا ہے۔ بلکہ ہر شخص اس معاملہ میں اپنے عجز کا اعتراف ان الفاظ میں کرتا ہے کہ شفا من جانب اللہ ہوتی ہے۔ پھر جب شفا بخشنے میں اللہ کے علاوہ کسی دوسری ہستی کا دخل نہیں تو عبادت میں اللہ تعالیٰ کی سوا کوئی دوسرا کیسے شریک بنایا جا سکتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔